کوہاٹ کا ادبی تناظر۔۔۔۔۔ شجاعت علی راہی

کوہاٹ نے مختلف شعراء اور ادباء کے دامنِ دل کو اپنی منفرد دلکشی اور مخصوص ثقافت کے باعث اپنی جانب کھینچا ہے۔ ’’ادبیاتِ سرحد‘‘ اور کئی مقالوں میں سید فارغ بخاری اور رضا ہمدانی نے کوہاٹ کے علمی ادبی تشخص کو اجاگر کیا ہے۔ فارغ بخاری نے یہاں کے شاعر قاسم علی خان آفریدی (وفات 1832ء) کو صوبہ سرحد کاسب سے پہلا مسلم الثبوت صاحبِ دیوان شاعر قرار دیا ہے۔ رضا ہمدانی نے سکھوں کے عہد میں حاکمِ کوہاٹ شہزادہ جمہور کے برخوردار شہزادہ سلطان جان خاور درانی (وفات 1902ء) کو فارسی کا مایہ ناز شاعر تسلیم کیا ہے اور اُن کے فارسی مجموعۂ کلام کی غزلیات و رباعیات کی کلاسیکی فضا اور اُن کی انفرادیت کو سراہا ہے۔ کوہاٹ کے اُمّی شاعر سیّد شیرازی کوہاٹ میں آباد ہوئے تو یہاں کی ٹھنڈی ٹھار ہواؤں اور اس کے گنگناتے چشموں کے گرویدہ ہوئے اور انہوں نے کوہاٹ کے بارے میں ایک نظم میں کہا ؂

بہارِ حسن سے سر سبز ہے زمینِ کہاٹ
جہاں میں کیوں نہ ہو یکتا ہر اک حسین کہاٹ
صبا یہاں سے نہ آہستہ کیوں گزر جائے
کہ برگِ گل سے بھی نازک ہے نازنینِ کہاٹ
احمد پراچہ نے’’ کوہاٹ کا ذہنی ارتقاء‘‘ ’’ثقافتِ کوہاٹ‘‘ اور ’’تاریخِ کوہاٹ‘‘ لکھ کر نام بھی کمایا اور کوہاٹ کی تاریخ وثقافت کو محفوظ بھی کردیا۔ محبت خان بنگش نے ’’یادِ رفتگان‘‘میں کوہاٹ کے کم و بیش سارے مرحوم لکھاریوں کے بارے میں اچھا خاصا مواد اکٹھا کر دیا۔
سیّد ضمیر جعفری نے کوہاٹ کے متعلق ایک نہایت دلفریب مزاحیہ نظم کہی جس میں کوہاٹ کی ثقافت کا بھرپور جائزہ لیا، مثلاً
وضع میں اک بے نیازی کی ادا بید ار دیکھ
زلفِ آوارہ کے نیچے نوگزی شلوار دیکھ
کارتوسوں کے پٹے سینے سے لٹکائے ہوئے
اپنی توڑے دار بندوقوں کو چمکائے ہوئے
ہاتھ بھر کے نان، دو دو ہاتھ کے چپلی کباب
قُطر میں رسی سے کچھ موٹا ہے فالودہ جناب
ریشم و کمخواب اندر ہو گا ، باہر ٹاٹ ہے
الغرض کوہاٹ میں کوہاٹ ہی کوہاٹ ہے
چیف جسٹس ایم آر کیانی نے اپنی ایک مشہور تقریر میں
ٹھڈا ٹھڈا پانڑیں
تے نکا نکا آٹا
ارمان دے کو ہاٹا
کے حوالے سے اپنے اس شہر کا تذکرہ کیا ہے۔
ایوب صابرؔ نے کوہاٹ کی تعریف کچھ یوں کی ؂
گولیوں کی کاٹ کہتے ہیں تجھے
اے وطن! کوہاٹ کہتے ہیں تجھے
یوسف بہت ہیں کوئی خریدار نہیں ہے
کوہاٹ ہے یہ مصر کا بازار نہیں ہے
کوہاٹ سے محبت کا رشتہ استوار رکھنے والے ایک لکھاری وقار انبالوی نے اس شہر کی حیرت افزا کرامتوں پر نظم تحریر کی تو اس کا اختتام اس پُر معنی مصرعے پر کیا ؂
کوہاٹ تیرا کاف کرامت کا کاف ہے
احمد فراز کوہاٹ ہی کے پیداوار ہیں۔یہیں پلے بڑھے ۔پھر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے پشاور اور اسلام آباد میں رہے لیکن اپنے دل میں اس شہر کی محبت پالتے رہے اور اس محبت کا اظہار اپنی شاعری میں بھی کیا۔
نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرا ،کوہاٹ کے نامور صحافی اور شاعر غلام حیدر اختر پراچہ نے کوہاٹ کا تعارف ان الفاظ میں کرایا تھا ؂
ہر گلی، ہر موڑ پر اک گیٹ لوہا لاٹ ہے
دوست یہ کوہاٹ ہے
ہر پرانی ڈیوڑھی پر اک پرانا ٹاٹ ہے
دوست یہ کوہاٹ ہے
اس سے قبل مولانا ظفر علی خان نے کوہاٹ کو ’’حیاتِ جاوداں کے گھاٹ‘‘ سے تعبیر کیا تھا ؂
گر پہنچنا ہے حیاتِ جاوداں کے گھاٹ تک
سر بکف ہو ،کر اٹک پار اور پہنچ کوہاٹ تک
میری زندگی بھی اسی شہرِ دلربا کی مرہونِ منت ہے سو کوہاٹ کا ذکر اگر میری شاعری میں در آیا ہے تو یہ اس دیار سے میری قلبی وابستگی کا مظہر ہے:
کھٹ میٹھے لوکاٹ
امرودوں کے جھنڈوں والا
شہر مرا کوہاٹ
میں ہوں اُس کوہاٹ کا باسی کہ جس کی لَے میں ہے
زلف کی مہکار بھی، تلوار کی جھنکار بھی
میرا دل حاجی بہادر ؒ اور خمیر احمد فرازؔ
مجھ میں ہے ایوب صابر ؔ شعلۂ گفتار بھی

کوہاٹ کی ادبی کیمیا

کوہاٹ ایک عجیب و غریب شہر ہے۔اس سرزمین پر ایک سے ایک قد آور شاعر، ادیب، فن کار اور اہلِ ہنر نے جنم لیا ہے ۔طنز کی کاٹ سے کوہِ بے ستون میں دودھ کی نہر نکال لانے والا چیف جسٹس محمد رستم کیانی،رحیم گل جیسا دبنگ ناول نگار،احمد فراز جیسا غزل گو شاعر،ایوب صابرؔ جیسی دیو مالائی ہستی، افتخار حسین شاہ جیسا منتظم اور فعال گورنر، شاہد آفریدی جیسا دلربا کھلاڑی، پروفیسر محمد اقبال جیسا خوش سخن مقرّر، غلام حیدر اختر جیسا دبنگ صحافی، لیاقت علی خان جیسا بلند پایہ مصور اور حاجی بہادرؒ جیسا صوفی بزرگ کوہاٹ ہی کی مٹی سے ابھرے ہیں ؂

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
صوبہ سرحد(خیبر پختونخواہ) میں سیّد فارغ بخاری اور سیّد رضا ہمدانی نے تذکرہ نگاری اور تاریخ ادبیات کی زلفیں سنوارنے کا جو کام شروع کیا تھا، اُس روایت کو زندہ رکھنے میں احمد پراچہ اور محبت خان بنگش سب سے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ بعد میں ذوالفقار شاہ نے اپنی تحریر کردہ کوہاٹ میں اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔پہاڑوں کی اس منڈی کوہاٹ میں احمد فراز۔ ایوب صابر،عزیز اختر وارثی، عطوف شفیق، دلبر شاہ، برق کوہاٹی، انجم یوسفزئی، اسلم فیضی، سورج نرائن، شاہد زمان، عارف بخاری، ارشد نعیم قریشی، سراج جمیل اور ہارون عدیل جیسے اہلِ سخن نے چراغِ سخن روشن کئے۔ پشتو اور اردو افسانے کی سلطنت کو قیوم مروت اور احمد پراچہ فتح کرتے رہے ہیں۔ نقد و نظر کے دیار میں خیال رومانی نے کچھ نئی سرحدوں کو دریافت کیا ہے۔ اداریے لکھنے کے فن میں فطرت قریشی نے ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کی روایات کو زندہ کیا۔ کالم نویسی میں ایوب صابر،سعد اللہ خان لالا، قیوم مروت، ارشد نعیم قریشی اور میجر مصطفےٰ نمایاں رہے ہیں۔ خطابت میں غلام حیدر اختر (مدیرِ ہمدم) پروفیسر محمد اقبال اور حافظ جلیل لفظوں کا جادو جگاتے رہے ہیں۔ مصوری، خطاطی اور پورٹریٹ کے میدان میں لیاقت علی خان نے صادقین کی طرح اپنی غیر معمولی توانائی کا مظاہرہ کیا۔ کھیل کے میدان میں شاہد آفریدی چوکے چھکے لگا کر بڑے بڑوں کے چھکے چھڑاتے رہے ہیں۔ صوبے بھر میں علمی اداروں کی کہکشاں کا جال بچھا کر لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین شاہ نے سر سیّد احمد خان اور سردار عبدالقیوم خان کی یادیں تازہ کیں۔
فنونِ لطیفہ کی نشو و نما میں اُن باہمت لوگوں کا کردار کلیدی ہوتا ہے جو تقریبات سجانے کی تنظیمی صلاحیتوں سے معمور ہوتے ہیں۔اس ضمن میں ایوب صابر،عزیز اختر وارثی، عطوف شفیق، قاضی سعید احمد اختر عباسی،شاہد زمان، ڈاکٹر یونس ندیم، محمد جان عاطف،اسلم فیضی، قیوم مروت، احمد پراچہ اور انجم یوسفزئی کا کام بڑا اہم ہے۔

لائبریریاں اور بک سٹال

کوہاٹ کے گلستانِ فن و ادب کو ہوا،روشنی اور کھاد بہم پہنچانے میں جہاں ادباء وشعراء، صاحبانِ فکر و نظر، مقامی اور غیر مقامی اساتذہ کا کلیدی کردار رہا ہے، وہاں کچھ اور عوامل بھی کار فرما رہے ہیں مثلاً ماضی میں یہاں گلی کوچوں اور بازاروں میں چھوٹی موٹی پرائیویٹ لائبریریاں بھی ہوا کرتی تھیں جو تشنگانِ ادب کی پیاس بجھاتی رہتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں سنگیڑھ سے میاں خیل والی نشیبی سڑک پر قائم ایک ضرار لائبریری سے ایک آنہ روز کے حساب سے ناول پڑھنے لایا کرتا تھا۔رات رات بھر انہیں پڑھتا اور اگلے روز دوسرا ناول مستعار لینے چل پڑتا۔ اس لائبریری کے مالک علاؤالدین درانی تھے جو ضرار کوہاٹی کے نام سے اُس دور کے مقتدر جاسوسی جریدے ’’سراغرساں‘‘ کے لئے جاسوسی افسانے تحریر کرتے تھے۔کوہاٹ کی باقاعدہ اور قدیم پبلک لائبریری، کنگ گیٹ (فیصل گیٹ) کے باہر، جناح میونسپل لائبریری ہوا کرتی تھی جس کے لائبریرین ایوب صابر تھے۔ اُن کی قد آور شخصیت کے سبب یہ لائبریری شعر و ادب کے عظیم ترین گڑھ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔
علم و ادب کے چند رسیلے چشمے بک سٹالوں کی صورت میں موجود تھے۔ ان میں سے ایک بہت قدیم سٹال ورائٹی بک ڈپو تھا جسے جنگل خیل کے ایک دراز قد بخاری صاحب چلایا کرتے تھے۔ 1950 ء کی دہائی میں میں پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا۔ ان دنوں میں اس بک سٹال پر کم و بیش روزانہ جایا کرتا تھا۔ اسی سٹال کے اندر کھڑے کھڑے میں نے گورکی کا معروف ناول ’’ماں‘‘ بھی پڑھا تھا۔
اس سے کچھ عرصہ پہلے میں ٹارزن عمروعیار کی زنبیل ، الف لیلیٰ اور دیگر طلسمی کہانیوں کی ڈیڑھ دو آنے سے لے کر چھ آنے تک کی کتابیں اور رسالے خریدنے کے لئے بازارِ زرگراں میں لکھأو سٹیشنری مارٹ کا رخ کرتا تھا جو تحصیل پرائمری سکول کوہاٹ میں میرے ایک ہم جماعت عابد کے والد محترم کی دوکان تھی۔ اسی بازار میں کہیں یوپی سٹیشنرز اور بک سیلرز نام کی ایک اور دوکان بھی موجود تھی۔
آج کل فیصل گیٹ کے باہر ریاض سپورٹس کے نام سے ایک دوکان ہے، یہ 1955 ء کے لگ بھگ صادق نیوز ایجنسی کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔جب لوگوں نے کتابیں پڑھنا کم کر دیں تو یہ سٹال سپورٹس کی دوکان کا رنگ اختیار کر گیا۔اخبارات اور جرائد کی فروخت کے حوالے سے شہر میں سب سے زیادہ کامیابی عزیز نیوز ایجنسی کو حاصل ہوئی جو فیصل گیٹ سے باہر نکلتے ہی دائیں ہاتھ پر واقع ہے۔ اس کے پروپرائٹر عبدالعزیز مرحوم نے کچھ ایسی خوبصورت منصوبہ بندی کی کہ اُن کے سب سے بڑے فرزند عبدالحفیظ آج بھی عزیز نیوز ایجنسی کو نہایت کامیابی سے چلا رہے ہیں۔عبدالحفیظ کے کہنے کے مطابق یہ بک سٹال 1954ء سے قائم و دائم ہے۔ عبدالعزیز مرحوم کے دوسرے فرزندِ ارجمند ایک طویل عرصے سے ہفت روزہ ’’عقاب‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ ہیں اور تیسرے فرزند عبدالحمید پرنٹنگ پریس سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ دو اور بھائی انجنیرنگ اور کمپیوٹر کے شعبوں سے منسلک ہیں۔
مختلف ادوار میں سٹیشنری اور کتابوں کی درجنوں دوکانیں بھی علم و ادب کی سبیلیں رہی ہیں جیسے ہمدم سٹیشنری مارٹ، رفیق برادرز، ایس اے نعیم اینڈ سنز، کتاب محل، انیس برادرز، حبیب الرحمٰن پراچہ کی دوکان،پاکستان بک ایجنسی، اسلامیہ بک ایجنسی، یوسف جاوید کی دوکان شاہ سنز۔
’’کتاب گھر ‘‘ کے نقوی برادران سے مجھے معلوم ہوا کہ کتابستان لاہور کے بقول ہمدم سٹیشنری مارٹ کے ساتھ وہ 1934 ء سے لین دین برقرار رکھے ہوئے ہیں اور آج تک کسی جانب سے حساب کتاب میں رتی برابر ہیر پھیر نہیں ہوا۔ اس بیان کی روشنی میں ہمدم سٹیشنری مارٹ کوہاٹ میں کتابوں کی غالباً قدیم ترین دوکان قرار پاتی ہے۔
پچھلے چند عشروں سے جس دوکان نے اس میدان میں اپنے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں وہ ’’کتاب گھر‘‘ ہے جو 1971 ء میں منصۂ شہود پر آئی اور بعد میں دو حصوں (’’کتاب گھر‘‘ او’’ ظفر کتاب گھر‘‘) میں بٹ گئی۔’’کتاب گھر‘‘ ادیبوں ،شاعروں ، اساتذہ، طلباء اور تمام صاحبانِ علم و فن کو اُن کے ذوق کے مطابق ہر رنگ روپ کی کتابیں فراہم کرتا رہا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ جناح میونسپل لائبریری کے بعد جس ادارے نے کوہاٹ میں علم و ادب کو بے پناہ فروغ دیا وہ ’’کتاب گھر ‘‘ ہی ہے۔ اس بک سٹال کے مظفر جلیل نقوی، اظہر حیدر نقوی، مشیر حیدر نقوی، محمد علی نقوی اور ظفر نقوی سے اہالیانِ کوہاٹ نے لاکھوں کتابیں خریدی ہیں۔صرف ایک بھائی عظمت نقوی عینکوں کی دوکان سجائے بیٹھے ہیں۔ باقی سب کتابیں اور سٹیشنری کا کاروبار کرکے نیکیوں کے خزینے سمیٹ رہے ہیں۔ جن جریدوں ،رسالوں اور اخباروں نے کوہاٹ میں علوم و فنون کو فروغ بخشا اُن میں حسبِ ذیل شامل ہیں:
اخگر سرحدی کا ’’شرر‘‘ غلام حیدر اختر کا ہفت روزہ ’’ہمدم‘‘ اور اس سے پہلے ’’شانِ سرحد‘‘ احمد پراچہ کا ’’نایاب‘‘ محمد جان عاطف کا ’’عدنان‘‘ محبت خان بنگش کا ’’اعلان‘‘ اطیب حسین شاہ کا ’’شہرِ سخن‘‘اور ’’کوہاٹ آن لائن‘‘ عبدالوحید کا ہفت روزہ ’’عقاب‘‘ ’’تحقیق‘‘ ’’بیباک آواز‘‘ انقلاب کوہاٹ سب سے زیادہ مقبولیت ’’ہمدم‘‘ اور ’’عقاب‘‘ کے حصے میں آئی اور سب سے دیدہ زیب رسالہ ’’کوہاٹ آن لائن‘‘ تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *