میں قوم پرست کیوں نہیں ہوں۔۔۔۔عارف خٹک

پچھلےسال رسول داوڑ(جیو نیوز پشاور) نے مجھے میسج کیا۔کہ لالہ وزیرستان کا ایک 14 سالہ بچہ اپنے کسی رشتہ دار کےساتھ لاہور کسی اکیڈمی میں داخلہ لینے آیا تھا۔ اُس کے رشتہ دار نے اُس سے پیسے چھین کر پنجاب پولیس کو بیچ دیا۔ پنجاب پولیس نے بچے کو دیکھا تو فیصلہ کیا کہ اس وزیرستانی بچے کے پاس ایک خودکش جیکٹ رکھ کر پولیس مقابلہ کرکے دنیا کو بتا دیں گے کہ لاہور پولیس نے ایک خود کش حملہ آور کو مار دیا ہے۔ واہ واہ بھی ہوجائےگی اور ترقیاں وغیرہ بھی لے لیں گے۔

یہ بچہ معروف صحافی رسول داوڑ کا جاننے والا تھا۔ وہ خود بھی بے بس تھا۔ لہٰذا میں نے سوشل میڈیا پر جھولی پھیلا کر لاہوریوں سے اس بچے کو بچانے کی بھیک مانگی۔ میری ایک اپیل پر سینکڑوں لاہوریوں نے اقبال مون مارکیٹ تھانے پر دھاوا بول دیا۔ لیکن پولیس نے کسی بھی بچے کی موجودگی سے انکار کیا۔
میرے دوست راجہ افتخار خان جو خود بھی پنجابی ہیں۔وہ وزیراعلیٰ  شہبازشریف کی بیوی محترمہ تہمینہ کو بیچ میں لے آئے۔بات پولیس آئی جی عثمان خٹک تک پُہنچ گئی۔ وزیرِ داخلہ شہریار آفریدی کے بھتیجے ثاقب آفریدی خود تھانے پہنچ گئے۔اور بچے کو زبردستی بازیاب کروا کر آئی جی پی پنجاب نے متعلقہ پولیس والوں معطل کرکے انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ مگر وزیراعلی شہباز شریف کی بیگم کی وجہ سے یہ معاملہ غالباً وزیراعظم نوازشریف کے پاس پہنچ گیا تھا۔ جس پر آئی جی پی کا فوراً تبادلہ کرادیا گیا۔
اسی رات ثاقب آفریدی نے اس بچے کو واپس وزیرستان پُہنچا دیا۔

کہانی سُنانے کا مقصد یہ ہے کہ ان پنجابیوں کو کیا ضرورت تھی؟کہ ایک 14  سالہ بچے کے لئے اس حد تک چلے گئے۔ اگر یہی کہانی میں پشاور کےکسی تھانے سے شروع کردوں۔تو کیا اس کے نتائج ایسے نکلیں گے؟ ناممکن تو نہیں کہہ سکتا،مگر مُمکن لفظ بھی یقیناً  ادا نہیں کرسکتا۔آج ہمارے قوم پرست دوست پنجابی پشتون کے نام سے جو زہر ہمارے ذہنوں میں گھول رہے ہیں۔اس سے پشتون مزید تنہا ہوتے جارہے ہیں۔بحیثیت قوم مُجھے سب سے پہلے اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا۔کہ میری حقیقی حق تلفی شروع کہاں سے ہوئی؟میرے قبائل کے مالکان، میرے سیاسی لیڈر اور میری اجتماعی مذہبی انتہاء پسندی نے آج میری قوم کا یہ حال کردیا ہے۔ منظور کو غدار کہہ کر آپ دیوار سے ہرگز نہیں لگا سکتے۔ اس پر غداری کا لیبل لگا کر آپ اسے تنہا نہیں کرسکتے۔مگر معاملات کو ضرور اس نہج پر لےجائیں گے ۔جہاں سے واپسی دونوں فریقین کے لئے نامُمکن ہوگی۔
وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ منظور کو ایک بار سُن تو لیں۔ اس کے خدشات کا احساس تو کرلیں۔ عمران خان کا فرض بنتا ہے۔کہ وہ پشتون تحفظ تحریک کی پیش بندی کرلیں۔
پنجاب کے بااَثر بھائیوں سے درخواست ہے۔کہ ایک بار ان پِسے ہوئے قبائلیوں کی سُن لیں۔یقیناً چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ یہ بھی آپ کی طرح محّب وطن پاکستانی ہیں۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر ایک بار آپ نے منظور کو سُن لیا۔اور آپ کی پلکیں نہیں بھیگیں،تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ منظور کا رستہ روکنے میں آپ مُجھے اپنے صف اول کے دستوں میں پائیں گے۔
آپ ان خانماں برباد پشتون قبائل کے آنسو ایک بار پونچھ کر تو دیکھیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کوہساروں پر بکریاں چراتے پشتون چراواہے آپ کو اپنی بانسری کی دُھنوں میں ضرور یاد کریں گے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *