قائد اعظم ؒ۔۔۔۔محمد اظہار الحق

اس معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھیے

برصغیر میں مسلمان آبادی تین حصوں میں منقسم ہے۔ مغرب میں پاکستان ہے۔ تقریباً بائیس کروڑ آبادی ہے۔ مشرقی کنارے پر بنگلہ دیش ہے۔
اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں 90فیصد مسلمان ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان اپنی تقدیر کے مالک خود ہیں۔ وہ دوسرے ملکوں میں سفیر تعینات ہوتے ہیں۔ مسلح افواج میں شامل ہیں۔بریگیڈیئر اور جرنیل بنتے ہیں۔ فوجوں کی کمان سنبھالتے ہیں۔ عدالتوں کی سربراہی کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کی سول سروسز میں ان کا بھر پور حصہ ہے۔ ان کے پاس وزارتیں ہیں۔ انتخابی حلقوں کی بنیاد پر منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ قانون سازی کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مسلمان بچے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پھر ترقی یافتہ ملکوں کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے جاتے ہیں۔ تجارت ہے یا صنعت‘ زراعت ہے یا بنکاری‘ ہر شعبہ زندگی میں انہیں اپنے حقوق حاصل ہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بھارت ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً اٹھارہ کروڑ ہے جو کل آبادی کا پندرہ فیصد بنتی ہے۔ بھارت کے مسلمان اپنی آبادی کے تناسب سے سول سروس‘ مسلح افواج‘ عدلیہ‘ تعلیم اور سفارت کاری‘ میں پندرہ فیصد حصے کے حق دار ہیں۔مگر یہ حصہ صفر فیصد اور چار فیصد کے درمیان ہے۔ مسلح افواج میں مسلمان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صرف ایک مسلمان جرنیل بنا۔ وہ بھی فضائی’’حادثے‘‘ میں شہید ہو گیا۔ سول سروس میں مسلمان خال خال نظر آتے ہیں۔ شاید ہی کوئی سفیر ہو۔ جو کچھ گائے کے نام پر ہو رہا ہے یا جو کچھ گجرات میں ہوا اس کا تو یہاں ذکر ہی نہیں ہو رہا۔

آپ کا کیا خیال ہے اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کا وجود نہ ہوتا‘ اگر پورے برصغیر پر ایک ہی حکومت ہوتی تو کیا مسلمانوں کی حالت‘ آج کے بھارتی مسلمانوں کی حالت سے مختلف ہوتی؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے تقسیم ہند سے پہلے کے ہندوستان کو دیکھ لیجیے۔ کتنے مسلمان ملازمت میں تھے؟ کتنے سفارت کاری میں تھے؟ کتنے تجارت میں تھے؟ جب کہ اس وقت اقتدار ہندوئوں کے ہاتھ میں تھا بھی نہیں! حساب کتاب کے دفتروں میں مسلمانوں کو اس وجہ سے نہیں آنے دیا جاتا تھا کہ یہ ریاضی اور اکائونٹس میں کمزور ہیں۔ ایک شام جہلم میں گزری۔ لوگ بتا رہے تھے کہ قیام پاکستان سے پہلے جہلم کے بازار میں صرف ایک مسلمان تاجر تھا۔ باقی سارے ہندو اور سکھ تھے۔

ایک صاحب جن کی عمر کا بیشتر حصہ مشرق وسطیٰ میں گزرا‘ کہتے ہیں کہ تقسیم ہند سے پہلے جو رویہ ہندوئوں کا مسلمانوں کے ساتھ تھا‘ اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو یہ دیکھیے کہ مشرق وسطیٰ میں‘ بالخصوص متحدہ عرب امارات میں بھارتی‘ پاکستانیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ جہاں جہاں ان کا اختیارہے‘ وہاں وہاں ان کی پوری کوشش ہے کہ ملازمتیں پاکستانیوں کو نہ ملیں صرف بھارتیوں‘ وہ بھی بھارتی ہندوئوں کی جھولی میں ڈالی جائیں!

آج اگر پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمان اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں تو قائد اعظم محمد علی جناح کو دعائیں دیں جن کے وژن نے انہیں اپنی تقدیر کا مالک بنایا۔ آج بنگلہ دیش اور پاکستان میں جتنے وفاقی سیکرٹری ہیں جتنے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ہیں‘ جتنے سفیر ہیں‘ وزیر ہیں ‘اسمبلیوں کے ارکان ہیں ‘تاجر ہیں‘ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ہیں‘ مجسٹریٹ‘ جج اور چیف جسٹس ہیں‘ جرنیل ہیں‘ پروفیسر ہیں‘ ڈاکٹر اور انجینئر ہیں۔ ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو کیا مسلمانوں کی ان شعبوں میں اتنی ہی تعداد ہوتی؟؟ جواب کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں!! پاکستان اور بنگلہ دیش نہ ہوتے تو مسلمانوں کو ہندوستان میں اقلیت کا خطاب ملتا۔ مسیحیوں کی طرح وہ بھی ایک اقلیت ہوتے۔ ون مین‘ ون ووٹ کے حساب سے ہمیشہ اقلیت میں رہتے۔ آخر کار انہیں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی۔ حل وہی ہوتا‘ الگ الگ ریاستیں !! یہ ریاستیں پچاس‘ سو یا دو سو سال بعد وجود میں آتیں مگر آتیں ضرور! یا پھر بنگلہ دیش اور پاکستان کے چالیس کروڑمسلمانوں کا بھی وہی حشر ہوتا جو آج بھارت کے سترہ اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کا ہو رہا ہے!

یہ قائد کا وژن تھا جس نے اٹھاون کروڑ مسلمانوں میں سے کم از کم چالیس کروڑ کو ان کے حقوق دلوا دیے۔ ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو سب کے سب محکوم ہوتے۔ جو بزر جمہر کہتے ہیں کہ ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو مسلمان ایک بڑی طاقت ہوتے‘ اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ بکھرے ہوئے مسلمان‘ طاقت کس طرح بنتے ؟ آج بھارت میں اٹھارہ کروڑ کی تعداد کیا کوئی کم تعداد ہے؟

آج اگر بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو کم از کم اپنے داخلی معاملات میں آزادی حاصل ہے تو اس کا کریڈٹ بھی قائد اعظم اور قائد اعظم کے پاکستان کو جاتا ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ نہ ہوتا تو آج اس کا علیحدہ وجود نہ ہوتا۔ بنگلہ دیش کے قیام سے دو قومی نظریہ ختم نہیں ہوا‘ زیادہ اجاگر ہوا ہے! مشرقی بنگال آج الگ ملک ہے تو صرف اس لئے کہ وہاں مسلمان بھاری اکثریت میں ہیں۔ ورنہ بنگالی زبان تو مغربی بنگال کے بنگالی بھی بولتے ہیں اور رس گُلّے اور گلاب جامن تو کلکتہ میں بھی اتنے ہی میٹھے ہیں جتنے ڈھاکہ اور چٹا گانگ میں!!

کیا بے مثال کردار ہے قائد اعظم محمد علی جناح کا! تاریخ میں اس کی مثال کوئی نہیں! کہیں نہیں! ایک شخص جو طوفانوں سیلابوں آندھیوں جھکڑوں میں چٹان کی طرح کھڑا رہا! اس سارے مقابلے میں اس امتحان میں‘ اس جنگ میں اس نے جھوٹ بولا نہ بددیانتی کا ارتکاب کیا۔ کوئی لفظ چبایا نہ منافقت دکھائی۔ ہر بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی! وہ خوف سے ناواقف تھا! کسی قسم کے احساس کمتری کا اُس پر سایہ بھی نہ پڑا تھا۔ وہ ساری زندگی ایک آزاد شخص رہا اور یہی آزادی اس نے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کو عطا کی! اسے کہا گیا گاندھی جی ریل کے تیسری کلاس کے ڈبے میں سفر کرتے ہیں‘ آپ کیسے لیڈر ہیں جو فرسٹ کلاس میں کرتے ہیں! جواب دیا گاندھی کے سفر کا خرچ ان کی پارٹی کے ذمے ہے۔ میں اپنے پیسے سے کرتا ہوں۔ ساری زندگی اپنا کھایا‘ اپنا پہنا۔ دہلی سے لے کر بمبئی تک محلات جیسی رہائش گاہیں اس کی اپنی تھیں! اس کا سر کسی کے آگے نہ جھکا! پھر جب ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو پیسے پیسے کا خیال رکھا۔ کوئٹہ سے باورچی واپس لاہور بھجوا دیے۔ جہاز خریدنا پڑا تو اتنی مین میکھ نکالی کہ تاریخ میں اس کی مثال کہیں نہ ملے۔ جسے تفصیل درکار ہو‘ پڑھ لے اور سوچے کہ آج کے حکمران قائد اعظم کے مقابلے میں کیا ہیں اور کہاں کھڑے ہیں؟

پاکستان قائم رہنے کے لئے بناہے۔ اس لیے کہ اس کی بنیادمیں ایک سچے‘ ایک دیانت دار ایک عظیم الشان شخص نے اپنی پوری زندگی ڈال دی! ع

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے

حالیؔ نے سچ کہا تھا ؎

قیس سا پھر کوئی اٹھا نہ بنی عامر میں
فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *