استعماریت کو شکست کیسے دی جاۓ۔۔۔۔اورنگزیب وٹو

استعمار ایک ذہنی حالت کا نام ہے جس میں مبتلا ہو کر انسن یا انسانوں کا کوئی ایک گروہ اپنے ہم جنسوں پر حاوی ہونے کی ٹھان لیتا ہے۔استعماری سوچ کو آگے بڑھانے اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔نوآبادیاتی نظام استعماری سوچ کے بطن سے پھوٹا ہوا ناسور ہے ۔نوآبادیاتی دور انسانی تاریخ کے اس دور کا نام ھے جب مغربی اقوام نسلی برتری کا خناس دماغ میں سموئے،تہذیب کے نقاب تلے وحشت چھپائے،ہیگل اور کپلنگ جیسے دانشوروں کے افکار تھامے ایشیا اور افریقہ کی اقوام پر ٹوٹ پڑیں۔یہ تاریخی تجربہ مغربی نشاة ثانیہ کی پیداوار نہیں تھا بلکہ اس کی جڑیں یونان اور فارس کی جنگوں،جولیس سیزر کے خواب اور انگریزوں کی تاریخی دیومالائی رمزیہ بیو وولف میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔مغربی اقوام کے لاشعور میں ایشیا اور افریقہ پر غلبے کی خواہش ہمیشہ سے موجود رہی ھے۔اس خواب دیرینہ کی تکمیل کے لیے یورپی اقوام نے صدیوں انتظار کیا اور بالآخر سولہویں صدی عیسوی میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا
نے کے لیے سمندر کو راستہ بنایا۔واسکوڈے گاما اور کرسٹوفر کولمبس کی امریکہ اور ھندوستان کے ساحلوں پر بربریت کے مظاہروں نے اقوام یورپ کی اصلیت سے کچھ حد تک پردہ ضرور ہٹا دیا تھا مگر نوآبادکاروں نے تاجروں کے بھیس میں اپنے عزائم کو آگے بڑھایا۔استعماری اقوام نے ایشیا اور افریقہ کی اقوام کا بدترین معاشی استحصال کیا اور خوشحال ترین ممالک کو غربت بیماری اور جہالت کے ایسے دلدل میں دھکیل دیا جس سے نکلنے کے لیے صدیاں درکار ہیں۔ہندوستان جو اٹھاریوں صدی کے آغاز تک دنیا کی مجموعی دولت کا ستایس فیصد پیدا کر رہا تھا،انگریزوں کی رخصت کے وقت صرف تین فیصد تک آ گیا۔افریقہ سے غلاموں کی تجارت کے علاوہ قدرتی وسائل کا بدترین استحصال کیا گیا۔مشرق بعید کے ممالک کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں جہاں نوآبادیاتی نظام نے جنگ غربت جہالت اور تعصب عام کیا۔مغربی اقوام نے نوآبادیاتی معاشروں کو اندر سے تقسيم کرنے کے لیے ایسے گروہ تشکیل دیے جو یورپی انداز فکر،مغربی رسوم و رواج اور طرز زندگی اپناتے ہوئے اپنے ہم وطنوں سے الگ ہو جائیں۔غلام اقوام کے اذہان میں مغربی تہذیب کی برتری کا تصور راسخ کرنے کے لیے مقامی زبان تاریخ ثقافت اور انداز زندگی کی نفی کرنے والوں کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا۔ایسے ادارے جو مقامی معاشروں کے مزاج کے مطابق تھے یا ایسی زبانیں جو کسی خاص قوم کی مزہبی اور سیاسی تاریخ سے پیوست تھی،اسکی مکمل طور پر نفی کی گئی ۔ہندوستان میں فارسی کی جگہ انگریزی کو لایا گیا جبکہ افریقہ اور مشرق وسطی میں مقامی زبانوں کو تعلیمی اداروں سے ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ۔مشہور فلسطينی مفکر ایدورد سعید نے اپنے ایام طالبعلمی کا ذکر کرتے ھوے لکھا کہ کس طرح سکول انتظامیہ نے مقامی زبان کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی تھی اور اگر کسی سے اپنی زبان بولنے کی غلطی سرزد ہو جاتی تو اسے سزا دی جاتی۔نائجیریا سے تعلق رکھنے والے عظیم افریقی ادیب چینو اچیبے نے اپنے شاہکار ناولوں میں اس منظم حملے کو بیان کیا ھے جو معاشی استحصال سے کہیں زیادہ خوفناک تھا۔نوآبادیاتی حکمرانوں نے مغلوب اقوام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے ذات پات مزہب مسلک کا بھرپور استعمال کیا۔ 1872 میں ہندوستان میں ھونے والی پہلی مردم شماری کو مختلف فرقوں میں عددی تفریق واضح کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔غرض یہ کہ ایک طرف یہ قابضین ان اقوام کا معاشی استحصال کرتے رھے اور دوسری طرف ان معاشروں کی بنیادی ساخت کو تباہ کرنے میں مصروف عمل رھے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد مشرق وسطی کی بندر بانٹ کی گئی  اور بعد میں اس علاقے کو مصنوعی سرحدیں کھینچ کر تقسيم کر دیا گیا۔اس طرح مشرق وسطی میں ایسی آگ لگائی گئی ،جو تاحال اس خطے کو جلا رہی ھے۔
نوآبادیاتی دور مغرب کے سیاسی اور تہذیبی استعمار کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔مغربی اقوام نے دو خوفناک جنگیں کسی اعلی مقصد کے لیے نہیں بلکہ ان کالونیوں پر حق جتاتے ھوے یورپ گتھم گتھا ہوا اور دو عظيم جنگوں میں کروڑوں انسان مار ڈالے۔نوآبادیات کی آزادی کی وجہ سفید فام اقوام میں انسانيت اور احساس کی بیداری نہ تھی بلکہ استعمار اس وقت نوآبادیات کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔امریکہ نے بھی یورپ کے سامنے جنگی اخراجات کےعوض نوآبادیات کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ٹرومین ہندوستان کی برطانیہ سےآزادی چاھتے تھے ۔ غلامی کا خاتمہ انکی ترجیح کبھی بھی نہ تھا۔امریکہ نے دونوں جنگوں میں برطانیہ کا ساتھ دینے کی بھرپور قیمت وصول کی اور برطانیہ کی ان سابقہ کالونیوں پر اپنا اثرورسوخ جما لیا۔مشرق وسطی کا تیل،افریقہ کا سونا اور جنوبی ایشیا کے ممالک کی تزویراتی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ نے اپنے طفیلی ادارے اقوام متحدہ،آئی  ایم ایف اور عالمی بینک کو استعمال کیا۔یہ استعمار کی دوسری شکل اور نوآبادیاتی نظام کی توسیع تھی جس میں کسی ملک پر قبضہ کیے بنا سیاسی اور معاشی طاقت کے ذریعے من مانی کرنا تھا۔اس نظام میں تاریخ نویسی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی گروہوں اور ادب کے ذریعے کمزور اقوام کو احساس کمتری کا احساس دلایا جاتا ھے۔امریکہ نے ہالی ووڈ،سیاسی اعزازات اور تعلیمی اداروں کے ذریعے کمزور اقوام کو انکے طرز زندگی،تاریخ،مذہب،سیاسی نظام،اخلاقی اقدار سے دور کرنے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔مہاتیر محمد نے ایشیائی اقدار اور مغرب کا موازنہ کرتے ھوۓ دونوں کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیا ھے۔مغرب اس فطری اور بنیادی اصول کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ باقی دنیا مغرب کے متعین کردہ معیارات کے مطابق کس طرح اپنے آپ کو ڈھال سکتی ہیں۔مغرب چین کا حریف اس لیے ھے کہ چین نے مغربی طرز فکر اپنانے سے انکار کیا جبکہ جاپان نے مغرب کے سامنے سر تسليم خم کیا اسی لیے وہ مغرب کا پسندیدہ ھے۔مسلمان اپنے مذہب تاریخ اور طرز زندگی بدلنے کو تیار نہیں اور مغربی جارحيت کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں تو انہیں پسماندہ بنیاد پرست اور شدت پسند کہا جاتا ھے۔انہی معاشروں میں اگر کچھ لوگ یا کچھ گروہ مغربی انداز فکر کو اپناتے اور مقامی معاشرتی ڈھانچے سے بغاوت کرتے ہیں تو مغرب انہیں سر پر بٹھاتا اور حریت کی علامت قرار دیتا ھے۔سلمان رشدی مختاراں مائی جیسے اور بہت سے لوگ ہیں جنہیں پزیرائی ملتی ھے۔اب جب مغرب اپنی روش بدلنے کو تیار نہیں تو مغربی استعمار کی شکار دنیا اور سابقہ نوآبادیات کے سامنے کیا راستہ ہے؟ کیونکر ان تاریخی سیاسی مذہبی اور سماجی تضادات سے چھٹکارا ممکن ہے جو استعمار کی دین ہے اور ایسی صورتحال میں جب سامراجی کارندے ہماری اپنی صفوں میں موجود ہیں جو ہر ایسی کوشش کو سبوتاژ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔مثال کے طور پر پاکستان کو ہی لے لیجیے جہاں ستر سالوں سے انگریزی سرکاری زبان ہے اور جب بھی اردو کو سرکاری زبان بنانے کی بات ہوتی ہے دلیل دی جاتی ہے کہ ہماری زبان تو مختلف زبانوں کا چربہ ہے اور سرکاری زبان بننے کے لیے ابھی کما حقہ وسعت اور جامعیت سے عاری ہے۔انگریزی زبان کسی بھی دوسری زبان کی طرح کئی زبانوں کا مرکب ہے اسی طرح فرانسيسی عربی فارسی بھی۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے اور مغرب اپنے پروردہ لبرل گروہوں اور تنظيموں کے ذریعے اپنے نظریات جو نسلی برتری مادیت آزادروی انفرادیت اور سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی ہیں کے فروغ کے لیے کوشاں ھے۔اگر اس رویے کے خلاف انتہا پسندانہ روش اختیار کی جائے اور مکمل طور پر اپنے نوآبادیاتی ماضی سے پیچھا چھڑانے کا نعرہ لگایا جائے تو یقينا یہ سعی لا حاصل ہو گی۔تاریخ کے صفحات سے ان صدیوں کو مٹانا ناممکن ہے جنہوں نے ہمیں آج تک پہنچایا ہے۔نوآبادیاتی تجربے سے گزرنے والی اقوام کو ظلم اور جبر کے استعاروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ آج سامراج کا مقابلہ اسی کے ہتهياروں سے لیس ہو کر کرنا ہو گا۔اب ہمیں ایک اعتدال پسند روش اختیار کرنا ہو گی اور اپنے قدرتی ورثے اور شناخت کو اپنانا ہو گا۔ہمیں اپنے آپکو استعمار کے شکنجے سے نکالنے کے لیے اپنی زبان مذہب ثقافت اور سیاست پر اصرار کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی علوم سے بھی استفادہ کرنا ہو گا۔ماضی میں سامراج کے ہاتھوں لگائے گئے  زخموں پر مرہم لگانے کے ساتھ حال میں ہونے والے سامراجی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہو گا۔مظلوم اقوام کو ایسی قیادت کا انتخاب کرنا ہو گا جو سامراجیوں کی رگ رگ سے واقف ہو۔ایسی قیادت جو ماضی سے آگاہ،حال سے جڑی اور مستقبل کی معمار ہو۔ایسی قیادت جو صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ ذہنی تطہیر کا فرض بھی انجام دے اور معاشرتی تضادات کو ختم کرتے ہوئے مظلوم اقوام کو سامراج اور اسکے طفیلیوں سے لڑنے کے لیے تیار کرے۔یہ قیادت اعلی تعلیم یافتہ رہنماؤں پر مشتمل ہونی چاہيے جو سماج کے تمام پرتوں سےآۓ ہوں۔ان میں تاریخ سیاست قانون سماج اور اقدار کو سمجهنے والے لوگ ہوں۔جاگیردار سرمایہ دار،رجعت پسند اور آزاد خیال لوگوں سے پاک قیادت جو استعمار کا مقابلہ کر سکے۔ایسی حقیقی قیادت جو قوم کی حقیقی وفادار اور استعمار کی حقیقی حریف ہو۔ایسی قیادت ہی ایوانوں اور میدانوں میں استعمار کو حقیقی شکست دے سکتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *