اس پرچم کے سائے تلے ۔ ۔ ۔۔۔نسرین غوری

پیریڈز کے بارے میں بات کرنا اکثر معاشروں میں ناگوار یا ان کمفرٹیبل سمجھا جاتا ہے۔ اتنا زیادہ کہ خواتین خود بھی آپس میں بات کرتے ہوئے پیریڈز، ماہواری یا حیض کا لفظ استعمال کرنےسےکتراتی ہیں۔ اوران الفاظ کے بجائے متبادل الفاظ جیسے “مہمان”، “شارک ویک” وغیرہ جیسی اصطلاحات استعمال کرتی ہیں۔

سن 2015 میں کینیڈا کی ایک طالبہ روپی کور نے اپنے خواتین کے ماہانہ پیریڈز سے متعلق اپنے اسکول پروجیکٹ پر مبنی چھ تصاویر انسٹا گرام پر شئیر کیں جنہیں انسٹا گرام نے نامناسب قرار دے کر ڈیلیٹ کردیا۔ اس نے دوبارہ پوسٹ کیا، تودوبارہ ڈیلیٹ کردی گئیں۔ جب یہ معاملہ فیس بک پر وائرل ہوا تب انسٹا گرام نے ان تصاویر کو بحال کر کے روپی کور سے اس طرح معذرت کی کہ یہ تصاویر غلطی سے ہٹا دی گئی تھیں۔

مغربی معاشروں میں بھی پیریڈز سے متعلق مصنوعات کے کمرشلز کو مین اسٹریم یا پیک ٹائمز میں نشر ہونے کے لیے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، ابھی بھی سینٹری پیڈز کے اشتہارات میں لیک پروف خصوصیت دکھانے کے لیے ریڈ کی بجائے نیلے رنگ کا محلول استعمال کیا جاتا ہے۔

آبادی کے بین الاقوامی ادے UNFPA کے مطابق پیریڈ شیمنگ اور پیریڈ ٹیبوز صنفی امتیاز یا جینڈر ڈسکریمنیشن کی ایک قسم ہیں جس میں خواتین کو پیریڈز ، ماہواری یا حیض سے متعلق ناگوار امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر مختلف پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ یہ روئیے ملک، ملت، سماج، وقت اور مذہب سے ماورا ہیں۔

قدیم زمانوں اور تہذیبوں میں حائضہ خواتین کو قابل احترام اور طاقتور سمجھا جاتا تھا جو بیماروں کو شفا بخش سکتی تھیں۔ قدیم رومی داستانوں کے مطابق حائضہ خاتون اپنی طاقت سے طوفان بادوباراں روک سکتی تھی۔ بیک جنبش قدم فصلوں سے نقصاندہ کیڑوں کا خاتمہ کرسکتی تھی۔ اس لیے اکثر قدیم ثقافتوں میں حائضہ عورت کو خطرناک بھی تصور کیا جاتا تھا۔ مایا تہذیبی دیومالائی داستانوں کے مطابق ماہواری کا آغاز ازدواجی معاہدے کو پامال کرنے کی سزا کے طور پر ہوا۔ قدیم یونان میں پیریڈز کا خون بطور کھاد استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس میں نائٹروجن کی اچھی مقدار ہوتی ہے۔افریقہ میں آج بھی ماہواری کا خون بیک وقت جادو ٹونے، تباہی اور پاکیزگی دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مختلف مذاہب میں پیریڈز سے متعلق مختلف احکامات ہیں اور معاشروں میں ان سے متاثر روئیے اختیار کئے جاتے ہیں۔ اسلام میں دوران پیریڈز تمام لازمی مذہبی امور سے بغرض سہولت رخصت ہوتی ہے۔ جیسے نماز روزہ اور قران کی تلاوت وغیرہ، نماز کی قضاء نہیں ہوتی۔ لیکن فرض روزوں کی گنتی بعد میں پوری کرنی ہوتی ہے۔ دوران پیریڈز وظیفہ زوجیت حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام خواتین پراس دوران کسی قسم کی کوئی سماجی پابندی عائد نہیں کرتا۔ خواتین حج کے لیے بھی جاسکتی ہیں لیکن ان کی سہولت اور تکلیف کو مد نظر رکھتے ہوئے طواف سے منع کیا گیا ہے کیونکہ طواف ایک خاصہ محنت طلب کام ہے۔

عہد نامہ قدیم کے مطابق حائضہ عورت کو چھونے والا بھی ناپاک ہوجاتا ہے۔ اس لیے عیسائی معاشروں میں عمومی طور پر تو نہیں لیکن کہیں کہیں خواتین کو ناپاک سمجھ کر چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ یا ان پر “مذہبی تبرک” وصول کرنے پر پابندی ہوتی ہے خاص کر آرتھوڈوکس چرچ میں۔ یہودیت میں اسلام کی ہی طرح پیریڈز کے دوران وظیفہ زوجیت پر پابندی ہے۔ زیادہ کٹر مذبی طبقہ پیریڈز کے دوران شوہر و بیوی کے درمیان عام اشیاء کا ایک دوسرے کے ہاتھ سے لینا دینا بھی حرام سمجھتا ہے۔

بدھ مذہب میں عام طور پرپیریڈز کو ایک نارمل نیچرل عمل سمجھا جاتا ہے لیکن جاپانی بدھ ازم کی کچھ شاخوں میں حائضہ خواتین کا مندروں میں جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کہیں کہیں انہیں مندروں میں داخلے کی اجازت ہے لیکن آرام کی غرض سے جھکنے سے منع کیا جاتاہے۔ پارسی مذہب میں بھی خواتین کو دوران ماہواری گھر سے باہر ایک کمرے میں علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ جہاں وہ پاکیزگی حاصل ہونے تک مقیم رہتی ہیں۔

ہندو مذہب میں حائضہ خاتون کو ناپاک سمجھا جاتا ہے اور ان پر کچن میں جانے ، پھول پہننے اور دیگر خواتین و حضرات کو چھونے پر پابندی ہوتی ہے کہ وہ بھی ان کے چھونے سے ناپاک ہوجائیں گے۔ اسی بناء پر وظیفہ زوجیت پر بھی پابندی ہے۔ خواتین کو دوران حیض اپنے گھر اور گھروالوں سے الگ ایک کمرے تک محدود کردیا جاتا ہے۔ اور وہ پاکیزگی حاصل ہونے تک وہیں محدود رہتی ہیں۔ بھارت میں چند ایک مندروں میں دس سے پچاس سال تک کی خواتین کے داخلے پر پابندی ہے کیونکہ یہ خواتین میں ماہواری جاری رہنے کا زمانہ ہے ان میں سے ایک مندر پر پابندی کو انڈین سپریم کورٹ نے گزشتہ ستمبر میں ختم کردیا تھا جس کے نیتجے میں پورے ہندوستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔

سکھ مذہب کے بانی گرونانک پیریڈز کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے سخت مخالف تھے۔ سکھ مذہب میں خواتین کو مردوں کے برابر سمجھا جاتا ہے اور دوران حیض ان سے کسی قسم کا امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔ نہ ہی ان پر مذہبی فرائض کی ادائیگی پر کسی قسم کی پابندی ہوتی ہے۔ اور جسمانی ناپاکی کے بجائے نفسیاتی اور ذہنی ناپاکی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور برا سمجھا جاتا ہے۔ سکھ مذہب اس ضمن میں سب سے زیادہ ترقی پسند ہے جس میں خواتین کو کوئی بہانہ نہیں بنانا پڑتا کہ وہ عبادت کیوں نہیں کرسکتیں، گردوارے کیوں نہیں جاسکتیں۔ کیونکہ ان پر عبادت اور گردوارے کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔

مختلف معاشروں میں پیریڈز سے متعلق مختلف اوہام رائج ہیں۔ یوگنڈا میں حائضہ خواتین کو گائے کے تھن سے منہ لگا کر دودھ نہیں پینے دیا جاتا کہ کہیں گائے کو بھی چھوت نہ لگ جائے اسی طرح اس دوران خواتین کو زیر زمین سبزیاں اگانے پر پابندی ہوتی ہے کہ ان کی وجہ سے فصل خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ تنزانیہ میں اگر کوئی ماہواری کا خون آلود کپڑا دیکھ لے تویہ کپڑے کی مالکہ / حائضہ عورت کے لئے بدقسمتی کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔

بھارت میں ایسی خواتین کے کھانا تیار کرنے پر پابندی ہے کہ ان کے ہاتھ سے پکا کھانا سڑ جائے گا۔ خواتین کو اس دوران گھر سے الگ ایک کمرے میں محدود کرنے کا بھی رواج رہا ہے۔ یہی رواج صدیوں سے ہندوستان کے پڑوسی ملک نیپال میں بھی رائج تھا جسے اگست 2018 میں ختم کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں استعمال شدہ کپڑا زمین میں دفن کرنا ضروری ہے ورنہ اس کے ساتھ بدروحوں کا گٹھ جوڑ ہوسکتا ہے۔ نائجیریا کے ایک قبیلے کا یقین ہے کہ اگر استعمال شدہ کپڑا جلا دیا جائے تو متعلقہ خاتون کو جلدی بیماری سے لے کر کینسر اور بانجھ پن تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برونڈی میں اگر حائضہ خاتون کسی ایسے برتن کے نزدیک نہا لے جو سب کے مشترکہ استعمال کا ہو تو اس کے فیملی ممبرز کی موت ہوسکتی ہے۔

پیریڈ شیمنگ صرف ایشیائی اور افریقی معاشروں تک محدود نہیں ہے۔نیویارک پوسٹ نامی ایک ویب سائٹ پر موجود ایک تحقیق کے مطابق نیویارک امریکہ میں 58 % خواتین پیریڈز کے دوران پیریڈز کی وجہ سے شرمندہ رہتی ہیں۔ جبکہ 42 فیصد خواتین کو پیریڈز کے دوران پیریڈ شیمنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی دوسروں کے ناگوار روئیے کا۔ اسی سروے کے دوران 44 فیصد مردوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ انہوں نے اپنی کولیگز کے پیریڈز کے دوران موڈ سوئنگز پران کا مذاق اڑایا یا اس پر تبصرہ کیا۔ 51 فیصد مردوں کے مطابق خواتین کا اپنے پیریڈز کا کے حوالے سے بات کرنا نامناسب ہے۔ 62 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ ماہواری کے دوران درد یا تکلیف کو ان کے ارد گرد کے افراد سیریس نہیں لیتے۔ جبکہ 73 فیصد خواتین کو واش رومز جاتے ہوئے سینیٹری پیڈ یا ٹیمپونز کو دوسروں کی نظر سے چھپانا پڑتا تھا۔

پیریڈ شیمنگ کی وجہ سے خاص کر بچیاں اپنے معاملات اپنے بڑوں سے ڈسکس کرنے سے گریز کرتی ہیں جس کے باعث پرسنل ہائی جین، انفیکشن وغیرہ کے مسائل سے دوچار ہوتی ہیں۔دنیا بھر میں 88 فیصد خواتین اور بچیوں کو معیاری سینٹری اشیاء تک رسائی نہیں ہے۔یونیسکو کی ریسرچ کے مطابق افریقہ میں ہر دس میں سے ایک بچی پیریڈز کی وجہ سے اسکول مس کرتی ہے جس کے باعث آگے جا کر بچیوں میں سلسلہءتعلیم منقطع کرنے کا رحجان بڑھ جاتا ہے۔

جبکہ 2017میں برطانیہ میں تقریباً 137 ہزار سے زائد بچیوں نے بوجہ پیریڈز اسکول مس کیا۔ انڈیا میں 28 فیصد بچیاں اس دوران اسکول نہیں جاسکتیں کیونکہ وہ معیاری سینٹری پیڈز افورڈ نہیں کرسکتیں۔ 2017 میں ہندوستانی حکومت نے سینٹری پیڈز پر 12 فیصد ٹیکس نافذ کردیا لیکن “پیڈ مین ایفیکٹ” کے باعث حکومت کو یہ ٹیکس واپس لینا پڑا۔ امریکہ میں بھی کئی ریاستوں میں سینیٹری پیڈز پر ٹیکس عائد ہے۔ ان ٹیکسوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ حکومتیں سینیٹری پیڈز کو ایک بنیادی ضرورت کے بجائے لگژری آئٹم سمجھتی ہیں۔

جاب سیکٹر میں خاص کر ان فارمل جاب سیکٹر میں سینیٹری اور خواتین کے علیحدہ واش روم کی سہولت نہیں ہوتی مشترکہ واش رومز میں ڈھکن والے ڈسٹ بن موجود نہیں ہوتے۔ یا سرے سے ڈسٹ بن ہی موجود نہیں ہوتے ۔ جس کے باعث استعمال شدہ نیپکنز کو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ جس کے باعث خواتین ورکرز کو دوران حیض کام سے رخصت لینی پڑتی ہے اور ان کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے۔ کچھ مخصوص پیشوں میں خواتین کو اس بنا پر جاب دینے سے انکار بھی کر دیا جاتا ہے۔

جیلوں میں محصور خواتین کے سینٹری حقوق کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا اور وہ شرم کے باعث اس موضوع پر کسی سے بھی شکایت نہیں کرسکتیں۔ جس کے نتیجے میں وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتی ہیں۔ یہی حالات رفیوجی کیمپس میں پناہ گزین خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ جیلوں اور رفیوجی کیمپس میں خواتین اور بچیوں کا جنسی استحصال ایک الگ مسئلہ ہے۔ جس پر پھر کسی وقت بحث کی جائے گی۔ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے مسائل اس ضمن میں الگ ہیں اس لیے وہ جو بھی واش روم استعمال کریں انہیں یہی سننا پڑتا ہے کہ وہ غلط واش روم میں آگئے ہیں۔ جی ، ٹرانس جینڈر خواتین بھی ہوسکتی ہیں۔ جس طرح مرد گےز ہوتےہیں اسی طرح لیزبئین خواتین بھی ہوتی ہیں اور انہیں پیریڈز بہر حال ہوتے ہیں۔کسی نے اپنی ہسٹیریکٹومی کروالی ہو تو وہ الگ بات ہے۔

پیریڈز سے منسلکہ توہمات کی بناء پر پیریڈز کے دوران فیملی اور گھریلو روزمرہ عوامل سے اچھوت کے طور پر الگ کیے جانے اور بار بار ناپاک پکارے جانے کے عمل سے عورتو ں اور بچیوں کی خودی اور خود اعتمادی پر منفی اثر پڑتا ہے اور وہ خود کو مردوں کے مقابلے میں ایک کمتر مخلوق تصور کرنے لگتی ہیں جس کے باعث اکثر اپنے ذاتی معاملات میں بھی فیصلے کرنے کی یا ان فیصلوں میں اپنی رائے دینے کی جرات کر پاتی ہیں۔ نہ ہی کسی اہم خاندانی معاملے میں اپنی رائے کو اہم سمجھتی ہیں۔ اس دوران یہ خواتین اور بچیاں تنہائی اور گھر سے الگ تھلک ہونے کی وجہ سے ریپ کا شکار آسانی سے بن سکتی ہیں بعض کیسز میں موت کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *