طاقت کا استعمال اور ذلت آمیز نتائج۔۔۔۔۔عابد حسین

پاکستان میں اقتدار اور اختیار دو مختلف چیزوں کے نام ہیں جہاں اس ریاست میں ہر ناممکن کام ممکن ہو سکتا ہے تو پھر اس رائے کو بھلا کیسے غلط ٹھہرایا جا سکتا ہے کہ ریاستِ پاکستان میں صاحب اقتدار کو کئی اقدام اٹھانے میں پسِ پردہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات فیصلے صاحبِ اقتدار کی طرف سے نہیں کیے جاتے بلکہ صاحبِ اقتدار سے لیے جاتے ہیں ـ
اسی طرح پاکستان کی تاریخ کو اگر دو حصوں(جمہوری دور اور دورِ آمریت) میں بانٹ کر حقائق سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ماضی کے حالات کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے پھر ان ادوار میں کیے گئے فیصلوں کے چشم کُشا اچھے یا بُرے نتائج بھی سامنے آجاتے ہیں ـ
ایک حصہ دورِ آمریت کہ جس میں صاحبِ اقتدار چند فوجی جنرل رہے ہیں یہ جنرلز ملک کے تمام فیصلوں میں خود مختار بھی رہے اور اختیارات پر مضبوط دسترس کے حامل بھی رہے ـ دوسرا حصہ جمہوری دور کہ جس میں مختلف جماعتوں کے سیاسی نمائندگان برسر اقتدار رہے اس دور میں ملک کی باگ ڈور سیاستدانوں کے پاس رہی اور فیصلے عوامی منتخب نمائندگان کرتے رہے مگر جمہوری دور کے تمام ادوار میں یہ الجھن ہر دور میں پائی جاتی ہے کہ جمہوری نمائندگان مکمل طور پر بااختیار نظر نہیں آتے اور بعض خاص معاملات میں طاقت و اختیارات کا اصل سرچشمہ دورِ آمریت سے منسلک افراد دکھائی دیتے ہیں کہ جنہیں اب تمام تر سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے کی لت پڑ چکی ہے ـ
اگر ہم پاکستان کے جمہوری ادوار کی تاریخ سے صحیح طور پر علم و آشنائی رکھتے ہوں تو ایک بھی ایسے جمہوری دور کی نشاندہی نہیں کر پاتے کہ جس میں اقتدار کی سلامتی اور منتقلی جی حضوری/ تابعداری سے مشروط نہ رہی ہو
بلکہ جب بھی کوئی جمہوری رہنما کسی نقطہء نظر یا پالیسی پر سرنگوں نہیں ہوا تو یہی پتہ چلتا ہے کہ پھر وہ اقتدار پہ نہیں ٹک پایا ـ۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر اور جاننا ضروری ہے کہ ملک کے ہر جمہوری دور میں درپیش مسائل چاہے وہ اندرون ملک سے تھے یا کسی بیرونی ریاست سے اُنہیں حل کرنے کیلئے ہمیشہ مشورہ سازی ـ افہام و تفہیم کے راستے کا انتخاب کیا گیا اور اس کے ذریعے بہت سنجیدہ مسائل حل بھی ہوئے جبکہ زمانہ آمریت کے تمام ادوار میں پیدا کردہ مسائل کو حل کرنے کےلیے اندورون ملک میں طاقت کا سہارا لیا جاتا رہا جبکہ دوسری ریاستوں سے معاملات کا حل جنگیں چھیڑ کر نکالنے کی کوششیں  کی گئیں ،طاقت اور جنگ کی پالیسی کے ذریعے جتنا مسائل کو حل کرنے یا معاملات کو دبانے کی کوشش کی گئی نتیجتاً یا تو مسائل مزید سنجیدہ نوعیت میں بدلتے گئے یا پھر ندامت اور بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ ـ مذکورہ بات کو سمجھنے کےلیے موقع کی مناسبت سے سقوط ڈھاکہ کے المناک واقعہ کو ہی دیکھ لیا جائے تو بات سمجھنے میں مزید آسانی رہے گی کیونکہ یہ مسئلہ بھی دونوں ادوار یعنی دورِ جمہوریت اور آمریت سے جڑا ہے پھر ان دونوں ادوار میں اسے حل کرنے کےلیے اقدام بھی کیے گئے ـ اب ان اقدام کے اچھے یا برے نتائج بھی دیکھے جا سکتے ہیں ـ
جب 1948 میں جناح صاحب نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور ڈھاکہ میں کیے گئے ایک خطاب میں اعلان کیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی تو اس پر مشرقی پاکستان کے رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ ملک کے 54 فیصد اکثریتی صوبہ(بنگال/مشرقی پاکستان) پرایک ایسی زبان مسلط کرنا سراسر زیادتی ہے کہ جسے بولنے اور سمجھنے والے مشرقی پاکستان میں صرف چند فیصد لوگ ہیں اس سے مشرقی پاکستان کے لوگ ترقی کی راہ میں مغربی پاکستان کے لوگوں سے بے حد پیچھے رہ جائیں گے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے اس وجہ سے شیخ مجیب الرحمٰن کو گرفتار بھی کیا گیا ـ جناح صاحب کے بعد بھی یہ مسئلہ زیر بحث رہا 1952 میں آئین پاکستان کے بنیادی اصول مرتب کرنے کی کمیٹی کی طرف سے اس اختلاف/ مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی گئی اور بالآخر دونوں طرف کے محب وطن سیاستدانوں نے اس دیرینہ خلش کا متفقہ حل یوں نکالا کہ 1956 کے پہلے آئین میں ملک کے وزیر اعظم چودھری محمد علی نے بنگلہ اور اردو دونوں زبانوں کو برابر کی سطح پر سرکاری زبانوں کا درجہ دے کر اختلافات کا سرے سے خاتمہ کردیا ـ۔۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر جمہوریت پہ شب خون نہ مارا جاتا ـ اقتدار کی ہوس کا نشہ جنرل ایوب پر طاری نہ ہوتا وہ عوام سے حکمران منتخب کرنے کا حق غصب نہ کرتے اور سیاسی ڈھانچے کو یوں پامال نہ کیا جاتا تو یقیناً آج خطے کا جغرافیہ اور صورتحال ہرگز یوں نہ ہوتی ـ۔۔
آمریت کا سلسلہء اقتدار جنرل یحیحیٰ خان کو منتقل کر دیا گیا جنرل یحیحیٰ صاحب نے زندگی میں جو عیاشیاں کیں اور گل کھلائے ان کے سامنے تو دورِ جہلیت کی رنگینیاں بھی پھیکی پڑ جاتی ہیں ـ
جنرل یحیحیٰ خان اپنے دورِِ اقتدار میں 1970 کے انتخابات کرانے پر مجبور ہوئے مگر اقتدار عوامی منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے میں خالص نیت پھر بھی نہ دکھائی اپنے اقتدار کے طول کی خاطر بہت سے جھوٹے حیلوں اور بہانوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ان ہتھکنڈوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں حالات زیادہ خراب ہونے لگ گئے تو پھر ان غلط فہمیوں کو افہمام و تفہیم اور مذاکراتی طریقہ سے حل کرنے اور دور کرنے کی بجائے جنرل یحیحیٰ خان نے مشرقی پاکستان میں آپریشن یعنی طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کیا جس کے نتائج آج قوم کے سامنے ہیں جو کہ شرمساری اور پشیمانی کے سوا ہرگز کچھ نہیں ـ
ہم فقط ایک خطہ (مشرقی پاکستان) نہیں گنوا رہے تھے بلکہ اقبال کے خواب کی آدھی تعبیر گنوائی جا رہی تھی اور یہ لاکھوں شہدا کے لہو کی بے قدری کی بھی تھی ـ نظریہء پاکستان کہ جس کی جنم گاہ مشرقی پاکستان تھا تحریک آزادی کہ جس کی ابتدا بنگال سے ہوئی تھی آزادی کےلیے ایک ہی پلیٹ فورم سے جدوجہد کرنے والے رہنماؤں اور لوگوں کو صرف پچیس برس بعد وطن دشمن قرار دے کر ان پر بندوقیں تان لیں ـ اپنی گولی اپنے بھائیوں کے سینے چھلنی کرنے کےلیے استعمال ہوتی رہی ـ افسوس کہ چند برس قبل آزادی حاصل کرنے والی ہزاروں ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری اب اس ملک ہورہی تھی کہ جس نئے پاکستان میں وہ اپنی چادر اور عزت کو پہلے سے زیادہ محفوظ سمجھ رہیں تھیں ـ

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

زخموں پر محبت اور احساس کا مرہم لگانے کی بجائے ان پر نمک چھڑکنے کےلیے اشرافیہ کے خاص افراد مشرقی پاکستان میں نفرت انگیز تقریریں اور زہر آلود بیانات اگلتے رہے کہ ہم ان کالے حرامیوں کو ہرگز اپنے اوپر حکومت نہیں کرنے دیں گے ـ جبکہ مغربی پاکستان میں جھوٹ اور پراپیگنڈے کا سہارا لیا گیا اور عوام سے اس کے متعلق حقائق چھپائے گئے حتیٰ کہ سولہ دسمبر کے اخبار کی شہ سرخیاں بھی اپنی فتح و کامرانی کی جھوٹی خبروں سے مزیّن تھیں ـ۔۔۔
معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے ایک بائیوگرافی میں لکھتے ہیں کہ جب مشرقی پاکستان میں فوجی آپریش چل رہا تھا وہ اس وقت برطانیہ میں زیرِ تعلیم تھے ـ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں قتل عام پر سراپا احتجاج تھیں مگر پاکستان میں یہ سب بھارتی اور بنگالی پراپیگنڈہ کہہ کر عوام سے جھوٹ بولا جا رہا تھا فوج کے سرنڈر کرنے کی خبرـ بنگلہ دیش کے قیام کی خبر پر تو دو سال تک یہ بحثیں ہوتی رہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے اور ایسا کچھ نہیں ہوا ـ نہ ہی فوج نے آپریشن کیا ہے نہ فوج نے سرنڈر کیا ہے اور نہ ہی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا ہے ـ
اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لینے سے منظر نہیں بدلے جا سکتے اور نہ ہی اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینے سے مظلوموں کی چیخ و پکار ختم ہو سکتی ہے ـ آج خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات دیکھے جائیں تو عوامی سانس کی نسّیں کس نے دبا رکھی ہیں ـ وہ کیوں سراپا احتجاج ہیں ـ وہ آج کن لوگوں کی طرف سے کی گئی دستوری پامالی کا گلہ کر رہے ہیں ـ عوام پر حکمرانی کون کرے گا اور کون نہیں کرے گا اس انتخاب کا حق صرف عوام کو حاصل ہے تو پھر اس حق پر بھلا کون ڈاکہ زن ہے اور کس کے خلاف نعرے بلند ہو رہے ہیں ـ
ہمیں اس ریاست اور اس میں بسنے والی عوام پہ اب ترس کھاتے ہوئے اپنی روش کو بدلنا ہوگا نہیں تو یاد رکھیں کہ جب سرحدوں کی محافط اقتدار کے خوابوں میں کھو جائیں اور ان کی توجہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے زیادہ معاملات میں مداخلت پر ہو تو پھر سرحدیں ضرور کمزور ہوجایا کرتی ہیں اور ریاستوں کے جغرافیے بھی بدل جایا کرتے ہیں سولہ دسمبر ہر سال ہمیں جھنجوڑنے ـ سمجھانے اور ہم سے تقاضا کرنے آتا ہے کہ اپنی عوام پر طاقت کا استعمال صرف ذلت آمیز نتائج سے نوازا کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ اب بھی درپیش مسائل کا حل طاقت سے نہیں بلکہ صرف افہام و تفہیم اور حقیقی جمہوریت سے مشروط اور ممکن ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *