کرسمس ٹری۔۔۔۔محمود چوہدری

میں نے پروفیسر انا میر ی سے کہا کہ ”مسلمان بچوں کے والدین کی شکایات ہیں کہ آپ کے سکول ہمارے بچوں کا مذہب خراب کر رہے ہیں انہیں عیسائی بنا رہے ہیں؟“ وہ حیرت سے پوچھنے لگی وہ کیسے ؟ میں نے جواب دیا ۔”سکول میں بچوں کو استانیاں کرسمس کے گیت سکھا رہی ہیں ۔ سانتا کلاز کے نام خط لکھوارہی ہیں ۔اب ہمارے بچے بھی ضد کرتے ہیں کہ انہیں اپنے دوستوں کو کرسمس کارڈبھیجنا ہے ۔انہیں کرسمس کیک خریدنا ہے ۔ انہیں اپنی ٹیچر زاور دوستوں کے لئے تحفے خریدنے ہیں بلکہ بعض بچے تو ضد کرتے ہیں کہ انہیں بھی اپنے گھر کے لئے کرسمس ٹری خریدنا ہے ۔۔۔“ پروفیسر انا میری بچوں کوسکول میں مسیحی مذہب کی تعلیم دیتی تھیں ان کے پاس تھیالوجی کی ڈگری تھی وہ مسیحیت کے علاوہ دیگر مذاہب کے علوم پر بھی دسترس رکھتی تھیں ۔ میں اٹلی میں ان دنوں بطوراسسٹنٹ ٹیچرپڑھاتا تھا۔ مجھے پروفیسر صاحبہ سے بات کرنا اچھا لگتا تھا ۔دنیا بھر کے مذاہب کے حوالے سے ان سے بہت ہی دلچسپ معلومات ملتی تھیں ۔
میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ ’سکول میں استانیوں نے بچوں سے کہاہے کہ اپنی اپنی وش لسٹ بنا کر سانتا کلاز کو خط لکھو کہ ہمیں یہ یہ چیزیں بھیجے “ مسکراتے ہوئے پوچھنے لگیں ”تو اس کا تم نے کیا حل نکالا ہے ؟“میں نے کہا میں نے مسلمان بچوں کو کہا ہے کہ خط میں لکھو” ڈئیر سانتا ۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے ۔ ہمیں اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے تم ایسا کرو کہ اس سال اپنے سارے تحفے افریقہ کے بچوں کے لئے لے جاﺅ ان کے پاس کھلونے تو درکنارپینے کے لئے صاف پانی تک نہیں ہے ۔“میں اپنی دانست میں اپنے ایسے جوابات سے پروفیسر صاحبہ کوغصہ دلانے کی کوشش کر رہا تھالیکن اہل علم کی یہ عادت عجیب ہوتی ہے کہ وہ ہر غصے والی بات پر بھی نرمی اور مسکراہٹ اختیار کرتے ہیں ۔ جس سے غصہ چڑھانے والے کو خود شرم آنا شروع ہو جاتی ہے ۔
میں نے پروفیسر صاحبہ کو اکسانا جاری رکھامیں نے کہا کہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم آپ کو” میری کرسمس“ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بہت ہی غلط لفظ ہے۔پوچھنے لگیں۔ وہ کیسے؟ ۔میں نے کہا ہمار ے کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس لفظ کا ترجمہ ہے” خدا نے بیٹا جنا “ پروفیسر صاحبہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی بولیں یہ تو سادہ سا لفظ ہے۔” میری “کا مطلب تو خوشی ہوتا ہے ۔ اور کرسمس کا لفظ کرائسٹ سے نکلا ہے ۔ میں نے اپنے دانشوروں کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ معنی جو بھی ہو حقیقت تو یہی ہے کہ آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ہی تو مانتے ہو۔اس لئے ہم ایسی کسی خوشی کی مبارکباد نہیں دے سکتے ۔ وہ پھر مسکرانا شروع ہوگئی ۔ کہنے لگی تم حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی تو مانتے ہو میں نے کہا بے شک اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا تو بولی پھر توایک نبی کی پیدائش پر خوش ہونے یا ان کی پیدائش کی مبارکباد ینے میں کیا حرج ہے۔
مجھے لگا میری دلیل کمزور ہونے لگی ہے تومیں نے کسی اڑیل اجڈ کی طرح بحث جاری رکھی کہ آپ لوگ مسلمانوں کے بچوں کو بگاڑ رہے ہیں ۔ وہ سنجیدہ ہو گئیں کہنے لگیں ” جتنی بھی باتیں تم نے گنوائی ہیں جن پر بچوں کے والدین ناراض ہیں ان کا تعلق مسیحیت سے ہے ہی نہیں تو پھر بچے مسیحی کیسے بن سکتے ہیں میں نے کہا وہ کیسے ؟ کہنے لگے سب سے پہلے کرسمس کی طرف آتے ہیں ۔ حضرت عیسی ؑکی تاریخ پیدائش کے حوالے سے بائبل میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا اس لئے کسی کو بھی ان کی تاریخ پیدائش کا صحیح علم نہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے بھی دسمبر کے انہی دنوں میں یورپ میں آفتاب پرستوں کی جانب سے تہوارمنائے جاتے تھے ۔لکڑیوں کے الاﺅ جلا کر جشن منائے جاتے تھے۔ جانوروں کو ذبح کر کے کھایا جاتاتھا کیونکہ انہیں پالنا مشکل ہوجاتا تھا ۔ وائن اور دیگر مشروبات کا استعمال ہوتا تھا کیونکہ وائن انہی دنوں تیار ہوجاتی ہے ۔مسیحیوں کا اصل تہوار تو ایسٹر تھا ۔ میلاد عیسی علیہ السلام کا دن تو تین صدیاں بعد منانا شروع ہوا۔ کافروں کے آفتاب دن کے مقابلے میں مسیحی پادریوں نے سوچا کہ حقیقی آفتاب تو ”حضرت عیسی علیہ السلام “ ہیں تو کیوں نہ دسمبر کو ہی کرسمس منا لیا جائے 
پھر کہنے لگی جہاں تک کرسمس کے درخت کاتعلق ہے تو بچوں کے والدین سے کہو کہ بے شک وہ اپنے بچوں کو کرسمس ٹری خرید کر دیں ان سے بھی وہ عیسائی نہیں بنیں گے۔ کرسمس ٹری کا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ سولہویں صدی میں جرمنی میں شروع ہوا تھا ۔ماضی میں اس روایت کا تعلق شجر پرستوں سے تھا ۔اس کا بھی تاریخی تعلق مسیحیت یا کرسمس سے بالکل نہیں تھا۔اگر کوئی درخت گھر میں رکھنے سے گھر کی زیبائش میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے مذہب کو کیا مسئلہ ہوسکتا ہے ۔کرسمس پر تحفے دینے کی روایت بھی انیسویں صدی میں عروج پائی ہے۔ پھر کہنے لگیں کہ تحفے دینے سے محبت بڑھتی ہے ایسا اصول تو اسلام میں بھی ہے ۔۔میں نے بات تبدیل کرتے ہوئے کہا ”اور سانتا کلاز کی فرضی کہانیاں ؟ یہ بچوں پر کتنا برا اثر ڈالیں گی“ پروفیسر صاحبہ پھر مسکرانا شروع ہوگئی ، کہنے لگی بچوں کی اپنی ہی ایک تخیلاتی اور جادو نگری والی دنیا ہوتی ہے ۔ ان سے یہ فینٹسی کی دنیا نہیں چھیننی چاہیے انہیں پہلے دن سے ہی دنیا کی تمام تلخ حقیقتیں نہیں سکھا دینی چاہئے ۔ سانتا کلاز کا قصہ بھی سترہویں صدی میں کرسمس کے ساتھ منسوب کیا گیا ۔ہمار ا بھی ماننا ہے کہ کوئی باباجی رات کو آکر گفٹ نہیں دیتے لیکن بچوں کی ہرخوشی کو مذہب کے خانے میں تول کر ان کی معصومیت یا تصوراتی دنیا نہیں چھین لینی چاہیے۔ ایک دن تو وہ بڑے ہو کر خود ہی یہ سب مشکل حقیقتیں سیکھ جائیں گے ۔
کہنے لگیں کہ کرسمس کارڈ لکھنے کی روایت بھی 1843ءمیں برطانیہ میں شروع ہوئی۔اگر اساتذہ اس روایت کے بہانے بچوں کو خط لکھنے کی مشق کرواتے ہیں تو اس سے کوئی دوسرا مذہب کیسے اختیار ہوجا تا ہے ؟پروفیسر صاحبہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سکول میں جب عید ، بیساکھی یا چائینز سال کا تہوار آتا ہے تو ہم ان دنوں میں بچوں کوایسے ہی دن منانے کی تربیت کرتے ہیں ۔ ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو ایک مختلف دنیا اور نظریہ سیکھنے کو مل رہا ہے ۔وہ دوسرے دوستوں سے اتفاق سے رہنا سیکھ پائیں گے ۔ ہم سب استاد بھی عید والے دن شلوارقمیص پہنتے ہیں ۔ استانیاں چوڑیاں پہنتی اور مہندی لگاتی ہیں ۔ سویاں کھاتی ہیں ۔ سکول میںعید کی مٹھائیاں تیار کراتی ہیں تو کیا ایسا کرنے سے کوئی غیر مسلم مسلمان ہوجاتا ہے ۔میں نے کہا نہیں مسلمان ہونے کے لئے تو دل سے بھی اقرار کرناپڑتا ہے ۔پوچھنے لگیں تو پھر مسلمانوں کے بچے اپنے دوستوں کو خط لکھنے انہیں تحفہ دینے یا گھر میں درخت لگانے سے مسیحی کیسے بن سکتے ہیں ؟
انہوں نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا یہ دنیا جب سے بنی ہے ۔ مختلف آئیڈیاز اور رسومات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل ہوتی رہتی ہیںاور مختلف مذہبی رسومات میں بھی شامل ہوتی ہیں۔ کسی ماہر تعمیرات سے جا کرپوچھووہ تمہیں بتائے گا کہ آج ہمارے گرجوں کی تعمیرات میں مسلمان فن تعمیر کی جھلک نظر آئے گی ۔ہمارے گھروں میں پڑے قالین ایرانی ہیں ۔ ہمارا سب سے محبوب مشروب کافی مسلمانوںکی دی ہوئی ہے ۔ ہمارے ناشتے میں کھائی جانی والی کروسنٹ کی شکل اور نام بھی ہلال ہے اور یہ ایجاد ترکی میں ہوئی تھی ۔ ہم نے جمہوریت یونان سے لی ہے ۔ ہمارے لفظ لاطینی ہیں۔ ہمارے ہندسے عربی ہیں حتی کہ ہمارا مسیح خود فلسطینی تھا ۔تو آج اتنی زیادہ مشترک باتیں ہمیں جوڑنے والی ہونی چاہیے تقسیم کرنے والی نہیں۔۔۔
اس کی باتیں سن کر میں گہری سوچ میں پڑگیا کہ یہ لوگ کتنی آسانی سے فضول باتوں کو پس پشت ڈال کرمقصد کی طرف توجہ دیتے ہیں ہمارے ہاں عید اور رمضان کے چاند پر آپس میں جھگڑا ،شب برات و شب معراج کی عبادت پر جھگڑ ا ۔ عید میلاد سے لیکر محرم کے عاشورے تک ہر بات میں اختلاف ہی کو بڑھاوا دیا جاتا ہے ۔ کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ ایک نئے دن پر کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔کسی بھی تہذیب یا ثقافت کے بارے میں سیکھنے سے بچے کے علم و عرفان میں کتنی بہتری آسکتی ہے اس کا اندازہ ہمیں نہیں ہے ۔ موٹی موٹی کتابیں پڑھنے سے اتنا سیکھنے کو نہیں ملتا جتنا کلاس میں ایک مختلف کلچر کے طالبعلم سے سیکھنے کو مل جاتاہے ۔ دنیا کے امن کے لئے ضرور ی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اپنے سے مختلف نظریے عقیدے ، یا ثقافت والے شخص کا احترام کرناسکھائیں ۔ ان کی خوشیوں میں شامل ہونا سکھائیں ۔تقسیم کے فلسفے کو توڑ کر جوڑنے والا سبق دنیا کو پڑھائیں

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *