گھر واپسی۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

یہ کہانی اردو کے قدیم اور موقر جریدے ”سویرا“کے شمارہ نمبر۔(97) جون 2018 میں شائع ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

tripako tours pakistan

آگے کسو کے کیا کریں دستِ طمع دراز
وہ ہاتھ سو گیا ہے، سرھانے،دھرے دھرے(میر تقی میرؔ)

ماہ دسمبر کی اس ٹھٹرتی سیاہ رات،اسلام آباد میں مینا المعروف بہ نوشابہ حسین کی شادی تھی۔
اس رات ایک عجب بات ہوئی کہ دلہن کے لئے،دولہاکے لئے اور حجلہء عروسی کے لئے،کسی کے لئے بھی پھول نہیں ملے۔
پھول نہ ملنے کی وجوہات پر غور کریں، تو چند وجوہات فوراً ً سمجھ میں آجاتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شاید پھول منگوانے کا فیصلہ عین اس وقت کیا گیا ہو،جب مینا نے شادی کے لئے حامی بھری ہو اور تب تک اس بے حس شہر کے لوگ اپنی دکان بڑھا گئے ہوں۔ یہ بھی قرینِ قیاس ہے کہ   یہ فیصلہ عجلت اور بددلی سے کیا گیا ہو۔اور کسی کے ذہن میں نہ آیا ہو کہ اگر ہوٹل کی انتظامیہ سے رابطہ کیا جاتا تو وہ کمرے کو اپنی ماہرانہ سجاوٹ سےbridal- suite میں تبدیل  کر سکتے تھے۔ یہ ان کے لئے بہت آسان کام تھا بشرطیکہ انہیں اس کے لئے رقم کی ادائیگی کی جاتی۔ اسکے علاوہ،اگر آپ کو سوچوں پر بدگمانی کے مہیب سائے ہر وقت منڈلاتے ہوں تو آپ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ پھول لانے والے کے لیے ایک بہت معمول کی کارروائی تھی ۔جس میں ایسے اقدامات اچھے تو سمجھے جاتے ہیں لازم نہیں۔

دولہا، پیر اکبرشاہ کا ڈرائیور،جسے پھول لینے کے لئے بھیجا گیا تھاوہ ایک گھنٹے کی خجل خواری کے بعد، سردی کی اس رات منہ  سے نسوار آلود بھاپ اڑاتا،بے نیل و مرام،پھول لائے بغیرہی پانچ سو روپے کا نوٹ لہراتا ہوا،واپس آگیا۔ مینا کی پھوپھی نازلی (جو اس سارے پروگرام کی ڈائریکٹر جنرل آپریشنز تھی) کا پارہ ایک دم چڑھ گیا۔پھوپھی نازلی اس کی عمر کا لحاظ کئے بغیرہی،غصے سے برس پڑی اور کہنے لگی کہ”کمبخت پھول لینے کسی مزار پر ہی چلا جاتا۔وہاں تو پھولوں کی د کانیں ہر وقت   کھلی رہتی ہیں۔کم از کم بچی کا دل ہی رہ جاتا”۔ڈرائیور اس وقت تک پھوپھی نازلی کے تیور بھانپ کر حفظ ِماتقدم کے طور پر ایک سستا  تیز خوشبو والا سگریٹ سلگا کر پہلا کش لے چکا تھا۔ یہ بات سن کراپنی چھوٹی نیلی گلگتی آنکھیں سکیڑ کر کہنے لگا “امارے صاحب کا آج آپ کے مطابق شادی ہے سوئم نہیں کہ ہم مزار سے پھول لے کر آتا”۔

مینا کی پھوپھی نازلی، کا شمار اب سے پندرہ بیس برس پہلے تک تو شہر کی ہٹیلی،کٹیلی طوائفوں میں ہوتا تھا۔ شعیب اختر کے انگلینڈ اور آسٹریلیا کی پچوں پر پہلے اوور کی لہراتی، اچھلتی،حملہ آور گیندوں کی مانند خوف زدہ کرتی ہوئی جوانی۔ موسم سرما میں خلیج کی ریاستوں سے آئے ہوئے مہمان اس کی جسمانی رفاقت کو تلور کے گوشت کی اثر انگیزی اور اپنی مردانگی کا Forensic Test سمجھتے تھے۔ صبح ء وصال،دم ِرخصت ان جلیل القدر مہمانوں کی جانب سے’الوداعی کلمات کا اختتام ’واللہی انتَِ رائعتہً جداً،واللہی انت حبیبتی روحی“ (آپ بہت amazing ہیں اور ٓپ تو میری روح کی راحت ہیں )پر ہوتا تھا۔ ان کے جواب میں وہ بھی  جلدی جلدی لباس بدن پر چڑھاتے ہوئے، مشکل سے سمائے ہوئے ہمالیہ اور کے ٹو کے مدور پہاڑوں کو گریباں سے تقریباً باہر انڈیلتے ہوئے ہندی پرنام اور جاپانی کورنش کے ساتھ عربی میں کہتی تھی ”انا جاریہ و انت ملکً“ یعنی (میں تو ایک لونڈی ہوں،بادشاہ تو آپ ہیں)۔

دھندے کے طور طریقے میں رقم کے لین دین کے زیادہ ترمعاملات تو ان عیش کدوں میں آمد سے پہلے ہی طے ہوچکے ہوتے تھے مگر پرانی دہلی والیاں کہتی تھیں کہ”رنڈی کا جی ،ہنڈی میں “ تو اسی مصداق ”انا جاریہ و انت ملکً“ کے ورد بابرکت میں وہ ”اکھ لڑے بدو بدی“‘کے ایکسٹرا ٹھمکے پر زیر لب پنجابی میں ”مینوں نوٹ وکھا تے میرا موڈ بنا کے“ ساتھ بخشش مانگنا نہ بھولتی۔ وہ دن تو پچھلے چند برسوں سے لد گئے تھے۔ ان دنوں البتہ کچھ ایسا عالم تھا اب یہ وجود لٹی محفلوں کی بے پایاں بازگشت یا اوائل سردیوں کی ڈھلتی شام لگتا تھا۔

چند برسوں سے یہ بھی ہوچلا تھا کہ نائیکہ نازلی محافل مجرہ میں مفت کی شراب زیادہ ٹکا لیتی تو وہ سازندے جو اس سے پہلے صرف کبھی مالی فوائد اٹھا پاتے تھے اب اس کے عالم نیم خود آگاہی اور کامل مدہوشی میں جسمانی طور پر کبھی مدھیم  تو کبھی پنچم ٹھاٹ کا راگ سمجھ کر ا سے برتنے سے باز نہ آتے تھے ۔رات کے یہ سریلے ہم سفر اس مسلک مفاہمت اور راضی بہ رضا کے پیروکار تھے کہ جہاں سے بھات ملے کھالو جہاں جگہ ملے وہاں لمبے پڑ جاؤ۔یہ تو آپ جانتے ہیں کہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں سات سر ہوتے ہیں۔جنہیں آپ تو سا، رے،گا،ما،پا،دھا،نی کی آسان مختصر نشانیوں سے جانتے ہیں۔ وہ جو اصل گنیُ اور سرُ ساگر کے غوطہ خور ہوتے ہیں۔ وہ ہی جو نازلی بیگم جیسی ڈیرے دارنیوں کے آستانہء ہائے ابلیسیہ میں شہوت و نغمگی کے چراغ روشن کیے رہتے تھے،وہ انہیں شدُ(سا)،ریشب(رے)،گندھار(گا)،مدھیم(ما)،پنچم(پا)،دھے وت(دھا) اور نشد (نی)کے سریلے ناموں سے پہچانتے تھے۔

سات آٹھ سال پہلے وہ یعنی مینا کی پھوپھی، نازلی جب ایک میمن سیٹھ کی ملازمت سے آزاد ہوئی تو اس نے رول تبدیل کرلیا۔ وہ اب اپنے بنگلہ فاضلکہ گھرانوں میں نائیکہ کے مدار المہام(مرکزی مقام) پر پہنچ گئی تھی۔ ایسا نہ کرتی تو خلیج کے شکاری مہمانوں سے پاکستان کے خارجہ تعلقات میں ان چاہی اڑچن پڑسکتی تھی۔
اُسے اپنی جوانی کے آغاز میں ہی مردوں کے جوابات میں حیلے بازیاں اور عیاریاں تلاش کرنے کا گُر آگیا تھا۔ گلگتی ڈرئیور پر اس نے نفرت کی ایک نگاہ ڈالی، اپنی ناک کو ایک مشہور گلوکارہ کے انداز میں خاص انداز سے چڑھا کر، حقارت بھری ‘ہوں ‘منہ سے نکالی اور اسے کمبخت کام چور، نکما کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔اس طرح کے بے شمار حیلہ ء جُو مرد،اُس کی زندگی میں پولی تھین کی استعمال شدہ تھیلیوں کی مانند ادھر ادھر اڑتے پھرتے تھے اور وہ ان ناکامیوں کا دل پر زیادہ اثر نہیں لیتی تھی۔ان دنوں سرکار کی جانب سے تیس مائیکرون کی پولی تھین تھیلیوں کی خرید و فروخت اور استعمال پر کوئی پابندی نہ تھی لہذا ایسی تھیلیاں ہر جگہ خس و خاشاک کی مانند اُڑتی پھرتی تھیں۔

پھول نہ ملنے میں قصورمینا کا بھی تھا جوبمشکل پندرہ برس کی تھی اور اس کے ساٹھ سالہ دولہاپیر اکبرشاہ کا بھی۔مینا نے اس شادی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔وہ بدن،عمر اور سوچ کے لحاظ سے کافی ایڈوانس تھی۔جو کچھ اس رات اس کے ساتھ ہونا تھا وہ کوئی پوشیدہ امر نہ تھا۔ ہیرا منڈی کے کوٹھوں چوباروں اور محافل شبینہ میں یہ روز مرہ کی داستان تھی۔یوں بھی وہ قدرے سخت دل تھی۔قد اسکا پانچ فیٹ آٹھ انچ،بدن سپر ماڈلز جیسا مگرسموچا ہوا۔ ان فاقہ زدہ ماڈلزکی طرح کا لکڑی کے چھبتے ہوئے ہینگر پر لٹکے بے آباد ملبوس جیسا نہ تھا۔بھرے بھرے دعوت نامے جیسے ہونٹ،سیاہ بڑی بڑی آنکھیں کہ جن کو سرمہ فروش بھی آہ بھر کے اور دشت آہو رم کرکے(ہرنوں کا جنگل میں خوشی سے کدکڑے لگانا) دیکھتے تھے۔اس پر دوران رقص یا چال میں مستی کے عالم میں کولہے ایسے گھماتی تھی جیسے دنیا بھر کے ٹاپ اسپنرز پر مشتمل   ایک ورلڈ الیون کے بالرز ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی گیندوں کو گھماگھما کر پھینک رہے ہوں ۔ وہ میڈیا کی ڈارلنگ ارب پتی کم کردیشیاں بہت بعد میں آئی ورنہ وہ جو اپنے سرجری یافتہ کولہوں پر اتنا اتراتی ہے وہ مینا کے کولہے دیکھ کر گھر سے باہر نکلنے کا فیصلہ ہی ترک کردیتی۔

ہیرامنڈی

اسکے حسن میں، اس سے بھی بڑھ کر ایک عجب بات تھی۔ وہ اپنے احساسِ جمال سے بے گانہ تھی ۔ اس کی یہ بے گانگی جوانی کے شعور اوراپنی دلربائی کی بے شعوری کے شاداب،چھتنار، مست ہوواؤں میں ڈولتے جنگل کی حدودمیں پہاڑی جھرنوں کی روانی سے قلقل کرتی بہتی تھی۔اسے دیکھ کر ناصر کاظمی مرحوم کا وہ شعر بے اختیار زبان پر آجاتا تھا کہ ع
ہر ادا، آبِ رواں کی لہر ہے
جسم ہے کہ، چاندنی کا شہر ہے
پرانے کپڑوں کے بیوپاری کم بخت پیر اکبر شاہ سے کوئی پوچھے کہ بھئی یہ سب کچھ کرنا تھا تو لڑکی پر توجہ کرتے پر شاہ صاحب مجبور بھی تھے،دل ہی دل میں مینا پر مر مٹے تھے اور مروت کے مارے ہوئے بھی تھے۔اپنی اس شادی کی قیمت انہوں نے نقد تین لاکھ روپے کی صورت میں ادا کی تھی۔باہر کے لوگ اس سلسلہء جنسی وصل بالمعاوضہ کو رسمِ نتھ کشائی کہتے تھے۔ یہ نوخیز طوائف کا پہلا باقاعدہ مرد ہونے کا معاوضہ تھا۔اندر والے یعنی اس پیشے سے متعلق لوگ اسے شادی کے بے ضرر نام سے پکارتے تھے۔

اکبر شاہ کے گھر کی گلی

ساری شام، وہ مینا کی پھوپھی نازلی ،والدہ،اور ایک ملازمہ کو لئے لئے کبھی پنڈی کے باڑہ بازار،کبھی شکر پڑیاں تو کبھی جناح سپر مارکیٹ گھومتا رہا۔،مغرب کی نماز سے پہلے وہ ایک مزار پر پہنچ گئے۔ پیر اکبر شاہ سے پیسے لے کر پھوپھی نازلی نے نیاز کی ایک دیگ بطور لنگر تقسیم کی۔ خادم سے سب کے لئے دعائے خیر کرائی۔پھوپھی کا خضوع وخشوع دیکھ کر وہاں موجود ایک خادم نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر مزار کی جالی پکڑ کر سر جھکا کربٹھا دیا۔جب وہ مزار کی جالی پکڑ کر بیٹھ گئی اور ماتھا اسٹین لیس اسٹیل کی جالی پر ٹکا دیا تو اس نے نا زلی کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے اس کے سر پر زبردستی ایسے سرکا دیا کہ وہ شانوں کے پیچھے چلا گیا۔اپنے ہاتھ سے اس کا سر یہ کہتے ہوئے جھکادیا کہ ” ادّب، کڑیے ادّب،پیر راضی تے رب راضی “۔ اس تکرار کے ساتھ اس کی نگاہیں نازلی کے کھلے گلے کے دھندلے آسماں میں بھٹکنے لگیں،جہاں پچھلی راتوں کے دو اُداس چاند،آتی جاتی سانسوں کے تلاطم میں ہلکے ہلکے تھرتھراتے تھے۔
ایسا نہیں تھا کہ پھوپھی نازلی کو خادم کی نگاہوں کی آوارگی کا شعور نہ تھا، پر وہ اپنی ساری توجہ دعا اور آنے والے دنوں کے اندیشوں پر مرکوزکیے بیٹھی تھی۔ خادم اب آہستہ آہستہ اس کو مورچھل سے چھورہا تھا،عود و لوبان کی لپیٹوں اورماحول کے تقدس سے اپنی بھابھی کو یعنی مینا کی امی کو بھی دوپٹے کی کنار سے دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو رواں تھے۔
نازلی کی بھابی سعیدہ نے مینا کو پالا تھا۔ اسکی اصلی ماں،نیلوفر،جاتے ہوئے مینا کو اسی کے حوالے کرکے گئی تھی۔اس لحاظ سے مینا اب اس کی بیٹی تھی۔.

ویسے تو اس گھرانے میں اپنے مردوں کی اولاد سے پیشہ کرانے کا رجحان نہ تھا مگر مینا کو ایک تو بھابی سعیدہ نے پالا تھا وہ اس کی اپنی اولاد نہ تھی۔پھر اُس کے ا پنے بھی چھ بچے تھے۔ لہذا ان کی کفالت کا سار ا بوجھ بھی نازلی پر آن پڑا تھا۔۔ ان سب کا خرچہ اکیلے چلانا اس کے بس میں نہ تھا۔اس کی اپنی کوئی بیٹی نہ تھی۔ جسے وہ پیشے میں ڈالتی۔اسے اپنے بھائی کو سمجھانے میں تو کوئی مشکل پیش نہ آئی مگر بھابی سعیدہ کو سمجھانے میں کافی وقت لگ گیا کہ مینا کو پیشے میں ڈالنا ہے۔مینا کے ماں کے آنسو جو مزار پر ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے اسی سلسلے کی آخری کڑی تھے۔
کراچی سے جب یہ قافلہ چلا تو یہ کل آٹھ افراد تھے۔مینا اور اس کی والدہ، پھوپھی نازلی، مینا کی دوکزن نمو اور تانی ایک بوڑھی ملازمہ اور ساٹھ برس کا دولہاپیر اکبر شاہ جس نے اپنی کار ڈرائیور کے ساتھ تین دن پہلے ہی کراچی سے روانہ کردی تھی۔
پیر اکبر شاہ کے دو جگری دوست امجد خواجہ اور منّاف تینوں دوستوں نے مل کر اسلام آباد کے اس مشہور ہوٹل میں پانچ کمرے لئے۔کمرے حاصل کرنے کے لئے استقبالئیے پر امجد خواجہ کو آگے کیا گیا۔وہ اسلام آباد سے زیادہ واقف  تھا۔اس کا ماموں ان دنوں وہاں وزیر تھا۔وہ اپنی خود اعتمادی اور رکھ رکھاؤ کے باعث خود بھی اسمبلی کا ممبر یا کوئی اہم  شخصیت دکھائی دیتا تھا۔جب ایسے اہم موقعے  آتے تو وہ مناف کو دور بٹھا کر اپنے موبائیل فون پر کال کرنے کو کہتا۔کال کے آتے ہی امجد خواجہ کہنا شروع ہوجاتا کہ “دیکھیں آئی۔ جی صاحب یہ آپ کا ڈی۔آئی۔ جی ملتان اپنی حد سے بڑھ رہا ہے، یا کبھی کہتا کہ ہوم سیکرٹری صاحب آپ فکر نہ کریں۔آپ اس سپرنٹنڈنٹ جیل کے پوسٹنگ آرڈر آج جاری کردیں۔میں نے چیف سیکرٹری کوبھی کہہ دیا ہے،چند دنوں میں وہ سی۔ایم سے بات کرکے آپ کا   امریکہ کا دورہ بھی منظور کردیں گے۔ایسا کرتے ہیں اس ویک اینڈ پر بیٹھ جاتے ہیں کہیں سے ملاگرو کی سلورٹکیلا Milagro Silver Tequilla آئی ہے، مگر آپ تو سر کچھ بد ذوق ہیں، بس بڈوائزر کی بیئر پی کر خوش ہوجاتے ہیں۔ وہ آپ اس انٹیلی جنس والے کو ساتھ مت لانا۔وہ سالا اسمال کراکری ہے(یہ پنجابی کے محاورے نکا بھانڈا یعنی چھوٹا برتن جو جلد چھلک جائے کا انگریزی ترجمہ تھا)”۔دوسری طرف مناف بونڈ والا اس کا کاٹھیاواڑی دوست اسے گالیاں دے رہا ہوتا “سالا حرامی!چور کا بچہ! اکیمکل کا کباڑی !سالے نقشہ دکھا رہا ہے،امپریشن مارتا ہے۔ ریسپشن والی ممانی کو،بتادوں تیرے آئی۔ جی کی بہن دی سری، ہوم سیکرٹری نہیں تیرا باپ مناف بونڈ والا بول رہا ہے ” ۔

ملاگرو کی سلورٹکیلا

ا س فراڈ میں ان تین نو دولتیوں کے کام اکثر جگہوں پر آرام سے ہو جاتے تھے۔پولیس کے جونیئر افسر، میونسپلٹی کے انسپکٹروں اور دیگر پرائیوٹ اداروں کے ملازمین اس نقشے بازی کی لپیٹ میں جلد آجاتے تھے۔
امجد خواجہ نے استقبالیئے پر ضد کی کہ سارے کمرے ایسے ہوں کہ جن سے مرگلہ کی پہاڑیوں کا نظارہ کیا جاسکتا ہو” “Sir all rooms with the view۔اس نے ریسپیشن پر ہوٹلوں میں مروج ایک مخصوص اصطلاح انہیں متاثر کرنے کے لیے استعمال کی تھی۔ ایسا نہ ہوا۔ بہت ہی ردوکد کے بعد ایسے صرف دوکمرے مل پائے جس میں ایک تو اس نے اپنے اورنموکے لئے رکھ لیا اور دوسرا پیراکبر شاہ اور مینا کو کو حجلہ ء عروسی کے طور پر دے دیا۔باقی تین کمرے مناف، تانی اور باقی لوگوں کے حصے میں آگئے۔

ہوٹل
مارگلہ پہاڑ
مارگلہ ہلز کا نظارہ

جب پھوپھی نازلی، مینا کی والدہ اور دیگر افرادپیر اکبر شاہ کے ساتھ اسلام آباد کی سیر کو نکلے تو مینا کمرے میں سو چکی تھی، اسے جگانا مناسب نہ سمجھا گیا، پھوپھی کو پتہ تھا کہ اسے رات کو جاگنا پڑے گا۔انہیں یہ اطمینان تھا کہ پیچھے امجد، تانی، مناف اور نمو موجود ہیں۔پھوپھی نے تانی کوہدایت کی کہ اسے سونے دے مگر کچھ دیر بعد نمو نے ضد کی کہ اس  نے بھوربن نہیں دیکھا، لہذا وہ اس کی سیر کرنا چاہتی ہے۔ پروگرام بنتے ہی یہ چاروں بھی چپ چاپ مینا کو سوتا چھوڑ کر چل دئیے۔ مناف کا کہنا تھا کہ ہوٹل سیف جگہ ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں اور تانی کو اطمینان ہوگیا۔

بھوربن

مینا کی سنیئے، وہ کوئی ساڑھے گیارہ بجے کے قریب نیند سے بیدار ہوئی۔ وہ اس طرح کے ہوٹل میں پہلی دفعہ ٹھہری تھی۔اسے نہ کسی کے کمرے کا نمبر یاد تھا۔ نہ ہی اسے پتہ تھا کہ ہوٹل میں بغیر پیسوں کے کھایا پیا کیسے جاتا ہے۔اسے ایسا لگا کہ اس بہت بڑے ہوٹل میں وہ واحد مہمان ہے۔روم کے منی بار میں رکھے سب چپس اور مونگ پھلی کے پیکٹ او ر مشروبات وہ جلدی ہی ختم کر بیٹھی۔ ٹی وی کے چینل بدل بدل کر وہ تھک چکی تھی۔تنگ آن کر  پردہ ہٹا کر  باہر کا منظر دیکھنے لگی اور موبائیل فون پر اس نے تانی کو کال کیا مگر اس نے جب بتایا کہ وہ بھور بن میں گھوم رہے ہیں تو مینا کو برا نہ لگا۔اسے پھوپھی نازلی کے ہاں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ رشتوں اور بزنس کی ٖحد کہاں شروع اور ختم ہوتی ہے۔
نمو اور تانی دونوں امجد خواجہ اور مناف کے خرچے میں تھیں اور رسم و رواج طوائفاں کے حساب سے وہ اپنے مردوں کے ساتھ تھیں۔انہیں ڈسٹرب کرنا نامناسب تھا۔دوپہر کے ڈھائی بجے تک مینا کا بھوک سے برا حال ہوگیا تو وہ تیار ہو کر ہوٹل کی  لابی میں آبیٹھی۔طبیعت میں چونکہ خود اعتمادی اور نگاہوں میں بے باکی تھی لہذا اس کے چہرے پر پریشانی کے کوئی اثرات نہ تھے۔حسنِ بے پرواہ کی اس تنہائی اور بے مدافعت  جلوہ نمائی نے کافی لوگوں کو اکسایا کہ وہ اس کو لائن ماریں اور اس کی توجہ حاصل کرلیں۔ اسلام آباد میں لوگ ویسے بھی آدھی روٹی پر دال لیے ہر وقت موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔وہ اسے گیم سمجھ کر بہانے بہانے سے اس کے گرد منڈلانے لگے اور اسے لبھانے کی سعئی ناکام میں لگ گئے۔اپنی بھوک اور اس بے جا توجہ سے تنگ آن کر وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کاؤنٹر پر چلی گئی جس پر بیٹھی ہوئی خاتون اسے نرم خو اور قابلِ گفتگو محسوس ہوئی۔ارادہ یہ تھا کہ وہ اسے اپنی الجھن بتائے گی کہ   وہ بغیر پیسے کے کھانا کیسے کھائے۔اس دوران اس نے یہ نہ دیکھا کہ یہRent-a-Car کا کاؤنٹر ہے۔ اس بی بی کے پاس پہنچ کر اس نے اپنی محدود انگریزی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
Miss I want to eat” . “(میں کھانا کھانا چاہتی ہوں)۔اس نے بہت آہستہ سے کہا۔
کاؤنٹر پر بیٹھی بی بی مسکرائی اور کہنے لگی۔”Go Ahead”(دیر کس بات کی ہے؟) یہ مینا کے لئے دشوار مرحلہ تھا۔وہ اردو بولنے پر اتر آئی، اس نے بتایا کہ وہ کس کمرے میں ٹھہری ہے اور دشواری یہ ہے کہ اس کے پاس پیسے نہیں۔ اسے بہت بھوک لگی ہے۔کاؤنٹر والی بی بی نے اسے ریستوران میں کھانا کھا کربل سائین کرنے کا طریقہ بتایا۔
“ہوسکتا ہے ویٹر اس سے ثبوت مانگے تو وہ کیا کرے گی؟” یہ سوال اس نے محض مینا  کو چھیڑنے کے لئے کیا تھا۔
“ثبوت تو میری پھوپھی کے ساتھ ہے “۔مینا کی مرادپیر اکبر شاہ سے تھی مگر وہ بی بی یہ بات نہ سمجھی
“کمرے کی چابی کہاں ہے؟ “بی بی نے پوچھا
جب مینا نے چابی اسے دکھائی تو اس نے مشورہ دیا کہ ” اگر وہ ثبوت مانگیں تو یہ چابی دکھا دینا۔ویسے وہ چاہے تو کمرے میں بھی کھانا بذریعہ فون  منگا سکتی ہے وہ کمرے میں رکھے ہوئے فون کے اوپر جب دیکھے گی تو ایک جگہ اسے روم۔سروس لکھا ہوابٹن نظر آئے گا وہ یہ بٹن دبا دے اور جو کھاناہے، وہ فون پر منگا لے، وہ کھانا لے کر کمرے میں آجائیں گے۔مگر چونکہ وہ اکیلی لڑکی ہے لہذا یہ وہ نہ کرے”۔
“وہ کیوں “؟مینا نے پوچھا۔
“وہ اس لئے کہ وہ اکیلی ہے اور مردوں کا کوئی اعتبار نہیں “کاونٹر والی خاتون نے جو اپنا نام لائبہ بتاچکی تھی اسے سمجھایا۔
“اسے مردوں سے ڈر لگتا ہے؟” مینا نے پوچھا۔
“تمہیں نہیں لگتا ان سے ڈر؟”لائبہ تفریح لینے کی غرض سے پوچھنے لگی۔
“مجھے تو مردوں سے ڈر بالکل بھی نہیں لگتا، یہ تو بچپن سے ہی ہم سے مار کھاتے چلے آئے ہیں “۔مینا نے اپنی دانست میں ایک سیدھا سا جواب دیا۔میری پھوپھو نازلی کہتی ہیں کہ “لڑکے جب پیدا ہوتے ہیں تو خود سے سانس نہیں لے سکتے۔دائی انہیں الٹا لٹکا کر ان کے باٹم(کولہوں) پر زور سے چپت لگاتی ہے، درد کی وجہ سے وہ رونے لگتے ہیں اور اسطرح ان کی   سانس چل پڑتی ہے”۔رینٹ اے کار والی لائبہ کو محسوس ہوا کہ یہ لڑکی جسے یہ نہیں پتہ کہ  ہوٹل کے کمروں میں رہنے والے بغیر پیسوں کے کھانا کیسے کھاتے ہیں ناتجربہ کار تو ہوسکتی ہے پر نادان ہرگز نہیں۔
”اب بتاؤ تمہیں ڈر لگتا ہے؟“۔مینا نے سراسر ایک طالبعلمانہ تجسس کے تحت اس کی راہ فرار بلاک کرتے ہوئے پوچھ لیا۔
”پیار کی پہلی غلطی کے بعد بہت دن تک لگتا تھا۔اب لگتا ہے معاملہ غلطی کا نہیں گنتی کاہے۔“ لائبہ نے اپنی دانست میں بہت گہری بات اس پندرہ برس کی لڑکی سے کی۔اسے توقع نہ تھی کی مینا کا اگلا سوال ایک ایسی وکٹ۔شکن یارکر(،وہ گیند جس کا گرتے وقت بیٹ، پیروں اور وکٹوں کے مابین بہت ہی کم فاصلہ ہو) ہوگی جس کا  لائبہ کووہم و گماں بھی نہ تھا۔
”تو پھر آپ نے غلطی ٹھیک کی یا گنتی؟“ لائبہ اس سوال سے کچھ ہڑبڑاسی گئی۔ممکن ہے سوال جواب کا یہ ٹینس میچ اور دیر تک جاری رہتا۔ وہ اس سے زندگی کے کچھ اور راز جان پاتی مگر اس کے کاؤنٹر پر کچھ لوگ آگئے اور مینا یہ فیصلہ کرکے کہ وہ کھانا اپنے کمرے میں کھائے گی اسے” می گو بائی ” Me Go.Bye.کہہ کر چل پڑی۔

rough guide

کسی بڑے ہوٹل میں مینا پہلی اور آخری دفعہ پریشان ہوئی، چار برس بعد یعنی جب اس کا شناختی کارڈ بنے ایک سال ہوگیا تھا،اسے مختلف ہوٹلوں کے کمروں کے کرائے، سرکاری افسروں کو ملنے والے ڈسکاونٹس،کمپنی کو ملنے والے ریٹ،ان میں کام کرنے والی مختلف خواتین کے معاشقوں اور مختلف منیجروں کی گھریلو ناچاقیوں کا ایسا علم ہوگیا تھا کہ وہ ان ہوٹلوں کے بارے میں ایک رف گائیڈ  لکھ سکتی تھی۔ع ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

کمرے میں پہنچ کر مینا نے اپنے لئے کھانے کا آرڈر دیا اور ٹی وی لگادیا۔کسی چینل پر اسکا پسندیدہ گانا۔” تال سے تال ملا” آرہا تھا۔وہ ایشوریا رائے کے انداز میں ناچنے لگی،۔اسے ناچنے کا بہت شوق تھا، اس کی پھوپھی نازلی اور اس کی اپنی نیلوفر ماما،دونوں ہی اپنے زمانے کی مشہور ڈانسرز تھی۔ہیرا منڈی میں ان کے پائے کی کوئی اورڈانسر نہ تھی۔یہ فارم ہاؤس مجروں پر کم کپڑے اور بیلے ڈانسرز والے لوازمات تو اب ذرا عام ہوئے ہیں۔ شیوخ العرب کی ناز پروری سے نازلی اور نیلوفر دونوں ہی سن ستر کے اواخر میں اپنے اماراتی مہمانوں کی خاطریہ اہتمام کیا کرتی تھیں۔مہمان دلدار اور دلدادہ، جیب سے ٹپکنے والی دولت سے بے نیاز ہوں تو پھر یہ جون ایلیا اور ناصر کاظمی کے اشعار جیسے مختصر کپڑے بھی ان کے بدن سے دور ہو کر مشتاقان دید و ہوس کی گود اور قدموں کی زینت بن جاتے تھے۔مینا نے انہی کی زیر تربیت رہ کر اور ا نہی کو ناچتا دیکھ کرخود بھی بہت اچھا ناچنا سیکھ لیا تھا۔

اسی اثنا میں دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے ٹی وی آہستہ کرکے پہلے تو دروازے میں نصب شیشے کی چھوٹی آنکھ سے باہر جھانکا۔اسے برتن اٹھائے ایک ویٹر نظر آیا تو اس نے دروازہ کھول دیا۔اور جب وہ اندر آیا تو کہنے لگی “سر! برتن ٹیبل پر رکھ دیں “۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ویٹر کو کسی نے نہ صرف” سر” کہا تھا۔جب اس نے بل اسکی طرف بڑھایا تو اس نے کہا کہ” اس کے پاس پیسے تو نہیں “، ویٹر جس کے حوصلے سر” پکارے جانے اور اس کی ناواقفیت اور معصومیت کی بنیاد پر یکلخت بغیر آکسیجن کے جرات کے ماوئنٹ ایوریسٹ پر چڑھ گئے تھے۔ کہنے لگا کہ” اس سے تو مشکل ہوگی۔اگر وہ اجازت دے تو وہ فون سے اپنے منیجر سے بات کرلے”۔مینا نے کہا “اس نے نیچے ریسپشن پر پوچھا تھا کہ کھانا کھانے کا کیا طریقہ ہے۔ انہوں نے یہ ہی طریقہ بتایا تھا”۔ اس کی بات سن کر ویٹر کو یقین آگیا کہ جسے وہ بھولی اور نادان سمجھے بیٹھا ہے وہ ایسی جھلّی بھی نہیں کہ اس کا حربہ کامیاب ہوجائے۔”کہنے لگا میڈم وہ ہی ہماری منیجر صاحبہ ہے۔آپ نے پوچھ لیا ہے تو پھر خیر ہے، بڑی سخت ہے۔میں تو کچن سے کھانا لایا ہوں ممکن ہے انہوں نے کچن کو کہہ دیا ہو۔مگر آپ کو پسینہ کیوں آرہا ہے؟”۔مینا اس کی  نظروں کو پڑھ رہی تھی۔وہ اسکی باڈی لینگوج سے سمجھ گئی کہ ویٹر کمرے میں بلاوجہ رکنا بھی چاہتا ہے اور اس کی قربت کا بھی خواہشمند ہے۔اس نے کہا “آپ اب جائیں۔مجھے کھانا کھانا ہے۔ یہ ٹھنڈا ہورہا ہے۔”اس نے بل خاموشی سے آگے کیا اور چپ چاپ تھینک یو کہہ کر ٹپ کی امید رکھے بغیر فرار ہوگیا۔

عورت،باڈی لینگویج سمجھنے میں بہت طاق ہوتی ہے۔آپ نے کبھی سوچا ایسا کیوں ہے؟ یہ اس کی  بقا کا معاملہ ہے۔ویسے بھی عورتوں کو بہت آغاز میں ہی کسی نہ کسی طور بچوں سے واسطہ پڑتا ہے۔بچوں پر ایک دور ابتدا میں ایسا ہوتا ہے۔جب وہ باقاعدگی سے الفاظ کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں مگر اسکے باوجود ماں اور دیگر عورتیں جن میں تین سال کی بہنیں تک شامل ہوتی ہیں،ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے رہتے ہیں۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ وہNon-Verbal Communication(بغیر زبان کی گفتگو)سمجھنے میں ماہر ہوجاتی ہیں۔
ان سب مراحل سے فراغت کے بعد مینا کو ایک احساس تنہائی تنگ کرنے لگا۔وہ جانتی تھی کہ رات اس کے ساتھ کیا ہوگا ۔یہ خیال کہ وہ اب ایک ایسے مرد سے وابستہ ہوجائے گی جس کی عمر اس کے چھ بچوں کے باپ یعنی اپنے اصلی ماموں کے برابر تھی۔  مگر اسے یہ بھی پتہ تھا کہ یہ ساتھ بمشکل سال دو سال کا ہوگا۔اس دوران اسے مجروں پر جانے کی اجازت بھی ہوگی۔
اپنے احساس تنہائی کو دور کرنے کے لئے اس نے باہر کے منظر کا جائزہ لینے کے لئے پردے کو جھٹکے سے جو کھینچا تو ایک چوتھائی پردہ کھونٹیوں کی قید سے آزاد ہوکر لٹکنے لگا۔وہ گھبرائی کہ اب کیا ہوگا۔ اسی گھبراہٹ میں اس نے پھر روم سروس والوں کو فون کردیا۔وہ کہنے لگے کہ وہ تو کھانا کمرے میں بھیجنے کے پابند ہیں مگر وہ فکر نہ کرے وہ کسی کو اوپر بھیجتے ہیں۔اس نے بھی اپنی خود اعتمادی کو آزمانے کے لئے شوخی دکھائی اور کہنے لگی ”اوپر تو اللہ میاں ہیں۔ آپ انہیں کمرے میں بھیجیں“۔روم سروس کے فون پر اسے لگا کہ وہی ویٹر ہے وہ کہنے لگا ”آپ کی خاطر وہ اور ہم دونوں اللہ میاں کے پاس بھی جانے کے لئے تیار ہیں“ ۔ کچھ دیر بعد دو لڑکوں کی ایک ٹیم پردہ ٹھیک کرنے پہنچ گئی۔
اس ٹیم نے جو پردہ وہ پانچ منٹ کے اندر ٹھیک کرسکتے تھے اسے ٹھیک کرنے میں پورا پون گھنٹہ لگایا۔، کن انکھیوں سے وہ بھی دیکھتی رہی کہ یہ دونوں لڑکے اسے تاڑے جاتے ہیں۔ جب اس کے اندازے سے کچھ زیادہ ہی وقت صرف ہونے لگا تو اس نے ان کا گلا خشک کرنے کے لئے کہا کہ”یہ آپ لوگ مجھے دیکھنے آئے ہیں یا پردہ ٹھیک کرنے۔اگر دیدے قابو میں نہ رہتے ہوں تو میں ریسپشن پر فون کرکے انہیں بتاؤں کہ آپ کیا مخول کر رہے ہیں؟“۔ یہ سننا تھا کہ مینا کو لگا کہ اس دھمکی نے پردے اور لڑکوں دونوں کو ٹھیک کردیا ہے۔انہوں نے تسلی کی خاطر اُسے دو تین مرتبہ پردہ آگے پیچھے کھینچ کر،چلا کر بھی بتایا اور ایک دفعہ خود مینا نے بھی ان کے سامنے اسے کھینچ کر دیکھا اس ٹیم کے جانے کے بعد اس نے کمرے کی آرائش کا جائزہ لیا۔ کسی اعلیٰ ہوٹل میں ٹھہرنے کا یہ اس کا پہلا اتفاق تھا۔اسے اس کمرے کی سجاوٹ میں بڑا قرینہ دکھائی دیا۔یوں ہی جائزہ لیتے لیتے وہ بے ارادہ باتھ روم کی طرف چل دی۔یوں تو اسے یہ پورا ہوٹل ہی اچھا لگا تھا پر باتھ روم دیکھ کر وہ دنگ رہ گئی۔ چھوٹی بوتلوں میں شمپو، باڈی لوشن جانے کیا کیا بھرا تھا۔ مختلف سائز کے سفید اجلے تولئیے ایک سلیقے سے ٹنگے تھے۔گول گول صابن کی ٹکیاں پنیوں میں لپٹی تھیں۔لش لش کرتے ٹائل،جگمگاتے تیزدھار نلکے اور فوارہ۔ سب ہی عین اس کی منشا کے مطابق تھے۔
پیر اکبر شاہ کے ساتھ وہ جب تین راتیں کمرے میں گزار کے روانہ ہوئی تو اس نے اپنے سستے سے چیک والے اٹیچی کیس میں یہ سب بوتلیں اور صابن کی ٹکیاں ڈال لیں۔ پیر اکبر شاہ تو فجر کی نماز کے بعد کمرے میں رات ہی کو آتا تھا۔وہ انتظار کرتی رہتی تھی کہ کب وہ صفائی والے اور ان کی ٹرالی آئے اور وہ ان سے یہ ایکسٹرا سامان ہاتھ کرلے۔
اس قیام اولیں کے بعد جب کبھی وہ کسی کے ساتھ اس طرح کے ہوٹل میں آئی وہ رخصت ہونے سے پہلے اپنے کر م فرما کی اجازت سے یہ سارا سامان بطور نشانی کے ضرور اٹھا لیتی تھی۔ اب یہ نشانیاں اسکے اپنے میلے اندھیارے باتھ روم کے سیمنٹ کی شیلف پر’چن کتھے گزاری رات وے‘ کے مصداق سجی رہتیں۔
وہ جب بھی نہاتی انہیں دیکھ کر یاد کرتی کہ اسے کون مل گیا تھا سرِ راہ چلتے چلتے۔پلاسٹک کی یہ بوتلیں اسے جتلاتی رہتیں کہ ان میں گزری ہوئی راتوں کی وارداتوں کے کون کون سے جن بند ہیں۔
ہوٹل کے باتھ روم کو دیکھ کر اسے اپنے گھر اور وہاں کاباتھ روم یاد آگیا۔گھر کیا تھا ہیرا منڈی کی ایک بلڈنگ میں بے ہنگم سے ڈھائی کمرے تھے،۔باتھ روم میں پلاسٹک کی جامنی بالٹی،لال پلاسٹک کا ڈونگا، پیتل کا نلکا، سیمنٹ کی سلیب پر رکھے اسکی ماں کے بنائے ہوئے منجن اور ابٹن کی بوتلیں،ٹوتھ پیسٹ، پرانے ٹوتھ برش،ٹوٹی ہوئی صابن دانی۔لکڑی کی بنی ایک چوکی پر یہ سب بیٹھ کر ڈونگے سے نہاتے تھے۔ایک دن نہاتے ہوئے مینا کے کولہے میں چوکی کی کیل چبھ گئی تو تین ہفتے تک وہ مجروں سے محروم رہی۔، ماں بھاگم بھاگ نیچے مارکیٹ سے پلاسٹک کی چوکی لے آئی۔جب مینا کی بہن اس پر رکھ کر کپڑے دھونے لگی تو میل اور صابن اس کی جھریوں میں یو ں جم گیا۔ مینا کا دل اس پر بیٹھ کر نہانے سے اوب گیا اور وہ کھڑے ہوکر نہانے لگی۔ اس میں ایک دشواری تھی، ہر دفعہ اسے ڈونگا بھرنے کے لئے جھکنا پڑتا تھا۔ایک دفعہ وہ یوں ہی جھک کر ڈونگا بھر کر کھڑی ہونے لگی تو سر پر سلیب زور سے لگی۔کھوپڑی سے خون نکل آیا۔
مینا کو کسی مہربان نے بتایا کہ یورپ  اور امریکہ میں لوگوں کے اپنے ہوائی جہاز ہیں اور ان میں بھی بڑے خوبصورت کمرے اور باتھ روم ہوتے ہیں تو مینا نے اسے اپنے دل کی آرزو بتائی کہ کاش اس کا بھی اپنا ایک Dedicated باتھ روم ہو۔ اُس میں ایک بڑا سا بے شرم آئینہ ہو۔ وہ لاکھ بدن چھپانے پر بھی اسے ندیدوں کی طرح دیکھنے سے باز نہ آتا ہو ۔اس آئینے کے اوپر جس پر جگ جگ کرتی لائٹیں لگی ہوں، نیک مردوں کے ضمیر کا سا سفید شفاف ٹب اور ٹائل ہوں۔چمکتے نلکے اور فوارہ ہو،بوتلوں میں بھرے شیمپو اور خوشبویات ہوں۔شیلف پر ایک گلدان ہو جسمیں وہ نیچے گجرے والوں سے منگا کر تازہ پھول سجائے۔جابجا لٹکے مختلف سائز کے تولیئے ہوں۔وہ دیر تک ٹب میں لیٹ کر اس کی کناری پر پیر جما کر جھاگ سے کھیلے، کتابیں پڑھے،میوزک سنے۔

باتھ ٹب
پرائیویٹ جیٹ

کچھ دیر بعد اس کی دونوں کزن نمو اور تانی ایک بیگ اور میک۔ اپ کا ونیٹی بکس لیے آگئیں۔نمو جس کا اصل نام نمرہ تھا وہ امجد خواجہ کی ملازمت میں تھی جو کیمیکل کا بڑا تاجر تھا۔ اس کی دکان بھی نئیپر روڈ کے ایک کنارے پرتھی۔نمو نے ایک بڑے اسکول سے او لیول کیا تھا۔والدہ کا پادری سے بہت اچھا سمبندھ تھا۔انگریزی بھی قدرے روانی سے بولتی تھی۔شکل اچھی تھی مگر ناچ گانے سے نابلد۔طبیعت میں بھاؤ اور لبھاؤ دونوں ہی کوٹ کوٹ کر بھرے تھے۔گروپ مجروں میں جاتی تو جیسے تیسے ٹھمکے لگالیتی تھی۔گاہک دور پرے کا ، دل کا اچھا اوربھاری جیب والاہو تو امجد خواجہ کو بتائے بغیر دوسرے کام کے پیسے بھی پکڑ لیا کرتی تھی۔
نمو کو یقین تھا کہ امجد خواجہ کی کزن بیوی کے والد کے مرتے ہی وہ اسے اپنی دوسری بیوی بنالے گا۔اس کا سسر یعنی ماموں ہی اس کاروبار کا روح رواں تھا۔نمو نے امجد کو باور کرایا تھا کہ ان کا واحد بیٹا بیوی کے کزن ہونے کی وجہ سے Down Syndrome کا شکار ہے۔ ایک رات عالم وحشت و وصال میں اس نے خواجہ جی کے بستر میں دماغ میں آئندہ پروگرام کا اسٹاک ایکسچینج کھول لیا۔ وہ اسے ” بتانے لگی ہر انسان میں 46 کروموسوم کے 23 جوڑے ہوتے ہیں اس میں 21 نمبر کروموسوم کی تیسری کاپی بھی اتنی خطرناک ہوتی ہے کہ کزن کی شادی میں بچہ جسمانی اور ذہنی پسماندگی کے ساتھ پیدا ہوسکتا ہے۔کاروباری امجد خواجہ ان لمحات لطف و نوازش میں نمو کی اکیس تئیس چھیالیس والی نمبروں کی اس گردان سے زچ ہوکر کہنے لگا ”چپ کر سالی ایک تو دکان پر حساب کتاب سے فرصت نہیں ملتی اور تو بستر میں بھی نیوٹن کی پھوپھی بن جاتی ہے“۔جس پر روہانسی ہوکر کہنے لگی ”جانو میں تو آپ کے بھلے کی کہہ رہی تھی۔بستر بھی اپنا ہے،میں بھی آپ کی ہوں،قدافی اسٹڈیم کا گراؤنڈ بھی تیار ہے۔ہمارا پیار کوئی لمیٹڈ اوور کا میچ تو ہے نہیں کہ اننگ ختم۔پرواہ نشتہ، اگلی باری پھر میرے سر دے سائیں میرے مفاہمت کے بادشاہ میرے اپنے زرداری کی ہی ہوگی“

ارے یہ تو ہم دوسری جانب نکل گئے۔ بات تھی مینا اورپیر اکبرشاہ کی شب عروسی اور دلہن کی تیاری کا ذکر تھا۔نمو کا خیال تھا کہ مینا کو شادی کے  جوڑے کے طور پر ساڑھی جو اس نے یہاں آنے کے لیے خاص طور پر خریدی تھی۔ وہ پہنا دیں۔اسے پہننے کے لیے پرنسس کٹ والے بلاؤز کے ساتھ دی مگر جب مینا نے کہا کہ اس کے پاس کوئی نئی برا نہیں تو نمو بہت ہنسی ”ارے چنگڑی(پنجابی میں بھنگن) یہ کمر پر بندھنے والی ڈوریوں والے بلاوز کے نیچے برا کون پہنتا ہے“۔جب مینا نے ساڑھی بلاؤز پہنا تو یہ دونوں بھی اسے تکتی رہ گئیں۔ مانو دیپکا پڈکون فلم گولیوں کی رام لیلا کے سیٹ سے اٹھ کر چلی آئی ہو۔معلوم نہیں یہ مینا کے سراپے  کا حسد تھا یا لمحات وصل اور   قطب ا کبر شاہ کی وحشتوں کے اندیشے، یہ بھی ممکن ہے کہ نمو کو ان دونوں کی دھینگا مستی میں اپنی قیمتی ساڑھی کے مسک جانے کا ڈر ہو۔اس نے مینا کے لیے ساڑھی کا بطور لباس عروسی کا خیال یکسر منسوخ کردیا۔تانی کو کوئی وجہ بتائے کہنے لگی” اے ساڑھی نوں پرے سٹ تو دس تانی مینو نو کی پہوانا(پہنانا) ہے؟“۔تانی اپنے ساتھ نیٹ کا دوپٹہ اور ایک برائڈل غرارہ سوٹ دبکے کی ہاتھ کی کشیدہ کاری والا ، مینا کے دلہن کے پہناوے کے طور پر لائی تھی۔ ایسے ملبوسات کا مناف بہت دیوانہ تھا۔ اس کے یارمناف بونڈ والے اورمنی چینجر میمن کولکھنو کی طوائفوں سے اس وقت ناقابل یقین حد تک عشق ہوگیا جب پہلے پہل اس نے اداکارہ رانی کی اور بعد میں اداکارہ ریکھا کی امراؤجان والی فلمیں دیکھیں۔

پرنسس کٹ بلاؤز
ریکھا ،امراؤ جان
دیپیکا

اپنی داشتہ تانی کوجو ریڈیو اور ٹی وی پر چھوٹے موٹے رول بھی کرلیتی تھی وہ کلکتہ کی گوہر جان اور لکھنو کی امراؤ جان سمجھتا تھا۔ اس نے سختی سے ممانعت کی تھی کہ وہ پنجابی میں گفتگو سے حتی الامکان گریز کرے۔ اس سے توخصوصی طور پر اردو معلی میں گفتگو کرے گی۔ مناف نے جتایا تھا ہم لوگ پہلے رہتے بھی بابائے اردو کے مزار کے پاس تھے۔۔
تانی نے لکھنوی تہذیب اور اردو سے اس بے پایاں محبت کا پوچھا تو بہت پہلے تھا مگرکچھ دنوں بعد ایک دن لمحات بے خودی میں بتانے لگا کہ ہم لوگ کا مپھت(مفت) کا پیلاسرکاری اسکول تھا۔اب ہم میمن لوگ کا اردو جبان (زبان) کا،خ، ف،قاف سالا کاہے کو ٹھیک ہونے کا۔اردو کا ماسٹر ایسا مارتا تھا کہ نیم کی بید سے چڈی پینٹ کے نیچے سے سالے ڈھیکے (میمنی میں کولہے) کی چمڑی اتر جاتی تھی۔اس کی وجہ سے میں نے اسکول چھوڑا ورنہ میرا بھی نام ڈاکٹرعطا الحق قاسمی کی طرح مشہور ہوتا۔اب تو ملی ہے تو میں نے بولا ماسٹر کی روح کو تیری اردو سے ایصال ثواب کا بندوبست کرلوں۔
یہ عاشق معشوق دونوں ساتھ ہوتے تو دوران گفتگوامیر مقام، والا حضرت،کنیز، ماحضرتناول فرمائیے گا جیسے شستہ کلمات لب لعلیں سے ادا ہوتے تھے۔ جون ایلیا کے اشعار کثرت سے پڑھے جاتے۔ یہ عجیب معاملہ تھا کہ یہ دونوں کزن اپنی انگریزی اور اردو کی وجہ سے اپنی ہم عصر دیگر طوائفوں میں بدیسی سنتا بنتا کہلاتی تھیں۔ تانی کی مرضی تھی کہ مینا شب عروسی میں امراؤ جان کی طرح کا لباس پہن لے۔ وہ مناف بونڈ والے کے لب و لہجے کی نقل کرتے ہوئے کہنے لگی۔ ”جان بہار آج پیار کی اوس میں بھیگتی اس رات میں گرارا (غرارہ) کرتی جیب(زیب) تن کیجئے۔ واللہ ہمارے اکبر بادشاہ تو  آپ کے جلووں کی تاب نہ لاکر بھک سے طور دال کا ڈھوکلا (گجرات کی مشہور ڈش) بن جائیں گے ،ایک دم چکاس“۔ تانی مناف کی طرح کندھے اچکا کر کہنے لگی ”سالی تہ جیب(تہذیب) تو ان لوگ پر کھتم (ختم)ہے۔ تم پنجابی اور ہم میمن تو چوکھے ڈھگے، گدھیڑے(خالص،بیل، گدھے) ہیں۔

اردو کالج کراچی
ڈھوکلا

مینا نے غرارہ کرتی پہن لی تو لگا کہ فلم مغل اعظم کے سیٹ سے مدھوبالا اٹھ آئی مگر نمو ایک دفعہ پھر مخل ہوئی اور کہنے لگی لنڈا کے کپڑوں کا پٹھان تاجر قطب اکبر شاہ بہت Basic سا مرد ہے۔ Keep it Simple ،Baby،اسے لباس سے زیادہ اپنے پیسے وصول کرنے میں دل چسپی ہوگی مینا کو Lube اور درد کی گولیاں دے دے اور گھر کا کوئی ریشمی شلوار سوٹ پہنادے۔
مینا کو سوپ اور سینڈوچ،مانع حمل گولی کھلاکر، کچھ ہلکا میک اپ کرکے اور سر پر لمبا سا دوپٹہ تان کر وہ رخصت ہوئیں تو پیر اکبر شاہ آگیا۔ اسے مسواک کرتے ہوئے باتھ روم میں آتے جاتے ہوئے،سر نیہوڑائے دلہن بنی پلنگ پر ٹیک لگائے مینا کن اکھیوں سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ان کے آپس کے ٓائندہ کے تعلقات پر موٹی موٹی چند باتیں بتائیں۔ مینا کو مجرے پر جانے کی اجازت ہوگی۔دوسرے مردوں کے بستر سے دور رہے گی۔تعلقات توڑنے ہوں تو اسے بتادے۔ یہ زبر دستی کا سودا نہیں۔مہینے کا حساب کرکے اس کے باقی پیسے واپس کردیں۔ جہاں وہ رہے گی وہ بلڈنگ اس کی اپنی ہے۔ اس وجہ سے پڑوسیوں سے تعلقات نہیں رکھنے۔عورت لوگ ادھر کا بات اُدھر کرتا ہے۔ہاتھ خرچے کے اسے ہر مہینے پانچ ہزار روپے ملیں گے۔سامنے کوئٹہ  بنگل زئی ہوٹل والے کو بتادے کہ  کھانے میں کیا بھیجنا ہے۔اس کے رشتہ داروں کو اس سے ملنے کی کوئی رکاؤٹ نہیں۔ اکیلے آنے جانے پر پابندی ہے۔وہ فون کرے گی تو ڈرائیور آن کر اسے والدین کی طرف لے جائے گا۔وہ پڑھنا چاہے توکوئی رکاوٹ نہیں۔ہر قسم کے نشے پر سوائے نسوار اورکبھی کبھار چرس سگریٹ کے علاوہ ہر نشے کو وہ حرام سمجھتا ہے۔بچہ پیٹ میں آئے تو فوراً بتاؤ،ام یہ خود فیصلہ کرے گا کہ اس کو رکھنا ہے   کہ باہر کرنا ہے۔۔تم روم سروس کو فون کرکے پوچھو ادھر فجر کا اذان کا آواز آتا ہے۔ہم نے ہوٹل کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نہیں دیکھا تھا۔

عجلت کی بوسہ بازی کے بعد اس نے مینا سے پوچھ لیا کہ لباس وہ خود اتارے گی کہ یہ مقدس فریضہ پرانے کپڑوں کا ساٹھ سالہ بیوپاری پیر اکبر شاہ خود ہی انجام دے۔مینا نے ایک فیک تمسخرانہ لہجے میں فلمی ڈائیلاگ مارا کہ”آپ تو میرے سرتاج ہیں، میری تمنا کا مرکز،میرے ماتھے کا سیندور“۔جسے ادھ سنا کرکے شاہ صاحب نے یہ پوچھ لیا کہ”باتھ روم والا بتی کافی ہے کہ اور لائٹ جلانی ہے؟۔ وہ بدستور شرارت کے لہجے میں کہنے لگی”آپ تو میر ے شاہ رخ خان ہیں،میں جی بھر کے دیکھ نہ لوں، آپ کو“ جس پر شاہ جی فرمانے لگے کہ ایک تو تم اردو امجد خواجہ اور تانی سے بھی مشکل بولتا ہے۔لباس کی زپ ڈھونڈنے میں اسے اس لیے بھی مشکل ہوئی کہ مینا اسے اپنے بائیں بازو کی آڑ میں چھپائے بیٹھی تھی۔تنگ آکر اس نے مینا سے یہ کام   خود کرنے کا مطالبہ کیا تو مینا نے بھی جواب میں دو فرمائشیں داغ دیں۔ ایک تو سلامی مانگ لی۔وہ کرسی پر پڑی واسکٹ سے پیسے نکالنے کے لیے بستر سے اٹھا تو ازار بند کی قید سے ڈھیلی ہوکر آزاد ہوئی شلوار اس کے پیروں پر جا پڑی۔سوچیے  ساٹھ سال کا لنڈا کا پٹھان بیوپاری اور امریکی رسالے پلے بوائے کے سینٹر فولڈ کی طرح ہالینڈ میں ٹیولپ کے لہلہا تے باغات جیسی دور تک دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے چلے پندرہ سالہ عریاں نسوانی وجود کا مرقعہء حسن مینا۔قدرت نے کیا مذاق کیاتھا۔ وہ اس بے تاب و بے قرار مرد کا کرسی تک اور وہاں سے واپسی تک کا سفر نگاہ جماکر دیکھتے دیکھتے مینا ہنستے ہنستے دہری ہوگئی۔

بڑے حادثے ہوں تو جنہیں انگریزی میں Trauma کہتے ہیں تو اس کے شکار افراد کے ذہن پر کوئی ایک آواز، کوئی ایک منظر، ایسا پتھر پر لکیر کی مانند جم کر رہ جاتا ہے کہ مدتوں نہیں بھولتا۔ساٹھ سال کے مرد کا یہ سفر اس شب عروسی  میں ایسا ہی ایک Trauma تھا اور یہ سفر برائے سلامی اس کا Trigger۔اسی ہنسوڑ میں اس نے لگے ہاتھوں Lube کے استعمال کی اجازت بھی مانگ لی۔
جس پرپیر اکبر شاہ نے صرف اتنا پوچھا کہ یہ لیوب،شیوب کوئی حرام شے تو نہیں اور اس میں سور کی چربی کا استعمال تو نہیں ہوا؟۔
ارے نہیں یہ تو صرف چکنائی کا مرہم ہے۔ مینا نے اس کے انجانے پن پر حیر ت کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔یہ سن کر شاہ صاحب نے کہا یہ انگریز لوگ کھانے پینے کی ہر چیز میں سور کی چربی استعمال کرتے ہیں۔مینا نے اسے اپنا وصال کا منترہ بنالیا۔
تین چار سال بعد میں جب بھی وہ کسی ایسے مرد سے ملتی جس نے شب وصال شلوار قمیص پہنی ہوتی اور ایسااکثرہوتا تھاتووہ ان دو مطالبات کا اعادہ اپنے وصال طلب مرد سے ضرور کرتی کہ وہ سلامی پیش کرنے کے لیے شلوار قدموں پر گراتا ہوا کرسی تک ضرور جائے دوسرے وہ پرس سے لیوب کی ٹیوب نکال کر وہی تمسخر بھری ہنسی خود پر طاری کرکے مردمقابل سے ضرور پوچھتی کہ میں یہLube استعمال کرلوں۔ یہ لیوب،شیوب کوئی حرام شے نہیں اور اس میں سور کی چربی کا استعمال بھی نہیں ہوا۔یہ صرف چکنائی کا مرہم ہے۔سچ پوچھو تو اب مر احل وصال طے کرنے کے لیے اسے اس طرح کی اضافی امداد ہرگز درکار نہ تھی۔

بیس پچیس منٹ پیار محبت کے جیسے تیسے دورانیے کے بعد مینا نے غسل کیا، درد رفع کرنے کی گولیا ں کھائیں اور  اکبر شاہ کے خراٹوں کی دھن پرخود بھی نیند کی وادیوں  میں ناچتی ناچتی گم ہوگئی۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے۔۔۔۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گھر واپسی۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

  1. واقعات، زبان و بیان کا طلسم، قلم کا جادو، جو کچھ بھی کہہ لیں، اقبال دیوان صاحب، اس زمانے کے بہترین لکھاری ہیں ۔۔۔

Leave a Reply