محاسن۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط1

 اقبال دیوان صاحب کی زیر طبع طویل کہانیوں کی چوتھی کتاب  ’’چارہ گر ہیں، بے اثر‘‘  میں شامل جو اردو کے موقر ادبی جریدے سویرا کے شمارہ بابت جولائی ۲۰۱۶ میں شائع ہوچکی ہے۔
محاسن
چار اقساط کی پہلی قسط!

اپنی پیدائش کی منتظر بیٹی کا نام محاسن رکھنے کا فیصلہ اس کے ابّو نے قاہرہ کے ائیرپورٹ پر کیا۔
خاتون امیگریشن کلرک جس نے ان کا جلدی میں گم کردہ پاسپورٹ پبلک ایڈریس سسٹم سے کام لے کر تندہی سے تلاش کرکے دیا ، اس نیک دل ، انسان دوست بی بی کا نام محاسن تھا ۔ یہ نام ایک چھوٹی سی  نیم پلیٹ کی صورت میں اس کے بمشکل چھپائے گئے سینے پر آویزاں تھا۔

جمیل سیٹھ کو معلوم تھا کہ ان کی بیوی حاملہ ہے اور الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹو ں کی مناسبت سے اب ان کے ہاں تیسری اولاد ایک بیٹی کی صورت میں پیدا ہوگی۔

پاسپورٹ کی بازیابی کے بعد بھی وہ اپنی اس مصری مہرباں کو ٹھیک اسی جگہ پر جہاں نام کی وہ چھوٹی سی پلیٹ آویزاں تھی بغور دیکھتے رہے۔ ان کی نظر کی اس غیر مہذب پیوند کاری کو جب عمر کے  تفاوت کے باوجود اس افسر نے نوٹ کیا تو وہ مہرباں معصومہ کچھ ہراساں سی ہوگئی ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی جمیل سیٹھ بھی اس کی سراسیمگی بھانپ گئے اور اسے جتلانے لگے کہ اس کا نام اتنا اچھا ہے کہ وہ اپنی ولادت کی منتظر بیٹی کا نام بھی محاسن رکھنا چاہتے ہیں اور اب تو اس کی مہربانیوں کی وجہ سے یہ نام اور بھی بامعنی ہوچلا ہے ۔تب اس مہربان نے بتایا کہ محاسن کا لفظ احسان، خوبی اور اوصاف کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ہماری عربی بڑی جامع اور وسیع المعانی زبان ہے ۔جس پر جمیل سیٹھ نے لاریب( بلاشبہ) کہہ کر اپنی راہ لی۔

cairo airport arrivals

یوں محاسن کا یہ نام جمیل سیٹھ کی زندگی میں ایرپورٹ پر کیے جانے والے حسن سلوک کے حوالے سے اسمی بامسمی بن کر ایسا وابستہ ہوا کہ اپنی چاروں اولادوں میں وہ ہی اپنے  باپ کا جگر گوشہ بن پائی۔ اپنی عمر کے بیسویں برس میں اس کی امی کا انتقال ہوگیا۔وہ اس موت کا ذمہ دار اپنی بڑی بھابی کو گردانتی ہے ۔اسی نے انجکشن لگاتے وقت ڈاکٹر کو یہ نہ بتایا تھا کہ اس کی امی شدید ڈایابیٹک ہیں، کچھ دواؤں سے انہیں شدید ری ایکشن ہونے کاا حتمال تھا۔
دو سال  تک  تو  جمیل سیٹھ بھی اس اپنی بیوی کی دفاتِ حسرت آیات سے کچھ پریشاں پریشاں رہے۔ دو بیٹوں کی شادی تو انہوں نے اپنی رفیقِ حیات کی موجودگی میں ہی کردی تھی۔مسئلہ محاسن اور ارمغان کی شادی کا تھا۔ ولید تو اپنی ماں کی موت کا غم بھلانے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ چلا گیا اور وہیں کسی نیپالی دوشیزہ کے دامن سے ایسا وابستہ ہوا کہ بس ولیمے پر ہی اسے پاکستان لایا۔
محاسن کے لیے اس کی منجھلی بھابی کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک لڑکے عنادل کا رشتہ آیا۔ وہ باہر کا ایم بی اے تھا۔ گھرانہ اس کے منجھلے بھائی کا بھی دیکھا بھالا اور انتہائی آسودہ حال تھا ۔محاسن کو رشتے پر کچھ اعتراضات تھے ایک اعتراض تو یہ تھا  کہ لڑکے میں کچھ کچھ نسوانیت جھلکتی تھی۔ جس پر بھابھیوں نے اسے سمجھایاکہ ایسے لڑکے طبیعتاًبہت ہی ڈوسائل اور گھر گرہستی کو نبھانے والے ہوتے ہیں۔محاسن کو اس کا نام عنادل ، بھی بہت زنانہ لگا۔ وہ دونوں مل کر یک زبان ہو کر کہنے لگیں وہ اسے شادی کے بعد رستم، سہراب مصباح الحق یا سردار طور خان محسود پکارلے تو نام بھی مردانہ ہوجائے گا۔
محاسن کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ باپ کی خدمت، ماں کی مفارقت ان کی تربیت کا بھرم اور اپنی ہی طبیعت کی بلند پروازی اسے اس بات سے روکتی رہی کہ وہ اپنے لیے خود ہی ڈھونڈ ڈھانڈ کرکسی لڑکے سے شادی کرلے۔اس وجہ سے اس نے بھی زیادہ مین میخ اس رشتے میں نہ نکالی یوں بھی وہ ایک بہت سمجھوتہ ساز لڑکی تھی۔۔ یوں باپ اور بڑی بھابھی کے سمجھانے پر جلد ہی مان گئی ۔
لڑکے کا اپنا گھر بھی قریب ہی خیابان ہلال پر واقع تھا۔ اس کے گھر کے دیگر افراد بھی قریب ہی ایک بنگلے میں رہتے تھے۔ سامنے والی سڑک یعنی خیابان بادبان پر جمیل سیٹھ کا اپنا گھر تھا۔ ہزار گز سے کچھ بڑے سے پلاٹ میں پانچ پانچ سو گز کے دو بنگلے ایک راہدادری سے جڑے تھے ۔بڑا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ ایک بنگلے میں تو دوسرے میں جمیل سیٹھ مقیم تھے منجھلے بھائی کا گھر بھی پچھلی گلی میں تھا عنادل کسی ملٹی نیشنل ادارے میں ڈپٹی کوالٹی کنٹرول منیجر تھا۔صبح اپنے دفتر جاتے وقت وہ محاسن کو والد صاحب کے ہاں اتار دیتا تھا۔وہ وہاں کچھ دیر رہتی پھر ابو کے ساتھ ہی ان کے آفس آجاتی اور شام کو انہی  کے ساتھ واپس آجاتی تھی ۔رات اس کی آمد کے وقت وہ تیار ہوتی   تاکہ وہ اپنے گھر لوٹ جائے۔

خیابان ہلال
خیابانِ بحریہ

اس دوران دو واقعات ایسے ہوئے جن سے محاسن کی زندگی میں بھونچال سا آگیا۔
پہلا واقعہ یہ تھا کہ اس کے والد کے دوست بہار الدین جن کا تعلق افغانستان کے غلزئی قبیلے سے تھا۔ وہاں وہ غدر مچنے کی وجہ سے اپنے دو بھائیوں کے ساتھ پشاور آگئے تھے۔ پشاور میں روڈ کنسٹرکشن کی ٹھیکیداری کا بڑا کاروبار تھا ۔ ان کی اکلوتی اولاد ، ایک بیٹی بس فروزاں ہی تھی ، محاسن کی ہم عمر ۔ وہ اپنی اہلیہ اور فروزاں کے ساتھ کراچی آئے ۔وہ جمیل سیٹھ کے ہاں قیام پذیر تھے۔ جمیل سیٹھ اور بہار الدین، دونوں دوستوں کا خیال تھا کہ چھٹیوں پر آیا ہوا محاسن کا چھوٹا بھائی دلید اس حسن خوابیدہ فروزاں کو دیکھ لے تو دونوں کی بات پکی ہوجائے ۔ ولید کو مگر امریکہ میں اپنی ہم مکتب نیپال کی رشمی پانڈے کچھ ایسی من بھائی کہ کم از کم شادی کے معاملہ میں اس نے ڈیورینڈ لائن ( افغانستان اور پاکستان کی 2,640 کلومیٹر سرحد جسے باقاعدہ طور پر سن 1893 میں افغان امیر عبد الرحٗمن اور برطانوی راج نے تشکیل دیا) کراس کرنے کا کوئی خیال ظاہر نہ کیا ۔
فروازں کی آمد کے تیسرے دن ہی وہ رشمی پانڈے کے والدین سے بات پکی کرنے کٹھمنڈو چل پڑا ۔اس کی روانگی کے دو دن بعد احمد علی ایک دن سندھ کے شہر نواب شاہ کے سفر پر کسی سے ملنے جانے کے لیے اپنی اہلیہ کے ساتھ نکلے۔ راستے میں کار کو حادثہ پیش آیا جس میں ڈرائیور اور وہ دونوں میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔
محاسن نے اس جانکاہ حادثے سے سنبھلنے میں فروزاں کی بہت دل جوئی کی۔خود وہ چونکہ رہتی اپنے میاں کے ساتھ تھی لہذا اس نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ وہ فروزاں کو اپنے گھر پر لے آئے ۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عورتوں کی ایک بڑی اکثریت تو خود کو جواں بکریوں سے بھی اپنے شوہروں کے معاملے میں غیر محفوظ تصور کرتی ہے۔
اس نے بہر حال یہ ہی بہتر جانا  کہ فروزاں اس کے والد کے ساتھ ہی  ان کے گھر پر رہے  ۔ ویسے بھی اس نے اپنا غم غلط کرنے کے لیے یہیں پر ایک نجی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا ۔فروزاں لڑکیوں کے ہاسٹل میں منتقل ہونا چاہتی تھی مگر نہ محاسن مانی نہ ہی جمیل سیٹھ۔
فروزاں کے والدین کے انتقال کے ٹھیک تین ماہ بعد جمیل سیٹھ نے سب سے پہلے محاسن پر ہی یہ پہاڑ توڑا کہ انہوں نے فروزاں کی مرضی سے   شادی کرلی ہے۔ وہ اس بات سے بہت رنجیدہ ہوئی۔اس کا خیال تھا کہ باپ بھلے سے شادی کرتا مگر کسی پختہ عمر کی خاتون کے ساتھ۔جوان سال عورت توجہ کی بہت طالب ہوتی ہے ۔ یہ توجہ نہ مل پائے تو اس میں بہت بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔فروزاں دل سے بہت رنجور اور حالات سے بہت مجبور ہے لہذا وہ اگر ایک ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرتی تو اس جمے جمائے خاندان میں بہت سی دراڑیں پڑ جائیں گی۔
ایسا نہ ہوا۔ فروزاں اس کی توقعات سے بڑھ کر ذمہ دار طبیعت اور گھریلو رجحانات کی مالک نکلی ۔ وہ جلد ہی حاملہ بھی ہوگئی ۔جلد بازی کے اس احساس تحفظ اور غلغلہ مچاتی سمند کی لہروں جیسی  جھاگ اڑاتی جوانی کے علاوہ محاسن   اس میں کوئی  اور عیب نہ دکھائی دیا۔ اپنے ماں بننے کی اطلاع فروزاں ہی نے سب سے پہلے محاسن کو دی۔ اس کا دل جیتنے کے لیے ساتھ ہی بہت آہستگی سے کہا وہ محاسن میں تین رشتوں کا امتزاج دیکھتی ہے یعنی ایک سمجھ دار ساس، ایک ذمہ دار بیٹی اور ایک پیار کرنے والی دوست کا ۔ اس بات کو سن کر محاسن نے بغیر بتائے دکھوں کی ماری تنکوں کی کشتی پر تیرتی فروزاں کی یہ وضاحت سن کر چھوٹی موٹی رنجش کے آخری کانٹوں کو بھی دل ہی دل میں جلا کر راکھ کرلیا۔ محاسن نے اسے گلے لگا کر جب معاف کیا تو بن ماں کی یہ دونوں یتیم لڑکیاں گلے لگ کر بہت دیر تک روئیں۔
جمیل سیٹھ کا فروزاں سے شادی کے بعد بھی بطور بیٹی کے محاسن سے تعلقات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہ آیا تھا وہ اس کو پہلے کی طرح ہی چاہتے تھے ۔فروزاں کو بھی اس لگاؤ سے کبھی کوئی گلہ نہ ہوا، لہذا یہ بات بھی اس کو جلد معاف کردینے میں معاون ثابت ہوئی۔
کچھ دن تک تو خاندان کے لوگوں میں اس شادی پر چہ مگوئیاں ہوتی رہیں مگر جمیل سیٹھ چونکہ مالدار تھے ، خاندان والوں اور رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے اس لیے تعلقات ان سے بھی جلد ہی نارمل ہوگئے۔۔سیٹھ جمیل کی اس شادی سے منجھلا بیٹا منیب البتہ کچھ ناراض ہوا اس ناراضگی کی تہہ میں شادی سے زیادہ اس کی بیوی کی ناعاقبت اندیشی اور خود منیب کا اپنا حرص شامل تھا۔ اس کا بہت دنوں سے ارادہ تھا کہ اس کے والد اپنے کاروبار کا کچھ حصہ راولپنڈی منتقل کر کے اسے اس کا تنہا حقدار قرار دے دیں ۔ جمیل سیٹھ اس کی پنڈی منتقلی کے حق میں نہ تھے ۔ وہ ذہین تھا کاروباری سمجھ بھی بہت تھی اس کی مدد سے وہ کاروبار میں پھیلاؤ کے خواہشمند تھے ۔ جب انہوں نے منیب کی بات نہ مانی تو وہ اس شادی کو بہانہ بنا کر ناراض ہو ا ۔گھر کی چابیاں محاسن کے حوالے کرکے وہ اپنے حصے کی دولت سمیٹ کر اپنی بیوی کے ساتھ راولپنڈی شفٹ ہوگیا۔بڑے بھائی وقاص نے بھی باپ کی اس شادی والی حرکت پر کچھ دن تک تو ناراضگی نبھائی مگر محاسن کے سمجھانے پر مان گیا۔ وہ باپ کے کاروبار میں شریک تھا۔

دوسرا واقعہ کچھ عجیب تھا۔ اس کے اثرات اس کے وجود میں سانپ کے کاٹنے کی مانند ظاہر ہوئے ۔یہ سانپ مگر کچھ ایسا تھا کہ اس کا فاسفولی فیز A2 این زائم (enzyme) جو زہر کو زہریلا بناتا ہے بدن میں داخل ہوکر کےا عصابی نظام کو مفلوج کرتا ہے اور بر وقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بدن میں خون کے سرخ خلیوں کو ناکارہ بنا کر موت کا بہانہ بنتا ہے۔ یہ فاسفولی فیز اے ٹو این زائم اس کے وجود میں سب کی نگاہوں سے بچ کر بہت آہستگی سے سرائیت کرگیا۔ اس سانپ نے محاسن کو مزے لے لے کر مگر تھوڑی تھوڑی مقدار میں رہ رہ کر کاٹا۔ دھیمے دھیمے ، غیر محسوس طریقے پر۔

fasoli a2 poison key asrat
Snake+strike

محاسن کو عنادل سے اپنی ذات میں جسمانی عدم دل چسپی سے گلہ تو بہت تھا مگر وہ خود کو یہ سمجھا کر چپ ہوگئی کہ شاید کچھ مرد ایسے ہی ہوتے ہوں۔ نئی عورت سے تعلقات بنانے میں دیر آشنا ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ کسی رات وہ اس کی جلوہ سامانیوں کی تاب نہ لاکر اس ٹوٹ پر  پڑے اور یہ تعلقات عام میاں بیوی والے عورت مرد کے تعلقات کا روپ دھار لیں۔محاسن ہر رات اسے رجھانے کے لیے خوب بنتی سنورتی۔ خواب گاہ میں طرح طرح کی خوشبو اور روشنی کا اہتمام کرتی۔ شادی سے پہلے وہ ایک ہفتے کے لیے اپنا سامان لینے اپنی خالہ کے پاس لندن گئی تھی اور وہاں سے اپنی کسی دوست کے ساتھ میلان (اٹلی) اور پیرس کا چکر بھی لگا کر آئی تھی جہاں سے اس نے نائیٹیوں اور من کو برمانے والی لانجرے (lingerie۔ عورتوں کے زیر جامے ) کا وافر اسٹاک جمع کیا تھا ۔ عنادل میاں ان سب شرارتوں کے باوجود جانے کسی مٹی گارے کے بنے تھے کہ ان پر جھاگ جیسی ،بدن کا جلد ساتھ چھوڑنے والی ان ترغیبات کا کوئی خاص اثر نہ ہوا ۔ وہ تقریباً ہر رات ہی سندرتا کی اس مورت کو بے اعتنائی سے دیکھتے ۔ بستر میں ہی کمپنی کے لیپ ٹاپ پر کاروباری ای میل بھیجتے بھیجتے سوجاتے گو ڈی وی ڈی پلئیر پر طرح طرح کے لبھاؤنے مناظر آہوں اور سسکیوں کی شور مچاتی بارات کی مانند گزرتے رہتے مگر مجال ہے کہ عنادل کے جسم و جان میں اس بات سے کوئی تحریک ہوتی ہو ۔

اطالوی لانژرے

کچھ دیر بعد ہی بچے کی طرح مادر شکم میں سمٹ کر سورہنے والے بچے عنادل پر شبِ ناآسودہ کی ماری محاسن دزدیدہ نگاہ ڈال کر نیم جاں ہوکر اپنے بستر سے اٹھتی۔ اس کا لیپ ٹاپ بستر سے نیچے رکھ کر ٹی وی کو دیگر بتیوں کے ساتھ گل کرکے کمرے میں سے باہر چلی جاتی۔ خواب گاہ کا دروازہ آہستگی سے بھیڑ کر وہ باہر لاؤنج میں رکھے لیزی بوائے پر پیر پھیلا کر دراز ہوکر وہ کبھی خود پر تو کبھی کتاب کے حروف پر نگاہ ڈالتی۔ دونوں میں اسے جب کوئی ربط محسوس نہ ہوتا تو وہ گیسٹ روم کے غسل خانے میں عریاں ہو کر  اپنے سراپے کو دیر تک تکتی رہتی تو اسے مختلف کتابوں اور عورتوں کے انگریزی رسائل سے اچکا ہوا یہ خیال دامن گیر ہوجاتا کہ کہیں اس میں عنادل کی جنسی عدم دل چسپی کی وجہ یہ تو نہیں کہ وہ نامرد یا ہم جنس پرست ہے۔

لیزی بوائے

یہ شک ایک ایسا مردہ گوشت تھا جسے اس کے اندر کی عورت ایک مادہ ہائنا (لکڑ بگھا) کی مانند کھینچ کھانچ کر اپنے ہی یقین کی بھوک مٹانے کے لیے کسی نتیجہ خیز مقام تک لے آ تی ۔خیالات کے اس بہاؤ میں اسے کہیں فروزاں دمکتی مسکراتی دکھائی دیتی جو ہر صبح اسے پہلے سے زیادہ جگ مگاتی اور آسودہ دکھائی دیتی تھی۔اس کے وجود سے ایسی روشنی پھوٹ رہی ہوتی جو مرد عورت کی سہولت آشنا لذت بھری قربت سے جنم لیتی ہے۔ایسا کئی دفعہ ہوتا تھا۔ عنادل کی بے توجہی اور فروزاں کی آسودگی اسے ہر رات انگاروں پر سلاتی۔

مادہ ہائنا

محاسن بہت حسین نہ تھی، پر دیدہ زیب بہت تھی۔ چہرے پر بھرے بھرے ہونٹ بہت رقبہ تو نہ گھیرتے تھے مگر پھر بھی اپنے اس افقی اختصار کے باوجود اسے ایک اسکول گرل والی معصومیت ضرور عطا کرتے تھے۔ صاف شفاف جلد والے چہرے پر ان لبوں کے کونے پرایک نمایاں تل تھا جو بوسے کے بے تاب طلب گار کے لیے نقطہء آغاز بن سکتا تھا مگر عنادل نے ان ہونٹوں کو اگر مجبوری میں کبھی چوما بھی تو بالکل اس طرح جس طرح کوئی چائے یا کافی کے کپ کی گرم کناری پر ہونٹ رکھ کر جلدی سے علیحدہ ہوجائے۔

سکول گرل لپس

اس کے ان  ہونٹوں کے پیچھے چھپے اجلے بے داغ ہونٹ بہت ترتیب سے جمے تھے۔سوچ لیں کہ وہ امریکہ کی میرین کا ایک ایسا چاک و چوبند دستہ تھے جو الاسکا کے  برفانی میدانوں میں اس کے ہونٹوں کی  گلابی وادی میں سفید کیمو فلاج یونی فارم پہنے ڈیوٹی دینے کے لیے ہمہ وقت ایستادہ رہتے تھے۔ناک اس نے اپنی امی کے منع کرنے کے باوجود سولہویں سالگرہ سے تین دن پہلے ہی چھدوائی تھی جو جب ذرا زخم ہوجانے کی وجہ سے پک گئی تو اسے بہت ساری ڈانٹ اور مائیسین بھی کئی دن تک کھانی پڑی ۔ناک ٹھیک ہوگئی تو اس نے مستقل طور پر اس میں راجھستانی نتھنی، لونگ اور کوکا  بہت شوق سے پہننا شروع کردیا ۔اس مخصوص قسم کے زیور سے اس کی ناک جو معمول سے ذرا زیادہ ہی ستواں تھی اس کا چبھاؤ چھپ جاتا تھا۔

وہائٹ کیموفلاج
nose ring

محاسن کے بال کمر تک لمبے اورچمکیلے تھے اور وہ انہیں کبھی کھول لیتی تو ایک سیاہ آبدار چادر کی طرح پردہ تان لیتے تھے۔ان کی کوئی لٹ جب آوارگی کرتی ہوئی چہرے پر بکھرتی تو ایسا لگتا تھا کہ کسی مشہور سیکورٹی ایجنسی کا کوئی گارڈ مفت کی ڈیوٹی دینے کے لیے مالکان کی طرف سے تعینات کردیا گیا ہو۔ قد دراز تھا، عام لڑکیوں سے ذرا نکلتا ہوا اور جامہ زیبی بھی قیامت تھی۔اس کی آنکھوں میں ذہانت کے بجرے کسی ساکت جھیل پربے مقصد تیرتے دکھائی دیتے۔ نگاہ بھر کے کسی کو دیکھنے کی عادت اس میں پہلے بھی کبھی نہ تھی ۔ ماں نے اسے بہت اوائل عمری میں سمجھادیا تھا کہ یہ انگریز لوگ کسی کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے ۔ ان کے ہاں کسی کو گھور کر دیکھنا بد تہذیبی میں شمار ہوتا ہے ۔ اس طرح ٹکٹکی جما کر دوسروں کو دیکھنے سے سامنے والے کو حرص اور شک کا شائبہ گزرتا ہے۔ یوں نگاہوں کے کونے سے دوسروں کو دیکھنا ایک عادت سی بن گئی۔ وہ اپنی نظر ہٹابھی لیتی تھی تو اس کی نگاہوں میں ایک ایسا سحر تھا کہ مطلوب نگاہ بہت دیر تک تڑپتا رہتا۔ جلد کی تازگی اور قدرتی چمک کی وجہ سے میک اپ کا استعمال بھی وہ کم ہی کرتی تھی۔ عنادل پر اس حسن کے ان بیش بہا جلووں کا وہی اثر ہوتا جو صحرائے سہارا کے علاقوں پر مشتمل ماریطانیہ، مالی، تیونس اور نائیجر کے ممالک کے صحراؤں پر کبھی کبھار کی بارش کا ہوتا ہے۔ بے آب و گیا، اپنی ہی آگ میں جھلستے ہوئے ،بے لطف اور بے آرام، لق و دق ریگستان۔

لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم
سہارا صحرا،ماریطانیہ
سہارا صحرا

سچ پوچھو تو اس شک کی ابتدا شادی کے اولین ایام میں ہی پڑگئی تھی۔ نکاح کی رات ایک تو عنادل نے بارات لانے میں اتنی دیر کردی کہ محاسن کی رخصتی کہیں صبح چار بجے جاکر ممکن ہوئی۔کمرے میں آتے آتے وہ بھی بہت بور ہوچکی تھی اور عنادل بھی جمائیاں لے رہا تھا۔ اسے گلے لگا کر پانچ منٹ میں ہی سوگیا۔ ولیمے والی رات کا معاملہ اور بھی عجب تھا۔ وہ ابھی پارلر میں ہی تھی کہ اطلاع آئی کہ عنادل کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے اور اسے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔یہ اطلاع عنادل کی سب سے چھوٹی بہن فارہہ لے کر آئی تھی۔سب گھر والوں کی ہدایت تھی کہ عنادل خود ہی پنڈال میں دو تین گھنٹوں میں آجائے گا۔ اسے ڈرپ لگی ہے۔عنادل آیا تو سہی مگر رات کو وہ چپ چاپ منہ  لپیٹ کر ہی سورہا۔اس کے بعد چھ ماہ تک ایسے کئی اہتمام ہوئے۔ کسی دعوت سے واپسی پر تو کبھی یوں ہی لبھاؤ اور ترغیب کے لیے مگر محاسن باکرہ کی باکرہ ہی رہی۔
وہ اکثر تاسف کرتی کہ اس کے والد عنادل کی بجائے اپنے جنرل منیجرفرحان سے کردیتے تو اچھا ہوتا۔ کیا ہوا اگر وہ اس سے عمر میں پورے پندرہ برس بڑا تھا۔ فرحان کو ایک اطلاع کے بموجب اس کی بیوی نے چھوڑ دیا تھا مگر اس کی معلومات کے حساب سے اس سارے بگاڑ کی ذمہ دار خود اس کی بیوی تھی۔ اسے اپنا کوئی پرانا کلاس فیلو بہت پسند تھا مگر مذہبی دشواریوں کی وجہ سے یہ شادی نہ ہوپائی ۔ بعد میں جب وہ ایک دوسرے سے چھپ چھپ کر ملنے لگے تو اس وجہ سے یہ شادی ٹوٹ گئی ۔
فرحان بہت ہینڈ سم تو نہ تھا ۔ خوش لباس، شریں گفتار اور کیئرنگ بہت تھا ذوق جمالیات بہت اچھا تھا مگر بقول وقاص کے اس کی ذہانت اوسط درجے کی تھی ۔ سچ پوچھو تو ذہانت کے معاملے میں وقاص خود بھی ایپل کمپیوٹرز اور آئی فون اور آئی پیڈ کے مالک اسٹیو جاب جیسا نہ تھا۔ تنہائی اور میاں کی عدم توجہی کی ماری محاسن اور فرحان کے درمیان دفتری معاملات کو نپٹاتے نپٹاتے دونوں میں ایک چپ چاپ سی انڈر اسٹینڈنگ پیدا ہوگئی تھی جو بتدریج ایک لگاؤ کی صورت اختیار کرتی جارہی تھی ۔
اس تعلق کے حوالے سے نہ تو دفتر میں کوئی افواہ سازی کا بازار گرم ہوا نہ ہی اس کے والد جمیل سیٹھ نے اسے اس بارے میں کوئی تنبیہہ کی۔ اس سلیقے اور راز داری میں جہاں محاسن کی اپنی پھونک پھونک کر قدم بڑھانے والی احتیاط پسند طبیعت کا بہت  دخل تھا ،تووہیںوہ  اس کا  بہت  سا کریڈٹ فرحان کی سمجھ داری ، دھیمے پن احترام سے آراستہ لگاؤ اور رکھ رکھاؤ کو بھی دیتی تھی۔ابتدا میں جب یہ سلسلہ چلا تو محاسن کو یہ خیال آتا رہا کہ فرحان کے  اس احتیاط کے بندھن میں شاید کمپنی کی ملازمت کا  بھی دخل ہو۔وہ ان کی کمپنی میں انتظامی سطح پر ایک ذمہ دار ترین عہدے پر فائز تھا۔ بعد میں اسے لگا کہ اس اہتمام میں کچھ اس کی طبیعت کا اپنا فطری میلان بھی شامل ہے۔
اس کے ابو نے ہی اسے بتایا کہ فرحان کے ابو مرکزی حکومت میں افسر تھے، ریٹائرمینٹ کے بعد وہ اسی کمپنی میں ملازم ہوگئے تھے ۔ان کی تین اولادیں تھیں عندلیب، رفاقت اور فرحان۔ بہنیں بڑی تھیں ،دونوں بیاہ کر ملک سے باہر جا بسی تھیں۔ان کے اچانک انتقال سے کچھ دن پہلے ہی فرحان بہنوں کی مدد سے باہر سے پڑھ کر آیا تھا ۔پہلے تو ادھر ادھر کہیں نوکری کرتا رہا بعد میں وہ ان کی کمپنی میں آن کر ملازم ہوگیا ۔اس بات کو اب پندرہ برس ہوتے تھے۔
اس کے پیار کے طور اطوار کے یہ من بھاؤنے انداز اسے بہت عرصے پہلے دیکھی گئی وائلڈ لائف کی ایک فلم کے چند مناظر کی یاد دلاتے رہے۔منگولیا میں سردی کے ایام میں  Demoiselle Cranes  جنہیں بھارت میں سارس اور کونج کہا جاتا ہے پاکستان اور بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ہندوستان کی ریاست راجھستان میں ایک قصبے کانام’کی شن ‘ہے ۔ اس قصبے میں کبھی کسی کسان نے سرسوں کی ایک بوری کے بیج ان سارسوں کو ڈال دیے تھے ۔اب ہر سال موسم گرما میں دس ہزار سارسوں کا ایک جھنڈ اس جگہ باقاعدگی سے اپنا دانہ چگنے پہنچتا ہے۔ محاسن نے سوچا کہ اس نے بھی سرسوں کے بیج کی ایک بوری فرحان کے سامنے ڈال دی ہے۔ وہ بھی اپنی میلان طبع اور اس کی سہولت سے یہاں دانہ کھانے ضرور آئے گا۔

Demoiselle Cranes
Demoiselle Cranes

ایک دن بات چیت کے دوران اس ہمت کرکے اپنے اور عنادل کے ساتھ درپیش معاملے کو اپنی ایک قریبی سہیلی کا کیس بنا کر جب فرحان کے ساتھ اس پر موضوع پر تفصیلی گفتگو کی تو فرحان کو کچھ حیرت بھی ہوئی مگر وہ اس یہ سمجھا نے میں کامیاب ہوگیا کہ اس کی سہیلی کا میاں ممکن ہے ہم جنس پرست یعنی (Gay) ہو اور اس طرح کے مردوں کو عورتوں میں کوئی جنسی دل چسپی نہیں ہوتی۔اپنی اس سہیلی کو وہ تجویز دے کہ وہ اپنے میاں کا بدن اس کی بے توجہی کے دوران چپ چاپ دیکھے ممکن ہے اسے کچھ ایسی علامات دکھائی دے جائیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ بدن کسی اور کے تصرف میں رہتاہے۔یہ راز زیادہ دن تک چھپ نہیں سکتا۔ وہ کوشش کرکے اسے رنگے ہاتھوں پکڑے مگر شور مچائے بغیر چپ چاپ طلاق لے لے۔
ایک ہفتے کے لیے وہ اپنے والد کی تجویز پر سنگاپور گئی۔ جانا تو اس کے بھائی وقاص کو تھا مگر اس کے بیٹے کا  عین انہی دنوں اچانک ہرنیا کا آپریشن ہونے کا مسئلہ درپیش آگیا یوں اسے فرحان کے ساتھ جانا پڑا۔ ۔ وہاں کوئی کاروباری کانفرنس تھی ۔ یوں بھی اس کے والد کی مرضی تھی کہ فرحان سے تربیت پاکر وہ ان کے بزنس میں شامل ہوجائے۔دوبئی سے ان کی فلائٹ میں سیٹ بزنس کلاس میں بک تھی ۔ جہاز جب فضاوں میں بلند ہوا تو وہ نہ جانے کب دوران پرواز نیند کی ماری اس کی بانہوں میں سمٹ کر سو گئی ۔دفتر سے وہاں سیدھے ائیر پورٹ آئے ہوئے فرحان کو شیو کرنے کا موقع نہ ملا تھا۔ ہلکے ہلکے اسٹبل جب اسے اپنے گالوں کو سہلاتے ہوئے محسوس ہوئے تو وہ بھی سوچی سمجھی غفلت کا بہانہ بنا کر آنکھیں موندے اسکے سینے پر سر رکھے سانسوں کی مالا جپتی یہ سوچتی رہی کہ عنادل کے چکنے لوشنوں کے پالے لمس میں اور اس مردانہ کھردرے پن میں لذت کا کتنا جاں لیوا فرق ہے۔
کانفرنس والے انہیں ایک دن سنگا پور کے بوٹانیکل گارڈنز لے گئے جن کا شمار دنیا کے بہترین پکنک اسپاٹس میں ہوتا تھا۔وہاں گھومتے گھومتے گروپ سے کٹ کروہ درختوں کے ایک جھنڈ میں پہنچ گئے جہاں ایک جھیل میں کنول کھلے تھے۔ایک پتھر پر بیٹھی محاسن کا پیر پھسلا تو وہ تقریباً پانی میں گلے گلے تک ڈوب گئی، فرحان نے اسے نکالا اور خشک کرتے کرتے اسے کئی دفعہ چوما۔ بوسوں کا یہ ذائقہ تو یقیناًبہت ہی لذت آگیں تھا مگر اس سے  کہیں زیادہ دل خوش کُن اس کا وہ جملہ تھا کہ قدرت نے آپ کے ہونٹوں کے کونے پر یہ تل اس لیے سجایا ہے کہ بھولے بھٹکے مسافر اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔وہاں سنگاپور میں قیام کے دوران فرحان نے اسے کئی دفعہ دیر تک چوما مگر بات بوس کنار تک ہی رکی رہی۔

بوٹانیکل گارڈنز

نہ جانے کیوں محاسن نے مواقع کی اس بھر مار میں بھی اسے خود ہی اپنے دل میں متعین حدود کو پھلانگنے کی اجازت نہ دی۔
کانفرنس سے واپسی پر محاسن کے میاں عنادل کو کمپنی میں ترقی پر نئی جھمجھماتی کار ملی تو ایک ڈرائیور بھی رکھ لیا گیا۔ عجب بدتمیز سا ملازم تھا۔ بے حد تنومند، غصیلا اور تحکم آمیز رویوں کا مالک ، عنادل سے تو یوں بات کرتا تھا جیسے وہ اس کا ملازم ہو۔
محاسن کو وہ پہلے دن سے ہی نہ بھایا۔کئی مرتبہ اس کی بدتمیزیوں سے اور گھر کے دیگر ملازمین سے روز روز کے جھگڑوں سے عاجز آن کر محاسن نے اسے نوکری سے فارغ کرنے کا بھی کہا مگر عنادل کا کہنا تھا کہ یہ اس کے باس کے گاؤں کا ہے۔ان ہی کی فرمائش پر اسے نوکری دی گئی ہے ، تنخواہ بھی کمپنی دیتی ہے لہذا اس کا اسے نوکری سے نکالنے پر کوئی اختیار نہ تھا۔
اس دوران ڈرائیور کو عنادل نے ایک دو کمروں کا پورا سوئیٹ اپنے ہی بنگلے کے آؤٹ ہاؤس میں دے دیا۔ دفتر سے اب وہ جلد آجاتا تھا۔ آنے کے کچھ دیر بعد جب محاسن یا تو اپنے ابو کے گھر ہوتی یا کسی اور دوست یارشتہ دار سے ملاقات کے لیے گئی ہوتی ,وہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر کہیں چلا جاتا۔ وہ دونوں واپس لوٹتے تو محاسن ,عنادل   کا انتظار کیے بغیر یا تو لاؤنج میں یا اوپر اب اپنے نئے آباد کیے ہوئے بیڈ روم میں سوچکی ہوتی۔گیٹ کھلنے اور کمرے میں کھٹ پٹ سے اندازہ ہوجاتا کہ میاں عنادل گھر واپس آگئے ہیں۔
چھٹی والے دنوں میں عنادل کی حالت ماہی بے آب کی سی ہوتی۔ ڈرائیور ان دنوں میں کہیں اپنے علاقے کے لوگوں سے ملنے جلنے چلا جاتا۔
اس ڈرائیور کے آجانے سے محاسن کو ایک نسوانی ادراک نے یہ سمجھایا کہ جب شکسپئر کے مشہور ڈرامے ہیملیٹ میں ایک کردار مارسیلس کی زبانی یہ کہتا ہے کہ ”

Something is rotten in the state of Denmark,”
تو یقیناً اس مملکت میں کچھ ایسی خراب باتیں ہورہی ہیں جنہیں کسی طرح بھی در گزر نہیں کیا جا سکتا۔ وہ سوچتی رہی کہ اس کی زندگی میں عنادل نے یہ کیا بگاڑ اپنا لیا ہے کہ اس سے مفر ممکن نہیں۔ وہ اسی شش و پنج میں مبتلائے عذاب ہوکرنہ چاہتے ہوئے بھی فرحان کے قریب ہوتی چلی گئی۔
باپ کی، فروزاں کی اس کے تینوں بھائیوں کی اپنی دنیا تھی جس میں اس کا عمل دخل بہت کم تھا۔ فرحان اسے بہت فراوانی سے دستیاب تھا۔اس دوستی میں اب خاصا اعتماد اور بے تکلفی آچکی تھی۔یہ لگاوٹ وہ عنادل سے انتقام کے طور پر بھی بڑی دل جوئی سے نبھاتی تھی۔
فرحان پی۔ ای ۔سی ۔ایچ۔ ایس سوسائٹی کے ایک پرانے بنگلے میں ایک عدد چوکیدارکے ساتھ رہتا تھا۔اس بنگلے میں کئی پرانے درخت تھے۔ جس چھوٹی سی شاہراہ پر یہ واقع تھا وہاں ہر طرف ہی پرانے درخت تھے ۔ شہر کے کئی معتبر لوگ وہیں رہائش پذیر تھے ۔ یہ ایک پرانی طرز کا بنگلہ تھا۔اس کے ابو نے اپنی ملازمت کے دنوں میں اسے بنوایا تھا ۔فرحان کو یہ ورثے میں مل گیا تھا۔ پرانا ہونے کے بوجود اس نے اسے بہت عمدگی سے مین ٹین کیا تھا۔ صبح ایک ماسی اور جمعدار اس کی صفائی اس کی موجودگی میں کرکے چلے جاتے اور پھر یہ گھر اس کی آمد تک بند رہتا۔ بوڑھا چوکیداربابا غلام رسول ان کے ہاں پچھلے پینتیس برسوں سے ملازم تھا۔
اسے ہندوستانی موسیقی،اردو شاعری  کا بہت شستہ ذوق تھا۔ بالخصوص اس نے مصطفے زیدی اور داغ کو تو گھوٹ کر پی رکھا تھا۔مصطفے زیدی کی زندگی اور شاعری پر بھی ا س کی بہت اسٹڈی تھی۔ جاپانی اور ہسپانوی ادب کا بھی وہ دیوانہ تھا ۔جن دنوں ان دونوں کا پیار پروان چڑھ رہا تھا وہ جاپانی ادیب ہاروکی مراکامی کا بہت شدت سے مطالعہ کررہا تھا اور اسے اکثر وہ اس کا یہ قول سناتا۔۔
Pain is inevitable. Suffering is optional.148 (درد تو ناگزیر ہے مگر آزار اپنے اختیار کی بات ہے)

یہ اس کی کتابWhat I Talk About When I Talk About Running کا مشہور جملہ تھا۔ محاسن اسے اپنی زندگی پر فٹ کرنے کی کوشش کرتی تو وہ اس پر ایسے ہی فٹ ہوتا تھا جیسے مشہور اداکارہ پریانکا چوپڑہ کے بدن پر اس کے پسندیدہ فیشن ڈیزائنر ریتو کمار کے بلاؤز اور ہالٹرز چسپاں ہوجاتے تھے۔

haruki murakami
پریانکا چوپڑا ریتو کمار کی ساڑھی میں

فرحان کو کھانا پکانے کا بھی بہت شوق تھا۔بالخصوص عربی کھانے اور شوشی وہ بہت اہتمام سے اس کی آمد پر اس کی مرضی سے تیار کرکے اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا۔
گھر کے لاؤنج میں لکڑی کے ایک تختے پر پیتل کے الفاظ میں جڑی ہوئی یہ عبارت کم بخت نے کہاں سے لا کر لگائی ہوئی تھی کہ”

All my guests give me happiness, some by coming, some by going “( میرے سبھی مہمان میرے لیے مسرت کا باعث بنتے ہیں، کچھ اپنے آنے سے، کچھ اپنے چلے جانے سے)شراب ضرور پیتا تھا مگر ایک رکھ رکھاؤ کے ساتھ۔اسی نے محاسن کو سگریٹ، شراب اور بدن کے ذائقوں سے آشنا کیا۔فرحان کے ہاں کوئی عجلت، ضد یا بے توجہی نہ تھی۔ باتیں کرتا تو دل چاہتا کہ گھنٹوں بیٹھے سنتے رہو۔وہ اکثر سوچتی کہ  ایسی کیا بات تھی کہ اتنے اچھے اور سمجھدار مرد کو بھی ایک عورت نے چھوڑ دیا۔ اس کے بارے میں وہ سوچتی تو اسے اپنی ماں کی یہ بات بھی بہت یاد آتی کہ ہزار عورتوں میں سے ایک عورت کو اپنے خوابوں کا شہزادہ ملتا ہے باقی تو ساری زندگی بھر جھک مارتی ہیں۔

سوشی
بیڈروم کی تختی

محاسن کے شکوک عنادل کے بارے میں چند دن سے اپنے عروج پر تھے۔ اسے چوکیدار نے بتایا کہ ایک چھوٹی سی لوہے کی الماری جو الماری کم اور تجوری زیادہ لگتی ہے وہ ڈرائیور کے کمرے میں عنادل صاحب نے رکھوا دی ہے ۔ ڈرائیور اور صاحب شام کو جاتے وقت اس الماری کو کھول کر اس میں سے کچھ چیزیں اپنے ایک چھوٹے بیگ میں رکھتے ہیں۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس کے بعد روانہ ہوجاتے ہیں۔ ڈرائیور چرس بھی بہت پیتا ہے۔اس کا ماتھا اس وقت بھی ٹھنکا جب وہ ایک دن عنادل کی غیر موجودگی میں اپنی لانجرے نکالنے اپنے پرانے بیڈ روم گئی۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ یہ لانجرے   اپنی کچھ دوستوں کو بطور تحائف دے ڈالے۔ ان کی اب اس کی ازدواجی زندگی میں کوئی افادیت باقی نہیں رہی  تھی،اس   نے جب اپنے وارڈ روب کا جائزہ لیا تو اسے وہاں ایک غدر مچا ہوا دکھائی دیا۔ کچھ سامان تو اب بھی بن کھلے ہی اسکے وارڈ روب میں رکھا تھا۔ اسے مگر اس بات پر بڑی حیرت ہوئی کہ اس کے اس سامان کے بکس تو اپنی جگہ موجود تھے مگر دو تین نائٹیاں ان میں سے غائب تھیں۔ ایک نائیٹی جو اس نے بہت دن ہوئے کسی رات پہنی تھی وہ عنادل کے باتھ روم میں موجود تو تھی مگر اس کا ایک اسٹریپ ہک کے پاس سے ٹوٹا تھا۔
وہ سوچ میں پڑگئی کہ کیا اس غلیظ تعلق میں اس کا میاں نسوانی رول ادا کرتا ہے اور یہ لباس پہن کر وہ اپنے سی۔ ڈی ہونے کا مزہ لیتا ہے۔سی ۔ڈی یعنی کراس ڈریسر (Cross Dresser) وہ مرد اور عورتیں ہوتے ہیں جنہیں جنس مخالف کے لباس اور لوازمات اپنے بدن پر سجا کر ایک عجیب سی جنسی لذت اور احساس تکمیل محسوس ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ سوچ کر اسے عنادل سے بہت کراہت محسوس ہوئی۔

کراس ڈریسر

اب اسے مزید صرف ایک ثبوت درکار تھا ۔ وہ تھا ان ثبوتوں کو اس کے منہ  کے سامنے رکھ کر عنادل کا سامنا۔ وہ کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے اسے ایک موقع صفائی کا دینا چاہتی تھی ۔ جو کچھ اس نے اپنے کمرے میں دیکھا اس سے وہ بہت ٹوٹی،اپنے کمرے میں آن کر روئی بھی بہت۔انتقام کی آگ بھی اس کے اندر ہی اندر سلگنے لگی۔

اس انکشاف کی کڑواہٹ میں وہ پورا ایک ہفتہ لتھڑی رہی۔ اسے کبھی اپنے آپ سے تو کبھی عنادل سے گھن سی آنے لگی اور وہ سوچنے لگی کہ کیا اس میں کوئی ایسی کمی ہے کہ اس کا میاں اس کی جانب شب اول سے ہی مائل نہ ہوا ،تب اسے فرحان کی وہ بات یاد آگئی کہ اس کی سہیلی کا میاں ممکن ہے ہم جنس پرست یعنی (Gay) ہو اور اس طرح کے مردوں کو عورتوں میں کوئی جنسی دل چسپی نہیں ہوتی۔اب اسے یہ باور کرنے میں کوئی دشواری نہ تھی کہ عنادل بھی مکمل طور پر Gay ہے وہ ایک باٹم یعنی مفعول ہے اور وہ حرام زادہ ڈرائیور اس کا فاعل یعنی ٹاپ۔وہ ایک عجب کرب میں یہ سوچ سوچ کر مبتلا رہی کہ کیا کوئی اعلٰی خاندان کا فرد جس کی تعلیم باہر کی ہو اور جس کا گھرانہ بھی بہت معقول اور معاشرے میں شریف اور باوقار ہو وہ اپنے سے بے حدکم تر حیثیت کے ملازم کے ساتھ جنسی تعلق کی ان رزیل ذلتوں کی کھائی میں گر سکتا ہے۔اسے قرآن کریم کی سورۃ التین کی چوتھی اور پانچویں آیت یاد آگئی جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ” ہم نے انسان کو خوب سے خوب تر حالت میں پیدا کیا مگر ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو پستیوں کی گہرائی میں جا گرتے ہیں” ۔انسانی تعلق بالخصوص کسی ازدواجی تعلق میں کوئی بریک پوائنٹ یا کوئی ٹپنگ پوائنٹ اگر ہوتا تو عنادل اور محاسن کے تعلق میں یہی انکشاف ، یہ نقطہء ادراک وہ آخری تنکا تھا جس نے اونٹ کی کمر توڑ دی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *