جب راج کرے گی خلقِ خدا۔ فاروق بلوچ (قسط 2)

کہا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ دار جب سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اس طرح کئی لوگوں کو روزگار میسر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ورکرز کو  کیا دیا   جاتا ہے؟ اگلی تنخواہ تک بمشکل زندہ رہنے کے لیے  قلیل تنخواہ، اور بدلے میں ورکرز سے لیا کیا جاتا ہے؟ اربوں کھربوں کا منافع!

کیا یہ سرمایہ دار عوام اور ورکرز کی محبت میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، یا پھر بھاری اور لامحدود منافع کی لالچ میں؟ یوں مزدوروں، ملازموں اور محنت کشوں کی محنت کا استحصال کر کے سرمایہ دار لامحدود منافع کماتے ہیں. موجودہ سرمایہ دارانہ استحصال قرون وسطی کے غلاموں کے استحصال جیسا صاف شفاف نہیں ہے جہاں زرعی غلام جاگیرداروں کی زمین پر مفت میں    کام کرنے پر مجبور تھے، لیکن حقیقت میں یہ دونوں استحصال ایک ہی سکے کے دو  رُخ ہیں۔ سرمایہ دار کسی بھی شرط پر  کم اجرت کے بدلے ورکروں سے   بیش بہا  کام لیتے ہیں۔

گزشتہ صدیوں میں سرمایہ داروں نے سائنس و  ٹیکنالوجی کی مدد سے پیداوار کے انبار لگائے اور دولت کمائی ، مگر آج کے سرمایہ دار  پیداوار کی  پریشانی کے بغیر پیسے بنانا چاہتے ہیں۔ آپ “سنڈے ٹائمز رِچ لسٹ”پر نظر ڈالیں تو آپ کو سب سے زیادہ امیر لوگ وہ نظر آئیں گے جن کی دولت کا انحصار خاندانی وراثت، انشورنس، بینکنگ اور مالیاتی خدمات پر  ہے۔ کچھ سرمایہ دار تو کرنسی نوٹ اور بانڈز کی خرید و فروخت سے لامحدود منافع کما رہے ہیں۔ لامحدود اور کبھی نہ ختم ہونے والے  لالچ کے سبب یہ کچھ بھی داؤ پر  لگا سکتے ہیں. انسانیت نام کی کوئی چیز اِس طبقے میں موجود نہیں ہے،  کیا یہ لوگ اپنے منافع کے لیے  لاکھوں لوگوں کو جنگ کا ایندھن نہیں بنا رہے؟ یہ سرمایہ دار اپنے مخصوص طریقوں اور سیاسی مہروں کو استعمال کرتے ہوئے اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال کرواتے ہیں.

ایسے سرمایہ دار بھی ہیں جو مختلف اداروں کو اپنی شرائط پر قرض دیتے ہیں، جس کا سود بھی واپس کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے. لوگ اِن سرمایہ داروں سے قرض لے  کر فیکٹریاں لگاتے اور کھڑی کرتے ہیں. سرمایہ دار وقت آنے پر اپنی سخت شرائط اور سود کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر  وہ فیکٹریاں اور ادارے اونے پونے خرید لیتے ہیں. دنیا کے امیر ترین فرد “وارن بفٹ” کی مثال   لیں. اِسی طرح بڑی بڑی اور مصروف ترین شاہراہوں پر  بنے “ٹول ٹیکس پلازوں” کے ٹھیکیداروں کی مثال دیکھ لیں. ایسے سرمایہ دار نہ کچھ پیدا کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی محنت مشقت کرتے ہیں، مگر “ریاستی قانون” کی مدد سے اربوں کماتے ہیں۔ بینکوں کے نظام میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی مثال  لے لیں  ،یا سٹاک ایکسچینج  کے “اَن داتا” سرمایہ داروں کی خباثت کی مثال لے لیں. یہ سب ایک سے ہیں، یہ خون چوسنے والے ڈریکولا ہیں، جو اپنے اپنے طریقے سے پیسہ بنانے کے چکر میں ہیں۔ کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے کہ “یہ دور دوسرے کی دولت کو اپنی دولت بنانے کا عہد ہے”۔

یہاں ایک اور منظر بھی پیشِ خدمت ہے۔ یہ اپنی دولت کو مکمل طور پر خرچ کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ عیش و عشرت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ کتنی گاڑیاں  ڈرائیو کر سکتا ہے  ، یا بیک وقت کتنے بنگلوں میں رہائش  اختیار کر  سکتا  ہے ؟۔۔ یہ لوگ پاگل ہو چکے ہیں. جنگلیوں جیسی شتر بے مہار خواہشات کی تکمیل کے بعد بھی اِن کی دولت بیکار پڑی رہتی ہے۔ یا دوسرے چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے استحصال پر خرچ ہوتی ہے، اعلی ترین عہدوں کے حصول   پر خرچ ہوتی ہے، پھر بھی اُن کی دولت کا بیشتر حصہ بیکار پڑا رہتا ہے۔

ہمیں بتایا گیا ہے کہ “محنت کرو  تو  ایک دن تم بھی امیر ہو جاؤ  گے”۔۔ اِس فارمولے پر  عمل کرتے ہوئے چند محنت کش افراد غربت کی چکی  سے نکل آتے ہیں. لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں ایک محنت کش صرف محنت کش رہتا ہے، محنت اور مشقت مزدوروں کی حالت کو بہتر بنانے کی بجائے اُن کے مالکان کو مزید امیر بناتی ہے، ثبوت کے طور پر آج قومی آمدنی میں مزدوروں کے حصے میں مسلسل کمی دیکھی جا سکتی ہے اور سرمایہ داروں کے حصے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

اِسی طرح آکسفورڈ مارٹن سکول کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچاس فیصد ملازمین کی ملازمتیں بڑے خطرے (HIGH RISK) کا شکار ہیں. جی بالکل درست پڑھا ہے، پچاس فیصد۔۔۔!
ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ روبوٹ کی آمد کے سبب ہو رہا ہے، انسانی محنت کشوں کی جگہ مشینری اور روبوٹ کام کر رہے ہیں ،اس لیے انسانوں کو ملازمت سے برطرف کیا جا رہا ہے، کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے؟ ۔روبوٹس کی ایجاد اور ترقی سے انسان کو سہولت ملنی چاہیے تھی، مگر کیپٹلزم کے تحت یہ ایجاد و ترقی وبال بن رہی ہے، یعنی لبرل ازم کے پاس انسان کی قسمت میں ساری زندگی مشقت کی چکی  میں پِستے رہنے یا بےروزگار ہو کر سسکتے رہنے کے سوا اور کوئی آپشن ہی موجود نہیں ہے، کیا بےبسی ہے؟ اور کیا ناکامی ہے؟۔۔بھیانک صورتحال کے   نتائج  بھیانک ہوتے ہیں. ایک طرف لوگ بےروزگار، بیکار اور قوتِ خرید سے محروم ہیں، دوسری طرف زائد پیداوار کے انبار لگ رہے ہیں. یہ عالمی بحران کا پیش خیمہ ہے. جب لوگ بےروزگار ہوں گے  اور کچھ خریدنے کے قابل نہیں ہوں گے  تو مال کون خریدے گا، مارکیٹ مندی  کا شکار ہو گی. 2008ء سے بھی بڑا اور بھیانک بحران سر اُٹھائے گا.

اِس بھیانک اور خطرناک صورتحال سے نکلنے کا واحد حل یہ ہے کہ فوراً سے  بیشتر   ذرائع پیداوار کو قومیا لیا جائے۔ خاص طور پر عظیم الشان سب سے بڑے 150 ملٹی نیشنل ادارے بلامعاوضہ چھین لیے جائیں، منصوبہ بندی کے ساتھ پیداوار کی جائے اور اُس پیداوار کی قیمت دو چار مالکان کی جیبوں کی بجائے سماج پر  خرچ کی جائے۔ اگر ہم ایسا کر لیتے ہیں تو ہم سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں پر  خرچ کریں گے۔ جدید ترین، آرام دہ اور خوبصورت ترین رہائشی منصوبے شروع کر سکتے ہیں. جدید ریاستی  ذرائع نقل و حمل پر  خرچ کر سکتے ہیں۔ مناسب ترین پالیسیوں کی مدد سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یکسر مفت ہسپتالوں اور ادویات پر  خرچ کر سکتے ہیں۔ ایک منصوبہ بند معیشت ہی محنت کشوں کے کام کے اوقات کو مختصر بنا سکتی ہے اور ریٹائرمنٹ کی عمر بھی گھٹا سکتی ہے۔

ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ناقابل عمل اور  احمقانہ    تجویز  ہے، مزدور کیسے سماج کو بہتر بنا سکتے ہیں، محنت کش سماج کو اور  ذرائع پیداوار کو کیسے چلا سکتے ہیں، یہ مزدوروں کے لیے  ممکن ہی نہیں۔ میرا سوال ہے کہ آخر کیوں ممکن نہیں؟۔۔۔ ہاں سرمایہ دارانہ نظام میں مزدور اِس قابل بالکل بھی نہیں کہ وہ سماج کی نشو و نما کر سکیں، لیکن سوشلزم میں یہ عین سچ ہے کہ محنت کش ہی سماج کی قیادت کرتے ہیں، ہمارے اردگرد سارے کام   محنت کش ہی تو کر رہے ہیں، محنت کش کارکنان ہی بالکل درست بتائیں گے کہ اُن کے اپنے کام کی جگہ کو کس طرح چلا سکتے ہیں، وہ موجودہ مالکان کے مقابلے میں یہ کہیں بہتر چلا سکتے ہیں۔

آج کے عہد میں “چالاکی، مستعدی اور قابلیت” کا مطلب یہ ہے کہ کم سے کم اخراجات اور اجرت کی بنیاد پر  زیادہ سے زیادہ منافع کیسے کمایا جا سکتا ہے، مگر منصوبہ بند معیشت کے تحت “قابلیت” یہ ہو گی کہ سماج اور انسان کو زیادہ فائدہ کیسے پہنچایا جا سکتا ہے جس کا بہتر فیصلہ ورکر اور محنت کش کی نسبت کوئی دوسرا کر ہی نہیں سکتا، سوشلسٹ معیشت کے تحت انجینئر، کمپیوٹر  ماہرین اور سائنسدانوں کی مدد سے کام کے اوقات میں کمی کرتے ہوئے بہتر پیداوار اور بہتر سماج تعمیر کیا جائے گا، اگر آج پیداوار اور معیشت منصوبہ بندی سے کی جائے تو کوئی بھی بےروزگار نہیں رہے گا۔

سرمایہ داری کے تحت ہونے والے بھاری ضیاع کو سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کے تحت دور کیا جائے گا، مثال کے طور پر آج جنگوں اور اسلحے کے اخراجات معاشرے پر ایک بڑا   بوجھ بن رہے ہیں. اس وقت اس دنیا میں 15700 کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، حکومتیں اگلی دہائی میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں پر ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں،   یہ پاگل پن نہیں، تو اور کیا ہے؟ ۔۔کیا اِن انسان دشمن اخراجات کو انسان دوست اخراجات کے ساتھ بدلا نہیں جا سکتا؟ ہم اپنے ممکنہ وسائل جنگوں، ہتھیاروں اور تنازعات میں استعمال نہیں کریں گے بلکہ اپنے سکھ اور بہبود کے لیے استعمال کریں گے، سائنسدانوں کی قابلیت کو بم یا تباہی کے زیادہ جدید ہتھیاروں کی تعمیر پر برباد نہیں کیا جائے گا بلکہ سب کی بہتری اور پیداواری ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

آج کی منافقت سے بھر پور سرمایہ دارانہ جمہوریت دراصل امیروں کی جمہوریت ہے، اِس کے امیر حکمران امیروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ۔ بینکاروں اور سرمایہ داروں کی  اس آمریت کا متبادل ہمارے پاس ہے، یعنی ہم کام کرنے والے لوگوں کی جمہوری حکومت قائم کریں گے. ایک ایسا معاشرہ جو کام کرنے والے لوگوں کے لیے ،کام کرنے والے لوگوں کی طرف سے قائم ہو گا۔

آئیے سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے ختم کرتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرتے ہیں جہاں “ہر ایک سے اُس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے گا، اور ہر ایک کو اُس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے گا”۔ دوسرے الفاظ میں ایک صحتمند معاشرہ جس کی بنیاد یکجہتی اور ہم آہنگی ہو گی اور سرمایہ دارانہ نظام کے مصائب بالآخر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں گے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *