سولہ دسمبر 2014: سانحہ اے پی ایس اور میں — بلال شوکت آزاد

یہ وہ قومی سطح کا گہرا زخم ہے جس پر جب جب مرہم رکھنے کی کوشش بھی کی جائے تو یہ کریدا جاتا ہے اور وہ زخم بھرنے کے بجائے اور ہرا ہوجاتا ہے اور لمحہ بہ لمحہ ناسور بنتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

مائیں راستہ تکتی رہ گئیں اسکول سے گھر کا مگر شہزادے شہزادیاں گھر نہ لوٹے بلکہ جنت کو نکل گئے اور جو جنت کے خواب سجاکر ان پھولوں کو مسلنے آئے تھے وہ گھٹیا ترین انسان جہنم کے گڑھوں کا ایندھن بن گئے۔

میں اس دن مطلب 16 دسمبر 2014 جب مارننگ شفٹ کرکے گھر لوٹا تو والدہ حسب معمول نیوز چینل دیکھ رہی تھیں اور کافی ملول نظر آئیں۔

پوچھنے پر بولیں کہ یہ دیکھو پشاور اے پی ایس پر خوارج نے حملہ کیا ہے اور معصوم بچے بچیاں بے رحمی سے شہید کردیئے ہیں۔

میں ان دنوں بہت حساس طبیعت کا شکار تھا اپنے بیٹے کی جدائی میں کہ جولائی 2014 میں میں خود اپنے ہاتھ سے اپنے دو دن کے پہلوٹھی کے بیٹے کو دفنا چکا تھا تو مجھے ہر بچے میں اپنا بیٹا نظر آتا رہتا اور میں بچوں کے معاملے میں شدید حساس ہوچکا تھا۔

جب میں نے اول والدہ سے اور پھر نیوز چینلز پر یہ اندوہناک خبر سنی تو میرے خود کے حواس تھوڑی دیر کے لیئے معطل ہوگئے اور جب اس واقعے کی تفصیلات ملتی گئیں اور بچوں کی عمریں اور نام سننے کو ملے اور عینی شاہدین کے بیانات سنے تو ان بچوں کی تکلیف اور روتی بلکتی صورتیں اور ان کی آہ بکائیں میرے کانوں میں گونجتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

میں نے موت سے پہلے اپنے بیٹے ریان کی آخری ہچکی اور بے بسی بہت قریب سے سنی اور دیکھی ہے اور جب میں نے چشم تصور سے اے پی ایس کے شہید بچوں کے آخری لمحات کو سوچا اور آنکھیں بند کرکے وہ منظر دیکھنے اور محسوس کرنے کی کوشش کی تو میرا منہ نمکین پانی سے بھرگیا, دل کی دھڑکنیں بے قابو ہوگئیں اور میں واللہ دھاڑیں مار کر رویا کہ میری اہلیہ اور والدہ کو بھی یہ بلکل اندازہ نہیں ہوا کہ مجھے دراصل کیا ہوا ہے۔

بہت دیر تک میں روتا رہا ان شہید بچوں پر ان کے والدین کی بے بسی, دکھ اور کرب پر اور ہماری قومی بے حسی اور  خود غرضی پر۔

مجھے یاد ہے کہ رونی صورت تو میری اس سال جولائی کے بعد بات بے بات بنی رہتی تھی پر جب یہ سانحہ ہوا تو مجھے کسی بہانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور جس وقت ٹی وی پر ان بچوں کا ذکر چھڑتا اور تصاویر گردش کرتیں اور ہمارے بے حس سیاستدان اس واقعے کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے تو میری آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی اور ہچکی بندھ جاتی۔

کیسے؟ آخر کیسے اتنا پال پوس کر بڑے کیئے ہوئے بچوں کے جسد خاکی ان کے والدین نے دیکھے ہونگے پھر ان کو کفن دفن دیا ہوگا, آخر کیسے؟

میرا بیٹا تو لہو لوہان نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ کی مرضی سے طبعی موت فوت ہوا لیکن میں نے اس کو اپنے ہاتھوں قبر میں کیسے اتارا یہ میں جانتا ہوں یا میرا رب۔

بہت کربناک لمحات ہوتے ہیں بلکہ قیامت صغریٰ ہوتی ہے جب کسی باپ کسی ماں کو جیتے جی اپنی اولاد کا کفن دفن کرنا پڑے اور پھر خود اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارنا پڑے۔

ہائے ہائے کیسے کیسے نابغہ روزگار ابھرتے ہوئے ہیرے چرالیئے دشمن نے گھٹیا پن دکھاتے ہوئے۔

2014 کا سال میرے لیئے تا عمر سینے پر بوجھ رہے گا جب تک میں زندہ ہوں کیونکہ اس سال مجھے دو دفعہ بطور باپ اولاد کا دکھ اور تکلیف دیکھنا پڑا اور وہ تکلیف اور درد محسوس کرنا پڑا جس کی بدعا ہم دشمن کو بھی نہیں دیتے کہ اولاد تو, بچے تو معصوم اور بے گناہ ہوتے ہیں اور یہ عقیدوں اور مذاہب کی جنگ ان کی سمجھ میں کہاں آتی ہے؟

اللہ کی زمین پر اس سے بدترین واقعات بھی ہوگزرے ہیں جن کی بازگشت ہمیں اب الہامی کتب اور تاریخی کتب میں سننے پڑھنے کو مل جاتی ہے پر ان واقعات اور سانحات کا کرب ہم محسوس نہیں کرپاتے کہ وہ ہم نے دیکھے اور محسوس نہیں کیئے ہوتے لیکن چونکہ اس عظیم خونی سانحے کے ہم خود عینی شاہد اور ناظر ہیں تو یہ ہمارے دلوں سے اتر نہیں سکتا چاہے جتنا مرضی کھرچنے کی کوشش کرلیں پر اب یہ درد ہمارا مقدر بن چکا اور اس زخم کو ہرسال اسی طرح ہرا ہونا ہے اور ہماری مذہبی غیرت و قومی حمیت یہ گوارا نہیں کرتی کہ ہم اپنے دشمن کی طرح اتنا گریں اور اسی طرح کا کچھ گھٹیا قدم ان کے گھر میں اٹھائیں۔

یہ ہے میرے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات جو سراپا رحمت تھے پوری انسانیت کے لیئے ورنہ ہم واقعی وہی ہوتے جو ہمارا دشمن سمجھتا ہے اور جیسا طاغوت نے ہمیں بدنام کیا ہوا ہے تو یقین مانیں اس سانحے کے انتقام میں ہم وہ کرتے جو ہلاکو اور چینگیز کا نام ہی تاریخ سے مٹا دیتا اور صرف ہمارے ہی چرچے ہوتے پر نہیں کہ ہمیں ایسے اقدامات کا تو جنگ کی حالت میں حکم نہیں تو حالت امن میں کیونکر ممکن ہوکے ہم انسانیت, مسلمانیت اور پاکستانیت سے اتنا نیچے گر جائیں کہ خود سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہ رہیں۔

بہرحال جو ننھی جانیں اور جوان خون اس ملک اور مذہب پر قربان ہوا وہ انمول ہے۔

ہم ساری زندگی ان جنتی شہزادوں اور شہزادیوں کو بس یاد کرسکتے ہیں کہ دشمن وہ تو ہم سے چھین نہیں سکتا۔

میرے لیئے 2014 کا سال کتنا بھاری ہے میں کسی ایسے کو سمجھا نہیں سکتا جو والد نہ ہو یا جس نے اپنی اولاد کو خود دفنایا نہ ہو (اللہ کسی والدین کو یہ دن نہ دکھائے کہ وہ خود اولاد کا کفن دفن کریں اور دفنائیں) نا چاہتے ہوئے پر اللہ کی رضا پر راضی ہوکر۔

اللہ شہداء اے پی ایس کو جنت کے اعلی مقام پر فائز کرے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *