ایک قاصد … بھائی کی طرف بھی!!

’’پی ٹی آئی اور نون لیگ انتشار چاہتی ہیں۔‘‘ یکم جولائی 2018ء ’’زرداری اور نیازی اکٹھے ہوگئے۔ عوام کسی بھول میں نہ رہیں۔ نیب میں حاضریاں صرف نون لیگ کی اور زرداری پاک صاف۔‘‘ 5 جولائی 2018ء ’’پی پی پی، پی ٹی آئی اور نیب مل کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔ ہم گھبرانے والے نہیں۔‘‘ 8 جولائی 2018ء ’’تیر اور بلے کو شکست دے کر نوازشریف اور مریم کو آزادکرائیں گے۔‘‘ 19 جولائی 2018ء یہ ان بے شمار بیانات میں سے صرف چند بیانات ہیں جو جولائی 2018ء کے الیکشن سے پہلے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنمائوں نے مختلف مواقع پر جاری کئے۔ کچھ ان کی تقاریر کے حصے ہیں۔ دو دن پہلے زرداری صاحب نے شہبازشریف صاحب کو اطلاع دی ہے کہ اپوزیشن عمران حکومت کو گرانا چاہے تو وہ یعنی زرداری صاحب تیار ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سابق صدر نے حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن سے مدد مانگ لی۔ دونوں عظیم رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ عمران حکومت اپنی نااہلیوں کی وجہ سے آغاز میں ہی اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ اسے بآسانی گرایا جا سکتا ہے۔ آپ اگر اس کایا کلپ کو منفی انداز میں لے رہے ہیں تو ایسا نہ کیجئے۔ معاملے کی تہہ تک جائیے۔ حتمی رائے قائم کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیجئے۔ انگریزوں نے کمال کے الفاظ ایجاد کئے ہیں جو مشکل وقت میں ہمارے کام آتے ہیں۔ مثلاً اس لفظ پر غور کیجئے کہ ’’میں بور ہورہا ہوں‘‘ یا ’’ہو رہی ہوں‘‘ آج سے چالیس پچاس سال پہلے یہ لفظ کہاں تھا؟ کم از کم ہم پاکستانیوں کی لغت میں کہاں تھا؟ کوئی بور ہوتا ہی نہیں تھا۔ عورتیں پوپھٹے اٹھتی تھیں۔ کام میں جت جاتی تھیں۔ گھر کی صفائی، آٹا پیسنا، پھر گوندھنا، تنور دہکانا، روٹیاں لگانا، دہی بلونا، مکھن نکالنا، کپڑے دھونا، مہمان داری، پتہ ہی نہیں چلتا تھا شام سر پر آ جاتی تھی۔ بچے سکول سے آتے۔ ہوم ورک کرتے، پھر کھیلنے، گھر کے نزدیک چوراہے پر چلے جاتے۔ گلی ڈنڈا، ہاکی، بیڈمنٹن اس زمانے کے کھیل تھے۔ لڑکیاں سٹاپو (چینجی) کھیلتیں۔ چھوٹے بچے گول ریڑھے کو تار سے چلاتے اور لطف اندوز ہوتے۔ ادھر مغرب کی اذان ہوئی، ادھر سب گھروں کو بھاگے۔ لالٹینیں جل اٹھتیں۔ اس زمانے کا ’’ڈنر‘‘ بھی سادہ تھا۔ ایک سالن۔ اور بہت عیاشی ہوئی تو چاول، سادہ تڑکے والے یا پلائو، اور کبھی کبھی ساتھ میٹھا۔ بزرگ اس زبردست ’’ڈنر‘‘ کے بعد گڑ ضرور طلب کرتے۔ کسی بچے نے کبھی نہیں کہا تھا کہ میں بور ہورہا ہوں یا بور ہورہی ہوں۔ نہ ان کی مائوں کے پاس بور ہونے کا وقت تھا۔ اب بوریت عام ہے۔ اتنی عام کہ گھر گھر سرکھولے بین کرتی پھر رہی ہے۔ ہفتے میں کئی بار بیگم میاں کو کہتی ہے۔ ارے سنیے، کتنی بوریت ہے۔ ڈیپرس ہورہی ہوں، باہر گھومنے چلتے ہیں۔ کھانا اکثر وبیشتر باہر کھایا جاتا ہے۔ اس کالم نگار کا نواسا آتا ہے تو دن میں کئی بار پوچھتا ہے، نانا ابو بور ہورہا ہوں، کوئی ایکٹیویٹی (Activity) بتائیے۔ بیرون ملک سے پوتا آتا ہے تو اس انگریزی جملے کا کہ What can I do کا ترجمہ کرتا ہے، میں کے کر سکناں؟ پھر اس کے بعد اس تسلسل سے پوچھتا ہے کہ کیا کرے کہ دادا ابو سارے کام چھوڑ کر اسے بوریت کے چنگل سے رہائی دلوانے میں لگ جاتے ہیں۔ موضوع سے ہم بھٹک نہیں رہے۔ یہ تمہید تھی۔ انگریزوں نے ایک اور لفظ ہماری سیاست کو عنایت کیا ہے۔ کیا طلسمی لفظ ہے۔ Pragmatism۔ اس کا کسی دوسری لغت میں ترجمہ کرنا ناممکن نہیں تو جان جوکھوں کا کام ضرور ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ حقیقت پسندی، عملیت پسندی، بس یہ قریب قریب الفاظ ہیں۔ یہ جو بے نظیر بھٹو کے زمانے میں میاں نوازشریف نے اسمبلی کے اندر اور باہر سرے محل کا واویلا مچایا تھا تو یہ اس وقت کا تقاضا تھا۔ پھر لندن میں میثاق جمہوریت نے ’’حقیقت پسندی‘‘ اور’’عملیت پسندی‘‘ یعنی Pragmatism کی نئی تاریخ مرتب کی۔ دونوں بہن بھائی ایک ہو گئے۔ پھر ایک اور لہر آئی۔ عوام کی خاطر، جمہوریت کی خاطر، غریب عوام کی خاطر، شہبازشریف صاحب نے عملیت پسندی کی ایک اور چادر نکالی، سر پر اوڑھ لی۔ ’’میں زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹوں گا، میں پیٹ پھاڑ کر اندر سے لوٹی ہوئی دولت نکالوں گا۔‘‘ اس عملیت پسندی میں وہ درجنوں مائیک بھی شامل ہو گئے جنہیں شہبازشریف صاحب جوش خطابت میں ہاتھ کی غضب ناک آہنی ضرب سے گرا دیتے تھے۔ پھر عمران خان نے دھرنا دے دیا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت سوکھے ہوئے زرد پتے کی طرح کانپ اٹھی۔ وزیراعظم نوازشریف نے خطرے کی اس تاریکی میں ’’یا زرداری‘‘ پکارا اور زرداری صاحب لاہور آ موجود ہوئے۔ وقت کے وزیراعظم ان کی سواری کے کوچوان خود بنے۔ 74 قسم کے پکوان، نصف جن کے 37 قسم کے پکوان ہوتے ہیں، تیار کرا کر پیش خدمت کئے گئے۔ سڑکوں پر گھسیٹنے کا بیان ابھی فضا میں تیررہا تھا اس لیے شہبازشریف صاحب مہمان گرامی کے سامنے نہ آئے۔ مہمان نوازی کے فرائض پس پردہ رہ کر سرانجام دیئے۔ عملیت پسندی کا نیا دور 2018ء کے الیکشن سے پہلے پھر نازل ہوا۔ جس کی ایک جھلک اس تحریر کے آغاز میں دکھائی گئی ہے۔ ’’نیازی اور زرداری‘‘ گٹھ جوڑ کے شہبازشریف صاحب نے پرخچے اڑا دیئے۔ پیپلزپارٹی نے اس عظیم ’’انتشار‘‘ کو دریافت کر لیا جو تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون مل کر پیدا کرنا چاہتی تھیں۔ انتخابات کے بعد اسمبلی میں پی پی پی نے شہبازشریف صاحب کو ووٹ نہ دیا۔ اب یہ جو تازہ روٹی نفاق کے تنور میں لگائی گئی ہے اور زرداری صاحب اور شہبازشریف دونوں مل کر حکومت گرانے چلے ہیں تو اسے ابن الوقتی یا منافقت نہ گردانیے‘ یہ اس عملیت پسندی کی تازہ ترین مثال ہے جس کی یہ دونوں قد آور شخصیتیں ماہر ہیں۔ انگریزوں کے مقابلے میں ہم نے بھی کچھ اصطلاحیں علم سیاسیات کو عنایت کی ہیں۔ غریب عوام اور جمہوریت۔ جو کچھ کہا جاتا ہے، غریب عوام کے لیے اور جمہوریت کی خاطر کیا جاتا ہے۔ ہر روز کروڑوں روپے کی تھیلی سندھ سے دبئی پہنچتی ہے تو جمہوریت کی خاطر، چار چار محلات کو سرکاری خرچ کی چھتری تلے لانے کے لیے اگر ’’کیمپ آفس‘‘ قرار دیا جاتا ہے تو غریب عوام کے لیے، حمزہ شہبازشریف، مریم صفدر، بلاول زرداری، یہ سب جو کچھ کر رہے ہیں عوام کے لیے کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک حکمران جتنا پروٹوکول لیتا رہا ہے اور کچھ ابھی تک لے رہے ہیں۔ منصف کوئی نہیں مگر اختیارات سارے حاصل ہیں۔ عدالت عالیہ نے شہبازشریف سے پوچھا کہ 56 کمپنیوں کے بورڈز کے اجلاسوں میںحمزہ شہباز کس حیثیت سے بیٹھتے تھے تو جواب ملا کہ وہ مسلم لیگ کے ورکر ہیں۔ خدمت کے لیے بیٹھتے تھے۔ کیا سادگی ہے اور کیا عجز ہے۔ خدا اس تازہ ترین عملیت پسندی کو برکت عطا فرمائے۔ حضرت مولانا اور باچا خان کے چشم و چراغ بھی آن ملیں تو سونے پر سہاگہ ہو جائے۔ ایسے میں ایک خجستہ گام قاصد الطاف بھائی کی طرف روانہ ہو جائے تو عملیت پسندی آسمان کو چھونے لگ جائے۔

بشکریہ بانوے نیوز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *