جب بھائی لاپتہ ہو تو کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔مہرنگ بلوچ

ہمشیرہ جیئند بلوچ

وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہے۔ کب کس پہلو میں کروٹ بدل لے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ یوں زندگی بدل جاتی ہے۔

اچانک سے زندگی کی ہر خواہش اور ہر لمحے کوئی نئی شکل اختیار کر کے سامنے آ جاتے ہیں۔ مگر انسان کچھ کر نہیں سکتا، کسی کو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں تو کسی کو غم۔

میں نے کبھی یہ سوچا نہ تھا کہ مجھ پر یہ وقت آئے گا، میں پڑھائی اور گھر تک محدودیت کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ ٹھٹھراتی سردی میں ایک نئی منزل کی طرف نکل پڑوں۔

مجھ پر آسمان گویا گر پڑا، وہ مسکراہٹ آہوں سسکیوں میں بدل گئی۔

30 تاریخ کی رات کو اچانک سے کچھ مسلح لوگ میرے گھر میں گھس کر تلاش لینا شروع ہوگئے۔ تلاشی کے بعد موبائل فون مانگے اور میرے دونوں بھائیوں سمیت والد صاحب کو میری آنکھوں کے سامنے مار مار کر گھیسٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔ ہم بے بس لوگ صرف آہ و زاری کر سکتے تھے، سو ہم نے کر دیا۔ مگر ہماری سننے والا کوئی نہیں تھا۔اس وقت میری امی کی طبعیت بہت خراب تھی، گھر میں صرف میں اور میری بیمار امی تھیں۔ نہ ہمیں کوئی دلاسہ دینے والا تھا اور نہ ہی کوئی سہارا دینے والا۔ میں ایک عورت اتنے بڑے گھر میں اکیلی رہ گئی۔

زندگی میں پہلی دفعہ میں نے ایسا مشکل وقت قریب سے دیکھا اور یہ وقت میرے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ بہ یک وقت میرے سارے گھر کے مرد لاپتہ ہوگئے اور گھر میں اکیلی والدہ اور دو بچوں کے ساتھ… میں تمام مسنگ پرسنز کے وارث دعا گو اور بہنوں کے کاروان میں ایک نئن مسافر تھی۔ جو اپنی سیاسی ناتجربہ کاری اور نابلوغت کے باوجود بلند حوصلوں کے ساتھ اس کاروان کے دیگر ساتھیوں سے زیادہ جوش کے ساتھ ایک نئی زندگی میں داخل ہوئی۔

میں اپنے گھر میں یہ زندگی پہلی دفعہ میں دیکھ رہی تھی۔ میں اپنے چھوٹے دونوں بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ والد اور بھائیوں کو ڈھونڈنے پہلی دفعہ روڈوں کی طرف نکلی۔ ایک ایسی جگہ پہنچ گئی جہاں مجھ سمیت اور بھی بہت ساری بدقسمت مائیں اور.بہنیں موجود تھیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں پوسٹرز تھے، وہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔ میں.بھی وہاں بیٹھ گئی۔ جنید  اور حسنین کے دوست وہاں میرے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ مجھ سمیت میرے چھوٹے بھائیوں کو دلاسہ دیتے رہے۔

ہم واپس اپنے گھر کی طرف یہ امید لے کر آ گئے کہ میرے پیارے واپس گھر پہنچ جائیں گے مگر وہ نہیں آئے۔ پانچ دن انتظار کرنے کے بعد بھی کچھ جواب نہیں آیا۔ میں مجبور ہو کر ایک بار پھر روڈوں پر آ گئی۔ اپنے بھائیوں کی بازیابی کے لیے ایک ریلی نکالی اور سب سے اپیل کی کہ وہ اس ریلی میں شرکت کریں، میرے ساتھ ہم قدم رہیں۔

5 تاریخ کو مینگل چوک سے پریس کلب تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں اپنے بھائیوں کی بازیابی کے لیے نعرے بازی اور اپیل کی۔ ریلی میں جیئند بلوچ کے دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے ہمیں حوصلہ دیا۔ شام پانچ بجے ریلی ختم ہوئی اور ہم یہی امید لے کر گھر واپس لوٹنے لگے کہ ہمارے بھائی جلد واپس آئیں گے۔ مگر گھر پہنچنے سے پہلے ہی مجھے پتہ چلا کے مجھے سہارا دینے والے بھائی جیئند جان کے دوست ظریف رند، چنگیز بلوچ، اورنگ زیب بلوچ سمیت دو اور ساتھیوں کو بھی لاپتہ کر دیا گیا۔ ایک اور بری خبر سن کر میرے حالات اور زیادہ خراب ہوگئے اور میرے حوصلے پست ہونے کے قریب ہوئے لیکن ان ساتھیوں کی ہمت اور حوصلوں نے میرے اندر تحریک پیدا کر دی۔ اب میں ایک عام گھریلو خاتون سے ایک بڑی منزل کی مسافر بن گئی تھی۔

جیئند بلوچ، حسنین بلوچ 22 دن سے اور ظریف رند، چنگیز بلوچ، اورنگ زیب بلوچ 19 دن سے تاحال لاپتہ ہیں۔ میں ایک بے سہارا بہن اپیل کرتی ہوں پاکستان کے تمام اداروں سے اور بلوچستان گورنمنٹ و انسانی حقوق کی تنظیموں سے اور تمام طلبا تنظیموں سے کہ میری آواز بنیں اور میرے بھائیوں کو بازیاب کرانے میں اہم کردار ادا کریں۔

میں ایک بےبس عورت ہوں، میری ماں بیمار ہے۔ میرے چھوٹے بھائیوں کو اسکول لے جانے والا کوئی نہیں ہے۔ میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ میری آواز کے ساتھ آواز ملائیں اور میرے سب بھائیوں کو بازیاب کرانے میں ہماری مدد کریں۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *