مکالمہ خصوصی/بالی ووڈ کنگ خان سے ملاقات۔۔۔۔۔۔۔۔حفظ الرحمٰن

بالی ووڈ کیلئے اب تک خوشگوار ثابت نہیں ہوا ہے۔ بالی ووڈ کے خان صاحبان میں سے عامر اور سلمان کی فلمیں باکس آفس پر ہنگامہ خیز ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ ایسے میں سب کی نگاہیں سال کے آخر میں کرسمس کے موقع پر ریلیز ہونے والی شاہ رخ خان کی فلم ‘زیرو’ پر ٹکی ہوئی ہیں جس سے ناظرین، ڈسٹری بیوٹرز اور خود فلم کی یونٹ کو کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان دنوں شاہ رخ خان ‘زیرو’ کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ اس دوران انہوں نے فلم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جس کے اقتباسات قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش کئے جارہے ہیں۔

سوال : اسٹارڈم کے بعد قد بڑھ جاتا ہے لیکن ‘زیرو’ میں بونے کا کردار ادا کرنے کے بعد آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
شاہ رخ : ہم لوگ کافی عرصہ سے جو ہیرو بیچ رہے ہیں وہ سب سے الگ ہوتا ہے۔ وہ طاقتور ہوتا ہے، موٹر سائیکل سب سے تیز چلاتا ہے، خواتین کی حفاظت کرتا ہے خواہ اس سے تحفظ مانگا بھی نہ جائے، اونچی عمارتوں سے چھلانگ لگا دیتا ہے۔ کئی افراد کی اکیلا پٹائی کردیتا ہے۔ میں نے خود بھی اس قسم کے کردار ادا کئے ہیں لیکن یہ کردار حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔ زیرو کے بونے کا کردار ہمارے روایتی ہیرو سے مختلف اور حقیقت سے قریب تر ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر انسان کسی نا کسی کیلئے آئیڈیل یا ہیرو ہوتا ہے۔ زیرو کا کردار سوسائٹی کیلئے ایک عام انسان ہے لیکن وہ کچھ لوگوں کیلئے ہیرو ضرور ہے۔ زیرو کا کردار کا کبیر خان کی طرح ہے جو صرف اپنی ماں کی تسلی کیلئے وومنس ورلڈکپ جیت کر لاتا ہے اور چپ چاپ اپنے گھر میں بیٹھ جاتا ہے۔ اس کردار کو ادا کرنے میں مجھے بہت لطف آیا۔

سوال : آپ کی امیج ایک رومانی ہیرو کی ہے۔ ایسے میں آپ کو نہیں لگتا کہ بونے کا مضحکہ خیز کردار آپ کی امیج کو متاثر کرے گا؟
شاہ رخ : جی اس سے کچھ لوگوں کو دھچکہ ضرور لگا ہے۔ اس فلم میں راہل یا راج نظر نہیں آئے گا۔ مجھے کچھ منفی ری ایکشن بھی ملیں ہیں لیکن میں فی الحال صرف اتنا کہوں گا کہ آپ فلم دیکھنے کے بعد کوئی رائے قائم کیجیے۔ اس فلم میں ہم نے برابری کو پیش کیا ہے۔ ایک عام انسان راہل یا راج نہیں بن سکتا لیکن زیرو کا کردار بلوا اس میں ضرور بستا ہے۔ ہم نے ٹریلر میں بھی بتایا ہے کہ برابری تو اب ہوئی ہے۔ انوشکا بھی بلوا کو اس لئے پسند کرتی ہے کہ جب وہ اس سے ملتا ہے تو وہیل چیئر پر بیٹھی لڑکی پر ترس کھانے کی بجائے اس سے برابری کا رویہ رکھتا ہے اور نارمل بات کرتا ہے۔ اس فلم میں ہم نے ایک بھی سین ایسا نہیں رکھا ہے کہ ناظرین کو کردار پر اس کی کمزوری کی بناء پر ترس آئے جب کہ فلم کے سارے کردار جسمانی یا نفسیاتی طور ہر عام حالات قابل رحم تسلیم کئے جاسکتے تھے۔

سوال : آنند ایل رائے کہتے ہیں کہ شاہ رخ خان چیلنج کو قبول کرتے ہیں، ان کا یہ کہنا کس حد تک درست ہے؟
شاہ رخ : دہلی سے آکر ممبئی میں اسٹار بننا ایک چیلنج تھا جسے میں نے قبول کیا۔ اس کے بعد سے کردار جیسے چک دے انڈیا کا کبیر خان، رب نے بنادی جوڑی کا سریندر ساہنی اور مائے نیم از خان کے کردار پردے پر آسان نظر آئے لیکن اسکرپٹ پر وہ بہت چیلنجنگ تھے۔ اس کے علاوہ زیرو کا کردار بھی بہت مشکل تھا جسے میں نے قبول کیا شاید اسی لئے آنند سر نے کہا ہوگا۔

سوال : زیرو ادھورے لوگوں کی کہانی ہے، ایک سپر اسٹار کی حیثیت سے شاہ رخ خان کہاں خود کو ادھورا محسوس کرتے ہیں۔
شاہ رخ خان : کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا، میں بھی اکثر خود کو ادھورا محسوس کرتا ہوں۔ بہت سے آرٹسٹ مجھ سے اچھا ڈانس کرلیتے ہیں جبکہ مجھے ڈانس سے قبل گھنٹوں ریہرسل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ میں ایک باپ، بھائی، شوہر اور دوست کی حیثیت سے بھی خود کو ادھورا محسوس کرتا ہوں کہ میں ان رشتوں کو اتنا وقت نہیں دے پاتا۔

سوال : زیرو کا ٹریلر مقبولیت حاصل کررہا ہے، آپ کی فیمیلی نے ٹریلر دیکھا تو ان کا کیا ری ایکشن تھا، بالخصوص ابرام نے کیا کہا؟
شاہ رخ : ابھی حال ہی میں ہم نے کترینہ کا ایک سانگ ریلیز کیا ہے۔ ریلیز سے قبل میں اسے دیکھ رہا تھا جس کے ساتھ فلم کا ٹریلر بھی تھا جسے دیکھ کر ابرام نے کہا کہ یہ تو وہ فلم ہے جس میں آپ میری طرح اداکاری کررہے ہیں۔ اس نے پہلے ہی ٹریلر دیکھ رکھا تھا اور میرے قد کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میں اس کی طرح اداکاری کررہا ہوں۔

سوال : آپ کو تعریف کے ساتھ تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، تنقید کا سامنا آپ کس طرح سے کرتے ہیں؟
شاہ رخ : یار ہر انسان کا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے۔ مجھے بھی کچھ لوگ نہیں پسند ہیں۔ میں تنقید کو ذاتی طور پر نہیں لیتا، تنقید مجھ پر نہیں میرے کام پر ہوتی ہے۔ مجھے بھی کچھ لوگوں کا کام نہیں پسند آتا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے وہ لوگ نہیں پسند ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا کام دس میں سے تین لوگوں کو پسند آجائے تو یہ میرے لئے کافی ہے۔ اگر ان تین لوگوں کو بھی پسند نہ آئے تو مجھے برا لگتا ہے کہ میں ان کی امیدوں پر پورا نہیں اترا جو مجھ سے پیار کرتے ہیں۔

سوال : آج دلیپ کمار صاحب کا جنم دن ہے اور آپ ان کے چہیتے رہے ہیں، ان کے جنم دن پر آپ کی نیک خواہشات کیا ہیں؟
شاہ رخ : یوسف صاحب کا تعلق پشاور سے ہے اور میرے فادر بھی وہیں سے تعلق رکھتے تھے، وہ مجھے بہت عزیز ہیں۔ آج مصروفیات کے سبب میں ان سے مل نہیں سکا، لیکن جب بھی وقت ملتا ہے میں ان سے ضرور ملتا ہوں۔ سائرہ جی بھی ان کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ آج کے دن میں یہی چاہوں گا کہ وہ ہمارے ساتھ رہیں اور صحتمند رہیں۔

سوال : زیرو سری دیوی کی آخری فلم ہے، فلم کی ریلیز کے موقع پر آپ انہیں مس کررہے ہیں؟
شاہ رخ : سری دیوی کی موت سے مجھے بڑا دھچکہ لگا تھا۔ ان کے آخری وقتوں میں فلم کے حوالے سے ہماری سیٹ پر اکثر ملاقاتیں ہوئیں تھیں۔ دبئی میں بھی وہ ملی تھیں، اس کے بعد اچانک ان کی موت کی اطلاع ملی۔ مس تو ہم سب کررہے ہیں، وہ میری اچھی دوست تھیں اور مجھے بہت مانتی تھیں۔  مجھے خوشی ہے کہ وہ ہماری فلم کا حصہ ہیں ساتھ ہی افسوس بھی کہ یہ ان کی آخری فلم ہے۔

سوال : سری دیوی کی بیٹی جہانوی کپور فلم انڈسٹری میں ڈیبیو کرچکی ہیں، کیا شاہ رخ خان کے بچے بھی انڈسٹری کا حصہ بنیں گے؟
شاہ رخ : سہانا کا  جھکاؤ اداکاری کی سمت ضرور ہے لیکن میرا خیال ہے کہ کم از کم چار سال اسے ایکٹنگ اسکول میں گزارنے چاہئیں، زیرو کے دوران سہانا کو آنند سر نے یہ ذمہ داری دی تھی کہ مجھے وقت پر سیٹ پر لانا ہے تو اس دوران وہ میرے ساتھ فیلڈ میں بھی رہی لیکن اداکاری کیلئے اسے ابھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ آرین اداکاری کی بجائے ہدایت کاری اور فلم سازی میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ ابرام ابھی چھوٹا ہے اس کی تمام تر دلچسپیاں فٹ بال کھیلنے اور دیکھنے تک محدود ہیں۔ جہاں تک سہانا کو لانچ کرنے کی بات ہے تو میں ابھی خود کو لانچ کرنے میں مصروف ہوں۔

سوال : سلمان خان فلم میں مہمان اداکار ہیں، آخری بار دس برس قبل اوم شانتی اوم میں آپ اور سلمان سلور اسکرین پر نظر آئے تھے۔ ایک عرصے بعد سلمان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
شاہ رخ : ہم نے بہت جلدی جلدی سب کیا ہے کہ سلمان نے قریبی تاریخیں دے دی تھیں۔ اس وقت ریس تھری بھی ریلیز ہوئی تھی جو ٹھیک ٹھاک نہیں گئی۔ اس کی وجہ سے سلمان فری تھے۔ تجربے کی بات کروں تو اس دوران مجھے کافی آرام مل گیا۔ سلمان مہمان اداکار تھے اس لئے میں اکثر سیٹ پر دیر سے پہنچتا تھا۔ سچ کہوں تو ہم دونوں تاخیر سے پہنچتے تھے اور رات دیر گئے تک کام کرتے تھے۔ فلم میں ایک سین ہے کہ میں اڑ کر سلمان کی گود میں جاتا ہوں۔ وہ سین کرنے کیلئے ہم سلمان کو بیک اپ دینا چاہتے تھے کہ ان کا بیلنس نہ بگڑ جائے، لیکن سلمان نے رسی وغیرہ باندھنے سے منع کردیا اور ٹھیک ٹھاک مجھے کیچ کرلیا، حیرت ہوئی کہ سلمان آج بھی اتنے توانا ہیں۔

سوال : سلمان کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟
شاہ رخ : اس پر کچھ کہنا مشکل ہے، پہلے کوئی ڈائریکٹر ایسی کہانی لکھے جو ہمیں پسند آئے اور ہدایت کار اس بات پر راضی ہو کہ ہم دونوں سیٹ پر شام چار بجے پہنچیں گے تو میں ضرور وہ فلم کرنا چاہوں گا۔

سوال : حال ہی میں آپ نے شکوہ کیا تھا کہ آپ کی فلمیں نیشنل ایوارڈ نہیں جیت پاتیں۔
شاہ رخ : (ہنستے ہوئے) یار وہ میں نے مذاق میں کہا تھا۔ فلم فیسٹیول مجھے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ میں اپنے فلم کا ٹریلر دکھاؤں۔ ممتا مجھے سی ایم کی بجائے دیدی کی طرح ٹریٹ کرتی ہیں، میں نے منع بھی کیا لیکن انہوں نے ٹریلر دکھانے کیلئے زور دیا تو میں نے ازراہ مذاق کہا کہ مجھے تو نیشنل ایوارڈ نہیں ملتا میں یہاں اپنی فلم کا ٹریلر دکھا کر تسلی حاصل کرلوں۔ جب میں وہاں سے نکلا تو آنند نے مجھے کہا کہ اس بات کو سنجیدگی سے لیا جائے کہ مجھے برا لگتا ہے کہ مجھے نیشنل ایوارڈ نہیں ملتا۔ سچ کہوں تو مجھے نیشنل ایوارڈ کیلئے برا لگتا ہے کہ اسے شاہ رخ خان نہیں ملتا، جو مجھے مل گیا وہ بہت اچھا ہے جو نہیں ملا اس کیلئے مجھے دکھ ہے کہ میں اسے نہیں ملا۔

سوال : سیلیوٹ میں آپ پہلی بار کسی بائیوپک میں کام کررہے ہیں جو خلاء باز راکیش شرما کی کہانی پر منحصر ہے، اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟
شاہ رخ : راکیش شرما، ملکھا سنگھ، سنیل گواسکر، دھنراج پلے، امیتابھ بچن اور رشی کپور میرے بچپن کے ہیرو ہیں۔ ان کی اکثر کہانیاں مجھے یاد ہیں اور مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ میں اپنے بچپن کے ایک ہیرو کو پردہ سیمیں پر پیش کررہا ہوں۔ سیلیوٹ آپ کے لئے ایک فلم ہے لیکن وہ میرے لئے ایک اعزاز کی طرح ہے۔ وہ فلم پہلے عامر کے پاس تھی لیکن تاریخیں نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کا حصہ نہیں بن سکے۔ انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ میں اس فلم کو کروں وہ کہانی بہت اچھی ہے اور مجھ پر سوٹ بھی کرے گی، لیکن ہم نے ابھی سیلیوٹ شروع نہیں کی ہے اور میری ساری توجہ ابھی زیرو کی ریلیز ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *