انرجی بحران حل کیا ہے؟۔۔۔طاہر یاسین طاہر

ملک گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے کسی نہ کسی بحران کی زد میں ہے۔پہلی بار ملک میں بجلی کا بحران قاف لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد نگران حکومت کے دور میں آیا۔یہ بحران جب سر اٹھا رہا تھا تو نئے انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔مجھےیاد ہےدربار عالیہ حصال شریف جہاں راجا پرویز اشرف کی گہری عقیدت ہے،وہاں ایک رات راجا پرویز اشرف جب بیٹھے ہوئے تھےاور میں بھی اسی محفل کا حصہ تھا تو بجلی چلی گئی۔ یہ رات کا وقت تھا،ان دنوں معمول تھا کہ رات کو دو تین بار بجلی چلی جاتی تھی۔ راجا پرویز اشرف نے وہاں بیٹھے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت آئے گی تو ہم پہلی ترجیح میں بجلی کا سر اٹھاتا بحران ختم کریں گے اور جمہوریت کو پٹڑی پر ڈالیں گے۔حسن اتفاق کہیں یا قدرت کا انتقام کہ 2008 کے انتخابات کے بعد جب پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو راجا پرویز اشرف کو وزرات پانی و بجلی دی گئی۔راجا صاحب بجلی کے بحران پر قابو نہ پا سکے۔بلکہ روایتی سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے تاریخیں دینی شروع کر دیں کہ ملک سے بجلی کا بحران جلد ختم ہو جائے گا۔ یہ جلد غالباً 31 دسمبر 2010 تھا۔میں ان دنوں اسلام آباد کے ایک قومی روزنامے میں ادارتی صفحے کا انچارج تھا۔صورتحال یہ تھی کہ راجا صاحب نے جب وزارت سنبھالی تو بجلی کی لوڈشیڈنگ شہروں میں چھ سے آٹھ گھنٹے اور دیہاتوں میں 14 سے 16 گھنٹے ہو رہی تھی۔
آئے روز بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور راجا صاحب اپنی بات پر بضد تھے کہ 31 دسمبر 2010 کو ملک بھر سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ہم اپنے اداریے ،ادارتی نوٹ اور کالموں میں یہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر ملک بھر سے بجلی کی لوڈشیڈنگ نے دسمبر میں ختم ہو جانا ہے تو یہ سلسلہ یک بیک تو ختم نہیں ہو گابلکہ اگست،ستمبر میں بجلی کی لوڈشینڈنگ کو بتدریج کم ہونا چاہیے تا کہ ہم اس وعدے پر اعتبار کر سکیں کہ دسمبر کو ملک میں بجلی کی رسد و طلب کا معاملہ یکساں ہو جائے گا اور ضرورت کی بجلی ملتی رہے گی۔ مگر ہر روز بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں تو اضافہ ہو رہا ہے؟یہ کام پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہو ہی نہ سکا۔البتہ راجا پرویزاشرف جو بعد میں حادثاتی طور پر وزیر اعظم پاکستان بھی بنے، انھیں اور ان کے چاہنے والوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔راجا پرویز اشرف نے اس حوالے سے بیوروکریسی کے اعدادوشمار پر اندھا اعتماد کیا اور اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ظاہر ہے ملک میں بجلی کا بحران اس قدر شدید تر ہوا کہ دو چار گھنٹے بجلی آتی اور باقی وقت غائب رہتی۔پیپلز پارٹی کے وزیر بادوباراں راجا پرویز اشرف نے رینٹل پاور پلانٹس کا معاہدہ بھی کر لیا ، یہ ایک ایسی غلطی تھی جو اب انھیں نیب کے چکر لگوا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت جب بجلی بحران پر قابو نہ پا سکی تو اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب گذشتہ حکومت کا کیا ہوا تھا۔یہ ایسی بے تکی دلیل ہوتی ہے جو سوائےبے دماغ آدمی کے کوئی نہیں دیتا۔ظاہر ہے گذشتہ حکومت نے کچھ ایسے کام کیے ہوتے ہیں جنھیں عوام پسند نہیں کرتےیا جو عوامی معیار کو چھونہیں پاتے۔ اسی لیے عوام کسی دوسری جماعت کے منشور میں دلچسپی لے کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ لیکن تاریخ شاید ہے کہ عوام کے ساتھ دھوکہ سازی، جھوٹے وعدوں اور تسلیوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوا۔بے شک پیپلز پارٹی، نون لیگ، قاف لیگ اور دیگر گذشتگان نے ملکی مفاد میں بھی بے شمار کام کیے۔ پیپلز پارٹی نے کچھ نئے پاور پراجیکٹس بھی لگائے، لیکن بنیادی ضروریات کو سنجیدہ نہ لیا،جس کے باعث بے روزگاری اور بالخصوص انرجی بحران نے جنم لیا۔یہ پیپلز پارٹی ہی کا دور تھا جب پہلی مرتبہ سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگنا شروع ہوئیں۔اس سے قبل پاکستانمیں ایسا نہ ہوا تھا۔پہلے ہفتہ میں ایک بار سی این جی سروس اسٹیشن کو گیس نہیں دی جاتی تھی، اور پھر یہ پریکٹس ہفتہ میں دو دن کی جانے لگی۔ مجھے صحیح طرح سے یاد نہیں پڑتا شاید یہ سلسلہ ہفتہ میں دو سے بڑھ کر تین چار دنوں تک پھیل گیا تھا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت البتہ دعویٰ ضرور کرتی تھی کہ آج ہم نے فلاں پروجیکٹ لگایا ہے اور آج فلاں لگایا ہے جس سے بجلی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ایک لفظ ” لائن لاسز” بھی ان دنوں بہت زیادہ سننے کو ملا۔القصہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو انرجی بحران لے ڈوبا۔وہ وا حتجاج ہوئے کہ رہے نام اللہ کا۔2013 کا الیکشن مسلم لیگ نون نے یوں سمجھ لیں کہ یک نکاتی ایجنڈے پر لڑا اور وہ تھا بجلی بحران پر قابو پانا۔بلا شبہ جیسےتیسے کر کے نون لیگ کی حکومت نے اس مسئلے پر قابو پایا لیکن مکمل قابو نہ پایا جا سکا،اور نون لیگ نے بھی تاریخ دی کہ 2017 میں ملک بھر سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔رہی بات گیس کی لوڈ شیڈنگ کی تو مجھے یہ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ تکمیل کے قریب تھا۔ ایران نے اپنے حصے کی لائن پاک ایران بارڈر تک بچھا دی تھی مگر ایران امریکہ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان عالمی مجبوریوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ایران کے بار بار کہنے کے باوجود پاکستان اپنی جانب کا کام مکمل نہ کر پایا۔ اگر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ تکمیل پاجاتا تو پاکستان کو گیس سستی بھی ملتی اور انرجی کرائسسز پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی۔عالمی برادری بالخصوص امریکہ پاک ایران گیس منصوبے کی شدید مخالف تھی۔پیپلز پارٹی کی وزیر خارجہ حنا مصطفیٰ کھر نے غالباً اس وقت پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے کہا تھا کہ ہم عالمی برادری کے تحفظات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔غلام قوموں کی کئی زنجیریں اور ڈھیروں مجبوریاں ہوتی ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی یہی وعدے کیے تھے جو راجا پرویز اشرف نے نجی محفلوں میں کیے تھے کہ اگر ہم آئے تو لوڈشیڈنگ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ اسد عمر بھی ٹی وی پر یہی کہتے تھے کہ آتے ہی معیشت کی کمر سیدھی کر دیں گے۔لیکن صورتحال یہ ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔حکومت نے عملی حکومت کرنے کے لیے کوئی پیپر ورک نہیں کیا ہوا ہے۔ بہ ظاہر یہی نظر آ رہا ہے۔
معتبر ترین ذریعہ کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی بھی پی ٹی آئی کو روایتی سیاسی حکومت سمجھ کر معاملات کواعداد و شمار کے ہیر پھیر میں دبانا چاہتی ہے۔یہ امریکی دبائو ہی تھا جو پاک ایران گیس پائپ لائن کو ” تاپی گیس” منصوبے کی طرف لے گیا۔سردیوں میں گیس کے حوالے سے دوہرا دبائو ہوتا ہے۔ گھروں کو بھی پورا کرنا ہوتی ہے اور سی این جی اسٹیشنوں کو بھی، یہی حال بجلی کا ہے۔ بجلی گرمیوں میں تو جاتی ہی ہے اب تو سردیوں میں بھی جاتی ہے۔وزیر اعظم نے گیس بحران پر ایکشن تو لیا ہے، مگر یہ دیرپا علاج نہیں ہے۔گیس کے نئے ذخائر تلاش کرنا ہوں گے، ایران،تاجکستان،وغیرہ سے مزید معاہدے کرنا ہوں گے کیونکہ قطر سے گیس کا معاہدہ اپنی اصل میں مشکوک قرار پا چکا ہے۔ گذشتہ حکومتوں نے بجلی کے جو نئے پلانٹس لگائے تھے ان کی پیداوارکو استحکام دینے کے ساتھ ساتھ نئے منصوبے بھی لگانا ہوں گے۔بہت سارا کام ہر شعبے میں باقی ہے مگر حکومت کی ٹیم بولتی زیادہ اور کام کی طرف توجہ کم دیتی ہے۔ یہی اس حکومت کا نقص ِ اول ہے۔ملک میں گیس کی طلب و رسد کے درست اعداوشمار حاصل کر کے ان کے مطابق ہنگامی پالیسی بنائی جائے۔قطر،تاپی اور ایران سے کیے گئے انرجی منصوبوں پر نظر ثانی بھی ممکن ہے۔حکومت کا ہدف عالمی منصوبہ سازوں کے تحفظات نہیں بلکہ عوام کی فلاح ہونا چاہیے۔مسلسل ریاضت اور منصوبہ بندی۔کیا مہنگائی کے خاتمے کے لیے بھی کسی ملک سے معاہدہ کرنا پڑے گا؟ترجیحات طے کرنا اور ان پر دیانت سے کام کرنا ہی حکومت کی کامرانی کی واحد وجہ ہو سکتی ہے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”انرجی بحران حل کیا ہے؟۔۔۔طاہر یاسین طاہر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *