• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بلوچستان میں صاف پانی کی عدم فراہمی پر 2 رکنی کمیشن تشکیل

بلوچستان میں صاف پانی کی عدم فراہمی پر 2 رکنی کمیشن تشکیل

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں صاف پانی کی عدم فراہمی پر 2رکنی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے2ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 16سوملین رقم خرچ کرنے کے باوجود ایک بھی آراوپلانٹ نہیں لگایاگیا ، صاف پانی حکومت کی زمہ داری ہے،ضرورت پڑنے پروزیراعلیٰ اورکابینہ کوطلب کریںگے جمعے کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے ضلع بولان کے علاقے بھاگ ناڑی میں صاف پانی قلت کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس کے حکم پرعلاقے کی صورتحال پرویڈیوکلپ کمرہ عدالت میں چلائی گئی ۔جسٹس ثاقب نثار نےویڈیوپرریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ لوگوں کوزہرپلایا جارہا ہے ،پہلے1200ملین اوربعد میں400 ملین خرچ کیے لیکن ایک بھی آراوپلانٹ نہیں لگایاگیا، کیا یہ ویڈیو چھوٹی ہے ۔ڈی سی اونے ویڈیوکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ سارے مسائل کی وجہ علاقے میں خشک سالی ہے، 30کلومیٹرعلاقے میں پینے کا میٹھا پانی دستیاب نہیں ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں کوصاف پانی فراہم کرنا حکومت کی زمہ داری ہے ،علاقے میں کم ازکم تالاب کا پانی ٹریٹ کردیں ،بھاگ ناڑی کے مکینوں نے مؤقف اپنا کہ ان کی حالت تھرسے بھی بدترہے ،کوئٹہ سے 200کلومیٹر دورعلاقے کی آبادی دولاکھ سے73ہزاررہ گئی ہے ۔چیف جسٹس نےکہا کہ ضرورت پڑنے پربلوچستان کے وزیراعلیٰ اورکابینہ کوطلب کریں گے  اورانہیں یہ ویڈیو دیکھنے کا موقع دیں گے ۔عدالت نے نے صدرسپریم کورٹ بارامان اللہ کنرانی کی سربراہی میں 2رکنی کمیشن مقررکرتے 2 ہفتوں میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔سپریم کورٹ نے محکمہ آبپاشی سمیت تمام اداروں کو کمیشن سے تعاون کرنے کی ہدایت دے دی ۔ چیف جسٹس نے رمیش کمارکوروسٹرم پربلاتے ہوئے کہاکہ تھرمیں ان کے علاوہ کسی نے آراوپلانٹ سے پانی پینے کی کوشش نہیں کی ،تھرکی کوئی ڈویپلمنٹ اتھارٹی نہیں ہے ، اتھارٹی کے قیام تک تھرکے حالات بہترنہیں ہوں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کواتھارٹی کے قیام کیلئے وزیراعلی سے بات کرنے کی ہدایت کی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *