• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا خواتین مردوں کے خاص اعضا سے نظر ہٹا سکتی ہیں؟۔۔۔مظفر عباس نقوی

کیا خواتین مردوں کے خاص اعضا سے نظر ہٹا سکتی ہیں؟۔۔۔مظفر عباس نقوی

خواتین و حضرات اگر جان کی امان پاؤں تو میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، حضرات کو چھوڑیں وہ تو کہیں نا کہیں کچھ نا کچھ کھجا رہے ہوں گے ۔میں تو بس خواتین سے مخاطب ہوں کہ یہ بھی تقریباً  پاکستانی مردوں کا تجربہ ہے۔ چاہے وہ بس پر سوار ہوں، جہاز پر ہوں، ٹرین پر ہوں یا کسی ویٹنگ روم یا ریسٹورنٹ میں ہوں۔ کوئی بھی خاتون ان کے ساتھ آ کر یا سامنے بیٹھ جائے۔ فوری طور پر اسے اپنے آپ کو غالب ظاہر کرنے کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ مرکز نگاہ وہی رہے۔
ویسےکس قدر گندے اور غلیظ لگ رہے ہیں نا یہ الفاظ عورت سے منسوب ہو کر۔کیو ں نا ہوں جنا ب ایک مرد کے منہ سے ہیں نا۔ مگر ایک عورت کسی ایک مرد کی وجہ سے یہ کہہ دے تو ٹھیک۔ مرد ہیں ہی سارے گند ے بس ہاتھ میں اپنے اعضا لیے پھر رہے ہیں ۔اور تو ان کو کوئی کام رہ ہی نہیں گیا ۔بس جہاں عورت دیکھی نہیں اور کھجانا شروع۔
اکثر ایسی باتوں پر ایک لطیفہ یاد آتا ہے کہ کچھ سہیلیاں آپس میں بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہیں کہ ایک سہیلی دوسری سے پوچھتی ہے کہ یہ مرد آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں تو دوسری سہیلی جواب دیتی ہے وہی جو ہم کرتی ہیں۔
تو پہلی سہیلی جواب دیتی کہ پھر تو بہت ہی بے شرم ہیں۔.
جی مرد جو ٹھہرے بے شرم تو ہوں گے۔
میں کچھ اور بھی بتانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہر عورت یہ بھی دکھانا چاہتی ہے کہ وہ ایک عورت ہے اور اس کی موجودگی معنی رکھتی ہے اور عوامی جگہوں پر عورتوں کا اختیار زیادہ ہے ۔میں ثابت کر سکتا ہوں کہ عور ت کا اثرورسوخ زیادہ ہے آپ کو یقین نہیں تو آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں آپ ایک نوجوان ہیں آپ کو کوئی خاتون گندی نظروں سے دیکھ رہی ہے آپ کو غیر اخلاقی طریقے سے اپروچ کر رہی ہے۔اس پر آپ شور مچانا شروع کر دیں آپ بتائیں کتنے لوگ آپ کی بات کا اعتبار کریں گے؟ کوئی نہیں شاید آپ کے فیملی ممبر بھی نہیں۔کیوں؟
کیونکہ عورت کو طاقت حاصل ہے وہ عورت کارڈ استعمال کر سکتی ہے۔اس کے مقابل اگر مرد کی جگہ عورت کو رکھ لیں تو آپ جانتے ہیں کتنے بھائی آپ کا منہ کھولنے سے پہلے ہی توڑ دیں گے۔
میری بہن کہتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین کی پریشانی اتنی اہمیت بھی نہیں رکھتی کہ اس کو بنیاد بنا کر مردوں کو اپنا رویہ بہتر کرنے کا کہا جا سکے۔سچ کہا ہے کیا کہنے۔
آج تک کونسی ایسی زیادتی کسی مرد نے عورت کے ساتھ کی ہو اور مرد وں نے اس پے آواز نہ  اٹھائی ہو؟ ہاں اگر مرد پے کوئی الزام ہے تو اس میں آپ کو می ٹو کا فائدہ تو ہے مرد چاہے کتنی ہی صفائیاں کیوں نہ  دے مگر وہ تو بلا تفریق اور بغیر کسی ثبوت کے جہنم کی زندگی کاٹے گا۔
مگر آپ صحیح کہتی ہیں خواتین کی پریشانی کی کوئی اہمیت نہیں بس کسی مرد پر الزام ہی لگ رہا ہے اور معاشرہ اسے لعنت ملامت کر رہا ہے بس اور کیا؟ جینا ہی حرام ہو گا نا بس اور کیا؟
جہاز میں موجود اس شخص نے اپنی غلطی تسلیم کر کے معافی مانگ لی۔ مگر کتنی می ٹو کہتی عورتوں نے الزام ثابت نہ  ہونے پر معافی مانگی کوئی اعدادو شمار بتا سکتا ہے؟
ہماری بہن کہتی ہیں کہ جب کسی مرد کو کوئی جگہ یعنی کوئی سیٹ میسر ہو تو اس کی کوشش ہوتی ہے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ جتنا ممکن ہو جگہ پر قابض ہو جائے ، ہاتھ سیٹ پر پھیلا لے ، تا کہ خاتون کے لیے کم سے کم جگہ بچے۔میرا ایک سوال ہے آپ کونسی دنیا سے آئی ہیں کہاں مرد سیٹ پے ہاتھ پھیلا کر بیٹھ جاتا ہے؟
کہاں آپ کھڑی رہیں اور مرد سیٹوں پر بیٹھے رہے؟ ہم نے تو اسی ملک میں ، جی ہا ں اسی پاکستان میں بزرگوں کو عورتوں کے لئے سیٹ چھوڑتے دیکھا ہے کہ بیٹا آپ بیٹھ جائیں ، پاک سر زمین میں آپ کی سوچ ناپاک ہو سکتی ہے کہ ایک مرد کا آپ کو سیٹ دینا یا بزرگ کا ا ٓپ کے لئے سیٹ چھوڑ دینا ٹھرک ہے ہمارے نزدیک نہیں ۔
آپ کو بھی سوچ کو آگے لے کر بڑھنا ہو گا اگر آپ سمجھتی ہیں کہ ہمارے اعضا پر خارش ہونا یا بے دھیانی میں ان تک ہاتھوں کا بڑھ جانا ہی فقط عورتوں کو دکھانا ہے تو میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سوچ ہی خارش زدہ اعضا سے باہر نہیں نکلتی تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔
کیا عورتیں اپنے اعضا پبلک میں نہیں چھوتیں ، کیا ہم اس کو اس بات سے جسٹی فائے کریں کہ وہ مردوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں یہ ایک گھٹیا سوچ ہے جس طرح یہ الزام کہ ،اس معاشرے میں بس ہر مرد عورت کو قابو کرنا چاہتا ہے۔
ایک مساوات پر مبنی معاشرہ اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک عورت مرد کے ہر فعل کو مشترکہ مردوں کے کھاتے میں ڈالنا نہیں چھوڑے گی اور اس کو اپنی ذات تک ہی سوچے گی۔اور عورتوں سے گزارش ہے کہ پبلک مقامات پر اپنے اعضا کو چھونے سے پرہیز کریں۔اگر کسی نے ایسی کوئی ویڈیو بنا کر ڈال دی تو سب شور مچانا شروع ہو جائیں گے۔اور آپ معافی کی بجائے الٹا می ٹو لے کہ بیٹھ جائیں گی۔جہاں جہاں مرد و عورت موجود ہیں وہاں وہاں ایک اخلاقی، سماجی، حقوق اور اختیار کہ جنگ رہی ہے اور رہے گی ۔

مردوں کے اعصاب پر عورت ضرور سوار ہو سکتی ہے منٹو نے یہی کہا تھا کہ ادیبوں کے اعصاب پر عورت سوار نہ ہو گی تو کیا ہاتھی گھوڑے ہوں گے۔ مگر یقین مان لیں ۔یہ کھجلی ہماری اپنی تسلی کے لئے ہے ۔ ہماری ہر چیز کا تعلق عورت سے نہیں اور کھجلی کا تو ہر گز نہیں۔آپ بھی اپنے حواس سے مردوں کو اتار پھینکیں یا آپ چاہتی ہی نہیں کہ آپ اس شے سے نکلیں۔کیونکہ جس طرح شہرت کا حصول ایک نشہ ہے کہ سر پر سوار رہتا ہے اس طرح آپ اپنی برابری بھی چاہتی ہیں اور یہ بھی چاہتی ہیں کہ یہ دیکھتا کیوں نہیں۔یہ ہمیں کم تر کیوں نہیں سمجھتا ہم واویلہ کس پر کریں۔
آگے بڑھیں ہم آپ کے حقوق کی جنگ میں آپ کےساتھ ہیں مگر اعضا اور جسم کی جنگ میں آپ نے ہی نعرہ لگایا تھا میرا جسم میری مرضی، اب میرا جسم میرے مرضی والوں کو کھجلی جیسی معمولی حرکت پہ میرا جسم میری مرضی نظر کیو ں نہیں آتی؟ جن کی کھانا گرم کرتے جان جاتی ہے وہ کچھ حصوں کے کھجانے سے گرم کیوں ہو جاتی ہیں؟

مظفر عباس نقوی
مظفر عباس نقوی
سیاست ادب مزاح آذادمنش زبان دراز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *