کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط5

افسران عالی مقام کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال واقعی
(اسکی پول ائیر پورٹ۔ایمسٹرڈم۔ہالینڈ)

رات چلی ہے جھوم کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان اتفاقیہ ہم سفروں کا ناؤ نوش کا سلسلہ جب بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا تو نیلم نے اپنے پاؤں سینڈل سے آزاد کیے۔ایک بڑی سی جامنی شال اپنے رول آن بیگ سے نکالی اور صوفے کے ایک آرمز ریسٹ سے کمر جوڑ کر پشت پر لگی دیوار سے سر ٹکا دیا گھٹنوں کی محراب بنا کر دوسرے آرمز ریسٹ سے پیر دوسرے خالی صوفے پر ٹکادیے اور شال کی بکل مارلی۔
ارسلان کو لگا کہ نیلم کی یہ پشمینہ شال ایک ایسی شانت جھیل ہے جس کی سطح آب سے صرف اس کی گردن اور چہرہ باہر ہیں لیکن اس کے نیچے نیلم کا بدن اپنی تمام تر حشر سامانیوں سے تیرتا ہے ۔وہ لمبے صوفے پر اس صوفے سے قریب بیٹھا تھا جہاں نیلم کے پاؤں رکھے تھے۔

انگریز معاشرے میں سات برس رہ کر اور ہر طرح کے تیز طرار اور صاحبان معاملہ و فہم سے مل کر نیلم اپنے اندر جاکر بہت ذہین اور سبھاؤ برتاؤ کی ماہر ہوگئی تھی۔ اسے معاملات کو ایک خوبصورت موڑ پر مد مقابل کو کسی بدسلوکی کا احساس دلائے بغیر خود کو خاموشی سے جدا کرنے کا ہنر پہلے بھی آتا تھاکہ وہ ہاسٹل میں رہتی تھی ۔اس کے بعد ایک ایسا بھر پور بنیادی سوچ والاگھرانہ ملا ،جہاں وہ اور باہر سے آنے والے داماد اور بہوئیں ثانوی حیثیت سے جینے کے پابند تھے۔پہلے کی مہارت اب ایک ایسے برتاؤ میں بدل گئی تھی جس نے اسے اب تک وہاں بہت Stress- Free رکھا تھا۔
اس نے بہت آسانی سے یہ سوچا کہ رات کا یہ آنے والا پہر ایسا ہے جہاں وہ ارسلان کو ٹھیک سے پرکھے گی۔رات گئے تک مرد ڈھل مل ہوجاتے ہیں جب کہ عورتیں تو ویمپائر کی طرح نکلتی ہی  رات کو ہیں۔
اپنے اس ارادے کی تکمیل کے لیے اس نے ایک بہانہ تراشا اور ارسلان کو بلا پوچھے ہی اظہار کربیٹھی کہ پی پلاکر وہ بہت anchored (یعنی اپنی جگہ بندھ جانا ) ہوجاتی ہے۔اس پر خاموشی کا دورہ بھی پڑتا ہے۔ اس کی گفتگو میں وقفہ بھی آجاتا ہے۔وہ بہت irrelevant (غیر متعلق) بھی ہوجاتی ہے۔ میری دوست گڈی تو wild بھی ہوجاتی ہے۔
گڈی کے وائلڈ ہونے کا انکشاف کرکے وہ دھیمے دھیمے مسکرانے لگی۔وہ کہتی تھی کہ وہ بوائز کے سامنے دو تین جام گھٹکا کرنے کے بعد شدید ٹن ہونے کی ایکٹنگ کرتی تھی۔لمحات وصل میں وہ   اپنے کپڑے خود نہیں اتارتی تھی۔ایسا مرحلہ آتا تو وہ مرد مقابل کو اپنی رضامندی کا اظہار یوں کرتی تھی Your, Honor(میرے،سرکار)کپڑے اتارنے سے وہ اندازہ بالخصوص برا کو کیسے unhook کرتا ہے اس سے مد مقابل کا تجربے ،ضرب کاری کا اندازہ کرلیتی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ وہ مرد جو ایک انگلی سے اس کی طرح برا کو unhook  کرے ،وہی فائنل کا کھلاڑی ہے۔

ارسلان کو لگا کہ یہ گفتگو کا وقفہ ہے۔وہ اس لیے چپ ہے۔۔ کچھ دیر جائزہ لے کراس نے پوچھا’’ آپ وائلڈ نہیں ہوتیں؟
’ میں Never ‘۔
ارسلان نے پوچھا کہ ایساکیسے؟
تو نیلم نے جوابی وار کیا ’’ تو آپ چاہتے ہیں میں بھی wild ہوجاؤں؟‘‘۔
نہیں مجھے کسی انسانی ردعمل سے زیادہ اس کے Process میں دل چسپی ہوتی ہے۔ ارسلان کی وضاحت پر نیلم نے دوسری دفعہ دانا ڈالاthere is a girl in me which refuses to leave home
ایک خاموشی نے پھر سے نیلم کے گلے میں بانہیں ڈال دین۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاموشی کے وقفوں میں ایک تواتر سا آگیا۔۔۔
ارسلان نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر خون کی گردش   نے ایک دھیمی مشتعل سرخی ویسے ہی طاری کردی جیسے کوئی سلگتے ہوئے Rouge (بلش آن ۔) یعنی  غازے کی دھند چھاگئی ہے۔ارسلان کا واسطہ ہر قسم کے ڈرنکر زسے پڑ چکا تھا۔اس کی دوست فضیلت جو ویسے خوش گفتار اور من موجی تھی ۔تین پیگ کے پاس ارسطو اور حسن نثار بن جاتی تھی۔اسے شیام بنیگل کی فلم منڈی میں نصیر الدین شاہ کے کردار ٹنگرس بھی یاد آگیا جو دن بھر تو خدمت طوائفاں میں چپ چاپ رہتا تھا تھا مگر دھندے کا ٹائم ختم ہونے پر پی کر بہت اودھم مچاتا تھا۔شراب پینے والوں میں چند علامات دیدہ ور کو فوراً دکھائی دے جاتی تھیں

نصیر الدین شاہ بطور ٹنگرس۔فلم منڈی

ان کے ردعمل میں وقفہ آجاتا ہے۔ان کیimpulsivity میں اور جرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔یاداشت بہکنے لگتی ہے۔سوچ میں توازن بگڑ جاتا ہے مگر سوئی کے اٹکنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
Blackouts146, بھی ہونے لگتے ہیں ۔رات کیا ہوا کچھ یاد نہیں رہتا۔ الفاظ کی ادائیگی لکنت اور پھسلن آجاتی ہے جسے انگریزی میں Slurred speech کہتے ہیں۔نگاہ بھی کچھ دھندلا جاتی ہے جسمانی توازن کے بگاڑ کا اندازہ تو اس کے شال نکالنے اور صوفے پر پیر ٹکانے کے وقت وہ کر چکا۔چونکہ اس اعلان کے  بعد سینڈل اتارنے اور شال لپیٹنے کے بعد چونکہ کوئی اہم سنجیدہ گفتگو آپس میں نہیں ہوپائی تھی اس لیے اس کے جذبات میں شدت اور Mood swings کا اندازہ لگانا اس کے لیے آسان نہیں تھا مگر پھر بھی اس نے بہت آہستگی سے نوٹ کیا کہ اس کی توجہ ارسلان کی جانب بڑھ گئی ہے۔شاید وہ اسے اچھا بھی لگ چکا ہے۔اس لیے کہ  دور رکھنے کے لیے عورت بچے اور جانور کی آنکھ جو شاہراہ انسیت پر ہر کس و ناکس کے لیے کھڑی کرتی ہے ۔وہ ہٹ چکی تھی۔۔۔ ۔اب اس کی آنکھیں اس پر دیر تک مرکوز رہنے لگی تھیں ۔ہم ان دونوں کو زمین آسمان مان لیں تو یہ سمجھ لیں کہ اگر کچھ منصوبے زمین پر تھے کچھ تدبیریں آسمان کے پاس بھی تھیں۔
ارسلان کو نیلم نے اپنا میاں بنانے کا نہیں تو کم از کم اپنا پکا پکا دوست یعنی گڈی ۔ٹو بنانے کا فیصلہ  اس وقت کیا جب وہ کافی کے ساتھ شہد کی بوتل لے آیا۔ مزاج کی اس فیاضی نے بڑی پوائنٹ اسکورنگ کی ۔پرانے عربوں میں یہ خیال عام تھا کہ فیاضی اور شاعری کسی کو سکھائی نہیں جاسکتی۔سو حضرت فطرتاً فیاض ہیں۔خود غرضی سے پرے۔۔فیاضی، خود اعتماد لوگوں کا وصف ہے۔ سعید گیلانی اور اس کے بھائی ،بہنوں، ماں باپ، دوز بلڈی فریش آف دا بوٹ سسرالی ٹبر میں تو یہ وصف دور پرے سے بھی ہوکر نہ گزرا تھا۔ دفتر اور باہر کی دنیا میں رابطے  میں آنے والے مردوں میں نیلم نے اس وصف کو ڈھونڈنے کا کبھی نہیں سوچا ۔اس اجتناب کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کا پرائس ٹیگ پڑھنا اس کے لیے آسان نہ تھا۔ عورت مرد کے ہر تعلق میں ایک بار کوڈ ہوتا ہے جسے دل و دماغ کی ہر مشین ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتی سو Baby, better play safe.۔سعید بہرحال اس کا میاں ہے۔اسی سے جڑے رہنے میں بھلائی ہے۔
ارسلان کا معاملہ اچانک اور اس کی شخصیت اس کے لیے اپنی فاصلہ بھری اجنبیت کے باوجود مرعوب کردینے والی تھی۔اس نے اس وقت ہی اپنے اندر ایک لرزہ دینے والی Sonic boom [وہ دھماکے جو اس وقت ہوتے ہیں۔جب فضا میں اڑنے والے طیارے کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہو] اس وقت محسوس کی ،جب نیلم  کو ا رسلان نے تجویز پیش کی تھی کہ وہ چاہے تو وہاں کافی شاپ سے اس کے اور اپنے لیے کچھ مشروب لاسکتی ہے یا وہ یہاں بیٹھنا چاہتی ہے تو وہ لے آئے گا۔یہ سن کرنیلم نے یہ کہہ کر اس کو ٹالا تھا کہ نہیں I dont feel like changing the battlefield. You go and bring it .
وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔جانے اسے کیوں خیال آیا کہ جب وہ اس سے کسی ایئر پورٹ پر جدا ہوگا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔یہ وہ قدم نہیں جو اسے چھوڑ کے جانے کے لیے اٹھیں۔سامان پاس نہ ہوتا تو وہ اس کے پاس جاکر کہتی Don’t you ever walk away from me
(مجھ سے کبھی دور جانے کا سوچنا بھی مت)۔یہ ہی وہ دس منٹ تھے جب اس نے اپنی موجودہ ازدواجی زندگی پر ہٹ ہٹ کر ڈرون حملے کیے ۔ اس پر پے در پے فضا سے کئی میزائیل مارے اور ارسلان سے اسے دور کرنے والے نسوانی ادراک اور شکوک کے دہشت گردوں کے تمام خفیہ ٹھکانے برباد کردیے۔انہی  لمحات میں اس کے دل کے پینٹاگون اور دماغ کی سی آئی اے نے   آئندہ بھی  اس طرح کے تناؤ اور کھنچاؤ پیدا کرنے والے شبہات کے خلاف ایک مشترکہFourth-generation warfare کا باقاعدہ آغاز کیا۔یہی وہ لمحہ تھا جب اسے گلے میں پڑے خاندانی کیمرہ نما لاکٹ میں محفوظ تعویذ اور نانی میوہ جان کے ایکس (سابقہ عاشق )جن قوموبط کی خوض خاص ۔شہر مرؤ۔ ترکمنستان کے انجانے محاذ پر ناگہانی ہلاکت کی اطلاع ملی اور اس نے اس انگریزی محاورے کے مطابق اس dead albatross کو گلے سے اتارنے[an albatross around neck.] کی سوچی۔ عہد کرلیا کہ وہ یہ لاکٹ جب بھی ارسلان اس کے ساتھ ہوگا اس وقت کبھی گلے میں حمائل نہیں کرے گی۔

فورتھ جنریشن وار

نیلم کا لاکٹ

اسے لگا کہ ارسلان کی موجودگی میں یہ تعویز کسی کام کا نہیں ورنہ ایسا کیا تھا کہ جب وہ برہنہ سعید میاں کے بستر پر ساکت سمندروں پر کھلا بادبان بن کر پڑی ہوتی یہ تعویز دور میز پر ڈھیر ہونے کے باوجود سعید کے مردانہ حوصلوں کا وہی حال کرتا جو لتھو ٹریپسی گردے کی پتھری کا کرتی ہے۔اسے چھیڑنے کے لیے وہ کئی مرتبہ غسل خانے میں کوک کی بوتل میں چھپائی ہوئی شراب کے دو ایک گھونٹ بھر کے ،وکٹوریہ سیکریٹ کے ایمان شکن زیر جامے پہن کر  ناچتے ہوئے باہر آتی اور اعلان کرتی کہ Hey Mr. S.G Look here
اس تنگ سے بیڈ روم میں لہرا لہرا کر گاتی
یو ون (جوانی) کی رت جب آتی ہے
تھوڑے بھنورے ہوتے ہیں
تھوڑی مستی ہوتی ہے
بڑے طوفان ہوتے ہیں
ان میں کشتی ہوتی ہے
کلیوں کا چمن تب بنتا ہے

گردوں کی لتھو ٹریسسی

ایسا کرتے وقت وہ سینے پر سے ہاتھ ہٹا لیتی اور اپنی پینٹی اس کے منھ پر اچھال دیتی۔۔۔جس پر سعید زچ ہوکر انگریزی میں کہتا Will you ever grow up .Stop this silly antics
وہ کہاں کی مڑنے والی تھی، بدستور چھیڑتے ہوئے کولہے اس کی طرف کرکے انہیں لہراکر کہتی
شلپا سا فگر ،بے بو سی ادا
ہے میرے جھٹکے میں پھلمی مجا
ہائے تو نہ جانے
آئٹم یہ عام ہوئی
جواب میں وہ
f- – k you کہہ کر دوسری طرف منہ  پھیر لیتا تو اپنی برہنگی سے بے نیاز لیٹ کر وہ اسے طعنہ دیتی کہ  ’’تم سے ہونا ہوانا کچھ نہیں بس گالیاں دے کر خوش ہوجاؤ موئے گفتار کے  غازی ‘‘۔
وہ اسے کہتا کہ’’ اوکے آئی ایم گے۔اب خوش ۔‘‘
تو وہ اسے کچھ دیر کو اگنور کرکے کہتی ’’ہے سعید‘‘
۔۔جس پر وہ مڑکر پوچھتا ۔’’۔اب کیا ‘‘
تو وہ اپنی درمیانی انگلی بند مٹھی سے باہر کھینچ کر کہتی
’’ڈارلنگ تیرے لیے‘‘
یہ وہ آخری تنکا ہوتا جس پر اپنا کمفرٹر جاکر لاؤنج میں صوفے پر جاپڑتا۔ایسا چونکہ مہینے کے وسط میں یا آخر  میں ہوتا اس لیے اس پر بہت آتش بازی نہ ہوتی۔سعید کو پتہ ہوتا کہ یہ اس  کےovulation daysہیں۔
ویسے بھی جب وہ برہنہ سوتی تو سعید پر کوئی خاص اثر نہ ہوتا ۔وہ نیند میں بھی لائن آف کنٹرول کو کراس نہ کرتا۔کبھی وہ اسے سویا ہوا دیکھ کر سوچتی کہ وہ یہ بستر ایک ایسی پلیٹ ہے جس میں وہ تو گرما گرم مصالحے دار دانتوں کی آغوش میں کٹ مرنے والے سیخ کباب کی طرح پڑی ہے اور سعید گیلانی کشمیری کوئی ٹھنڈا ٹھاڑ بے جوڑ سلاد پتہ اور کھیرے کا اداس قتلہ ہے۔جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کر سوجا۔

آئیں اس رات کی طرف لوٹ چلیں۔
ارسلان نے کچھ دیر پہلے نوٹ کیا تھا کہ نیلم نے گھٹنے پیٹ کی جانب سمیٹ کر ایک بلند سا اسٹینڈ بنا کر اپنے ہاتھ اور چہرہ ایسا جما لیا تھا ۔ جیسے کوئی بہت قیمتی کیمرہ کسی ٹرائی پوڈ پر پڑا ہو اور وہ اسے دیکھے جارہی تھی ۔ اب یہ وجود ملفوف و دل نشین مکمل طور پر ایک ہی صوفے پر سمٹا ہوا تھا۔۔

کمیرہ اور ٹرائی پوڈ

یہ ہی وہ لمحات دید بانی تھے جب اسے سعید گیلانی کی جنسی بے اعتنائی یاد آئی تھی۔اس کے باوجود وہ اپنی جگہ بہت خوش اسلوبی سے نصب تھی۔ اس لمحہ تعطل میں ارسلان نے بھی سوچا کہ اس کی آنکھوں میں لگاؤٹ کا کاجل یوں گھل مل گیا ہے کہ کبھی لمحات وصل آئے تو وہ کہے گی 194ll yours Sir. Your very obedient servant in my own pay and grade and until further orders. Take me all.
ارسلان نے بھی اسے ہلکا سا زور لگا کر کھسکانے کا فیصلہ کیا اور کہنے لگا ’’نیلم آپ جب آپ مجھے دیکھ رہی تھیں تو میں نے ایک عجیب بات نوٹ کی ۔‘‘

نیلم کو لگا کہ اسے کسی نے کسی بہت اہم ایونٹ کےmasquerade ball(وہ محفل رقص جہاں شرکا ماسک پہن کر آتے ہیں) میں رقص کے لیے دعوت دی ہو۔
وہ شرارت سے کہنے لگی I am all eyes and ears ’[میں ہمہ تن گوش ہوں]

masquerade ball

’آپ جب ہنستی ہیں تو آپ کی آنکھوں میں مسکراہٹ کا اظہار آپ کے لبوں سے پہلے ہوتا ہے۔نیلم کے لیے وجدان کے بعد وہ پہلا مرد تھا جس نے اتنی سنجیدگی سے، اس قدر ر لگاوٹ سے اسے دیکھا تھا۔یہ جرات بھی کی کہ اس مختصر سے عرصہء رفاقت میں اس کا تذکرہ بھی برملا کردیا۔ وہ ہنسی تو ارسلان کو لگا کہ کسی ماہر گٹارسٹ نے بے دھیانی میں بہت کمال کی Strumming کی ہو(کئی تاروں کو ایک ساتھ چھیڑنا)۔
اس کی تعریف اور اپنی ہنسی سے دھیان ہٹانے کے لیے نیلم نے کہا مجھے’ اکثر یہ سوچ کر عجیب سے گوز بمپس(گوز بمپس بطخ کی کھال والے دانے ۔ اردو میں رونگٹے کھڑے ہونا مگر یہ خالصتاً خوف کی کیفیت کا عکاس ہے جب کہ انگریزی میں لطف و حیرت کی کیفیات سے بھی اس کاتعلق ہے) ہوتے ہیں کہ ’’اگر میرے میاں استنبول میں ہوئے تو آپ کی کیا کیفیت ہوگی؟‘‘۔
’’میں آپ سے کچھ فاصلہ رکھ کر چلوں گا بالکل اجنبی کی طرح‘‘۔
اور اگر سعید پاکستان چلے گئے ہوں گے تو؟
Then your wish is my command [ ایسی صورت میں آپ کی خواہش میرے لیے حکم کا درجہ ہوگی ) ‘ہم بیورکریٹس تو پاکستان میں یوں بھی الہ دین کا جن سمجھے جاتے ہیں۔ارسلان نے جواب دیا
نیلم نے چھیڑا کہ I hope Aladin has the right lamp this time.Can not afford to be a loser again[ مجھے امید ہے کہ میرے پاس الہ دین والا صحیح چراغ ہے۔میرے لیے دوبارہ شکست قابل قبول   نہ ہوگی۔

گوز بمپس

’ٹرسٹ می ‘کہہ‘ کر ارسلان نے ہاتھ بڑھایا تو نیلم ہاتھ ملانے کے لیے ایسے جھکی کہ  شال ادھر ادھر ہوگئی اور ٹی شرٹ میں مرغابیاں پھڑپھڑانے لگیں۔
I trust this gentleman. Everyone starts somewhere.[مجھے آپ سے شریف آدمی پر بھروسہ ہے۔ہر کسی کو کہیں نہ کہیں سے اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے)
on my honor۔ارسلان نے بھی بہت سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ کہنے لگی
Long night .But tell me a story نیلم نے مطالبہ کیا
کیسی کہانی؟ ارسلان نے سوال کیا۔
ویسی نہیں اک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا۔۔۔۔
ارسلان نے کہا
چلیں ایک ٹی پکل کہانی ہے ۔تکون والی مگر دل کو بہت برماتی ہے۔میرے ایک ملنے والے تاجر واقف کار ہیں ان کی صاحبزادی کو اپنے ایک ہم جماعت لڑکے سے اسکول کے زمانے سے عشق تھا۔بہت مر پڑ کر اس بات پر رضامند ہوئے کہ لڑکا کچھ اچھی نوکری کرے گا۔ شادی تب ہوگی ۔میرے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ اس کو کسی ملٹی نیشنل میں لگوادوں۔میں نے کہا یہ ملٹی نیشنل والا مال نہیں ملا شلوار،کڑھے ہوئے کرتے،پان،سر پر جالی دار ٹوپی۔آپ اسے اپنے مٹھائی کے کاروبار میں ڈالو۔ان کا خیال تھا کہ شادی سے پہلے یہ سب کچھ ہوگا تو تاجر براداری میں اس کی کوئی وقعت نہیں رہے گی ۔ان دہلی والوں کی طرف گھر دامادیوں بھی برا سمجھا جاتا ہے۔اس جوڑے کا نام جواد اور زار اسمجھ لیں۔ زارا کا ناک نقشہ اور قد گفتگو مزاج سبھی اچھے ہی تھے۔اوسط سے بڑھ کر۔

ایک دن ان دونوں کو پتہ چلا کہ ان کے اسکول کا ایک دوست محمد علی جو امریکہ گیا تھا وہ واپس آگیا ہے اس نے ایم بی اے تو کرلیا مگر یہاں واپس آکر اسپتال میں زیر علاج ہے۔زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا۔کینسر کا عارضہ ہے۔
جواد اور زارا عیادت کی خاطر اسے دیکھنے گئے۔زارا سے اس کی زیادہ واقفیت تھی کہ وہ بزنس اسکول میں بھی ساتھ تھے۔مشترکہ دوستوں کے ہاں میل جول بھی رہتا تھا۔اسے علم نہیں تھا کہ زارا اور جواد کی منگنی ہوچکی ہے۔محمد علی نے عجب فرمائش کی کہ اگر جواد کچھ دیر کو باہر چلا جائے تو وہ زارا سے مرنے سے پہلے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ جواد یوں تو بہت ڈارک سا لڑکا ہے مگر یہ سوچ کر کہ اسے اپنی منگیتر پر پورا بھروسہ ہے وہ چلا گیا۔بعد کی کہانی زارا نے اپنی بہن کو ، بہن نے ماں کو۔ماں نے باپ کو اور باپ نے کسی اور کو سنائی جہاں سے مجھ تک پہنچی۔ محمد علی نے کہا کہ وہ زارا پر  سکول  کے زمانے سے کرش رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اس کی جواد سے منگنی ہوگئی ہے ۔طالب علم ساتھیوں میں ایسی بات کہاں چھپتی ہے۔کیا وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے گلے لگا سکتا ہے۔
زارا نے اسے گلے لگایا کچھ دیر اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی رہی۔جواد آیا تو دونوں چلے گئے۔ تین دن بعد محمد علی کا انتقال ہوگیا۔اس واقعے کے بعد   زارا نے عجب ضد پکڑی ہے کہ وہ مزید تعلیم کے باہر جانا چاہتی ہے ۔منگنی بھی توڑ دی ہے اور جواد سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا۔۔
کہانی کے بیان میں نیلم نے دیکھا کہ ایک یا دو دفعہ ارسلان کی آنکھیں لمحہ بھر کو بند ہوئیں۔جیسے نیند نے اس اچک لینے کی کوشش کی ہو۔اس نے جتلانے سے گریز کیا ۔
ارسلان میاں نے لاکھ ’ٹرسٹ می ‘ کہا ہو مگر وہ جو ماضی کی مشہور امریکی اداکارہ مئے ویسٹ نے کہا تھا  I understand only two languages English and Body.
تو حضرت کو پرکھنے کا نازک مرحلہ آرہا ہے۔اب کچھ دیر میں ڈھیر ہوجائیں گے۔

اسی اثنا میں ایک میسج اس کے آئی فون پر مچلنے لگا
ارسلان کو حیرت ہوئی کہ یہاں رات ڈھائی بجے کس کو نیلم کی یاد آئی مگر اس سے پہلے کہ وہ سوال پوچھتا نیلم کہنے لگی My Guddi-Sleelpless in Brimingham
اسے تنگ کرنے کے لیے نیلم نے ایک دفعہ یوں باتھ روم بریک مانگا کہ اپنا آئی پیڈ اور چارجر نکال کر اسے دیا اور کہنے لگی کہ وہ اس کو چارج پر لگا دے۔جب اس نے میز پر اپنا پڑھائی کا چشمہ رکھ کر وہ آگے بڑھ گئی مگر ایک جان لیوا ادا سے مڑ کر واپس آئی اور اٹھلا کر کہنے لگی
well me under 30. These are with anti -glare lenses . So dont give up on me. Like my last drink my last visit to loo is like a child’s visit to the zoo [ارے میں تو تیس برس سے کم کی ہوں۔ دل چھوٹا نہ کریں۔ یہ روشنی کی چکا چوند سے نمٹنے کا سامان ہے۔میرا آخری جام کی طرح میرا باتھ روم کا  آخری دورہ بھی کسی بچے کے زو کے دورے جیسا ہوتا ہے۔
فون پر سعید کا میسج تھا بتا رہا تھا وہ اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔وکیل سے کل بات کرکے طلاق کے کاغذات  تیار کرنے کا کہہ دے گا۔والدین کی اور اپنی مسلسل بے عزتی سے تنگ آگیا ہے اس کے والدین بھی پوتے کی عدم موجودگی سے نالاں ہیں۔باقی تفصیلات ملنے پر۔ہم دوستوں کی طرح بچھڑیں گے۔ ترکی میں گھومو تو مجھے تصویریں ضرور بھیجنا ۔تمہاری دوسری شوہر گڈی تم سے ملنے اڑ کر پہنچ جائے گی۔
اس کے والدین کی پوتے کی عدم موجودگی والی بات کا طعنہ سن کرنیلم کا خون کھول اٹھا۔اس کا دل چاہا کہ اسے  فون کرکے مغلظات سنائے۔اس نے جواب میں صرف اتنا لکھا
Ready to pay all court expenses for the divorce.
Buy some good balls with your savings. Though I doubt these can even make a half man out of you
(کورٹ میں طلاق کے جملہ اخراجات میں ادا کروں گی۔تم کسی سے اچھے سے بالز خرید لینا۔مجھے پھر بھی شک ہے کہ اس کے باوجود وہ تمہیں نیم مرد بنانے میں کامیاب ہوپائیں

نیلم نے یہ اچھا کیا کہ سعید کا نام دیکھ کر میسج نہیں پڑھا ورنہ ارسلان تیز آدمی ہے ۔بھانپ جاتا۔وہ اسے ہرگز نہیں بتائے گی کہ ترکی میں کیا سرپرائز اس کا منتظر ہے ۔وہ جہاز سے اتر کر اداکاری کرے گی اس کا جائزہ لے گی۔ یوں بھی جو کچھ ہوا ۔وہ برا ہوا ہے۔اب وہ اس دنیا میں اکیلی ہے۔وہ اس میسج میں جو ایک حتمی فیصلہ ہے اس کے بارے میں اسے کچھ نہیں بتائے گی۔اس کو ایک ماڈل کی والدہ نے کسی فیشن شو کے دوران بتایا تھا کہ اپنی کمزوریاں دوسروں پر عیاں  نہ ہونے دو۔لوگ تمہاری مشکلات کو سمجھنے میں اتنی دل چسپی نہیں رکھتے جتنی ان سے فائدہ اٹھانے میں رکھتے ہیں۔کمزور انسان ایک جلتے  ہوئے  گھر  کی طرح ہوتا ہے جسے ہر کوئی لوٹ کر بھاگنا چاہتا ہے۔
وہ ارسلان کو اپنا دوست بنائے گی۔ اس ایک میسج نے اسے بہت بڑے اخلاقی بند ھن سے آزاد کردیاہے۔ سعید کی الزام تراشی نے ،اس کی مکاری نے ،وہ رہی سہی مدافعت جو اس نے اس کے حوالے سے ترکی کے لیے بچا کے رکھی تھی ۔ وہ کرچی کرچی ہوگئی ہے ۔وہ اگر اسے استنبول سے باہر لے گیا تو وہ جدا کمرے کی بھی ضد نہیں کرے گی۔وہ اس تعلق کو صرف عورت مرد کے چوکھٹے میں جڑکر دیکھے گی۔انسانی رشتے کے ویو فائنڈر سے اس کو فریم کرے گی۔ شادی وہ بعد کی بات ہے
سر دست وہ اسے سعید گیلانی کی اس کمینگی کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی ۔وہ اسے کچھ اور پرکھ لے۔بس کچھ اور Clinical tests پھر مریض کو وہ مکمل صحت یابی کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دے دی گی۔

ویو فائنڈر سے پہلے
ویو فائنڈر
director ka viewfinder

جائزہ، جائزہ جانچ پڑتال ، پرکھنا ۔نیلم کو لگا کہ وہ ارسلان کے ساتھ بلاوجہ زیادتی کررہی ہے۔ اس کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس میں اس بے چارے کا  کوئی قصور نہیں۔یہ تو اتنا اچھا آدمی ہے کہ اس کی خاطر دوستی میں چار دن اور تین راتیں اس کے ساتھ ترکی گھومے گا۔یہ تو اس کی پروگرام آئی ٹینری میں شامل نہ تھا ۔پورے پچیس منٹ بعد جب وہ واپس نکل کر اپنی نشست کی طرف جارہی تھی۔نیلم نے آخری نفسیاتی  طبی معائنے پر اسے یوں راغب کیا کہ وہ بہت کم سوال پوچھتا ہے ایسا کیوں ہے؟ کیا وہ ایک غیر دل چسپ شخصیت کی مالک ہے۔؟یہ ایک خلاف توقع باؤنسر تھا
ایسا ہرگز نہیں بلکہ جب وہ  اپنے anti -glare lenses اور عمر کا بتا کر اسے جارہی تھی وہ سوچ رہا تھا کہ اس میں ایسی لبھاؤ ، اتنی ادا اور اداکاری ہے، وہ خود کیوں ماڈل نہیں بنی۔کیا یہ پیشہ برا ہے؟
نہیں مجھے جزئیل بنڈ چین بہت اچھی لگتی ہے۔بڑی کامیاب اور سمجھدار ماڈل ہے۔چوتھائی  صدی تک ماڈلنگ کی دنیا پر چھائی رہی۔چودہ برس کی عمر میں برازیل کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ماڈل بننے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔آج بھی سپر ماڈل ہے۔

زئیل بنڈ چین

ماڈل کی زندگی پر اس کی کتاب Lessons -My Path to a Meaningful Lifeمیں بہت دل چسپ باتیں درج ہیں۔ وہ کبھی پارٹیوں پر نہیں جاتی تھی،شوز کے بعد پارٹیاں ہی بربادی کا سامان ہیں ۔ دن بھر کی محنت کے بعد اسے اپنے کتےVida, کے ساتھ کھیلنا اور کتاب پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔میں ایک مشہور ماڈل Anyelika Perez سے ملی تھی کسی نے مجھے بتایا کہ اس بے چاری کا محنت سے ایسا حال ہوتا تھا کہ کمر میں تکلیف ہوجاتی تھی اور یہ آئس بکس پر لیٹ جاتی تھی۔میرا مسئلہ تو یہ تھا کہ میں بہت Contextual حوالے سے برطانیہ آئی۔ پرانے خیالات کا حامل ایک جوائنٹ فیملی والا گھرانہ ہے۔ اس میں کسی قسم کے ایڈونچر کی گنجائش نہیں۔

Anyelika Perez
Anyelika Perez on ice box

نیلم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ کچھ دیر کو ارسلان کی آنکھ لگ گئی۔اس نے جتانا مناسب نہ سمجھا۔جب وہ جاگا تب بھی وہ چپ رہی ۔اس نے اپنا آئی پیڈ نکالا اور چشمہ لگایا تو ارسلان کو پہلی دفعہ لگا کہ آج رات کی ملاقات بس اتنی ۔وہاں سے مگر سوال آگیا کہ وہ سوتا کب ہے۔کوئی خاص عادت۔اس نے کہا وہ بہت اعلی الصبح ا ٹھتا ہے۔اس لیے وہ جلد سوجاتا ہے۔پارٹیوں کی یا دیگر تقریبات کی دعوت ہو تب بھی نہیں جاتا۔اکثر تو وہ ٹی وی پر خبر نامہ دیکھتے دیکھتے سو چکا ہوتا ہے۔اوشا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بستر کی طرف لے جاتی ہے۔وہ اور اس کا بیٹا گھر میں باہر مہمانوں کے کمرے میں سوتے ہیں۔اس کا کتا ملنگی باہر اور افریقین گرے پیرٹ کمرے میں ہی سوتے ہیں۔نیلم کو اوشا کی یہ دست درازی اچھی نہیں لگی۔وہ اسے اپنے بھائی اور ماں کے پاس سونے کا کہے گی۔میں دیکھتی ہوں حضرت مجھ سے پہلے کیسے  سوتے ہیں اور ہم دوستوں کی پارٹیز میں بھی جائیں گے۔صبح کو آپ کا کیا معمول ہوتا ہے؟ یہ دوسرا سوال تھا۔
فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے اٹھ کر میں ذکر اذکار کرتا ہوں تلاوت اور نماز سے فارغ ہوکر مرغیاں پالی ہیں ایک آدھ   دیسی مرغ ڈربے سے باہر نکال کر اس کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں اس کے بعد کراٹے کے کاتھاز۔براؤن بیلٹ ہوں ۔

کاتھاز

نیلم کو مرغ والی بات بہت عجب لگی اس کا دل چاہا کہ وہ اس سے اس عجیب ورزش کا پوچھے مگر اسے لگا کہ ایک دفعہ اس کی آنکھیں پھر بند ہوگئی ہیں،بے چارہ کرٹسی میں نیند کے باجود سونے کی اجازت نہیں مانگ رہا۔اس نے خود ہی سوچا کہ اگر انجیلا پارک جو کوریا کی گالف چمپئین تھی اپنے شوق کی وجہ سے گالف کلب لے کر نذدیکی قبرستان میں چلی جاتی تھی اور وہاں قبر تا قبر پریکٹس کرکے چمپئین بن گئی تو مرغے کے پیچھے جان کھپانا بھی کوئی تربیت کا مرحلہ ہو ۔ان بیوروکوریٹس اور بزرگوں کی حرکات کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ کس کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں۔ارسلان سے وہ پوچھتی تو وہ کہتا کہ یہاں کیماڑی کراچی میں ایک بزرگ تھے۔ ان کی بیٹھک میں  گدے اور سفید چادر بچھی رہتی تھی سالک ساتھ کے کمرے میں دروازے سے لگ کر بیٹھتے تھے۔مسئلہ دریافت کرنے پر بزرگ کمرے میں بچوں کی طرح قلابازیاں لگاتے تھے کچھ دیر سانس بحال ہوتی تو وہ سوالات کا جواب دیتے تھے۔

کورئین گولف پلئیر،انجیلا پارک
گولف کلب

ذرا دیر میں اس کی آنکھ کھلی تو اس نے ارسلان کو کہا کہ وہ سو جائے ، تھک گیا ہوگا۔حضرت بھی جیسے آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے تھے(دہلی کی عورتوں کے محاورے میں  آسرا نہ کرنا)پیر لمبے کیے اور قلندر کی طرح ڈھیر ہوگئے۔
نیلم کو جب یہ یقین ہوگیا کہ وہ واقعی دنیا و مافیا سے بے خبر چھوٹے بچوں کی طرح منہ  کھولے سو رہا  ہے تو وہ اس کی نشست پر آئی اور انگلی اس کے منہ  میں ڈال کر جلدی سے کھینچ لی۔نیلم کو لگا کہ سویا ہوا مرد گود کے بچے   کی طرح ہوتا ہے۔عورت کو پیار ہو تو اس سے زیادہ بے ضرر اور کنٹرول کرنے میں آسان کوئی اور وجود نہیں۔اسے لگا وہ صبح تک اسے دیکھتی رہے تب بھی اس کا دل نہیں بھرے گا
بے چارہ۔چلو اس کی کوئی مدرنگ کرتے ہیں اس نے اپنا ٹرینچ کوٹ اس کے گارمنٹ بیگ سے نکالا اور اس پر ڈالدیا کہ  امیر مقام خوشبو بھی سونگھتے رہیں گے اور اس کی گرماہٹ سے لپٹ کر سوتے بھی رہیں گے ۔رات کی خنکی کے پیش نظر اپنا کیپ پہن لیا اور شال سے ایک طرح سے پشت پر جمالی اور اپنے آئی پیڈ پر ہیلن میکڈونلڈ کی مشہور کتاب ایچ از فار دی ھاک پڑھنے لگی۔ایک بیٹی نے اپنے مرحوم باپ کی یاد میں باز کو سدھانا سیکھا ۔ یہ وہ داستان تھی۔

trench coat

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *