• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کرسمس کی مبارکباد پہ میرا نکتہء نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

کرسمس کی مبارکباد پہ میرا نکتہء نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

ہمارے کئی دوست کرسمس کی مبارکباد دینے کو جائز نہیں سمجھتے اور اس معاملے میں اس قدر حساس ہیں کہ انکی دانست میں یہ کام شرک کے گناہ عظیم کے مساوی ہے بلکہ خود شرک ہی ہے اور اس کا پرچار سوشل میڈیا پہ بڑی شدت سے کرتے دیکھے اور سنے جاتے ہیں ۔۔۔ اور وہ اس مخالفت کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ مسیحیوں کے عقیدے میں حضرت عیسیٰ کوخدا کا بیٹا ( نعوذ باللہ ) سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ اس بارے میں میرا کہنا یہ ہے کہ یہ ان مسیحیوں کے عقیدے ہی کی ایک ٹھوکر ہے کہ جسکے باعث وہ صراط مستقیم سے باہر پڑے ہوئے ہیں لیکن ذرا سوچیئے کہ اگر وہ ویسا ہی سمجھتے جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے ، تو پھر ان میں اور ہم میں فرق ہی کیا رہ جاتا۔۔۔ وہ خواہ جو بھی عقیدہ رکھتے ہوں ، لیکن مسلمان انکو اللہ کے بیٹے کی نہیں بلکہ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی مبارکباد دیتے ہیں جو کہ صرف انکے نبی ہی نہیں بلکہ ہمارے نبی بھی ہیں اورانکا مذہب تحریف کے باوجود آسمانی ہی کہلاتا اور سمجھا جاتا ہے – چنانچہ مکمل پختگی سے یہ عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے عقائد کے مطابق انہیں مبارکباد دینے سے آپکے ایمان پہ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ویسے بھی یہ خدشہ تو ایک بڑی بدگمانی کے مترادف ہے کیونکہ ہر مسلمان کا اس حدیث پہ پختہ ایمان ہے کہ نیتوں کے احوال سے اللہ کریم بخوبی واقف ہے ۔۔۔ یوں نیتوں میں اگر کوئی کھوٹ نہیں تو پھر کسی کی کیا پرواہ ہے-

ویسے بھی اس بات کو اس رخ سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ کیا جب کوئی مسلمان کسی مسیحی کو کرسمس کی مبارکباد دے رہا ہوتا ہے تو کیا وہ مسیحی یہ مبارکباد لیتے ہوئے اس حقیقت سے واقف نہیں ہوتا کہ مسلمان حضرت عیسیٰ کے لیئے کس عقیدے کے حامل ہیں ۔۔۔؟؟ لیکن کیا کبھی ایسا ہوتا ہے اور کیا وہ عیسائی یہ اصرار کرتا ہے کہ ذرا بتاؤ کہ تم مجھے ایک نبی کی پیدائش کی مبارکباد دے رہے ہو یا نعوذبااللہ خدا کے بیٹے کی ، اور اگر تم اپنے عقیدے کے مطابق دے رہے ہو تو جاؤ بھاگو میں تمہاری مبارکباد قبول نہیں کرتا ۔۔۔ اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ اہم یہ بات نہیں ہے کہ وہ کیا سمجھتے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم کس مفہوم اور نیت سے انہیں یہ مبارکباد دیتے ہیں کیونکہ وہ تو صرف سن رہے ہوتے ہیں یعنی وہ کام جو کچھ کیئے بغیر ہی ہوجاتا ہے جبکہ عملی طور پہ کوئی کام یعنی مبارکباد دینے کا عمل تو صرف ہم کررہے ہوتے ہیں چنانچہ اس معاملے میں اصل اہمیت ہماری نیت اور عمل کی ہے۔۔۔

فی زمانہ ٹیکنالوجی کی قؤت سے دنیا دن بہ دن سکڑتی جارہی ہے اور دنیا بھر کے انسان ہروقت ایک نیٹ کے ذریعے ایک دوسرے کے سامنے پڑے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر کو انکی خوشی کے موقع پہ نظرانداز کردینا نہ تو احسن طریقہ ہے اور نہ ہی اس سے انہیں اچھائی کی طرف لانے کا کوئی موقع ہاتھ آسکتا ہے کیونکہ اس سے نفرتوں کو بڑھاوا ملنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہوتا ۔۔۔ درحقیقت ایسے میں گمراہ لوگوں سے محتاط تعلق رکھ کر ہی انہیں اچھائی اور بہتری کی طرف لایا جاسکتا ہے -میں اس بات پہ یقین رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے کے مذہبی تہوار کو منانے سے بیشک دور رہنا چاہیئے لیکن میری دانست میں اپنی نیت میں پختگی رکھتے ہوئے انکو مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ کوئی ذرا بتائے تو سہی کہ محض تبریک سے ایک پکے سچے مسلمان کے مضبوط عقیدے کی پختہ عمارت آن کی آن کیسے زمیں بوس ہوسکتی ہے ۔۔۔ البتہ جو افراد از خود یہ باور کرتے ہیں کہ انکے عقیدے کی یہ عمارت پختہ نہیں ہے اور ایک ذرا ٹہوکے سے دھڑام سے گرپڑسکتی ہے تو ایسے لوگ بیشک یہ رسک قطعی نہ لیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *