• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی,کیا بحیثیت قوم ہمارے لئے باعثِ شرمندگی ہے؟۔۔۔۔۔اطہر شہزاد

مشرقی پاکستان کی علیحدگی,کیا بحیثیت قوم ہمارے لئے باعثِ شرمندگی ہے؟۔۔۔۔۔اطہر شہزاد

قوموں کی زندگی میں اچھے بُرے واقعات آتے رہتے ہیں ، اور اکثر ایسے سانحات بھی جن پر لوگوں کی تجویز کے  مطابق شرم سےڈوب مرنے کا مقام بھی فوراً  ہی پیدا ہوجاتا ہے، لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر کب تک ہم بار بار ڈوب ڈوب کر مرتے رہیں  گے، تاریخ کا تیز رفتار پہیہ تو بہت سرعت سے بہت دور نکل چکا ہے، پلوں کے نیچے سے کتنا ہی پانی بہہ چکا، اس ناخوشگوار واقعہ  کے بعد اب تیسری نسل بھی بوڑھی ہونے لگی ہے، ہمیں آخر کب تک اپنے ناپسندیدہ زخموں کو کرید تے رہنا چاہیے، کتنی مرتبہ ایک جرم بے گناہی میں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے ؟ اور اگر ڈوبنا ہی ہے، تو ہمارے لئے شرم سے ڈوبنے کا مقام بہت وسیع و عریض بنایا جائے، کیوں کہ ہمیں اکیلے نہیں ڈوبنا ہے، اگر ہمیں اس لئے شرم آنی چاہیے چونکہ ہمارا ایک بازو ہم سے ٹوٹ کر الگ ہوگیا ہے، تو میرے ساتھ آئیے، میں آپ کو ٹوٹے ہوئے بازووں  کے انبار دکھاتا ہوں۔۔۔۔
ذرا دوسری جنگ عظیم کے بعد کا منظر نامہ دیکھتے ہیں، لہولہاں دنیا، دنیا بھر کے دانشور جمع ہوئے ایک فیصلہ ہوا کہ انسانوں کو زبردستی باندھ کر اپنے ساتھ نہیں رکھا جاسکتا ہے، آج تاریخ اس صدی کو آزادی کی صدی کہتی ہے، اور1945میں دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے 57 مالک کی  سرحدیں  تبدیل ہوگئیں، بہت سے ممالک کوآزادی ملی،( جن میں پاکستان بھی شامل ہے ) بہت سے ممالک کو ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑا ، بقول اقبال،
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
اگر علیحدگی اختیار کرلینے ، اور سرحدوں میں رد و بدل سے ممالک کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام پیدا ہوجاتا ہے، پہلے تو خود انڈیا کو کیوں شرم سے ڈوب کر نہیں مرنا چاہیے، جس میں سے ٹوٹ کر پاکستان علیحدہ ہوا ہے ؟ فرانس، آسٹریلیا، جرمنی، سامراجی طاقتوں کے نام گنتے جائیے ، ایک بے رحم تاریخی پیش قدمی نے ان سب کے تار عنکبوت کو تار تار کردیا، آج انکی گنتی بھی لوگوں کو یاد نہیں ہے۔
میں دشمنان پاکستان کو چیلنج کررہا ہوں، میری بات کا جواب دیں، اگر کوئی ہمارے ساتھ خوش نہیں  ہے، الگ ہونا چاہتا ہے، تو یہ شرم کی بات کیوں ہے ؟ کیا ہمارے گھروں میں والدین کی وفات کے بعد بھائی علیحدہ نہیں ہوتے ہیں ؟
خود انڈیا بھی پہلے سلطنت برطانیہ کا حصہ تھا، جسکی سرحدیں اتنی بڑی تھیں  کہ وہاں  سورج غروب نہیں  ہوتا تھا، برطانیہ اب سکڑ کر ہمارے پنجاب جتنا ہی رہ گیا ہے، یعنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا،
کالم طویل ہوجائے گا، ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ہمارے پڑوس میں سپر پاور روس ٹوٹ پھوٹ کر 9 ریاستوں میں  تقسیم ہو چکا ہے، میں اللہ کے ضل سے پورے 57 مالک کے تیا پانچے گنوا سکتا ہوں، لیکن پہلے مشرقی پاکستان کی طرف چلتے ہیں۔
بھائی اسکی تشکیل ہی ایسی تھی، ایک ہزار میل دور، کلچر اور زبان کے لحاظ سے بالکل الگ، ایک چالاک اور چابک دست قوم، اگر وہ ہم سے علیحدہ ہونا چاہتی ہے، تو اس میں ہمارے لئے شرم کی کیا بات ہے، اور اگر شرم کی بات ہے، تو کب تک ہم اپنے زخموں  کو چاٹتے رہیں، انھیں کھرچتے رہیں،
لہذا مشرقی پاکستان کی علیحدگی، ایک معمول کا عمل، ایک قابل افسوس واقعہ ، تاریخ کا ایک بے رحم اور سفاک باب ، ، لیکن زخموں کو مندمل ہونے دیں، نئی نسل میں احساس کمتری پیدا کرنے کے عمل کو اب رُک جانا چاہیے، بس بہت ہوچکا، اب سانحہ مشرقی پاکستان کو بھول جائیں، انھیں با دل ناخواستہ تسلیم کرلیں، جیسے برطانیہ نے برصغیر کی تقسیم کو تسلیم کیا ہے۔
ہم سے الگ ہونے والوں کو جس پٹ سن پر اتنا ناز تھا، نائیلون کے مصنوعی ریشے کی ایجاد نے سارا نقشہ ہی تبدیل کردیا، آج دنیا میں وہ پٹ سن دو کوڑی کی بھی نہیں رہ گئی ہے، بس اب وہ صرف بچے ہی زیادہ پیدا کرتے ہیں، کمزور، نحیف، غیر ہنر مند ، اب کچھ ہی عرصہ بعد ہی  پیداوار بھی غیر مطلوب ہونے جارہی ہے، آج انکی پہچان دنیا بھر میں  چیپ اور سستی اور گھٹیا لیبر سپلائر کنڑی کی رہ گئی ہے، اور ابھی قدرت کے مزید فیصلے بھی متوقع ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

کب نظر میں  آئے گی گل رنگ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے، کتنی برساتوں کے بعد!

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply