حکومتی محصولات اور وطن پرست پاکستانی ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

 

ایک فلاحی ریاست کا کام یہ ہے کہ حکومت اپنی تمام ترین صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے سب سے پہلے اپنے عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کرے اس کے بعد معاشی میدان میں ایسے موقع پیدا کرے کہ عوام میں شامل ہر طبقہ، پڑھا لکھا یا ان پڑھ، دولت مند یا مزدور اپنی ذاتی کوشش کرکے اتنا کما سکے کہ اس کی روزمرہ ضروریات زندگی باآسانی پوری ہوسکیں اور اس سے زائد سے حکومت کو ٹیکس یا محصول بخوشی دے سکے۔ چونکہ جمہوریت میں عوام کی ہی حکومت ہوتی ہے تو اس حکومتی عوام کا فرض ہے کہ اپنے باقی ماندہ عوام کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرے کیونکہ بے اختیار ہونے کی عام عوام ذاتی طور پر ایسی میگا پلاننگ نہیں کرسکتے۔
ہمارے وطن عزیز میں الٹی گنگا بہتی ہے اور حکومتی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ اس کے معصوم عوام خود ہیں اور آگاہی نا ہونے کی وجہ سے مزید پس رہے ہیں۔ جیسے ہی حکومت کو اپنی نااہلی اور شاہ خرچیوں کی وجہ سے معاشی مسائل کا سامنا ہوتا ہے عوام کو ایک بھینس کی طرح پھر باندھ لیا جاتا ہے۔ اگر ایک عام آدمی کو معاشی مواقع ہی فراہم نہیں کئے گئے تو اس سے ٹیکس لینا صرف کھلی بدمعاشی ہے۔ کم سے کم اجرت اس طرح مقرر ہو کہ ماہانہ خرچ اور ٹیکس باآسانی ادا ہوسکیں۔ اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ ٹیکس ایورج اور زیادہ انکم والوں پر ہو۔
جس طرح حکومتی معاشی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں کہ عوام کو کہاں سے مزید ٹیکس دینے پر مجبور کیا جائے اگر اس سے پہلے یہی لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں کہ عوام کو کہاں کہاں معاشی سپورٹ دی جائے اور کونسا ایسا معاملہ رہ گیا ہے جہاں عوام کو مسائل درپیش ہیں تو میں حلف سے کہتا ہوں عوام لائنوں میں لگ کر ٹیکس بھی جمع کروائے گی اور معاشی طور پر دنوں میں مستحکم ہوجائے گی۔ مثال کے طور پر ایک بھینس سے زیادہ دودھ حاصل کرنا ہو تو دودھ دھونے کے اوقات کار بڑھانے سے دودھ زیادہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کو دی جانے والی خوارک اور بھرپور توجہ سے بھینس بھی صحتمند ہوگی اور دودھ بھی زیادہ دے گی۔
پاکستانیوں کی ایک اور انوکھی قسم ہے جن کو بیرون ملک پاکستانی کہا جاتا ہے۔ دیکھنے میں یہ سادہ سے لگتے ہیں لیکن مقابلتا ہمارے ججوں جرنیلوں ڈاکٹروں اور ڈی سی حضرات سے زیادہ ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ ان کو ایک خاص بیماری ہے جس کو وطن پرستی کہا جاتا ہے اور یہ اس وقت حملہ آور ہوتی ہے جب وطن عزیز کسی بھی معاشی مشکل میں آجاتا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں یہ اپنی سابقہ مشکلات اور حکومتی ناانصافیاں ائیرپورٹ پر ذلالت بھول کر اپنا کردار ادا کرنے نکل پڑتے ہیں۔
نوے لاکھ جذباتی افراد پر مشتمل یہ معاشی طور پر مستحکم ٹولہ سالانہ تقریبا 20 ارب ڈالرز (2017)وطن بھجواتا ہے کیونکہ والدین اور بھائیوں نے برابر والا پلاٹ کافی عرصے سے نظر میں رکھا ہوا ہوتا ہے اور مشن امپوسبل کے ہیرو کی طرح بیرون ملک مقیم اس کو حاصل کرنے کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں جیسے کہ شاید دشمن سے قبضے سے چھڑانا ہو۔
یہ قابل ذکر بات ہے کہ چند ارب ڈالرز قرض لینے کے لئے ہماری حکومتیں جتنی منتیں اپنے برادر و دوست ممالک کی کرتی ہیں اس سےکم بیرون ملک پاکستانیوں کو صرف چند سہولتیں دے کر دیکھ لیں تو اس سے دس گنا زیادہ ترسیلات زر ہوجائے گی۔ اور اس بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ خالص زرمبادلہ ہے جس کے اگینسٹ حکومت کو کچھ بھی ادا نہیں کرنا۔
اس کے برعکس ہوا یہ ہے کہ اس مرغی کے انڈے کھانے کی بجائے اس کی ٹانگ کاٹ کر کھانے کا پلان بنایا گیا ہے۔ ویزہ پروٹیکٹر اوورسیز پاکستانی آئی ڈی کارڈ اور ائیرپورٹ کسٹم ڈیوٹی کی شکل میں ان سے مزید پیسے جھاڑنے کو بلاشبہ عقلمندی نہیں کہا جاسکتا۔ کاروباری اور کھیپئے افراد کو تو کسٹم کے حکام ڈیل کرکے باہر نکلوا دیتے ہیں جبکہ اب عام پاکستانیوں کو انڈر پریشر کرکے اپنے ذاتی اور گھر کے افراد کے لئے لائے گئے موبائیل پر بھی کسٹم لگایا جاچکا ہے۔ اگر حکمرانوں میں تھوڑی سی بھی اخلاقی جرآت یا غیرت ہوتی تو 20 بلین ڈالرز سالانہ بھیجنے والے افراد کے پاوں دھو دھو کر پیتے کہ ہمیں تو کوئی ایک ارب ادھار بھی نہیں دیتا۔
اوور سیز فاؤنڈیشن نام کا ایک ڈمی ادارہ اپنے سٹاف کو تنخواہیں ادا کرنے کے علاوہ کوئی اور قابل ذکر کام نہیں کرتا۔ بیس تیس سال بیرون ملک گزار کر واپس آنے والوں کے لئے تحفہ کے طور پر اوورسیز کالونی میں فری پلاٹ ہر بیرون ملک پاکستانی کا حق ہے۔ لاکھوں ایکڑ سرکاری زمیں سو سالہ لیز پر ایم پی اے، ایم این اے تو حاصل کرسکتا ہے لیکن عام عوام کے لئے صرف تحکمانہ لہجے والے کسٹم حکام اور بے حس پاکستانی ادارے ہی رہ گئے ہیں جو ان کی تذلیل کرنے میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ اب یہ معمول کی بات ہے۔
بیرون ملک پاکستانی کم از کم ایک سال بعد پاکستان چکر لگاتے ہیں اور موجودہ دور میں وی سی آر اور ٹی وی کی بجائے موبائیل ہی لاتے ہیں تاکہ ان کی فیملی پاکستان میں موجود ناقص اور مہنگے موبائل خریدنے کی بجائے اچھے موبائل استعمال کرسکے۔ بیس ارب ڈالرز کے مقابلے میں اگر حکومت کو اس موبائیل ٹیکس کی اہمیت زیادہ لگتی ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرون ملک پاکستانی ابھی اپنا ایک فورم بنائیں جو پاکستانی حکومتوں کو یہ بتائے کہ ہم بھی اہم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *