بھاگ جاؤ۔۔۔۔روبینہ فیصل

میری شارٹ سٹوری” حلال بیوی” پر بننے والی فلم کے لئے پچھلے دنوں انڈین ایکٹرمحمد ذیشان ایوب، کینیڈا آئے ہوئے تھے ۔۔ بالی ووڈ کی چمکتی دنیامیں بڑے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کر نے والے ذیشان ہمارے ساتھ ، عام سی جینز اور جیکٹ پہنے گھومتے پھرتے تھے انہوں نے جب پہلی دفعہ اپنا چھوٹا سا سفری تھیلہ کھولا تھا تو اس میں سے چند کپڑے نکال کر الماری میں ٹانگے تھے ، اور اسی کمال پھرتی سے پانچ چھ ہندی اور انگریزی کی کتابیں نکال کر سائیڈ ٹیبل پر سجا دی تھیں ، اورویل کی 1984دیکھ کر میں نے لمبا سانس اندر کو کھینچا تو گھبرا کر مجھے پوچھا: “کیاہوا ۔۔ ؟”
میں نے کہا :”آپ میرے اندازے سے الٹ ثابت ہو رہے ہیں۔۔”

آج کل کوئی بھی حیرت آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہو تی ہے تو میرا منہ اور ناک آکسیجن زیادہ سے زیادہ اندر اتارنے کی کوشش میں جُت جاتے ہیں ۔۔
ذیشان نے اپنی شرارت بھری آنکھوں سے مجھے حیران ہو کے دیکھا : “ایسا کیا نظر آگیا ۔۔؟ ”
میں نے کہا: “میں امید کر رہی تھی آپ کے سامان میں شراب اور فیشن کی بہت سی چیزیں نکلیں گی ۔۔مگر یہاں تو کتابیں ہی کتابیں وہ بھی کلاسیکل لٹریچر ۔۔۔” اس نے سمجھا میری حیرت میں کچھ مبالغہ شامل ہے ۔مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی تو میں نے اپنی بہت سی حیرت کو روک لیا تھا کہ ہم نے تو اپنے پاکستانی اداکاروں کوچھوڑ دانشوروں کو بغیر کتابوں اور بے حساب شرابوں کے ساتھ ڈولتے دیکھا ہے۔ بالی ووڈ کاایک عام سا اداکار جوباپ دادا کی سفارش سے نہیں بلکہ بنیادی ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ مکمل تعلیم لے کر اس میدان میں آیا ہے اور دنیا کے ادب اور تاریخ پر اس کی گہری نظر اور مطالعہ دیکھ کر کسی بھی باشعور انسان کو اپنا آپ کمتر لگنے لگے ۔

علم اور دانش ،تنگ نظر ا نڈیا کا وہ روشن چہرہ ہے جو اپنے اندر صدیوں کا بغض اور تعصب دبانے کی طاقت رکھتا ہے ۔ میرے نزدیک انڈیا کی روشنی اس کے اباو اجداد کی روایتی اور قدیم وزڈم اور مطالعہ کی وسعت میں ہے ۔ جس کا ایک چہرہ ذیشان کی صورت ہمارے سامنے کھڑا تھا ۔۔ دوسرا چہرہ جواہر لعل نہرو جیسے دانشورسیاسی لیڈر ۔نہرو کی کتاب جس میں ایک باپ اپنی کم سن بیٹی کو جیل سے خط لکھ کر نہ صرف اسے اپنی پدرانہ شفقت کا احساس دلا رہا تھا بلکہ اسے دنیا کی تاریخ سے آگاہ کر کے انڈیا کے مستقبل کے لیڈر کی ٹریننگ بھی کر رہا تھا ۔۔ پنڈت نہرو کی glimpses of history، ان کی دوسری کتابوں کی طرح ایک شاہکار کتاب ہے ۔ جسے پڑھا جانا چاہیئے ۔۔ نہرو سیکولر سوچ کے ساتھ اپنے ملک اور اس کے لوگوں کو ایک وژن دے گئے تھے۔۔

میرا ماننا ہے کہ گاندھی اور نہرو ، کانگریس کے سکے کے دو رخ تھے ۔ایک نے انسانیت کی دھوتی باندھ کر بھی عوام کے اندر مذہب ، نسل اور ذات کی تقسیم کی پگڑیاں بانٹی تھیں اور ایک ماڈرن اور سیکولر چہرہ نہرو کا تھا ، سیاسی شعبدہ بازیاں اور مکاریاں اپنی جگہ ، لیکن اگر آج ہندوستان کی مٹی اور ہندوستانیوں کے خون میں بسے تعصب اور تنگ نظری کے باوجود اس کے قانون میں سیکولرازم ، پارلیمنٹ میں جمہوریت،دیہاتوں میں جاگیردانہ نظام کا خاتمہ اور عام لوگوں میں عقل و شعور ہم بے بصیرت ، کم پڑھے لکھے سطحی پاکستانیوں سے زیادہ ہے تو اس کی وجہ جواہر لعل جیسی بصیرت رکھنے والے لیڈروں کا وہ وقت تھا جو انہیں اپنی قوم کو سدھارنے کے لئے مل گیا ۔

ہم پاکستانیوں کو یہ پڑھنے پڑھانے کا کام کچھ سمجھ میں نہیں آتا کیو نکہ ہمارے لیڈر وطن کی مٹی سے اپنے بچوں کے لئے سونا بنانے، کھوکھلا پن اگانے اور دولت کمانے کے جائز اور ناجائز طریقوں کے علاوہ اپنی قوم کو کچھ نہیں دے سکے ۔ ذولفقار علی بھٹو واحد ذہین اور دور اندیش لیڈر آیا تو وہ بھی تکبر اور تنگ نظری کا مارا ہوا نکلا۔
جب ہم کہتے ہیں کہ ہماری بدقسمتی کہ جناح کو وقت نہ ملا کہ اپنی عوام کی سیاسی اور سماجی تربیت کر جاتے تو یہ نقصان کوئی چھوٹا موٹا نقصان نہیں ہے ۔ ۔یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ کیونکہ ہماری تاریخ کے دھارے میں یہ دو بزرگ سر سید احمد خان اور محمد علی جناح نہ ہو تے تو جو آج ہم میں ایک آدھ کام کا بندہ سوچ سوچ کے پیدا ہوجاتاہے وہ بھی نہ ہوتا۔۔ اور مولیوں کے کھیت میں مولیاں ہی اگتی رہتیں جنہیں کوئی بھی کاٹ کر کھا پی جاتا ۔۔گاندھی جی کو لوگ مہاتما تو کہتے ہیں مگر ان کی تنگ نظری اور منافقت ہر دین کے رکھوالوں کی طرح ہندوستان میں اس تعصب کا باعث بنی۔

ذرا سوچئیے :
1920 میں محمد علی جناح نے کانگریس کیوں چھوڑی تھی ؟پھر وہ انڈین سیاست سے مایوس ہو کر واپس انگلینڈ کیوں چلے گئے تھے ؟
محمد علی جناح کی سوچ سیکولر اور جمہوری تھی ۔ وہ ہر اس عمل کی مخالفت کرتے تھے جس میں انہیں یہ خدشہ لاحق ہو تا تھا کہ مذاہب کا تصادم ہو گا ۔ وہ سیاست کو مذہب سے ہٹا کر دیکھتے تھے ۔ اس پر نہرو اور جناح ہم خیال لگتے ہیں ۔ مگر گاندھی جی ، امن اور ستیہ گر کی آڑ میں مذہب کا جن بوتل سے بار بار باہر کرتے تھے ، ان کی تحریک خلافت کی حمایت بھی ان کی ایسی ہی سوچ کا مظہر ہے جس کی جناح نے ڈٹ کر مخالفت کی تھی ، اور جب ان کی ایک نہ چلی ، ہندو مسلم سب گاندھی جی کے پیچھے آنکھیں بند کئے چل پڑے تو وہ مایوس ہو کر انگلینڈ واپس چلے گئے اور کچ اسی وجہ سے کچھ عرصہ سیاست سے کنارہ کش رہے۔۔

انڈین ایکٹ 1935کے تحت ہو نے والے پہلے الیکشن جو 1937میں ہو ئے تھے اور کانگریس نے سندھ، بہارا ور پنجاب کے صوبوں کے علاوہ باقی تمام صوبوں میں اکثریت حاصل کی تھی ۔ اس الیکشن کے بعد کانگرس کا جو متکبرانہ رویہ اور مذہب کی بنیاد پر حقارت آمیز امتیازی سلوک روا ہوا تو قائد اعظم  کا  ہند و مسلم اتحاد پر اعتماد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوا اور اسی لئے 1940میں پہلی دفعہ ایک فیڈریشن میں صوبوں کی مکمل خود مختاری کی تجویز پیش کی گئی۔ کیونکہ 1937 کے الیکشن کے بعد مسلمانوں کو اہم وزارتوں میں حصہ نہیں دیا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ سکولوں اور کام والی جگہوں پر عجیب قسم کا ہندو غلبہ نظر آنے لگا تھا ۔ یوں لگتا تھا سب ہندو ہو جائیں ورنہ یہاں سے بھاگ جائیں۔اس زمانے کے ہندوستان کا جو ماحول بن گیا تھا اس کی وجہ سے مسلمان شناخت کی بات کی جانے لگی (جو سرسید نے بہت پہلے کر دی تھی) تو 1946کے الیکشن کا یہ نتیجہ نکلا کہ مسلمان تقریبا اپنی تمام نشستیں جیت گئے ۔ غربت میں مذہب کا نعرہ بہت تیزی سے کام کرتا ہے ۔ ہندوستان کے غریب کو آزادی اور علیحدگی میں اپنی خوشخالی دکھا ئی دینے لگی ۔ حالا نکہ تقسیم صرف دو بنیادوں ۔۔ امیر اور غریب۔میں ہوتی ہے جبکہ باقی سب تقسیمیں ان دو تقسیموں کو زندگی بخشنے کے لئے کی جاتی ہیں اور جن کے ہاتھ یہ گر لگ جاتا ہے وہ اس کی بنیاد پر سیاست کر کے غریب کو سنہرے سپنے دکھاتے اور اپنی نسلوں کے لئے سنہرے محل بناتے ہیں ۔۔

محمد علی جناح نے ۱۱ اگست 1947کی تقریر میں جب اقلیتوں کے حقوق کی بات کی تھی تو ان کا نظریہ یہی تھا کہ جو مسلمانوں کے ساتھ ہندو اکثریت والے ملک میں ہو نا تھا یا ہو رہا ہے ، وہ ہماری اقلیتوں کے ساتھ پاکستان میں نہ ہو ۔۔
جماعت علما ہند ،مجلسِ احرار اور خاکسار تحریک ، یہ سب مذہبی انتہا پسند مسلمانوں کے لئے الگ وطن کے خلاف تھے ۔وہ ایک طاقتور اقلیت ( کل انڈیا کی آبادی کا 30% تھے) ،کی حیثیت سے ہندوستان میں ہی رہنا چاہتے تھے ۔آج پاکستان میں یہی نہ نہ کہنے والے گھس کر مذہبی تعصب کا بیج بو تے ہیں اور اقلیتوں کو احساس دلاتے ہیں کہ بھاگ جاؤ ۔
نصیر الدین شاہ اپنی مسلمان ہندوستانی شہری ہونے کی مجبوریوں کی وجہ سے جھنجلا کر عمران خان پر برس تو پڑے ہیں کہ :نہیں نہیں انڈیا میں ایسا کچھ نہیں ہے،ہم سب آزاد ہیں ۔مگر مسلمان ذیشان اور اس کی ہندو بیوی رادیکا کے درمیان ہونے والے نسلی اور مذہبی مذاق سے ہی ہم ان حالات کا اندازہ لگا چکے تھے جو کبھی جناح نے محسوس کئے تھے اور آج پھر سے مودی جیسے تنگ نظراور متعصب لیڈر کی وجہ سے ملک میں پیدا ہو چکے ہیں ۔۔۔۔کہ انڈین مسلم اپنی شناخت کھو کر ہندو میں ضم ہو گا تو ہی محب وطنی کا سر ٹیکفیٹ پائے گا ورنہ ۔۔”بھاگ جاؤ پاکستان”۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *