کیا تبدیلی تبدیل ہونے جارہی ہے ؟۔۔۔اطہر شہزاد

نہیں!۔۔۔۔۔ ابھی اتنی جلدی بھی کیا ہے، بلکہ یہ کہہ لیں کہ  اتنی جلدی بھی کسے ہے ؟ ، صرف ایک فریق کے سوا باقی سب چین کی بانسری بجا رہے ہیں، اپنا کما رہے ، اوراپنا کھا رہے ہیں، وہ جنھوں نے انھیں recommend کیا تھا، اور وہ بھی جنھوں نے انھیں آراستہ کیاہے، بلکہ وہ بھی جنھوں نے انکا رستہ ہموار کیا تھا، کسی کے صبرکا پیمانہ ابھی لبریز نہیں  ہوا، سب کو معلوم ہے انھیں دی گئی Demand List طویل ہے ، اور عوام کے لئے ناخوشگوار بھی ہے، یہ ڈیماند لسٹ کیا ہے، اور کس نے حوالے کی ہے، اس پر ابھی بات کرتے ہیں، پہلے ایک دوسرے فریق کا  ذکریہاں ضروری ہے، جو تبدیلی کے اس پورے گورکھ دندھے کو اب غرق ہوتا دیکھنا چاہتی ہے۔
پاکستان کا ایک عام آدمی، زندگی کی ڈور جن کے ہاتھوں سے چھوٹے جا رہی ہے، جن کے چولھے ٹھنڈے پڑنے لگے، اور جن کی گھروں کی چھت ٹوٹ کر گر رہی ہے، یہ کون لوگ ہیں، اتنے جلد باز، پہلے تو یہ تبدیلی کے لئےمرے جارہے تھے، تھیلے بھر بھر کر ووٹ اور ہاتھ اُٹھا اُٹھاکر دعائیں دے رہے تھے، اور اب اتنی جلدی تھک گئے ؟ کچھ کرنے تو دیں، تبدیلی سرکار کی کچھ مرضی تو چلنے دیں، کون سا کام ہے جو تم  نے سکون سے کرنے دیا ہوِ، توہین رسالت کا ایکٹ تم ختم نہ کرنے دیتے ہو، آسیہ بی بی کی رہائی پر اتنا شور، اور قادیانی مشیر تمہیں قبول نہیں، تو بھائی کام پھر کیسے ہونگے، ہم نے اگر تبدیلی کا وعدہ کیاتھا، تو کسی برتے پر کیا تھا، کسی وعدے وعید پر کیا تھا، آقاوں کے اشارے پر کیا تھا، بہت کچھ لینا دینا طے ہوا تھا، اب جب تبدیلی سرکار کی مرضی کا کوئی  کام ، اور ڈھنگ کا کوئی اسٹیپ ، کوئی پیش قدمی ہی تمہیں قبول نہیں ہے، تو پھر ذرا صبر کرو، جیسے سب صبر کررہے ہیں،
اور وہ بالادست قوتیں، جن کے کہے پر، اور جن کے اشارہ ابروء پر انکی جنبشیں  منحصر ہیں، وہ اتنی جلدی تھکا نہیں کرتے، انکی تحریر  کردہ ڈیمانڈ لسٹ بہت کٹھن ہے، پاکستان کو لبرل اسٹیٹ بناناہے، توہین رسالت کاایکٹ ختم کرنا ہے، پاکستان کی ایٹمی قوت کو مفلوج کرنا ہے،اور ایٹمی قوت پاکستان کو مرغیوں اور انڈوں کے کاروبار میں کھپانا ہے
یہ بڑے اور بنیادی کام ہیں، بہت سا وقت اس پر لگایا جاسکتا ہے، تواتنی جلدی انکی بساط لپیٹ دی جائے !، نہیں  ذرا رُک جائیں، ابھی نہیں ابھی نہیں !!
ابھی سماں نہیں ہے، رنگ ابھی جما نہیں ہے..

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply