جب عمل مقبول بنتا ہے۔۔۔۔۔معاویہ حسن

نسیم اختر گجرات کی ایک گمنام عورت تھی. بچپن میں کڑھائی سلائی کا شوق ہوا تو اس پر   عبور حاصل کیا.
ایک دن ایک اچھوتا خیال آیا کہ کیوں نہ سوئی دھاگے سے قرآن مجید لکھ ڈالوں. سوئی دھاگے سے نقش و نگار بنانے  والی اس عاشقہ کا قرآن مجید سے عشق اس خیال کو حقیقت بنانے پر تل گیا.
اگست 1987 کا کوئی مبارک دن تھا جب وضو کیا، سوئی میں دھاگا ڈالا، بائیں ہاتھ میں کپڑا پکڑا اور اعوذباللہ سے آغاز کردیا.
منٹ سے گھنٹے، گھنٹوں سے دن، دنوں سے ہفتے، مہینے اور پھر سال بنتے اور گزرتے رہے. روزانہ  عشا کی نماز کے  بعد یہ باوضو ہو کر مصلے پر بیٹھتی اور رب ذوالجلال کے کلام کو سوئی کی نوک سے جس کی سیاہی دھاگہ ہوتا کپڑے کے سینے پر منتقل کرنا شروع کرتی تو اذان فجر تک مسلسل کرتی جاتی. سوئی، دھاگہ اور کپڑے سے جڑا یہ عظیم الشان کام 32 سال چلتا رہا. جس پر تقریباً 300 میٹر کپڑا، پچیس ہزار میٹر دھاگہ اور ایک ہزار میٹر پیپر پٹی کا استعمال ہوا. کام سے لگن اور جنون اتنا تھا کہ اس مجاہدہ نے کسی کو اس میں  رکاوٹ  نہ  بننے   دیا. پراسراریت اتنی رکھی کہ پڑوسیوں کو بھی خبر نہ ہونے دی. آخر یہ عظیم کام اپنے انجام تک پہنچا اور “والناس ” پر پہنچ کر ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی.

خدا جانے کیا سوچ کر اس اتنے طویل اور مشقت سے بھرپور کام کو شروع کیا لیکن پھر اس کی تکمیل تک ڈٹی رہی. البتہ قدرت اس کام کو مقبولیت کی کسوٹی سے گزار کر سند مقبولیت عطا کرچکی تھی.
کام مکمل ہوا تو کسی مخبر کے کان تک پہنچا اور اس نے خبر بنا کر پیش کردی. چلتے چلتے یہ خبر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے امام اور مدینہ منورہ کے قاضی شیخ صلاح البدیر تک پہنچی. رمضان المبارک سے چند دن پہلے شیخ پاکستان گئے تو انہوں نے اس عورت کو اسلام آباد بلایا لیکن اس محترمہ نے ساتھ قرآن مجید لانے سے انکار کردیا. 32 سال کی محنت سے عشق اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ اس نے قرآن مجید کو گھر سے باہر نکالنے سے انکار کردیا.

شیخ صلاح البدیر نے ان کو آفر کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم اس قرآن مجید کو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے متصل میوزیم میں رکھوادیتے ہیں. خیال اچھا تھا لیکن 32 سال کی محنت کو یوں کسی دور دیس میں بھیجنا کوئی آسان نہ تھا لہذا پہلے پہل تو انکار کردیا لیکن پھر قائل کرنے پر مان گئی اور قرآن مجید کو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی انتظامیہ کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کردی. سارے مراحل طے ہونے کے بعد گزرے حج کے موقع پر دعوت دی گی اور یہ محترمہ 10 جلدیں لے کر جدہ کے لیے عازم سفر ہوئیں. جدہ ائیر پورٹ پر اترتے ہی ایک نئی مصیبت پر پھیلائے کھڑی تھی. ایئرپورٹ پر عملے نے دوران چیکنگ اتنی بڑی تعداد میں قرآن لکھا دیکھ کر کوئی سازش سمجھی اور 9 جلدیں جو بیگ میں تھیں، ضبط کرلیں ۔۔۔ جبکہ ایک جلد جو ان کے ہاتھ میں تھی ضبط ہونے سے بچ گئی. آدھی زندگی کی محنت و مشقت کو یوں کسی انجان ہاتھوں میں جاتا دیکھ کر محترمہ ضبط قائم نہ رکھ سکی اور رونے لگ گئی. اِدھر اُدھر رابطوں کے بعد ان کو تسلی دی گئی کہ آپ کی امانت ہے اور یہ مدینہ منورہ پہنچائی جائے گی. جس پر یہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں . فریضہ حج کے بعد ایک جلد جو پاس ہی تھی مدینہ طیبہ لائی اور یہاں اس کو میوزیم کا حصہ بنانے کے لیے باقاعدہ ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا.

باقی 9 جلدوں کے لیے گورنر مدینہ منورہ نے جدہ ائیر پورٹ اتھارٹی کو خط لکھا تب وہ ضبط جلدیں مدینہ منورہ پہنچی. پچھلے ہفتے میوزیم کے شخص نے بتایا کہ پوری دنیا سے آنے والے معتمرین اس کو دیکھ کر دانتوں تلے انگلیاں دبا  لیتے ہیں. اور اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 6 لاکھ کے قریب اشخاص اسے دیکھ چکے ہیں.

میرے وہاں کھڑے کھڑے انڈونیشیا کا ایک گروپ اور پھر کرغزستان کا ایک گروپ آیا. ان کو ان کی زبان میں جب اس کی تفصیل بتائی گئی تو وہ میری سمجھ میں تو نہ آئی البتہ ان کے چہروں پر حیرانی بتا رہی تھی کہ ان کے محسوسات کیا ہیں.

باربار جب پاکستان کا نام لیا جارہا تھا تو عجیب سی خوشی محسوس ہورہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کے عمل کو قبولیت کی سند عطا کرتا ہے تو پھر اس سے جڑی ہر نسبت کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے. کچھ عرصہ پہلے تک گمنان نسیم اختر اب ملک پاکستان کی پہچان بن کر میوزیم میں گونج رہی تھی اور جب تک یہ میوزیم قائم رہے گا تب تک نسیم اختر اور پاکستان کا نام گونجتا رہے گا.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *