کیا تصویر صاف ہے؟۔۔۔۔عائشہ یاسین

آج میں نے کچھ گھر کا  سامان خریدنے کے لئے اپنے قریب ترین بازار کا دورہ کیا. یہ کراچی کا ایک پرانا بازار ہے جو ہمارے علاقے میں واقع ہے اور گنجان ہے. دکانوں، اسٹالوں اور ٹھیلے گاڑیوں سے علاقہ بھرا  رہتا ہے اور دن بہ دن ان کی تعداد میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ عمارتوں کی تعمیر بھی جاری  ہے کہ پاوں دھرنے کو جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ جب میں بازار کی گلی کے قریب پہنچی: تو ہر طرف سے سڑک بند کردی گئی تھی. سڑکیں  ٹوٹی پڑیں تھیں اور مرمت شدہ ٹکڑا بھی گندے  پانی اور کچرے سے بھرا ہوا تھا. گزشتہ رات میں نے اداروں کے غیر قانونی تعمیرات  تباہ کرنے کی خبریں  سنی تھیں کہ غیر قانونی تجاوزات کو گرا کر علاقے کو صاف کیا جارہا ہے لیکن جب میں وہاں پہنچی تو میں حیران رہ گئی کہ سڑکیں توڑے  جانے والے ملبے سے بھری ہوئیں تھی. سڑک کے دوسری طرف جانا مشکل تھا۔ مجھے اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے کے لئے ملبے کے ڈھیر پر چڑھ کے جانا پڑا. زیادہ  تر دکانوں کو مسمار کر دیا گیاتھا۔ یہ دکانیں رہائشی علاقوں میں تعمیر کی گئی تھیں. لوگ مطمئن تھے یا نہیں لیکن جنہوں نے کرائے پر دکانیں لی تھیں یا جو ٹھیلے گاڑی پر تھے زیادہ مطمئن تھے کیونکہ جب بھی حکومتی اہلکاروں  کو دیکھتے وہ فرار ہوسکتے تھے. میں نے ایک آدمی کو  موٹر سائیکل پر سوار شخص سے کہتے سنا کہ ان کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے. وہ افراد سودے بازی کررہے تھے کہ پیسہ دیا جائے تو وہ تمام معاملات کو حل کردے گا. میں ان کی بات چیت سے بے خبر بن گئی لیکن سنتی رہی۔ معاملہ 30000 روپے میں طے ہوا. یہ بہت زیادہ نہیں ہیں کیا؟ میں نے سوچا: لیکن اگلے  لمحے  میں نے محسوس کیا کہ ہمارا ملکی نظام کہیں پھنس کر رہ گیا ہے. لوگ ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی طرف سے بیوقوف بن رہے ہیں. وہ جعلی حوصلہ دے رہے ہیں اور ان سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر بھاری رقم  وصول کر رہے ہیں ۔جو لوگ  بھی ان مسائل کا سامنا کررہے ہیں ان کو ٹارگٹ کرکے پیسے بٹورے جارہے ہیں کیونکہ زیادہ تر آبادی قانون اور عدلیہ کی طاقت سے واقف نہیں ہیں. اگر جائیداد قانونی نظام کے مطابق نہیں ہیں تو انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ یہ کسی بھی وقت ختم کردی جاسکتی ہے یا واپس لی جاسکتی ہے. یہ عدلیہ کے احکامات ہیں اور  آپ کو کسی بھی درجہ کا آفیسر یا شخص مدد نہیں کر سکتا جب تک کسی قانونی طریقہ کار یا عدالت میں آپ کا مقدمہ درج نہیں ہوجاتا.  میں عوام سے درخواست کرنا چاہوں گی کہ  بیوقوف نہ بنیں ۔ یہ لوگ سراسر آپ کو غلط امید دے رہے ہیں،اپنا پیسہ ضائع نہ کریں صرف افسران کی ہدایت کی طرف توجہ دیں اور بہتر متبادل جگہ حاصل کرنے کی کوشش کریں. میں یہ بھی اپیل کرتی ہوں کہ عمارتوں یا تجاوزات  کو تباہ کرنے کے بعد، تمام ملبے کو صاف کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ سڑک پر چلنے والے شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہاہے. علاقے میں اس  ملبے کو ڈمپ کرنے کے لئے کوئی مشینری نہیں،مارکیٹ پہلے سے کہیں زیادہ گنجان اور ملبہ آلود ہے. حکومت کو اس علاقے کو صاف کرنے اور ماحول کو دھول سے بچانے کا کام مکمل کرنا چاہئے. تجاوزات  کی باقیات ابھی بھی موجود ہیں، صرف فرق یہ ہے کہ، غیر قانونی طور پر تعمیر عمارات کو ختم کر دیا گیا ہے پر اس کے نتیجے میں آلودگی میں اضافے کو مد نظر نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے. صرف دکانوں کو مسمار کیا گیا ہے لیکن پورے علاقے میں دکانوں سے زیادہ ٹھیلہ گاڑیوں کا قبضہ نظر آرہا ہے۔ ایک شہری ہونے کے ناطے: میں نے کراچی کی تصویر میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی، کچھ بھی واضح اور تبدیل نہیں ہے لیکن تصویر اب پہلے سے زیادہ بدصورت ہے.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply