کہروڑ پکّا کی نیلماں.۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/حصہ اول

SHOPPING
SHOPPING

افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال،اب تک شائع ہونے کی باقی چار اقساط کے لنک کہانی کے  آخر پر موجود ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی پول ائیر پورٹ۔ایمسٹرڈیم

ارسلان آغا کو یہ دیکھ کر بے پایاں مسرت ہوئی کہ وہ بی بی جس کے تعاقب میں وہ یہاں کا ؤ نٹر تک پہنچا تھا وہ بھی استنبو ل جانے والی اسی فلائیٹ کے کاؤنٹر پر کھڑی تھی جہاں پر خود اس نے بھی بورڈنگ کے لیے رپورٹ کرنا تھا ۔ سفری دستاویز کی جانچ پڑتال کے بعد ایک بورڈنگ کارڈ کی صورت میں اسے بھی پروانہء روانگی ملنا تھا۔ کاؤنٹر سے کچھ فاصلہ ہونے کی وجہ سے وہ بی بی اور ائیر لائن کے خواتین عملے کی گفتگوسن نہ پایا مگر وہ اسے قدرے ہراساں، سراسیمہ،بے لطف اور لاچار لگی۔۔
ایمسٹرڈم۔ہالینڈ کے اسکی پول ایئرپورٹ کی عمارت میں جب وہ داخل ہوئی تھی اس لمحے ہی وہ اس کی نگاہ میں کھب گئی تھی۔ ارسلان نے اسے دیر تک اور دور تک دیکھا تھا۔وہ عام خواتین سے ذرا دراز قد اور ہر زاویے سے قابل توجہ تھی۔ ایک مکمل پیکر جاذبیت و رعنائی۔ فیشن اسٹیٹ منٹ کی ایک سیل رواں۔ فیض نے بھی ایس ہی کسی بی بی کو دیکھ کر کہا تھا

اسکی پول ائیر پورٹ ،ایمسٹر ڈیم

گداز جسم، قبا جس پہ ناز کرے۔۔۔ دراز قد جسے سر وصحیح  نماز کرے۔

وہ ائیر پورٹ پرواز کے وقت سے پہلے پہنچ گیا تھا۔ اس خیال سے کہ اس کے پاس چیک ان کی بوریت کا دکھ جھیلنے کے لیے خاصا وقت ہے، اس نے مختلف اسٹالز کو اچھی طرح کھنگال لیا تھا اور اب وہ مزے سے ایک کرسی پر براجمان تھا اور جرعہ جرعہ بئیر پیتا تھا۔
اس پری وش کو عجلت میں قدم اٹھاتا دیکھ کر ذرا حیرت ہوئی۔ بی بی کی چال توایسی تھی کہ وقت کیا شے تھا وہ اگر رک جاتی تو گردشیں بھی اس کا طواف کرنے لگتیں۔باہر کی دنیا میں لوگ،حسین لوگوں کو دیدے ہتھیلی پر انڈیل کر ندیدوں کی طرح نہیں دیکھتے ان کی طرف گھورنا بد تمیزی کی علامت ہوتا ہے۔ مہذب لوگوں کا مشاہدہ تیز،بیان مختصر وجامع اور یاداشت بڑی بروقت ہوتی ہے ۔اس کے باوجود ارسلان آغا نے نوٹ کیا کہ اس حسن تیز خرام کو کئی نگاہوں نے پسندیدگی کا ایساگارڈ آف آنر پیش کیا ہے جسے وہ ایک تغافل عارفانہ سے نظر انداز کرکے اپنے ہدف کی طرف بامقصد بڑھے جاتی ہے ۔ عام حالات میں وہ بیٹھ کر آتے جاتے لوگوں کو دیکھتا رہتا ۔اس زاویے سے ائیر پورٹ کا بین الاقوامی روانگی کا لاؤنج ہمیشہ سے بہت رومانچک لگتا تھا مگر اب کی دفعہ یہ کچھ عجب ہوا کہ اسے دیکھ کر ارسلان کو نہ جانے یہ کیا سوجھی کہ اپنی بئیر کی بوتل وہیں ادھوری چھوڑ منہ  میں پیپر منٹ کی میٹھی پرت اور روپہلے اوراق میں لپٹے الائچی دانے پھانک کروہ کچھ خیال کیے بغیر اس کے پیچھے چل دیا۔اس کے حساب سے فلائیٹ میں اب بھی پورا ایک گھنٹہ باقی تھا۔

top-done

وہ بی بی بھی استنبول کی فلائیٹ والے کاؤنٹر پر پہنچی تو اس کی حیرت ایک تسکین بخش طمانیت میں تبدیل ہوگئی۔تیز تیز اندازے لگائے کہ اس کی سیٹ کے برابر والی سیٹ کیسے پکٹرنی ہے۔مزید دل چسپی کو اس نے یہ سوچ کر موقوف کردیا کہ اگر اس نے یہ نوٹ کر لیا ہے کہ وہ اس کا پیچھا کررہا ہے تو سفر میں وہ اس سے کچھ گریزاں رہے گی۔ وہ ان مردوں میں نہ تھا جو عشق کا کارواں چلنے سے پہلے ہی اپنے اتاولے پن اور کوتاہیوں سے راہ ء الفت میں غبار کا ایک طوفان اٹھا لیتے ہیں۔ بی بی کا خیال اپنے جانب سے کہیں اور موڑنے کے لیے اس نے پانچ سات منٹ اور ادھر اُدھر کے Backlit Signs دیکھنے میں لگا دیے۔
کاؤنٹر کے اردگرد کوئی رش نہ تھا۔ ارسلان نے سوچا کہ رات کے دس بجے ہیں ،سردی ہے، یوروپ والوں کے لیے استنبول یوں بھی سندھی زبان میں گھر کا ککڑہے۔جب مہمان آئیں دعوت کے لیے ذبح کر لو ۔سوا تین گھنٹے کی تو کل فلائیٹ ہے۔ جرمنی سے تو بہت فلائٹیں چلتی ہیں کسی وقت بھی وہاں سے جہاز پکڑ کر صبح صبح ترکی پہنچا جاسکتا ہے۔ ا یڈا وی کی سیاپا۔

Backlit Sign

ائیر لائن کی چیک۔ان کاؤنٹر والی خاتون سے جب وہ بی بی   چند تیز تیز فقروں کا تبادلہ کررہی تھی، تو اسے لگا شاید اس کے ٹکٹ یا ویزہ وغیر ہ کا کوئی ایشو ہے۔ارسلان کو ہرگز گماں نہ ہوا کہ دو گھنٹے کے لازماً رپورٹنگ ٹائم کی بجائے وہ دونوں جب پہنچے ہیں کہ تو فلائیٹ کے ٹیک آف میں بمشکل آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ان کی مطلوبہ فلائیٹ کلوز ہوچکی تھی۔ائیر پورٹ پر نائیٹ کرفیو شروع ہوچکا تھا۔ جاپان،یورپ اور امریکی ممالک میں شہریوں کی نیند میں خلل نہ پڑے اس وجہ سے رات کی فلائیٹس پر پابندی لگ جاتی ہے۔جاپان میں مشرقی ٹوکیو کے باشندوں نے تو بین الاقوامی اNarita Airportمحض اس لیے اپنے علاقے میں بننے پر طوفان اٹھالیا کہ اس کی وجہ سے ان کی رات کی نیند میں خلل پڑے گا۔یوں یہ ائیر پورٹ شہر سے خاصی دور بنایا گیا۔
جس وقت وہ کاؤنٹر کے نزدیک پہنچا تو وہ اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ بددلی سے Versace کے سیاہ ٹوٹ بیگ میں رکھ رہی تھی۔ارسلان کے لیے یہ مشکل نہ تھا کہ وہ اس سبز پاسپورٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سنہری الفاظ پڑھ لے۔اس نے غور سے دیکھا۔ بی بی کی عمرتیس برس سے کم ہی ہوگی،پر اعتماد چہرہ،بال کاندھوں تک آتے آتے لہروں میں بدل جاتے تھے جن میں سنہری اور براؤں اسٹریکوں کے دائرے آپس میں گڈ مڈ تھے۔آنکھیں ایسی نہ تھیں کہ سرمہ فروش اسلام آباد کے ڈی چوک پر ان کی وجہ سے دھرنا دے کر بیٹھ جائیں اسے پھر بھی لگا کہ اگر وہ کم گو ہو ں تب بھی اظہار سے بھرپور ان آنکھوں کے بے صوت تکلم کی وجہ سے ان کی خاموشی شریک گفتگو کے لیے جاں گسل ہوگی۔ہونٹ بھرے بھرے تھے۔اسے یہ پتہ نہ چل پایا کہ ان پر لپ اسٹک کی ہلکی سی ٹرانسپرینٹ تہہ جمی ہے ، یہ لپ گلوس کی کرامت ہے یا وہ جو کچھ دیر پہلے ہونٹو ں پر  زبان پھیر رہی تھی اس کی گیلاہٹ نے یہ ملک روز لبوں پر الٹادیا ہے۔ناک میں سونے کی نتھ جس میں گول جھلملاتا نیلم جڑا تھا،اس نتھ کی وجہ سے وہ فرنگی پن جو اس کے پورے وجود سے نمایاں تھا۔اس پرمشرقیت کی اعلانیہ ایک مہر لگ گئی تھی۔کانوں میں مین ہیٹن کی بلڈنگوں جیسے لہراتے سیاہ موتیوں کے آویزے جو اسکارف کو گردن اور سر کی خفیف جنبش کا اشارہ پاکر سجدہ ء تعظیم بجالاتے تھے۔

versace bag
nose ring
ڈی چوک ،دھرنا

موسم سرما کا آغاز ہوچکا تھا لہذا اس نے جامنی رنگ کا ٹرٹل نیک سوئٹر پہنا تھا جس میں آدھ انچ بنت کے سوراخ تھے۔سوئیٹر کے نیچے اس نے جلد کی رنگت کی برا پہنی تھی جو ایک مدھم سی مسکراہٹ سے دنیا کی بھول بھلیوں میں گم لوگوں کو بادلوں کی اوٹ سے جھانکتے کسی پہاڑی مندر کے کلس کی طرح دھیمے دھیمے “Hi I am here” کہتی ہوئی،انہی  سوراخوں کے باہر جھانک رہی تھی(یہ اس نے کاؤنٹر کے پاس پہنچ کردیکھا)۔سوئیٹر ایک سلیقے سے کارڈرائے کی پرانی کائی کی رنگت کی جینز۔ سے دو انچ اوپر آن کر رک جاتا تھا۔جینز پر باندھے گئے بیلٹ کا ایک سرا لاپرواہی سے اس طرح پتلون کے لوپ میں ڈالے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا کہ گلے میں زعفرانی رنگ کا ایک نیم اونی مفلر جوایک ڈھیلی ٹائی کی مانند سامنے کے رخ پر اس طرح چھوڑ دیا گیا تھا کہ اس کے دونوں کنارے موقع ملتے ہی بیلٹ کے سرے سے بوس و کنار میں لگ جاتے تھے۔ ان دو کم بختوں کی کھلواڑ کا مشتاقان دید کو یہ نقصان ہوا تھا کہ اس کی ناف بآسانی جلوے لٹانے سے محروم کردی گئی تھی ۔اسی کھلنڈری ناف میں وہ رنگ اڑسی ہوئی تھی اور جس میں ایک گھنٹی میں نیلم کا ہی ایکclapper لٹک رہا تھا(یعنی وہ لٹکن جس کے  ٹکرانے سے گھنٹی بجتی ہے اور جسے ہندی میں ٹن ٹنا کہتے ہیں)۔ مزید لباس میں فاختائی رنگت کا بغیر بٹن کا کیپ (چھوٹا کوٹ) اور ان سب کے اوپر خشک ریت جیسا ٹرینچ کوٹ شامل تھے۔

navel ring

ارسلان اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ فلائیٹ پکڑنے وہ مناسب وقت پر پہنچا ہے مگر جب اسے بتایا گیا کہ ڈبلن اور ایمسٹرڈم کے وقت میں پورے ایک گھنٹے کا فرق ہے اور فلائیٹ کلوز ہوچکی ہے۔استنبول کی اگلی فلائیٹ کل چاربجے سہ پہر سے پہلے نہیں ملے گی۔ وہ اگر نیا ٹکٹ بنوائیں گے تو وہ انہیں پوری قیمت پر ملے گا اور دونوں کا موجودہ ٹکٹ چونکہ سپر۔ ڈسکاونٹ۔ لو۔ سیزن۔فئیر۔ ٹکٹ ہے لہذا یہ ری فنڈ ایبل نہیں۔ان دونوں کے فلائٹ مس کرنے کی وجہ ان کی اپنی غلطی ہے اور ائیرلائین کا اس  میں کوئی قصور نہیں لہذا انہیں مفت ہوٹل کے قیام کی سہولت فراہم نہیں کی جاسکتی۔دونوں کو ائیر پورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں کیوں ان کے پاس ری انٹری ویزہ نہیں۔ یہ سب منحوس انکشافات کاؤنٹر پر بیٹھی بی بی فائزہ نے کیے۔ وہ شاید سری نام کی تھی جو کبھی ہالینڈ کی کالونی ہوتاتھا اور جہاں سے پاکستان کے ایک سیاست آلودہ، بدن دریدہ عالم دین جن کی ماہء رمضان میں چھ روزہ تراویح بڑی دھوم تھی اُن کی تھکاوٹ دور کرنے کی لیے سری نامی قومیت کی بھارتی نژاد مسلمان مریدنیاں جو خادماؤں میں شمار ہوتی تھیں منگوائی جاتی تھیں۔ رمضان اسی لیے تو پاکستان کے تاجروں اور مولوی صاحبان کے لیے برکتوں کا مہینہ ہے۔فائزہ نے ہی انہیں مشورہ دیا کہ وہ مزے سے کل تک اسی لاؤنج میں بیٹھیں۔

سری نام کی فائزہ

کئتھرین زیٹا جونز بطور ایملیا وارن

ارسلان آغا نے وقوعے کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے شرارتاً کہا So we have whole 18 hours to re-enact movie The Terminal
دونوں ہنس دیں مگر وہ بی بی کہنے لگیBut I was never meant to be an unsuspecting Amelia Warren.۔
ہم آپ کو یاد دلادیتے ہیں کہ Amelia Warren فلم سن 2004 ء والی ”دی ٹرمینل“ کی
ہیروئین کیتھرین زیٹا جونز کا نام تھا۔ہیرو کا ٹام ہینکس کا نام Viktor Navorski تھا۔
یہ فلم ایک حقیقی واقعے سے متاثر ہوکر بنائی گئی مہران کریمی نامی ناصری ایک ایرانی نوجوان تھا جو ایران سے بے دخل کیے جانے کی وجہ سے ،پیرس کے چارلس ڈی گال ائیرپورٹ پر آن اترا تھا اور وہ بھی بغیر سفری دستاویزات کے۔ اسے اٹھارہ سال تک ایئر پورٹ کے ٹرانزٹ لاؤنج میں رہنا پڑا تھا.۔فلم کی کہانی میں تو یوں ہوتا ہے ایک فضائی مسافر وکٹر ناوروسکی جب امریکہ کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ پر اترتا ہے، تو اس کا مشرقی یورپ والا ملک کراکوزیا،خانہ جنگی کے باعث اپنی جغرافیائی شناخت سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کا پاسپورٹ امریکی امریگیشن حکام کے لیے قابل قبول نہیں رہتا۔اس دوران وہ ائیر ہوسٹس ایمیلا وارن سے دوستی میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اس کی طبیعت کے باعث ائرپورٹ پر کام کرنے والا عملہ بھی اس کا دوست بن جاتا ہے۔
اس مختصر سی جملے بازی کے بعد عملے کی خواتین تو ہاتھ ہلاتے ہوئے رخصت ہوگئیں۔لاؤنج کے اس حصے پر جہاں یہ دونوں حالت اضطراب و بے یقینی سے کھڑے تھے اور Stanchion۔ Rope سے احاطہ شدہ لاؤنج میں ان کی حالت ایک دوسرے سے قطعی طور پر ناواقف ان دو اجنبی ملزمان جیسی تھی جنہیں ہنگاموں کے دوران سڑک سے پکڑ کر پولیس نے لاک اپ میں بند کردیا ہو۔

web_stanchion_poles_with_red_rope

ارسلان آغا نے طے کیا کہ یہی وہ لمحات ہیں جو اس تعلق کو یا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جوڑ دیں گے یا دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو جلد ہی اللہ حاٖفظ یا شایداتنا بھی سننے کو نہ ملے۔لطف و کرم کا یہ سلسلہ جو اس کی اپنی نالائقی اور حریف مخالف بی بی کی آمد میں تاخیر اور جہاز کی بروقت روانگی سے چلا ہے یہ پیار کے اس ٹینس میچ کے آخری سیٹ کا ‘break point’ ہے۔یوں تو وہ بخوبی واقف تھاکہ جلد بازی سے خواتین بدک جاتی ہیں۔ جب ہی تو کسی شاعر نے کہا تھا کہ ع
ہمارے اور تمہارے پیار میں جو فرق ہے تو اتنا

ادھر تو جلدی جلدی ہے، اُدھر آہستہ آہستہ۔۔
در پیش صورتحال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کے بعد ارسلان نے اس گو سلو تکنیک کو خیر باد کہا ۔ وہ خود کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ زمان اور مکان ( Time and Space )سب ہی نظریہ مناسبت ( Theory of Relativity ) کے تابع ہیں۔اسے بخوبی علم تھا کہ مادہ مچھر 42- سے 56 دن جیتی ہے۔ایک سو کے لگ بھگ انڈے بچے دیتی ہے۔ڈی۔ ایم۔جی بیوروکریسی کی طرح رج کے خون پیتی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ اگر وہ اصیل ڈینگی نسل کی ہو تو شہباز شریف جیسے مالدار اور طاقتور پنجاب کے وزیر اعلی کو تگنی کا ناچ نچا دیتی ہے۔ہاں البتہ نرمچھر کی زندگی تو بے چارے کامیاب مردوں اور کسٹم پولیس اور انکم ٹیکس گروپ کے افسران کی مال بناؤ پوسٹنگ طرح چند دن یا ہفتوں کی ہوتی ہے۔ اس قلیل عمر میں بھی وہ باپ ضرور بنتا ہے اس کے برخلاف دنیا میں ایسے لوزرز کچھوے بھی ہوتے ہیں جو نو سو سال جی کر بھی کنوارے ہی مرجاتے ہیں بقول ساحر لدھیانوی ان غریبوں کے مقبرے بے نام و نمود رہتے ہیں اور آج تک ان پر جلائی نہ کسی نے قندیل والا معاملہ رہتا ہے۔سو پیارے آغا جی یہاں بھی معاملہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں والا“ ہی ہے۔پے جاؤ۔۔یہی اٹھارہ گھنٹے ہیں جن میں مچھر کا مکمل لائف سائیکل جی لو، ورنہ کنوارے بوڑھے کچھوے کی موت مارے جاؤ گے۔
اس تقویت بخش خیال کے سہارے اس نے تعارف کرانے کے لیے بالکل ویسے ہی ہاتھ بڑھایا اور جس طرح جیمز بونڈاپنے مدمقابل کا احاطہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”بونڈ،مائی نیم از جیمز بونڈ “ اس نے بھی جنبش دست کے ساتھ ہی کہنا شروع کردیا ’آغا، مائی نیم از ارسلان آغا۔اینڈ آئی ایم فروم اسلام آباد“ ایسا نہ تھا کہ اس پری پیکر نے اپنے یورپ کے قیام میں مردوں سے ہاتھ نہ ملایا ہو مگر جانے وہ کیوں اسے نفسیاتی جھٹکا دینے کے لیے دست دراز کو نظر انداز کر کے کھل کھلاتی ہوئی کہنے گی ”نیلم،مائی نیم ازناٹ نیلم بانڈ۔۔ اے فیو کال می نیلماں۔ اینڈ آئی ایم اوری جنلی فروم کہروڑ پکا ڈسٹرکٹ۔لودھراں۔پاکستانی پنجاب“

طعام اور قیام
۔۔۔۔۔۔۔

کوئی اور موقع ہوتا اور اگر کوئی خاتون اس کامصافحے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کرتی تو اسے لگتا کہ رنگ میں اس کے پوزیشن لینے سے پہلے ہی گھنٹی بجتے ہی اس کے مخالف نے ٹکا کر اسے لیفٹ ہک رسید کیا ہے۔جس سے اس کے اوسان خطا ہو چکے ہیں مگر ارسلان نے اس کی کھلّی بازی (ہنسی مذاق)کے دوران ہی فیصلہ کیا کہ اس بی بی کو وہ قسمت کی لکیروں سے چرائے گا۔اس نے ہمت پکڑی اور دو تجاویز پیش کیں۔ پہلے تو یہ کہ مجھے بھی آپ کی طرح بھوک لگی ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ مناسب سمجھیں تو سامنے خواتین کا ریسٹ روم ہے میرا یہ گارمینٹ بیگ لے جائیں۔اس میں اپنا یہ ٹرینچ کوٹ اور یہ کیپ بھی لٹکا لیں۔اس میں تین ایکسٹرا ہینگر ز ہیں جن میں ایک پر بالکل نئی نویلی جیکٹ ہے وہ آپ پہن لیں۔اپنے دونوں کوٹ اس میں لٹکالیں۔چاہیں تو اپنی ٹرالی ساتھ لے جائیں۔
نیلم کو پہلی دفعہ کوئی پاکستانی مرد ایسا ملا جس کی ہمدردی میں ایک محتاط سا لحاظ اور تفصیلات کے حوالے سے ایک سلیقہ مند رکھ رکھاؤ تھا۔ جسے یہ بھی علم تھا کہ اس کے دونوں کوٹس کا درست نام کیا تھا۔
پاکستان ہو یا برطانیہ یہاں کے مردوں کوجوتوں سمیت دیدوں میں گھسنے کی بڑی عجلت ہوتی ہے۔اس نے نسوانی ادارک کا سہارا لیا۔ اسے پرکھنے کی خاطر اس کی دوسری تجویز پر پہلے عمل کرنا مناسب سمجھا۔یہی وجہ تھی کہ اس نے ارسلان میاں کو غور سے دیکھا۔ مردوں کو پرکھنے کے لیے اس نے کالج کے زمانے سے ہی دس نکات کی ایک چیک لسٹ اس بارے میں اپنے دماغ میں بنا رکھی تھی۔

نمبر ون۔حلیہ۔ سمجھ میں نہیں آتا پاکستان کے کس علاقے سے ہیں مگر پنجاب اور کے پی کے ،کے  تو ہرگز نہیں لگتے۔ آنکھیں بہت پرکھنے والی اور مسکراہٹ گمراہ کن ہے ۔ہاتھ بڑے ترشے ہوئے اور انگلیاں لمبی۔ یہ   طبیعت کا ایسامیلان ظاہر کرتی ہیں جس میں صبر اور تفصیلات کو برتنے کی عادت ہوتی ہے۔

اسٹائل: جواب۔شرفاء کا،رکھ رکھاؤ والا ۔والد کے طور اطوار سے مماثلت۔ عمر میں ان سے کوئی دس بارہ سال چھوٹے ہوں گے۔بظاہر تو انہیں کی طرح بڑے کئیرنگ لگتے ہیں۔ چلیں گے۔ لیکن ابو کی طرح پینڈو چک چورانوے برانڈ نہیں۔

انداز گفتگو:۔دل چسپ جینٹلمین والا۔

پیشہ بھی اس نے لگے ہاتھوں پوچھ لیا اور اس پر بھی نائیکی والادر ستگی کا نشان لگادیا۔موصوف سول سروس میں تھے۔آج کل ڈیپوٹیشن پر وزارت خوراک و زراعت میں آئے ہوئے تھے۔قیام اسلام آباد میں تھا۔یوں حضرت کا کھونٹا مضبوط اور پس منظر سالڈ تھا۔باقی پانچ نکات پر وہ کپڑے تبدیل کرتے ہوئے،آئینہ دیکھتے ہوئے سوچ لے گی۔اس میں سب سے اہم تو یہ تھا کہ وہ اس عارضی رفاقت کو کس طرح اس ائیر پورٹ لاؤنج اور بہت ہو تو ہوائی سفر تک محدود رکھ سکتی ہے۔

نفسیاتی طور پر وہ ان دنوں ایک ہوائی تھیلی (air-pocket) میں تھی۔اس کا قوی امکان موجود تھا کہ سعید گیلانی سے شادی ممکن ہے پاکستان پہنچنے پر طلاق کے کاغذات میں سمٹ جائے۔وہ اپنا سوٹ کیس چھوڑ کر رول آن اور گارمینٹس بیگ لے کر جانے لگی تو ارسلان نے اس سے  دوباتیں کیں جس پر وہ ریسٹ روم میں بھی محضوظ ہوتی رہی ایک تو وہ کہنے لگا کہ آپ کا نام بڑا قیمتی ہے مگر ذرا Risky۔اس سے پہلے کہ وہ پوچھتی کہ نام کیسے پر خطر ہوسکتا ہے۔وہ خود ہی کہنے لگا کہ ہیرا اور نیلم ، یہ دو قیمتی پتھر ایسے ہیں جو سب کو راس نہیں آتے مگر یہ راس آجائیں تو پہننے والے کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔نیلم نے مناسب سمجھا کہ وہ اسے بتادے کہ اس کی بات سو فیصد درست ہے۔ وہ اپنے میاں سعید گیلانی کو بالکل راس نہیں آئی مگر اپنی کمپنی کو پچھلے پانچ سال سے اوردو سہیلیوں کو بھی وہ خوب راس آئی ہے جنہوں نے اس کے مشورے سے کئیریر اور شوہر تبدیل کیا اور بہت آسودہ ہیں۔ اس نے یہ بتانے کے لیے الفاظ کا انتخاب ذہن میں شروع ہی کیا تھا کہ اسے خیال آیاکہ اپنے بارے میں اسے بات کرنے میں کسی عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔یہ رفاقت کسی دیکھے بھالے تعارف اور حوالے سے نہیں۔اپنے بارے میں وہ بات کرنا چاہے گی تو اب بھی اس کے  پاس سترہ گھنٹے پچاس منٹ ہیں۔ اس نے ارسلان سے پوچھ لیا کہ آپ نے دو باتیں کہیں تھیں۔وہ دوسری بات کیا تھی۔آہا وہ دوسری یہ کہ اب آپ جب بھی سفری سامان خریدیں تو دھیان رکھیں کہ ان میں نیچے 360 ڈگری پر گھومنے والے پہیے  لگے ہوں۔اس سے ان کو کیری کرنا آسان ہوتا ہے۔

ڈائمنڈ
سفائر۔۔ نیلم

نیلم کو ا س کے مشورے پرریسٹ روم کا رخ کرنے کی جلدی نہ تھی۔ برلن سے آتے ہوئے جس بس میں وہ سفر کرکے یہاں پہنچی تھی اس کا ٹوائیلیٹ بہت صاف ستھرا تھا۔بھوک بھی ایسی خاص نہ تھی اس نے ایک ڈونٹ راستے میں کھا کر کافی بھی پی لی تھی ۔اس نے سوچا لباس کی تبدیلی سے پہلے کچھ بات چیت اور کرلیتے ہیں حضرت کتنے پانی میں ہیں اس کا علم ہوجائے گا ۔اس کے بعد بھی اگر کچھ وضاحت مطلوب ہوگی تو وہاں تنہائی میں اسے پانچ دس منٹ ایسے مل جائیں گے کہ وہ پانچ سات Silver bullet”questions, سوچ لے گی۔یہ وہ سوال ہوتے ہیں جو عام طور پر ملازمت کے انٹرویو اور بینک کی جانب سے سرمایہ لگاتے وقت انوسٹمنٹ بینکر پوچھ لیتے ہیں۔ حضرت کی جانب سے جو جواب ملیں گے ان کی روشنی میں وہ اس کے ساتھ مزید وقت گزارنے کا دورانیہ اور طریق کار طے کرلے گی۔ یہ سوچ کر کہ تعریف و توصیف مردوں کی بھی اتنی ہی بڑی کمزوری ہوتی ہے جتنی عورتوں کی۔مرد جب عورتوں کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے پیچھے جنسی عزائم کی بھرمار ہوتی ہے۔ عورتیں جب خوشامد کا جال بچھاتی ہیں تو کچھ دیرپا رفاقت کے منصوبے یا کچھ فوری فوائد مطلوب ہوتے ہیں۔اس نے اس ہی کی بات نبھانے کے لیے ترپ کا پتہ پھینکا اورکہا کہ نام تو اس کا بھی بہت اچھا اور Sounding۔Sweet۔ ہے جس پر وہ کہنے لگا ’کہاں اچھا ہے۔ بی بی یہ تو جانوروں والا نام ہے‘۔نیلم نے پوچھا وہ کیوں؟ کہنے لگا ’ ترکی زبان میں ارسلان شیر کو کہتے ہیں‘۔ اس کی یہ وضاحت سن کر نیلم اتنے زور سے ہنسی کہ اسے لگا کہ ائیرپورٹ کا یہ لاؤنج پار و وادی بھوٹان کی تین ہزار فیٹ کی بلندی پرTiger’s Nest خانقاہ ہے جس کے مندر میں کئی گھنٹیاں بادلوں کے ساتھ آنے والے ہوا کے جھونکوں نے شرارتاً بجادی ہیں۔وہ کھڑی ہوکر چل دی۔

tiger-nest

Paro Taktsang (Tiger Nest) on mountain in Upper Paro Valley, Bhutan. Taktsang Lhakhang is Bhutan most iconic landmark and religious site.

وہ جب برآمد ہوئی تو اسی جالی دار ٹرٹل نیک سوئیٹر کی بجائے سرخ رنگ کی Asymmetrical Hemline: ڈھیلی آستینوں والا ٹاپ پہنا تھا جو کمر سے ہوتا ہواکولہوں کے درمیاں آن کر بے دھیانی سے ٹھہر گیا تھا۔ سامنے کا معاملہ کچھ اور تھا اور یہ سابقہ ٹرٹل نیک سوئٹر جتنی ہی اٹھی ہوئی تھی ۔ایسا لگتا تھا یہ ہیم لائن چھوٹی بڑی پہاڑیوں کا کوئی پرفضا سلسلہ ہے جس کا ایک کا دائرہ کولہوں کے  گرد سے گھوم کر ناف کے درمیان اپنی سب سے  شریر چوٹی کی جانب سے کسی حسین طوائف کی مانندآداب عرض کرکے کورنش بجاتا ہوا واپس اپنے مقام آغاز یعنی کولہوں پر لوٹ گیا ہو۔ظالم نے اس پر سیاہ رنگ کا شرگ(چھوٹا سوئٹر) بھی پہنا تھا۔

نیلم نے سوچ رکھاتھا کہ اگر وہ اس کی ٹی شرٹ اور جینز کے درمیان نو مین لینڈ سے جھانکتی ناف کو دیر تک دیکھے گا تو وہ کچھ دیر گفتگو کرکے اسے ترک کردے گی اور سو جائے گی۔ارسلان نے لباس کی تبدیلی اور حسن ناف کی جھلکی کو نوٹ بھی کیا ہو تو اس دید بانی میں وہی سلیقہ تھا جو فائٹر پائلیٹس اور یورپی اور امریکی مردوں کی نگاہ ڈالنے والے انداز میں میں ہوتا ہے۔ان کی تربیت ہوتی ہے کہ کم وقت میں زیادہ دیکھو۔۔اس کی توقع کے برعکس ارسلان نے جیکٹ جس میں اندر کی طرف جیب کے بٹن میں اڑسا جھولتا لیبل صاف نظر آرہا تھا۔ اس کے بازوپر پڑی دیکھ کر ایک تفکر آمیز حیرت کا اظہار کیا۔ دید کی یہ بے اعتنائی اور جاڑے سے اس کی حفاظت کی یہ چنتا نیلم کو اچھی لگی۔ دس نکات کی چیک لسٹ جو اس بارے میں نیلم نے اپنے دماغ میں بنا رکھی تھا۔ان پر کئیرنگ کے خانے کے باہر دوسری دفعہ نائیکی والاسوش لگا دیا۔
نیلم نے سوال سن کر کہا کہ یہ تو بالکل نئی ہے پتہ نہیں آپ نے کسی کے لیے خریدی ہے یا اپنے لیے۔ حضرت کہاں چونکنے والے تھے کہنے لگے ’اسلام آباد میں تو میرے ساتھ میرا کتا ملنگی اور میرا گرے پیرٹ باپو رہتے ہیں۔ان کے لیے تو یہ جیکٹ بالکل بے کار ہے‘۔نیلم اس کے پالتو جانوروں کے نام سن کر زور سے ہنس پڑی۔وہ ان دیانت دار ، خوش مزاج عورتوں میں سی تھی جو پورے بدن سے ہنستی تھیں۔ایک دفعہ ہنس پڑیں تو اس بات کا اطمینان کرنا ان کے لیے ضروری ہوجاتا تھا کہ وہ اپنی اگلی بات یا رد عمل اس وقت دیں جب یہ مسکراہٹ پوری طرح دودھ میں چینی کی طرح ان کے اپنے وجود اور سامع کے تاثرات میں گھل مل جائے۔ ہنسی کے حوالے سے اس کے بدن کے بوئینگ جیٹ کے انجن بند ہوئے تو نیلم نے اپنی بے پناہ ٹوپاز براؤن(ٹوپاز۔پکھراج) رنگت کی آنکھوں کو کچھ دیر اس کی جانب دیکھ کر جھکالیا اور سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگی۔’یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ آپ نے کوئی چیز اپنے لیے خریدی ہو اور میں وہ آپ سے پہلے پہن لوں‘۔
’اس کا جواب ذرا طویل اور شرارتی ہے‘۔ارسلان نے کہا۔’دے دیجئے۔ہمارے پاس اب بھی سترہ گھنٹے اور پینتالیس منٹ ہیں۔شرارت کی اچھائی اور برائی کا فیصلہ میں کروں گی‘ نیلم نے جتایا۔

topaz brown eyes

وہ کہنے لگا کہ’یہ بات یاد رکھیں کہ آپ کا اعتراض ہے کہ یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ آپ نے کوئی چیز اپنے لیے خریدی ہو اور میں وہ آپ سے پہلے پہن لوں۔مشہور قلم کار خوشونت سنگھ کا ہماچل پردیش کے ہل اسٹیشن کسولی میں ایک عمدہ ولا تھا۔انہیں اداکارہ نرگس بہت اچھی لگتی تھی۔ان کے بچے اس ہل اسٹیشن کے کسی اسکول میں پڑھتے تھے۔ وہ اور اس کا میاں سنیل دت ان دنوں پیسوں سے کچھ ٹوٹے ہوئے تھے۔وہ کچھ وقت اپنے بچوں کے ساتھ ان کی تعطیلات کے دوران گزارنا چاہتے تھے مگر اتنے پیسے نہ تھے کہ اپنے اسٹیٹس کے حساب سے کوئی عمدہ سے کمرے کسی اچھے سے ہوٹل میں پوری فیملی کے لیے ماہ دو ماہ کے لیے کرائے پر لے لیں۔ایک دن کسی مشترکہ دوست کی وساطت سے نرگس خشونت سنگھ کو ٹائمز آف انڈیا کے دفتر ولا کی درخواست کرنے پہنچ گئیں کہ وہ اگر اجازت دیں تو سنیل دت ان کے میاں اور وہ کچھ دن اپنے بچوں کے ساتھ ان کے ولا میں رہ لیں۔خوشونت سنگھ نے جواباً ایک رعایت مانگی کہ وہ اس قیام کے بعد یہ بات   کہنے پر حق بجانب ہوں گے کہ نرگس میرے بستر میں سو چکی ہے۔یہ جواب سن کر نرگس بھی آپ کی طرح ہنس پڑی اور خوشونت سنگھ سے کہنے لگی ’ہاتھ لایئے‘۔

کسولی۔ ہماچل پردیش
خشونت سنگھ
نرگس،سنیل دت

ارسلان نے جتایا کہ آپ جب جیکٹ پہن لیں گی تو مجھے بھی یہ کہنے کی اجازت ہوگی کہ نیلم ایمسٹرڈم میں میری جیکٹ پہن کر گھومتی تھی۔نیلم یہ سن کر ہنسی تو نہیں مگر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر کہنے لگی میں بھی منیر نیازی کی طرح کئی کاموں میں دیر کردیتی ہوں (منیر نیازی کی مشہور نظم ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں)۔ اس کی معذرت کا اشارہ اپنی اس ادا کی جانب تھا جو اس نے ابتدا میں ارسلان کی جانب سے مصافحے کی پیشکش نظر انداز کرکے دکھائی تھی۔
وہ کھڑی ہوئی تو ارسلان نے اس کا ا حساس ندامت کم کرنے کے لیے انگریزی میں   کہا کہ ’ا گر وہ اجازت دے تو وہ اسے  جیکٹ پہننے میں مدد کرسکتا ہے‘۔ یہ اجازت ملی اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا دایاں بازو ارسلان کی جانب دراز کیا تو جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈالتے وقت اسے اندازہ نہ ہوا کہ ٹی شرٹ کی ڈھیلی آستین یکا یک کاندھے کے جوڑ تک کھسک گئی ہے۔ جسے وہ جب  سیدھی کرنے لگی تو ارسلان نے دیکھا کہ اس نے جلد کی رنگت کی برا کی جگہ اب نرم چمکیلی اسٹریپ والی سیاہ برا پہنی ہے او ر جہاں اس کا سینہ اس کے کاندھے سے ملتا ہے وہاں ایک برتھ مارک ہے۔یہ پیدائشی علامت جس کا شناختی کارڈ پر اندراج نہ تھا چھوٹی سی ریاست مناکو کے نقشے جیسا تھا۔ نیلم کے کاندھے اور سینے کے میل ملاپ کی مناسبت سے سوچیں تو یہ مناکو اور فرانس کی سرحدوں کا منظر پیش کرتا تھا۔وہی دلفریب نشیب و فراز،وہی چمکیلی ڈھلوانیں،ویسا ہی بازو کے نیچے بغل کا اجلا شانت سمندر۔بارڈر ٹینشن سے بے نیاز اپنی دلفریبی لٹاتا منظر تھا۔۔

کسولی۔ ہماچل پردیش

ارسلان چالاک تھا۔جانتا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ اس نے مفت کے جو سرحدی جلوے لوٹے ہیں ان کا اہل وطن کو ادراک نہ ہو۔ایسا ہوا تو فطرت نسوانی کے باب میں یہ ذرا انہونی سی بات ہوگی ۔ اس نے نیلم کو اس مقام خود آگاہی سے کھینچ کر دور لے جانے کے لیے تجویز دی کہ یہاں سے ذرا ہٹ کر ہالینڈ بلے وارڈ پر ایک عمدہ brasserie(برے سری۔۔عمدہ چھوٹا ریستوراں) ہے جس کا نام کبایا ہے۔یہاں کافی ایشائی ممالک کے کھانے ملتے ہیں۔وہاں بیٹھ کر کچھ چر پر (پرانی اردو میں کھاپی لینا) لیتے ہیں۔

جاری ہے

کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/حصہ دوم

کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔ تیسری قسط۔۔محمد اقبال دیوان

کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/چوتھی قسط

SHOPPING

کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط5

SHOPPING
SALE OFFER

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *