• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالنے پر لعن طعن نہیں کیا جانا چاہیے۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالنے پر لعن طعن نہیں کیا جانا چاہیے۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

آج لوگ جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالنے پر لعن طعن کرتے ہیں۔جنرل نیازی کو سقوطِ ڈھاکہ کا موردِالزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ لوگ شاید تاریخ سے نابلد ہیں یا بھیڑ چال کا شکار ہو کر سارا ملبہ جنرل نیازی کے کندھوں پر پھینک دیتے ہیں۔

یہ تو وہی بات ہوئی کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم 300 رنز کے پہاڑ جیسے سکور کا تعاقب کر رہی ہو۔ سارے کھلاڑی 50 سکور پر ڈھیر ہو جائیں، لیکن ہم اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے سارا الزام آخری بلے باز یعنی آپ کہہ لیے عثمان شینواری کے سر دھردیں ،  کہ اگر یہ ٹھیک کھیلتا تو ہم 300 سکور بنا کر میچ جیت سکتے تھے۔ جبکہ وہ بلے باز جو بیٹنگ میں مہارت رکھتے تھے،جن کا کام تھا اپنی صلاحیتوں کو بروئےکار لاتے ہوئے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرواتے وہ سب پہلے ہی غلط سٹروک کھیلنے کی پاداش میں پویلین واپس جا چکے تھے۔ اُن سب کو چھوڑ کر ایک وہ کھلاڑی جو صرف اپنی باری لینے کی غرض سے میدان میں اترا جس کے بارے میں سب کو معلوم ہے یہ کھلاڑی جیتوا   نہیں  سکتا کیونکہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ پہلے والے جیت کی بنیاد رکھتے تو اگلے والوں کے لیے اس تسلسل کو قائم رکھنا آسان ہوتا۔ اور آخری کھلاڑی تو صرف اپنی جیت کا اعلان کرنے کے لیے میدان میں اترتا اور لہک لہک کر اپنی جیت پر رقص کرتا۔ لیکن اس معاملے میں جب 9 کھلاڑی اپنی وکٹ گنوا کر پویلن جا چکے ہوں اور سامنے پہاڑ جیسا سکور ہو تو پھر جیت کے خواب نہیں دیکھا کرتے۔ بلکہ سوچا جاتا ہے کس طرح اس بدترین شکست کا مقابلہ کیسے کیا جایۓ۔

کیونکہ ایسی صورتوں میں کوئی معجزہ ہو تو ہو ویسے جیتنا ناممکن ہوتا ہے۔

روایت ہے اب معجزوں کا دور گزر چکا ہے۔ سو روایت کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے۔ ایسا معجزہ نہیں ہوتا۔

اب کوئی کند ذہن ہی ہو گا جو اس ہار کا سارا ملبہ آخری کھلاڑی پر ڈال کر باقی سب کو اس شکست کی ہذیمت سے بچا لے۔ شاید کچھ دیر کے لیے تو چند لوگوں کو یہ یقین ڈلایا جا سکے کہ آخری آؤٹ ہونے والا کھلاڑی ہی شکست کا اصل قصوروار ہے۔ لیکن زیادہ عرصے کے لیے سارے لوگوں کو حقیقت سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔

اسی طرح ہم اب سقوط ڈھاکہ کا سارا قصور جنرل نیازی کے سر تھونپ دیتے ہیں۔ جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ اب جبکہ پاکستان بننے سے لے کر اکتوبر 1971ء تک کسی بھی حکمران  نے مشرقی پاکستانی کے مسئلہ کو ٹھیک سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔بلکہ سب نے ایک سے بڑھ کر ایک طریقے سے اس خلیج کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اور کبھی اس پر شرمندگی محسوس نہیں کی۔ شاید ان کے لیے ہی شاعر کہہ گیا ہے۔

شرم مگر تم کو نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔

اب جب سب کچھ ہو چکا تھا نفرت کی جو بنیاد رکھی گئی تھی وہ ایک قدوآور دیوار کا روپ اختیار کر چکی تھی۔ جس کو اگر گرایا جاتا تو بہت سی جانیں اس کے نیچے  دب کر اپنی زندگی کی جنگ ہار جاتی۔اب جب سب کچھ ہو چکا تھا تو آخر میں جنرل نیازی کو اس مارکہ کو سر کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ جنرل نیازی نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ اور ان کی نسلیں ہی تبدیل کرنے کا دعوے دار بن کر سامنے آیا۔اگر مشرقی پاکستان ٹوٹنے کا آخری  ذمہ دارکسی کو مانا جانا چاہیے تو وہ ذوالفقارعلی بھٹو کے سوا کوئی نہیں ہونا چاہیے-

لوگ کہتے ہیں جنرل نیازی کو ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیے تھے۔ اب اگر ہم ہمدردی کی عینک اتار کر دیکھیں تو جنرل نیازی نے بحیثیت پیشہ وار فوجی اپنی فوج کو بچانے کے لیے نظریہ ضرورت ( وہی نظریہ ضرورت جس کو استعمال کرتے ہوئے جنرل نیازی کے جرنیلوں نے حکومت میں آنے کا جواز تراشا تھا) کے تحت ایک مدبرانہ فیصلہ کیا اور اپنے ایک لاکھ جوانوں کو موت کا لقمہ بننے سے بچا لیا۔ مغربی پاکستان کا مشرقی پاکستان سے ہزاروں میل کا فاصلہ ہونے کی وجہ سے جنگ کے لیے انتہائی ناسازگار حالات تھے۔ بھارت نے  ‎بنگالوں کی ہمدردی کا نام استعمال کرتے ہوۓپاکستان کو اپنی فضا‎‏ئی  حدود استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا۔

ایک لاکھ پاکستانی فوج، پانچ لاکھ ہندوستانی فوج اور دو لاکھ بنگالی جنگِ آزادی کے مجاہدین کےنرغے میں آ ِ چکی تھی۔ سپاہیوں کا حوصلہ پست ہو چکا تھا،ان میں لڑنے کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ رسد و سامان کی سپلائی لائینیں کٹ چکی تھی۔ ایسے میں جنگ لڑنا بیوفوقی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔کچھ لوگ کہتے ہیں جنرل نیازی کو ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیے۔ لیکن میرا ماننا ہے جنرل نیازی کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یا تو وہ اپنے جوان مروا لیتا یا ملک کو خفت کا شکار کر لیتا۔ اور اس نے ہتھیار ڈالنا بہتر جانا، جو کہ ایک بہتر حکمتِ علمی مانی جا سکتی ہے، کیونکہ ایک لاکھ سپاہی کا جنگ میں مارا جانا عام بات نہیں وہ بھی پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لیے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *