نیلی چادر۔۔۔۔۔تابندہ جبیں

اُس کے چلنے سے پتے شور مچانے لگتے تھے٫وہ جب بولتی بہار کی آمد سی ہوجاتی۔۔۔خزاں کا موسم ہوتے ہوئے ہر طرف بہار کی آمد ہوجانا کوئی عام بات نا تھی۔وہ پاؤں میں پائل نہیں پہنتی تھی مگرجب وہ چلتی ایسا لگتاجیسے ہر طرف پائل کیآ
آواز ٹکرایا کرتی اس کا بولنا اس کا چلنا سب منفرد تھاوہ عام سا لباس اپنے جسم میں زیب تن کرتی مگر وہ لباس ایسا معلوم ہوتاجیسے کسی شہزادی نے پہن رکھا ہو۔اس کے جھیل سی آنکھوں کے سب اسیر تھےچاہے وہ اس کی سہلیاں کیوں نا ہو اس کی آنکھوں کی تعریف ضرور کرتی تھی

ماہ پارہ تمھاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں لمگر ایسا کبھی بھی ناہوا کے اس نے ان باتوں پے کبھی توجہ دی ہو۔وہ ہمیشہ ایک ہی بات کہتی تھی کے اصل خوبصورتی تو انسان کی سیرت ہے صورت نہیں جس دن تم سب میری صورت کے بجائے سیرت کی تعریف کرو گی تو میں مان جاؤنگی۔۔اس کی ایک بہترین دوستوں میں سے ایک دوست عائشہ ہمیشہ یہی کہتی تھی یار تم کچھ بھی کہہ لوں مگر لوگ بظاہر چہرے کے ہی اسیر ہوتی ہے۔ماہ پارہ کو اپنے اندر ایک کمی محسوس ہوتی تھی۔وہ بھی کوئی خاص خامی نا تھیبس اس نے دل میں اسے کمی محسوس کر لیا تھا۔اس کو لگتا اس کا وزن تھوڑا بڑا ہوا تھا۔اور وہ اس ڈر میں مبتلہ رہتی تھی کے کہیں وقت کے ساتھ ساتھ اس کا وزن مزید نا بڑھ جائیں کیوں کے اس نے دیکھا تھا وقت کے ساتھ اس کی خاندان کی عورتوں کا عزن بڑھ جاتا تھا۔۔۔
یہی وجہ تھی اس نے یہ فیصلہ کیاکے وہ روز پارک میں چہل قدمی کرنے کے لئے جائیگی اس نے روز کی طرح آج کا دن بہت ہی اچھا گزارہ اور پھر شام ہوتی ہی پارک میں جانے کے لئے تیار ہونے لگی۔۔۔۔اس نے الماری سے امی کی نیلی چادر نکالیاور اسے خوب سلیقے کے ساتھ اپنے اوپر اوڑھ لی۔جب امی نے دیکھا پہلے تو وہ ڈانٹنے کے لئے آئی مگر جب اسے دیکھا تو چپ چاپ مسکراتے ہوئے چلی گئی ماہ پارہ امی کو خدا حافظ کر کے چلی گئ ۔۔وہ جہاں جہاں جاتی لوگوں کے نگاہیں اس کی طرف جاتی ۔ایک معصوم بچہ اسے دیکھ کر نیلم پڑی کہتے ہوئے گزر گیااس کی اس بات سے دل بہت خوش ہوا۔۔۔اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہ واقع کیسی پریستان کی پڑی ہوجیسے۔۔وہ آدھا گھنٹا پارک میں چہل قدی کرتی رہی اور جب وہ واپس گھر آنے لگی ۔تو اچانک ایک ٹڑک کیچر جانے لگا۔لگا۔اس بہت کوشش کیا کے احتیاط سے نکل جائےمگر ٹڑک نے اس کی چادر کو خراب کر دیا اور اسطرح اس کی نیلی چادر کا اختطام ہوا۔۔۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *