کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔ تیسری قسط۔۔محمد اقبال دیوان

افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال
فکشن۔زیر تصنیف ۔سر دست نامکمل
چار اقساط کی تیسری قسط

اسکی پول ائیر پورٹ۔ایمسٹرڈم

ارسلان کے جواب دینے سے پہلے ہی کھانا آگیا۔آئسڈ لیمن ٹی کا گلاس اور ڈم سم نیلم نے آرڈر کیے تھے اور ارسلان نے اپنے لیے رولز اور کوکونٹ جوس پسند کیا تھا۔کھانا آیا تو اس نے ایک رول خاموشی سے نیلم کی پلیٹ میں ڈال دیا۔ اور کوکونٹ سپ کے لیے گلاس اس کی جانب بڑھا دیا وہ انکار کرتی رہی مگر جب اس نے وہ منہ  کے  سامنے سے نہ ہٹایا تو نیلم کومجبوراً ایک لمبی سپ لینا پڑگیا ۔نیلم کو یہ بھی اچھا لگا۔ یہ البتہ اسے مناسب نہ لگا کہ وہ بھی جواباً اپنی آئس ٹی کے گلاس سے اسے سپ لینے کا کہے۔جانے کیوں اسے لگا کہ ایسے مواقع شاید آئندہ اور بھی آئیں گے۔اچھا ہے وہ اس کی محتاط ،شائستہ مردانہ جارحیت کا لطف لے۔اپنے اس خیال سے وہ کچھ شرمائی بھی اور اس نسوانی تھرتھراہٹ کا خاموشی سے مزہ لیتی رہی جو کسی عورت کو ایک اجنبی مگر پسندیدہ صورت حال میں ناف کے ارد گرد اور سینے کے درمیاں محسوس ہوتی ہے۔۔

julia rana solicitors
ڈم سم اور آئس لیمن ٹی
ناریل کا جوس اور سپرنگ رول

وہ کہنے لگا ’کوئی بات تھی جو آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔۔نیلم کو یاد آیا کہ وہ جو تواتر سے اسے میسجیز ملے تھے وہ ان کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی۔نیلم نے بات کو ایک خاص زاویے سے اس طرح چھیڑا کہ پہلے تو تعریف کرتے ہوئے کہا ’آغا صاحب آپ سے کبھی کسی نے یہ تعریف بھی کی کہ آپ کی توجہ اور دماغ دونوں ہی بڑے الرٹ ہیں اور رد عمل کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی’ یہ بتائیے سر جی کہ جب کوئی کسی سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ رہا ہے تو ایسے میں دوسرے پر الزام اور دشنام طرازی کا کیا حاصل؟۔نیلم کو یہ بات کرتے ہوئے ہرگز یہ احساس نہ رہا کہ وہ اسے کچھ دیر پہلے ہی ایک ایسا دنیا دار مرد قرار دے چکی تھی جس کی توجہ اور دماغ دونوں ہی بہت الرٹ تھے اور ایسے مرد کے لیئے یہ بھانپنا مشکل نہ تھا کہ اس سوال کے زلزلے کا ( E pi-Center )مرکز اسے ملنے والے میسجیز تھے۔
کوئی اور مرد ہوتا تو اپنی تعریف اور ادارک کے سحر میں کھوکر اس کے سوال کا جواب بھول جاتا مگر سرکار کی ملازمت میں تین برس تک وہ ایسی پوسٹنگ پر رہا تھا جہاں اسے مختلف خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر چند اہم کیسز پر کام کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ان خفیہ ایجنسیوں کے افسران خود کو تفتیش و معلومات تک رسائی میں بڑا چیمپئن سمجھتے تھے۔ان میں بہر حال ایک بہت بڑی کمزوری یہ ہوتی تھی کہ وہ تالاب کے پانی کی مانند رکے رکے ہوتے تھے۔ ان میں مطالعے ، نفیسات اور سیاست سے عدم واقفیت بھی بہت واضح ہوتی تھی۔ بین الاقوامی حوالہ جات سے پرے ہونے کی وجہ سے ان رجحانات اور واردات کے تقاضوں سے لا علم ہوتے تھے جو ان وارداتوں کے پس پردہ محرکات کاسبب بنتے۔ان کے لیے یہ اپنی انا کے بار گراں کی وجہ سے یہ تسلیم کرنا مشکل ہوتا کہ فیلڈ میں سچویشن لحظہ بہ لحظہ تبدیل ہورہی ہے ۔ٹیکنالوجی نے نئے رویوں اور مواقع کو جنم دیا ہے۔طاقت ور اداروں سے وابستہ افراد یہ کرنے میں بھی بہت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان سے زیادہ ذہین بھی کوئی ہوسکتا ہے سوچیے کہ اور جولین اسانج جیسے لوگ اور گمنام ہیکر پینٹا گون ،سی آئی اے اور ان کے پورے سسٹم کو بھنڈ(ہندی میں مفلوج ) کرسکتے ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن
جولین اسانج

ہوم سیکرٹری صاحب نے یہ فریضہ اسے سونپ رکھا تھا کہ وہ ان سب کی رپورٹوں سے فالتو چربی اور کم علمی دور کرکے ایک ایسی مربوط ،قابل ہضم،لیس دار Executive Summary بنادے جسے وہ اپنے دستخطوں سے مملکت کے عدم دلچسپی کے مارے بڑے کرتا دھرتاؤں کو پیش کرسکیں۔
ارسلان نے بہت آہستگی سے یہ اندازہ لگالیا کہ پیغامات بھیجنے والا ہی وہ فرد ہے جسےنیلم نے اپنی زندگی سے خارج کرکے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کیا ۔اس نے نیلم کو تلخی کے اس کنوئیں سے فراست کا سنہری ڈول ڈال کر یوں باہر نکالا اور بتایا کہ لوگ جب آپ کی زندگی سے نکل رہے ہوتے ہیں تو وہ اپنا جرم بھی آپ کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ نیلم کسی توقف کے بغیر بولی کہ اگر آپ کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو آپ اس سے کیسے نمٹیں گے۔ آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کو امجد اسلام امجد کی ایک نظم کے کچھ بول سناؤں۔
لیکن بہتر ہوگا کہ میں آپ کے لیے ایک لیمن آئس  ٹی اور منگواؤں یا کچھ اور پیئں گی ۔نیلم نے کہا اس کا ارادہ کوکونٹ جوس اور اس کے بعد بلیک کافی وہ بھی شہد کے ساتھ پینے کا ہے۔میرا سونے کا کوئی ارادہ نہیں میں برلن سے بس میں سارا راستہ سوتی آئی ہوں۔ویٹرس جب برتن اٹھانے کے لیے آ ئی تو نیلم اپنا سائیڈ پر رکھا پرس کھول کر کارڈ نکالنے لگی ۔اس کی مزید توجہ ہٹانے کے لیے ارسلان نے آئسڈ ٹی کا  گلاس نیلم کے سامنے سے اپنے آگے کھسکا کر دو تین سپ لیے جس پر نیلم کو ہنسی بھی آئی اور حیرت بھی ہوئی مگر وہ اس دوران یہ دیکھ نہ پائی کہ ارسلان نے   اپنا کریڈٹ کارڈ پے منٹ کے لیے خاموشی سے ٹرے میں رکھ دیا ہے ویٹرس اس وقت تک جاچکی تھی۔

وہ یہ سوچ کر احتجاج کرنے سے باز رہی کہ ابھی ناشتہ اور لنچ دونوں ہی باقی ہیں۔ڈرنکس کا نیا دور چلا تو نیلم کہنے لگی’’ آغا جی آپ مجھے اب تک جو پاکستانی مرد میں نے برطانیہ میں دیکھے ہیں ان سے بہت مختلف لگتے ہیں۔آپ کو دیکھ کر مجھے اپنے این سی اے کے ٹیچر سر وجدان یاد آتے ہیں۔وہ سرامکس پڑھاتے تھے ۔ میں Textile Design میں تھی مگر ہمارا رابطہ رہتا تھا۔چلیں چھوڑیں یہ بتائیں وہ امجد اسلام امجد صاحب نے کیا کہا تھا۔ ارسلان آغا نے مسکراتے ہوئے کہا او کہندے سن
کہاں آکے رکے تھے راستے،کہاں موڑ تھا، اسے بھول جا۔۔۔۔
جو مل گیااسے یاد رکھ
جو نہیں ملا
اسے بھول جا
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں
دل بے خبر میری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا
میں تو گم تھا تیرے خیال میں،تیر ی آس میں تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی میرے کان میں، میرے ساتھ آ اُسے بھول جا
نیلم جسے اپنے دوستوں میں ہمیشہ سے خوش مزاج سمجھا جاتا تھا یہ سن کر آہستہ سے کہنے لگی .’چلیں کچھ دیر کے لیے آپ کو صبا آغا سمجھ لیتے ہیں۔’’نہیں آپ مجھے راما سوامی سمجھیں‘‘۔ارسلان نے آہستگی سے اس کی حس مزاح کا راستہ بدل دیا۔

سوامی راما

آپ کا نام تو مسلمانوں والا ہے ارسلان آغا‘ یہ راما سوامی جی درمیان میں کہاں سے آگئے۔اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو اس پر مرکوز کرتے ہوئے پوچھ لیا۔
یوں تو اسے اپنی شخصیت پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینا آتا تھا مگر آج اس نے مارشل آرٹس کی اس فلاسفی کو گلے لگایا جس کے ذریعے وہ سول سروس میں چیف منسٹر اور بڑے اہم طاقتور افراد سے نمٹتا رہا ۔وہ کراٹے میں براؤن بیلٹ تھا۔کراٹے میں اسے ایک کورین سینسی( Sensei گرو) نے بتایا تھا کہ کراٹے انفرادی مقابلوں کا فن نہیں۔ ۔انفرادی مقابلہ میں تو آپ اپنی جان مفرور ہوکر بھی بچالیتے ہیں یا اپنے حریف کو گراکر اس پر باآسانی قابو پاسکتے ہیں۔اصل مقابلہ تو وہاں ہوتا ہے جہاں ایک شر پسند گروہ آپ پر حملہ آور ہوجائے ایسے میں جان بچانے کی بہترین صورت یہ ہوتی ہے کہ گروہ کے ہر ممبر کو جو آپ پر حملہ آور ہو آپ disable کردیں۔

کورین سینسی

وہ بہت آہستگی سے کہنے لگا :راما سوامی ایک ہندوستانی گرو تھے جو لگ بھگ پچاس برس ہمالیہ کے پہاڑوں پر ،وہاں کے غاروں، مندوروں ،دھرم شالوں میں اپنے گرو بنگالی بابا کی خدمت میں رہے۔ابتدا میں تو ایک بھالو ان کا کا ساتھی ہوتا تھا۔ایک ہاتھ میں کمانڈلو (کدو،لکڑی یا پیتل کا کھلے منہ کا کوزہ جو سادھو اور سنت اپنے ہاتھ یا گلے میں  لٹکائے گھومتے ہیں)شانوں پر شیر کی کھال جو ان کا اوڑھنا بچھونا ہوتی تھی۔ان کے ہاں جب کسی چیلے کو دکھشا (بیعت یا initiation )دی جاتی ہے تو اسے جتادیا جاتا ہے کہ اس کا ماضی ایک مردہ گوشت ہے۔ وہ کب کہاں پیدا ہوا اسے بھول جانا ہوتا ہے۔وہ اپنے خون کے رشتے بھی بھلادیتے ہیں۔

خوض خا ص،أمرؤ۔ترکمنستان
۔۔۔۔۔

نیلماں جب اس کا یہ خطبہء دانائی و ہدایات سن رہی تھی ارسلان نے دیکھا کہ بی بی کی  نگاہیں ایک دل بستگی سے اس پر مرکوز ہیں۔ نیلماں نے اپنا چہرہ ہات کی ہتھیلیوں کی ایک رحل بنا کر ان پر جما کر رکھ لیا۔ بازو وں کے دو طرفہ دباؤسے اس کے سیاہ رنگ کے شرگ والے گریباں سے جگمگاتے دو چاند دو جزیروں کی مانند ابھر آئے ہیں جن کے اجلے افق پر ایک لاابالی لاکٹ ادھر ادھر ڈول کر لشکارے ماررہا تھا ۔یہ لاکٹ یوں دور سے دیکھو تو بظاہر ایک کیمرہ لگتا تھا جس کے لینس کی جگہ ایک نیلم کا پتھر تھا۔یہ کیمرہ دراصل ایک چھوٹا سا بکس تھا۔ یہ بھی گڈی اس کے لیے تھیوا جویلرز والوں سے راجھستان سے بنواکر لائی تھی۔

مہاراج کا کمانڈلو
نیلم کا لاکٹ

سو نے کے اس جڑاؤ بکس میں ایک تو اس کا اپنی والدہ کے ساتھ specially coated ایلمونیم پلیٹ پر پرنٹیڈپروٹریٹ تھا اوردوسرا موم جامے میں لپٹا ایک تعویذ تھا ۔ خاندانی روایت کے مطابق کسی جن نے یہ تعویز ان کی حسین اور پری پیکر پر نانی میوہ جان کو دیا تھا۔ قصہ یوں بیان ہوتا تھا کہ وہ سر شام جمعرات کو غسل کرکے بال کھولے چھت پر بیٹھی تھیں۔ان کا گھر پرانی دہلی میں پہاڑ گنج میں باغیچہ علاء الدین کے نزدیک پیپل مندر کے پاس تھا۔علاقے میں مشہور تھا کہ اردگرد کے پرانے درختوں اور ادھر ادھر کے کونے کھدروں میں غیر انسانی مخلوق نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ان درختوں پر آباد مخلوق اور مندر کے نوجوان کشمیری پروہت سے اس مسلمان جن کی دوستی تھی۔وہ ویک اینڈ پر ان کی طرف ترکمنستان سے دہلی آجاتا تھا۔

دہلی میں جن کا مسکن

مندر کے پروہت کے بارے میں سنا تھا کہ وہ بھی گانٹھ کا پورا ( ہندی میں مطلب کا پکا)تھا ۔خود بھی کسی ریاست کا راجکمار تھا ۔ دنیا تیاگ کر بیٹھا تھا۔پروہت نے کسی میلے ٹھیلے میں نانی میوہ جان کو دیکھا تو اپنے ہوش و ہواس کھوبیٹھا۔ جن سے فرمائش کی کہ میوہ جان جو نسلاً ترکمان تھیں ان پر کوئی محبوب آپ کے قدموں میں والا عمل ٹونا کرکے ان کا دل ان کی جانب راغب کردے۔جن آیا تو وہی پروہت والی فرمائشی  واردات کرنے کو  تھا مگر اس کا دل نہ مانا کہ وہ ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ یہ حرکت کرے۔ وہ بھی اس لڑکی کے ساتھ جس کے بڑے، اس کے علاقے خوض خان ترکمنستان سے ہجرت کرکے دہلی آئے ہوں۔ اس نے نانی کو کہا بھی کہ وہ نانا سے طلاق لے کر اس کے ساتھ اس کے ساتھ گراں(گاؤں) واپس لوٹ جائے مگر وہ نہ مانیں۔جن نے کہا چوں کہ وہ اپنے پروہت دوست کو وچن(قول) دے چکا ہے اس لیے کچھ بھوگ (جرمانہ )وہ دے گا کچھ بلیدان (قربانی) میوہ جان کو دینی پڑے گی۔ایک تو یہ کہ ان کے ہاں سات نسلوں تک بڑی بیٹی کو صرف ایک اولاد ہوگی یعنی صرف ایک بیٹی۔ دوسرے وہ جمعرات کو سج دھج کی اس سے ملنے چھت پر آئیں گی۔ دس سے تین بجے رات تک وہ اس کی بیوی ہوں گی۔بدھ کی شام سے انہیں دورہ پڑے گا۔وہ چھت پر چلی آئیں وہ آجائے گا۔میوہ جان بدھ جمعرات کے چکر میں کچھ کنفیوز سی تھیں مگر جن نے انہیں سمجھایا کہ جس طرح چاند دیکھتے ہی رمضان اور شوال شروع ہوجاتے ہیں، اسی طرح ان کے رشتہء ازدواج کا آغاز بھی بدھ کی شام طلوع ماہتاب سے ہر ہفتے خود بخود بحال ہوجائے گا ۔

ترکمنستان میں جن کا مسکن

میوہ جان کو اس پوری رام لیلا میں اپنے میاں اشرف علی خان ریلوے گارڈ کی چنتا تھی۔ سو انہوں نے پوچھا کہ’’ نانا جان کا کیا ہوگا تو اس نے کہا یہ فکر کی بات نہیں ۔ وہ ریلوے کے گارڈ ہیں۔ ریلوے کا نارتھ ریجن کا ڈپٹی جنرل مینجر ،پروہت کا بھانجا ہے۔ وہ ان کی ڈیوٹی بدھ کی شام کو کسی ایسی ریل گاڑی پر لگا دے گا جو شہر دہلی سے باہر جاتی ہو۔گھر والوں کو بالخصوص اپنی خبر خلیدی ساس کو سمجھا دیں جوبی بی سی اور سی این این اور جیو نیوز کے عمر چیمہ کی طرح ہر وقت خبر اور اسکینڈل کھوج میں لگی رہتی ہیں وہ اپنی پروبوسیس بندر(Proboscis Monkey ) (انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو میں پایا جانے والا لمبی عجیب سی بھدی ناک والا بندر ) جیسی ناک لے کر اس دوران چھت پر نہ آئیں۔ Bae .This is our quality time together
اس شرط کی خلاف ورزی اگر ان کی ساس نے کی  تو وہ نانی میوہ جان کو اٹھا کر خوض خان۔ مرو لے جائے گا۔میوہ جان کو اس کا انگریزی بولنا اچھا لگا۔نانا ان کو زیادہ پسند بھی نہ تھے۔بڑوں کی پسند کی شادی تھی ۔جن میں سوائے اس کے کہ، کم بخت ہر وقت اڑا اڑا پھرتا تھا کچھ اور برائی نہ تھی ۔وہ انہیں اپنے ریلوے کے نیم خواندہ اور کم تنخواہ یافتہ میاں سے کہیں زیادہ Classy لگتا تھا۔ہر وقت مہک رہا ہوتا۔شاہ محمود قریشی کی طرح بولتا بھی بہت چبا چبا کے مردوں کی امراؤ جان کے انداز میں تھا۔شیخ رشید کی طرح سیاست کا بھی بڑا گیان تھا۔

پروہوسس بندر
شیرنیاں بچوں کے ساتھ
ٹیرئن،جمائما،سلیمان اور قاسم

آنکھیں بھی رانا  ثناء اللہ کی طرح مخمور اور چہر ہ بھی مراد سعید کی طرح بہت پر کشش تھا۔فٹنس کا لیول ایسا کہ عمران خان بھی پناہ مانگے۔
نیلم نے اپنی امی سے پوچھا بھی کہ’ کیا اس جمعرات اسپیشل کی وجہ جن اور میوہ جان کے بچے نہیں تھے تو کہنے لگیں ’’ہوئے تھے مگر جن جس کا نام قوموبط تھا ۔ وہ بچے اٹھا کر وہاں خوض خان۔ مرو۔ترکمنستان لے جاتا تھا۔ اس کی وطن والی بیوی بالکل جمائما خان کی طرح کی پشتینی رئیس اور اعلی ظرف تھی ۔ افریقن شیرنیوں کی طرح سب بچے وہی پالتی تھی۔ خود جن محترم نے اس پروہت کو کیا بھوگ دیا ۔ گیا۔نیلم کا ارادہ تو اس بارے میں کچھ اور بھی پوچھنے کا تھا مگر اس کی امی سو چکی تھیں۔اس کی نانی، اس کی والدہ اور خود نیلم بھی اپنی والدہ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ تعویذ البتہ ایسا محافظ تھا کہ پاکستان ،انگلستان چھوڑ کسی اور نے تو کیا خود اس کے اپنے میاں نے بھی اس کی عزت لوٹنے کی جرات نہیں کی۔
والدہ کی تاکید تھی کہ اس تعویذ کو ہر صورت اپنے بدن پر رکھنا ہے۔ کبھی کبھار کسی رات نیلم مکمل برہنہ ہوکر سوتی تھی۔ ایسے عالم میں اپنی عریانگی کی تکمیل کے لیے تعویذ بھی ایک طرف اتار کر رکھ دیتی تھی مگر اسے لگتا تھا کہ اس کا یہ باڈی گارڈ، یہ جن والا تعویز ، اس کا یہ کیون کاسٹنر (وہٹنی ہیوسٹن کی فلم باڈی گارڈ کا ڈراپ ۔ڈیڈ ہینڈسم ہیرو) ،یہ خاندانی جن قوموبط، اس کے علاوہ ہر مرد کو کلیشن تھامے( سندھی کلاشنکوف کو کہتے ہیں) سب کو ڈراتا ہوا دکھائی دیتا تھا ۔نیلم کو گماں ہوتا تھا کہ یہ ناہنجار سب سے زیادہ اس کے میاں سعید گیلانی کو دکھائی دیتا تھا۔جب ہی تو وہ اس سے دست  درازی نہیں کرتا۔ ورنہ سعید جو اس کا میاں تھا اگر سوتے جاگتے ہی میں اس کی کی عصمت لوٹ لیتا تو اسے ذرہ بھر بھی اعتراض نہ ہوتا ۔

کیون کوسٹنر اور وہٹنی ہیوسٹن

اس کی یہ شبینہ عریانگی دیکھ کر سعید بہت زچ ہوتا تھا۔اسے کچھ شرم غیرت کے واسطے دیتا تھا تو وہ کہتی تھی کہ کیا وہ نامرد ہے یا Gay ہے کہ Turn on نہیں ہوتا۔ اس کا دھیان اس کی طرف نہیں جاتا۔یہ طعنے تشنے سن کر پھر وہ کمبل گھسیٹ کر باہر نیچے لاؤنج میں صوفہ کم بیڈ پر دراز ہوجاتا۔ماں مقام استراحت کی اس تبدیلی کا پوچھتی تو کہتا کہ آج نیلماں کچھ Bitchy موڈ میں ہے۔نیلم کی ساس برمنگھم میں رہتے ہوئے بھی لفظ Bitchy سے اصل میں کتیا کا مطلب ہی نکالتی تھی  ۔ وہ ان تحقیر بھری تعلق داریوں سے بے خبر تھی جو اس لفظ کے ساتھ جوانگریزی زبان نے جوڑی ہیں۔ایک آدھ دفعہ ساس نے صلح صفائی کے لیے دروازہ کھٹکھٹا نے کی کوشش کی مگر نیلم نے جو میاں کی گالی سن چکی تھی کنڈی کھولنے کی بجائے ساس پر اپنی ہنسی کو دبا کر کتیا کی طرح بھونکا تو وہ اسے کشمیری زبان میں کوسنے دیتی ہوئی سیڑھیاں اتر گئی اور خوابیدہ بیٹے پر کمبل ڈال کر اپنے میاں فخر الزماں گیلانی کا پہلو گرم کرنے پہنچ گئی۔
بات نیلم کے اسکی پول ائیر پورٹ پر کبایا ریستورنٹ میں فون پر موصول پیغامات کی تلخی سے شروع ہوئی تھی۔جس کے حوالے سے اس نے سوال پوچھا تھا کہ ’یہ بتائیے سر جی کہ جب کوئی کسی سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ رہا ہے تو ایسے میں دوسرے فریق پر الزام اور دشنام طرازی کا کیا حاصل؟ ‘اس کے جواب میں ارسلان صاحب نے یہ اسے بہت بلا واسطہ طریقے سے ماضی کو بھلانے کی تلقین کی تھی۔ اسی تلقین کو سن کر نیلم نے ایک مصنوعی جارحیت اور جھنجلاہٹ جس میں مزید ترغیب و اکساہٹ کا  سہارا لے کر ارسلان سے پوچھا،’’آپ کا کیا خیال ہے زندگی ایک کتاب ہے جس کے صفحات کو پھاڑ کر جدا کرلیں تو زندگی کو نئے سرے سے جینا آسان ہوتا ۔لیکن اس سے پہلے کے آپ میرے سوال کا جواب دیں میں آپ کو پانچ منٹ سوچنے کا موقع دیتی ہوں‘‘۔۔یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اوراپنا پرس لے کر سامنے کی طرف سے راہداری میں چلی گئی ۔ وہ چونکہ اس چھوٹی سی باونڈری وال کے ساتھ ہی بیٹھا تھاجہاں سے آتے جاتے لوگوں کو دیکھنا آسان تھا اسے نیلم کو ایک مرتبہ پھر سے دیکھنے کا موقع مل گیا۔
اب کی دفعہ وہ پہلے کی سی تیز قدم نہ تھی ۔ پچھلی دفعہ تو ٹرینچ کوٹ کی وجہ سے اسے نیلم کے حسن دل فریب کا ٹھیک سے جائزہ لینے کا موقع بھی نہ ملا تھا۔ اب کی مرتبہ بات کچھ اور تھی۔ سرخ رنگ کی Uneven Hem والی ڈھیلی آستینوں والی ٹی شرٹ جو پشت سے کولہوں کے درمیاں آن کر بے دھیانی سے ٹھہر گئی تھی اس کی وجہ سے ارسلان کو لگا کہ نیلم کی چال میں ایک لہرا (چلتی ہوئی لے، سارنگی کی ایک گت) سا ہے ۔چلتے وقت اس کے کولہے ایک سلیقے سے ہلکورے لیتے تھے ۔ ارسلان کو تب تک یہ علم نہ تھا کہ فیشن انڈسٹری سے جڑا ہونے کے باعث نیلماں کو ماڈلز کو قریب سے دیکھنے کا بہت موقع ملا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے چلن کے نہ سہی چال کے کچھ ناز و انداز لاشعوری طور پر اس نے بھی اپنا لیے تھے۔

پانچ منٹ وقفہ

نیلم کا رول آن بیگ قریب ہی رکھا تھا جس پر اس کے نام اور پتے کا ٹیگ لگا تھا۔ جسے ارسلان نے ایک لگاؤ سے پڑھا ’نیلم سعید گیلانی۔۔۔چالیس ۔چیسٹر اسٹریٹ۔ایسٹن۔برمنگھم۔‘اس کا دل چاہا کہ یہ جو آدھا گھنٹہ گزرا ہے اس عرصے میں اس کے بدن کی کچھ خوشبو یقیناًاس کی جیکٹ میں بس گئی ہوگی۔اسے سونگھ لے مگر یہ سوچ کر کہ اگر وہ کہیں اردگرد ہوئی اور اس حرکت کو اس نے نوٹ کیا تو اس سے بات بگڑ جائے گی۔اسے کچھ امید ہوچلی تھی کہ بلوط کا جو تناآور درخت اُگنا ہے اس کے لیے چھوٹا سا بیج (acorn) بویا جاچکا ہے۔ان خیالات میں غلطاں وہ انگریزی
میںNext Move کا سوچ ہی رہا تھا کہ اسے سامنے سے نیلم آتی ہوئی دکھائی دی۔

شاہِ بلوط

اس کے پاس پہنچ کر نیلم نے انگریز ی میں اعلان کیا کہ وہاں دوسری طرف صوفے رکھے ہیں وہاں بیٹھنا اچھا ہوگا۔ تو وقتاً فوقتاً یہاں کچن سے جو کھانے کی لپیٹیں اٹھتی ہیں وہ اس کی ناک اور دماغ کے لیے الجھن کا باعث بنتے ہیں۔سامان اٹھائے وہ اس کی رہنمائی کرتی ہوئی دوسری گلی میں مڑی تو اسے ایک گوشہ نظر آگیا جو یقیناًاس کا حسن انتخاب تھا۔رات کی وجہ سے مسافروں کی تعداد کافی قلیل
تھی۔ایک گوشے میں بار کے عین مقابل آمنے سامنے دو بڑے سنگل سیٹ صوٖفے پڑے تھے۔یہاں روشنی مناسب مگر مدھم اور رومانٹک تھی۔اس نے انگریزی میں پوچھ لیا کہ” ” Do you drink? ” اس کے انکار کے جواب میں  اس نے مزید تصدیق کے لیے پوچھ لیا Not even beer. its famous here.”
وہ بلاتکلف بار کے اندر گئی اور اپنے لیےVodka Cranberry Shrub کا ایک بڑا سا گلاس چھوٹی سی ٹرے پر رکھ کرلے آئی۔ٹرے احتیاط سے سامنے رکھی میز پر جما کر اس نے اپنے جوتے اتارے اور مزے سے صوفے پر پیر لے کر اس چھیڑنے کے لیے کہنے لگی کہ مجھے آپ کے اس اجتناب پر آپ کے پاکستان کے ایک شاعر ہیں افضل خان ان کا ایک شعر یاد آگیا ع
کہیں ایسا نہ ہو یارب کہ یہ ترسے ہوئے عابد
تیری جنت میں اشیا کی فراونی سے مرجائیں

Advertisements
julia rana solicitors
Vodka Cranberry Shrub

’آپ کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ آپ کو اردو شاعری سے بھی شغف ہوگا ؟‘ارسلان نے بطور داد یہ جملہ ادا کیا
چلیں آپ نے یہ جاننے کے لیے کہ مجھے شعر و شاعری سے شغف ہے کہ نہیں آپ نے خود کو احمد فراز کی طرح اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھ لیا۔۔۔۔
تو لگے ہاتوں یہ بھی بتادیں کہ میرے بارے میں آپ نے اور کیا کیا اندازے لگائے تاکہ ان کی تصدیق بھی ہاتوں ہات ہوجائے۔ہمارے پاس کل تک بہت وقت ہے تو Please tell me sad and not so sad story of your life. Tell me all that you have on me Mr. Bureaucrat”
(کل تک ہما رے پاس بہت وقت ہے تو آپ مجھے اپنی دکھیاری اور کچھ کم دکھیاری زندگی کے بارے میں بتائیں۔یہ بھی بتادیں کہ آپ کی فائلوں میں میرے بارے میں کیا کچھ موجود ہے مسٹر بیوروکریٹ)۔
’’تو آپ کی منشا و رضا یہ ہے کہ اس داستان الف لیلی میں خاکسار بغیر کسی sex-change آپریشن کے شہرزاد کا کردار ادا کرے اور آپ اپنے حسن بے پناہ کی طاقت کے سہارے شہریار بننے کا فیصلہ کرچکی ہیں‘‘۔ ارسلان کا یہ ردعمل نیلم کو بڑا بروقت اور بہت من بھاؤنا لگا…

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply