• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • نوجوانوں میں موجودہ ہٹ دھرمی اور اس کے ممکنہ اسباب اور راہ اعتدال۔ ثنا اللہ

نوجوانوں میں موجودہ ہٹ دھرمی اور اس کے ممکنہ اسباب اور راہ اعتدال۔ ثنا اللہ

عرصے پہلے لڑکے گلیوں میں ساتھ ملکر کھیلتے… خوب مستی کرتے…
کبھی کبھی لڑائی کی نوبت بھی اجاتی… تو قسمے دل سے لڑتے… گالیاں بھی وہ دیتے کہ شیطان بھی پتلی گلی پکڑ لیتا…
اگلے دن وہی گلیاں ان لڑکوں کی مستیوں سے پھر سے آباد ہوتیں… آپس میں شیروشکر کھیل رہے ہوتے…

آج جدید دور ہے… جبکہ
معاشرتی اقدار دھیرے دھیرے رخ بدل رہیں ہیں…
والدین نے بچوں کو آئی فون تھما دیے ہیں… اب لڑکوں کے کھیل کا میدان گلیاں نہیں رہیں … ان کی گلیاں وادی فیس بک کے الجھے راستے ہیں… یہاں وہ الجھتے بگڑتے ہیں… لڑ تو سکتے نہیں… دل کی بھڑاس دل ہی میں رہتی ہے…
وہ بغض اور کینے کی آگ میں سلگ رہے ہوتے ہیں… ایک دوسرے کی بے عزتی، گالیاں، بعض دفعہ تو سفید ریش والدین کی عزت بھی سڑکوں پر لائی جاتی ہے…
اس ماحول کے عادی جب سن شعور کی سیڑھی پہ قدم رکھتے ہیں…تو معاشرے کا حصہ بنتے ہیں… لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگتے ہیں تو ان کا واسطہ مختلف الخیال لوگوں سے پڑتا ہے… جن سے وہ پہلے متاثر ہو گئے انکے خیالات، افکار اور طور طریقے اپنا لیتے ہیں… ذہنی ناپختگی اور عدم برداشت کے جس ماحول میں انکا لڑکپن گزرا، فریق مخالف پر چڑھ دوڑنے اور اپنے خیالات مسلط کرنے کا جو چسکا انہیں لگا تھا اس کو وہ اب ان لوگوں پر آزماتے ہیں جن کے خیالات انکے خیالات سے میل نہیں کھاتے… کسی مسئلے پر بنیادی معلومات نہ رکھنے کے باوجود محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر ایک موقف رکھتے ہیں…اور اس پر بحث و مباحثہ کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں… دلیل نامی باعزت راستے سے ناآشنا یہ ولولے سے بھرپور نوجوان فریق مخالف کے مسلمہ شخصیات پر انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں… یہ شخصیات اپنی مصروفیات یا انکی باتیں انکا بچپنا خیال کرکے جب صرف نظر کرتے ہیں تو انکی خاموشی کو اپنی تائید سمجھ کر اور جری ہو جاتے ہیں…
اب ایک دیہاتی جس نے جہاز دیکھا تک نہیں اس کے بارے میں اس معلومات صفر ہیں… وہ جہاز کے پائلٹ سے جہاز کے موضوع پر اختلاف کرے اور پائلٹ اسکی ذہنی سطح کی آگہی رکھتے ہوئے اس سے بحث سے گریز کرے… یہ اس پائلٹ کی دانشمندی کہلای گی… لیکن یہ دیہاتی اگر لوگوں میں شور مچانا شروع کر دے کہ میں نے اس شخص کو لاجواب کر دیا… تو آپ اس دیہاتی کو کیا لقب دینگے…

ایک اولی پڑھنے والا طالب مفتی تقی عثمانی صاحب سے ترمذی شریف کے کسی حدیث پر بحث شروع کرے تو ایسے میں بندہ کیا کرے…
اگر اسسے اس موضوع پر بات کی جائے… تو وہ خود کو مصلح اور ایک جدوجہد کرنے والا ظاہر کرتا ہے… وہ اگر اپنی دانست میں مخلص بھی ہے… تو اس کا راستہ غلط ہے… اب اسے کون سمجھاے…
اس صورت حال میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ…
( 1)=وہ اپنی پرانی روش کو چھوڑ دے…
(2)=جس موضوع پر اسے اشکال واقع ہے… اس موضوع کو پہلے سمجھے اور اس کے مبادیات کو ذہن نشین کر لے… پھر وہ اس قابل ہو گا کہ اس موضوع پر لب کشائی کرے…
( 3)=اپنے موقف کو حرف آخر نہ سمجھے اور نا ہی دوسرے کی بات کو کوئی افسانہ…
( 3)=دوسرے کی بات کو اسکے احترام کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے سنے اور ساتھ ساتھ سمجھنے کا حق بھی ادا کرے…
اسطرح اس موضوع پر گفتگو میں اسے لطف بھی ملے گا… اور علم میں پختگی بھی پیدا ہو گی…
(4)=اگر اسکے پاس اتنا وقت نہیں… کہ وہ کسی فن سے آشنائی پیدا کرنے کے بعد اس موضوع پر وہ گفتگو کرے…تو اس کے لیے بدوں تقلید کے کوی چارہ نہیں… وہ اس فیلڈ میں ماہر کسی شخص کی راے کو لے اس کو اپنا موقف قرار دے… اس پر دلائل اس شخص کے بیان کردہ دلائل ہی دے… اگر اپنی طرف سے اس موقف کی تائید میں کوئی بات بھی کرے گا… تو وہی خرابیاں پھر سے شروع ہونگی…

یہ ایک اعتدال کا راستہ ہے… جس کی حقیقت سے مفر ممکن نہیں…
نوٹ…
( 1)=یہ خالص میرا نقطہ نظریہ ہے…
(2)=اس سبب کے سوا اور اسباب بھی ہوسکتی ہیں…
(3)=نوجوانوں کے عمومی ماحول کو سامنے رکھ کر تجزیہ کیا گیا ہے…

ثناءاللہ
ثناءاللہ
چترال، خیبر پختون خواہ سے تعلق ہے... پڑھنے اور لکھنے کا شوق ہے... کچھ نیا سیکھنے کی جستجو...

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *