حضرتِ قائداعظم محمد علی جناح ؒ… محمد فیاض حسرت

خدا حضرتِ قائداعظم ؒ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
یقینا ً انہوں نے صدقِ دل اور بغیر کسی اپنی ذات کے فائدے کے پاکستان کو بنانے کی کوششیں کی جس میں انہیں   کامیابی  نصیب ہوئی ۔ ان کی دن  رات کی مسلسل محنت جو کہ صرف پاکستان کے لیے تھی وہ رنگ لائی اور ملکِ خداداد پاکستان وجود میں آیا ۔خدا جانتا ہے انہوں نے اس ملک کا قیام عمل میں لانے کے لیے کتنی محنت کی ۔ اس ملک کی خاطر اپنی ذات تک کی نہ پرواہ کی ، انہوں نے محنت و جدوجہد کا تسلسل اس طرح برقرار رکھا کہ انہیں بعض اوقات کچھ گھنٹے رات آرام کرنا بھی میسر نہ ہوتا ۔ مگر انہوں نے اپنی ذات کے کسی فائدے اور نقصان بارے کچھ نہ سوچا ۔ کچھ سوچا تو بس اس پاکستان کے لیے سوچا ۔ کچھ کیا تو بس اسی پاکستان کے لیے کیا ۔ قائداعظم ایک عظیم لیڈر ہیں ۔ اس بات کااقرار ان کے ماننے والے ہی نہیں بلکہ ان کے مخالف لوگوں نے بھی کیا ۔ ان کی قابلیت کا کوئی  ثانی نہیں ۔ ان کے مخالفوں کا بھی یوں کہنا معمولی بات نہیں کہ جناح جیسی شخصیت صدیوں میں ایک پیدا ہوتی ہے ۔
قائد کے حضور کچھ کلام پیش ہے.

بے اثر ہو گئے سب حرف و نوا تیرے بعد
کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد
تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
ایسی بدلی ترے کوچے کی فضا تیرے بعد
اور توکیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
ہم سے اک خواب سنھبالانہ گیا تیرے بعد
کیا عجب دن تھے کہ مقتل کی طرح شہر بہ شہر
بین کرتی ہوئی پھرتی تھی ہوا تیرے بعد
ترے قدموں کو جو منزل کا نشان جانتے تھے
بھول بیٹھے ترے نقش کف پا تیرے بعد
مہرو مہتاب دونیم ایک طرف خواب دو نیم
جو نہ ہوتا تھا وہ سب ہو کے رہا تیرے بعد
(افتخار عارف)

جوشِ عمل بلاغرض،حسن سلوک بے ریا
یوں ہوا وقف کارِ قوم فخر نام ہو گیا
ایک زبان ایک بات، جس پہ لگے ہوئے تھے کان
منہ سے جو کچھ نکل گیا ، حکم وہ عام ہو گیا
بہر اطاعت آپ ہی جھک گئے دشمنوں کے سر
دارِ فتن تھا جو مقام دارالسلام ہو گیا
کم نہ تھا خواب قوم کا خواب گراں مرگ سے
چونکے تو چونکے اس طرح سونا حرام ہو گیا
تیز سے تیز تر ہوا، جوش میں جذبہءِ عمل
سفر جو منزلوں کا تھا ، ایک ہی گام ہو گیا
فوقِ تدبرِ جناح مان گئے مدبرین
بحث تمام ہو گئی ، ختم کلام ہو گیا
جنگ بغیر فتح یاب، خون بغیر سرخرو
یوں جو کبھی ہوا نہ تھا ، یوں ہی وہ کام ہو گیا
بن گئی سلطنت نئی، ہو گئی قوم حکمراں
اٹھ گیا کہہ کے کارکن، کام تمام ہوا
(آرزو لکھنوی)

آخر میں میری ایک نظم پیش خدمت ہے.

آج ہوتا جو میسر تم کو دیدارِ چمن
دیکھتے تم ، بس کہ اجڑا یہ گُلستاں دیکھتے
اب سکوں تو یاد پڑتا ہے ہمیں اِس لفظ سے
اِس میں رہتے ہر پرندے کو پریشاں دیکھتے
ہاں بڑی شاں سے یہاں انصاف ہوتا ہے، مگر
سسکیوں ،آہوں سے بپھرا ایک ساماں دیکھتے
جس نے کلیوں اور پھولوں کا تبسم چھینا ہے
اہلِ گلشن کے دلِ و جاں اُس پہ قرباں دیکھتے
چین سے بیٹھی ہیں سب اقلیتیں اِ س بستی میں
اِس میں اٹھتا بس کہ فتنہءِ مُسلماں دیکھتے!

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *