معصوم کشمیری۔۔۔۔ثاران جاوید

بات کو کہاں سے شروع کیا جائے اور کیوں کیا جائے مجھے اندازہ نہیں, لیکن  میرا دل کہتا  ہے کہ آج کشمیر پر بات کی جائے۔ ہمارے دادا پڑدادا یہی کہتے آئے  ہیں پتر کشمیر جنت ہے ، پھر بڑے ہوئے تو ہمیں یہ بتایا گیا جنت کبھی کسی کافر کو نہیں ملی خیر بچپن میں ہم نے بھی یہی مان لیا ۔مسلمان تھے ، پیدا ہوتے ہوئے کان میں اذان دی گئی تھی اور مشرق سے بھی تھے ہم نے بھی مان لیا جنت کسی کافر کو نہیں ملتی ، یقین کرنا پڑا اس کے علاوہ کوئی چارہ  بھی نہ تھا، خیر آگے چلتے ہیں۔ تھوڑا سا ہوش سنبھالا تو الیکشن آئے اور ایک نعرہ بلند کیا گیا کشمیر بنے گا پاکستان ، میرے لیے یہ ایسے تھا جیسے مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق کوئی حج کےبعد پاک ہو جاتا ہے ویسے ہی مجھے  اپنی شناخت پر شک گزرا ۔۔۔کیا کرتے بچے تھے اوپر سے سُونے پہ سہاگا ،کشمیری سلیبس پڑھا اور چونکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا تھا اور وہی پڑھا جو یہاں سےگفٹ کی صورت میں کتابیں جاتی تھی ۔ ہر کشمیری کو پاکستان کا  احسان مند  ہو چاہیے کہ پاکستان نے ہمیں وہ پڑھایا  جو دنیا میں کہیں میسر نہیں تھا سب سے الگ اور سب سے اچھا اور ایسا سلیبس جس کو پڑھنے کے بعد ہمارا اسلام اور جہاد پر پختہ یقین ہو گیا اور علامہ اقبال کی شاعری اتنی خوبصورت کہ اس کے بعد ہمیں  ایسامحسوس ہوتا تھا کہ  جنت جہاد کے بعد ہی ملتی ہے علامہ اقبال کشمیری شیخ تھے اور بہت مذہبی تھے اسلئے عزت کرنا فرض بنا دیا گیااورایک کشمیری دو بھائیوں کی شہادت ۔۔۔شہدا کی کہانی،آفرین ہے  ۔ اس کے بعد ایک کتاب پڑھی سلیبس کی ہی تھی جس کے شروع میں لکھا تھا(بابائے قوم، بانی پاکستان)یعنی قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہم کشمیری سچے دل سے بابائے قوم کی عزت کرتے تھے اور کرتے ہیں آپ سب کوپتا تو ہے نا  شہ رگ ہے کیاہوتی ہے ؟۔۔۔۔ اگر نہیں پتا تو میں بائیوٹیکنالوجی کا سٹوڈنٹ ہونے کے ناطے بتاتا چلوں کہ شہ رگ کا کام ہے دل سے صاف خون دماغ اور چہرے کی طرف لے کر جانا ۔کیا خوبصورت بات کی اُنہوں نے کشمیر دریاؤں کی سرزمیں ہے اور صاف پانی ایک ضرورت۔

یہ تو ہو گئی سرحد کے اس پار کی بات !مجھے یاد ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں کسی نے کہا کہ  کشمیر اٹوٹ انگ ہے ، یہ بات تو نا قابل برداشت تھی کہ ایک کافر بول رہا ہے کشمیراٹوٹ انگ ہے ان کا ،وہ بھی بولتے  ہیں کہ کشمیر جنت ہے۔ ٹھیک ہے جنت ہے ہم کشمیریوں کو بھی پتا لگ گیاکہ کشمیر جنت ہے اور جنت کےمعنی بھی اور اگر ہم کو جنت دنیا میں ہی مل گئی ہے تو ہم کیوں جہادکریں؟ جہاد تو دین کا حصہ  ہے نا  ؟ پھر کیوں جہادی تنظیمیں  کشمیر کے لیے لڑتی ہیں ؟ کیا جہاد کشمیر کے لیے ہی ہے صرف ؟
کشمیری قوم کے مذہب کو لے کر میں بے حد   پریشانی محسوس کرتا ہوں ، ۔ ہندوستان ریاست کو ہندو اور پاکستان ریاست کو مسلمان بنانا چاہتا ہے ۔ آخر ریاست کا کونسا مذہب ہوتا ہے ؟ ریاست تو ماں ہوتی ہے نا  ؟۔۔ ماں جس مذہب کی ہو ماں ہوتی ہے ۔ وہ اولاد کے لیے راحت کا کام کرتی ہے ۔ کشمیر کی ریاست کا مذہب سے تعلق ہے ؟ اگر دیکھا   جائے تو آپ کو جموں میں ہندواور  سکھ ، لداخ میں بدھ مت ، کشمیر میں دیو بند ، بریلوی اہلحدیث ، کوٹلی میں قادیانی ، گلگت اور بلتستان میں شعیہ ملیں گے ۔ اگر میری مانو تو اس کو مذہب کے نام پر فتح  کرنے کی کوشِش نہ کریں ۔ اور اگر کشمیر کو فتح کرنا ہے تو انسانیت سے پیار کیا جائے ۔ کشمیر کا مذہب انسانیت ہو تو زیادہ بہتر ہے ۔ یہ کچھ احمقانہ حرکات کر چکے ہیں   دونوں قابض ممالک ۔

یہ کچھ سوال ہیں جو ہر کشمیری اور سمجھدار انسان کے دماغ میں ضرور آتے ہیں ۔ جہاں تک مجھے اس کاجواب ملا وہ یہ ہے کشمیر کوئی اٹوٹ انگ اور شہ رگ نہیں ہے ۔ ماں لیا ہم نے اٹوٹ انگ ہے یا شہ رگ ہےتو ۔ ہم کو ایک اور بات سوچنی چاہیے کہ وہ بھی مذہب کا سہارا لیتے ہیں  ۔ مذہب کا سہارا یہ ہوتا ہے  کہ بچوں کو کتابوں میں بتایا جائے کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ گنگا چوٹی کا نام بدلوا کر اللہ رکھا چوٹی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور گوپال پور کو عباس پور بنوا کر اسلام قبول کروا جاتا ہے ۔۔۔خیر یہ تو مسلمان اب ایک ایسی چیز ہے جو سرحد کے اس پار ہندو یعنی کشن گنگا ندی ہوتی ہے اور سرحد کے اِس پار مسلمان دریائے نیلم بن جاتا ہے ۔ یہ ایک بہت اچھا کاروبار ہے جو صرف یہاں نہیں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف منافع بخش ہے اورلائن آف کنٹرول کے اس پار والے بولتے ہیں ہماری دیویاں رہتی ہیں ، پونچھ سکیٹر میں انکے کرشنا کی گھاٹی ہے۔ جسے کرشنا گھاٹی بولتے ہیں ۔ امرنات مندر میں ایک برفانی شیولنگ ہے ۔ جس پر لوگوں کو ابھی بھی شک  ہے کہ وہ اصلی ہے یا نقلی ؟ناران کاغان اگر ان کی دیویاں تو ہم کشمیر ی کیا؟ آخر ہم نے کیا مطلب بتایا انکو؟ پاکستان اتنا بھی بولتا ہے کہ کشمیر کا پاکستان سے رشتہ کیا؟ اور وہ بول دیتے پہلا کلمہ۔ ایک بات بتاتا چلوں مذہب اور ریاست دونوں الگ ہیں یہ کیسا رشتہ تھا؟ کہ صدیوں پرانی تاریخ کو ختم کر کے ساتھ ملانے کی بات کر دیتے ہیں۔ کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پہلے شہ رگ بنتی ہے اور بعد میں جسم؟ اسطرح اٹوٹ انگ کی بات ہے کہ کیسا اٹوٹ انگ ہے جو صدیوں سے اپنی  تاریخ لے کر چلاآ رہا ہے لیکں کشمیر زمیں کا وہ بدقسمت ٹکڑا ہے جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ملتا ہے ۔سرحد کے اُس پار کشن گنگا ندی ہوتی  ہے سرحد کے اِس پار آ کر دریا بھی مسلمان ہو جاتا ہے۔اور اسکو نیلم کا نام دیا جاتا ہے آپ کو کب یہ بات سمجھ آنی ہے  کہ یہ دونوں ملک مفادات کی سیاست چاہتے ہیں۔ اسکے علاوہ نہ تو ان کو کشمیریوں کے خون سے مطلب نہ انکی جان سے ۔ سارے مطلب پرست ہیں ۔ میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا ہوں کتنا فائدہ ملتا اور کیسے ملتا ہے ، ہاں ایک بات ضرور ہے 1947کے وقت 49% پر پھیلے جنگلات اب 20% رقبے پر ہیں یہ صرف پاکستانی مقبوصہ کشمیر کی بات ہے اگر ہم انڈیا کے زیر قبصہ علاقے  کی بات کریں تو 1947کے سروے کے مطابق 40%  رقبے پر پھیلے تھے اور اب یہ تعداد11.00%پر مشتمل ہے۔ اگر ایسی طرح کشمیر کے ساتھ ہوتا رہا تو اگر کوئی اٹھ کر نعرہ لگا دیتا ہے کہ کشمیر بنے گا خودمختار تو دونوں ملکوں کو سوچنا چاہیےکہ علامہ اقبال اور جواہر نہرو کے گھرانے  اتنے ناراض کیوں ؟ دونوں کے باپ ہجرت کر کے ایک سیالکوٹ اور ایک آلہ آباد چلے جاتے ہیں۔ دونوں انڈیا کی راجنیتی میں بہت نام رکھتے ہیں۔ ایک کی زندگی کم تھی لیکن  ایک تو بعد میں وزیراعظم بن جاتا ہے اور اپنے ملک کے لیے وہ کام کرتا ہے کہ وہ سوپر پاور کی دوڑ میں شامل ہونے کی چھلانگ لگا رہے ، لیکں انسانی زندگی کی قدروقیمت سے ناآشنا معلوم ہوتے ہیں اور دوسرے ہم کو ایسا جہادی بنا گئے کہ ہم  انتہا پسند لوگوں کو کشمیر کے جہاد پر چندہ دیتے اور وہ کشمیری کی شہادت کا با عث بنتا ہے ۔ کیا پنڈٹ منٹو کا دیش اتنا سستا کہ 70سال گزر جانے کے بعد بھی قید ہے ۔ کیا پنڈٹ منٹو کو ہم وہاں بھی سکون نہیں دے سکتے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *