فلیگ شپ ریفرنس میں خواجہ حارث کے حتمی دلائل جاری

اسلام آباد:احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کے حتمی دلائل جاری ہیں۔جمعے کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں، اس موقع پر نوازشریف کو احتساب عدالت لایا گیا۔  جج محمد ارشد ملک نے ریفرنس کی سماعت کا آغازکیا توخواجہ حارث نے صادق و امین سے متعلق مؤقف اپنایا کہ نوازشریف نے قومی اسمبلی کے خطاب میں کبھی بیرون ملک کاروبارکی ملکیت کا دعوی نہیں کیا سپریم کورٹ نے جس بنیاد پر نوازشریف کونااہل کیا اس کا احتساب عدالت سے کوئی تعلق نہیں ۔جج ارشد ملک نے ہدایت کی کہ نیب پراسیکیورٹراکرم قریشی کی غیرموجودگی میں اس معاملے کونہ چھڑیں اورفلیگ شپ ریفرنس میں حتمی دلائل دیں۔خواجہ حارث نے فلیگ شپ میں حتمی دلائل دیتے ہوئے کہاکہ فلیگ شپ 2001 میں قائم ہوئی ،نواز شریف نے 2006 میں کیپٹل ایف زیڈ ای میں ملازم کے طورویزہ کی درخواست دی نوازشریف کا نام صرف کیپیٹل ایف زیڈ ای میں آتا ہے ،فلیگ شپ کے قیام اورنوازشریف کے منسلک کرنے میں 5سال کا فرق ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف سپریم کورٹ میں یہ بات چھپائی نہیں بلکہ متفرق درخواست کے ساتھ ویزہ کی کاپی جمع کروائی ، استغاثہ نوازشریف کا تعلق فلیگ شپ سے جوڑنا چارہا ہے،شواہد میں ایسی کوئی چیزنہیں آئی کہ نوازشریف کا تعلق ملازمت سے زیادہ ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *