• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • 1968کی تحریک آج بھی سرمایہ داری ، سامراجیت اور آمریت کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت ہے

1968کی تحریک آج بھی سرمایہ داری ، سامراجیت اور آمریت کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت ہے

1968کی تحریک آج بھی سرمایہ داری ، سامراجیت اور آمریت کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت ہے
( 1968کی تحریک کے 50سال مکمل ہونے پرنیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن(NTUF)کے زیر اہتمام اجتماع میں خطاب)

کراچی ( پ ر)دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی 1968میں چلنے والی مزدور تحریک سرمایہ داری، سامراجیت اور آمریت کے خلاف مزاحمت کی عوامی علامت کے طور پر ابھری۔ محنت کشوں ، ہاریوں ، طلبا اور مظلوموں کی اس تحریک کے نتیجے میں ملک کی پہلی فوجی آمریت سے عوام کو نجات ملی اور ون یونٹ کا خاتمہ ہوا ۔آج کے حالات میں ایک بار پھر ساری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سرمایہ داری، سامراجیت اور آمریت کے منڈلاتے طوفان کا مقابلہ طالبعلموں، مزدوروں ،ہاریوں اور مظلوموں کی تحریک کو منظم کر کے کیا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار 1968کی سرمایہ داری، سامراج اور آمریت مخالف عوامی تحریک کے پچاس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ’’ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ‘‘(NTUF)کے زیر اہتمام کراچی میں فیڈریشن آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا ۔
؂اجتماع میں کثیر تعداد میں مختلف صنعتوں سے وابستہ محنت کشوں، گھر مزدوروں ، نوجوانوں ، دانشوروں،سیاسی وسماجی کارکنوں نے شرکت کی۔
اجتماع میں اس تحریک کے دوران شہید ہونے والے محنت کشوں،طالبعلموں اور سیاسی کارکنوں کو زبردست خراج تحسین کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ1968-69میں ابھرنے والی یہ ملک کی پہلی عوامی مزاحمتی تحریک تھی جس کی قیادت محنت کش طبقہ اور عوام کر رہے تھے ۔اس نے وقت کے فوجی آمر ایوب خان کو اس دور میں للکارا جب اس کا سورج نصف النہار پر تھا۔ یہ تحریک بنیادی طور پرغیر جمہوری چلن ، ملک کی معیشت کو 20سرمایہ دار خاندانوں کی گرفت میں دینے اور سامراج اور اس کے عالمی مالیاتی اداروں کو ملک پر مسلط کرنے کے خلاف منظم ہوئی جس میں طالبعلموں ، صحافیوں ، مزدوروں اور کسانوں نے بنیادی کردار ادا کیا ۔ سماجی ،سیاسی اور معاشی ناانصافی کے خلاف ابھرنے والی یہ وہ پہلی تحریک تھی جو فوجی آمر کے خلاف اُس وقت کے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں مشترکہ طور پر چلائی گئی اور 239شہدا ء کی قربانیوں کے نتیجے میں فوجی آمر اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو ا۔


مقررین نے کہا کہ فوجی ڈکٹیٹر نے تحریک کے دباؤ میں اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کے مطابق اقتدار اسپیکر کے حوالے کرنے کی بجائے ایک اور فوجی طالع آزما جنرل یحییٰ کے حوالے کیا جو اس تحریک کے نتیجے میں انتخابات کرانے پر مجبور ہوا۔ یہ اسی عوامی تحریک کا دباؤ تھا کہ انتخابات’’ ایک فرد ایک ووٹ ‘‘ کی بنیاد پر ایک حد تک آزادانہ اور منصفانہ ہوئے اور اس میں اسٹیٹس کو کی تمام پارٹیوں کو شکست ہوئی ۔لیکن فوجی آمر نے اقتدار منتخب عوامی نمائندوں کو حوالے کرنے کی بجائے بنگالی عوام پر فوج کشی کو ترجیح دی جس کے بھیانک نتائج سب کے سامنے ہیں ۔بعد میں سیاسی حکومتوں نے بھی اپنے طبقاتی مفادات کی خاطرجمہوری ،سماجی اور عوام کے حقوق سے متعلق ذمہ داریوں، دعوؤں اور منشوروں میں کیے گئے وعدوں سے روگردانی کی اور عوام دشمن قوتوں کو ہی پنپنے کے مواقع فراہم کیے ۔یوں مسلسل آمریتوں نے ڈیرے ڈالے رکھے جس کے خلاف عوام بھرپور جدوجہد کرتے رہے اور انھیں شکست دیتے رہے ۔
مقررین نے مزید کہا کہ آج پھر صورتحال اسی نہج پر جا رہی ہے اور ملک میں سرمایہ داری کا بدترین جبر موجود ہے جس کا بڑے پیمانے پر محنت کار عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔عوام زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں لیکن ارب پتیوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہوا ہے ۔ سامراجی تسلط اور عالمی سامراجی مالیاتی اداروں کی ایماء پر عوام کے حقوق پر ڈاکہ زنی کا سلسلہ جاری ہے ۔مقتدرہ قوتیں جمہوری آوازوں کو دبا رہی ہیں اور اپنی پروردہ سیاسی تنظیموں کو عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے جو ایک نئی تباہی کا پیش خیمہ ہے ۔1968کی طرح صحافیوں پر پابندیوں کا سلسلہ جا ری ہے اور غیر اعلانیہ سنسر شپ نافذ ہے ،ٹریڈ یونینز کو منظم طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے ۔تعلیم عوام کی دسترس سے باہر ہے، تعلیمی اداروں میں بھی جبر کی فضا قائم ہے اور وفاق کو دوبارہ ون یونٹ میں تبدیل کرنے کی مکروہ سازشیں جاری ہیں ۔یہ صورتحال جلد یا بدیر ایک بڑی عوامی مزاحمتی تحریک کو جنم دے گی جو سرمائے کے جبر ،سامراجیت اور آمریت کے قلعوں کو بہا لے جائے گی ۔
اجتماع سے خطاب کرنے والوں میں بزرگ مزدور رہنما کامریڈ عثمان بلوچ،’’ نیشنل لیبر کونسل ‘‘ کے جنرل سیکریٹری کرامت علی، ’’ شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘(ZABIST)کے شعبہ سماجیات کے ڈین ڈاکٹر ریاض احمد شیخ ،’’ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ‘‘(NTUF)کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ناصر منصور، مرکزی صدر رفیق بلوچ اور مشتاق علی شان شامل تھے.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *