موبائل فونز ٹیکس، DIRBS سسٹم اور چند گزارشات ۔۔۔ معاذ بن محمود

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائیٹ پر ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم Device Identification, Registration and Blocking System (DIRBS) کی مکمل تکنیکی تفصیلات ایک دستاویز میں شائع کی گئی ہیں۔ اس دستاویز کا نام DIRBS SOP ہے جو آج مورخہ ۱۱ دسمبر ۲۰۱۸ تک پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ اس مضمون کے آخر میں دی گئی یو آر ایل پر دستیاب ہے۔ 

پہلی اہم بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ یہ ایس او پی ۲۰۱۷  میں تخلیق کی گئی (لنک میں پی ڈی ایف دستاویز کی تاریخ لکھی ہوئی ہے)۔ ظاہر ہے اس پر کام اس سے کہیں پہلے سے جاری ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قدم کئی زاویوں سے بہتر بھی ثابت ہوگا لہذا ہم اس کے مثبت اثرات سے بات شروع کرتے ہیں۔ 

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی بلیک مارکیٹ سے مقابلہ کرنے کے لیے ۲۰۰۴ میں ہر ڈیوائس کی درآمد پر ٹائپ اپروول کے قانون کا نفاذ کیا گیا۔ اس قانون میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی تبدیلیاں بھی ہوئیں اور آج اسی قانون کے تحت ملک بھر میں موبائل فون کی فروخت اور بڑے پیمانے پر ڈسٹریبیوشن بھی جاری ہے۔ اس طرح موبائل مینیوفیکچرز کو اپنی مصنوعات پاکستان میں فروخت کرنے کی قانونی راہ ہموار کی گئی۔ موبائل فون ڈسٹریبیوٹر اس اجازت کے عوض ٹیکس دیتے ہیں اور ملکی قوانین بشمول کنزیومر رائٹس کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔ 

اس کے مقابلے میں گرے مارکیٹ ایسی ڈسٹریبیوشن یا منظم خرید و فروخت کو کہا جاتا ہے جس کے تحت بکنے والی مصنوعات غیر قانونی طریقے سے ملک میں سمگل کی جاتی ہیں اور قانونی ڈسٹریبیوٹرز کی قیمتوں سے نسبتاً ارزاں قیمت پر فروخت ہوتی ہیں۔ گرے چینل سے مصنوعات فروخت کرنے والوں کو ٹیکس بھی نہیں دینا پڑتا، اور وارنٹی وغیرہ جیسی ذمہ داریوں سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔ یوں ایک جانب وہ ریاست سے ٹیکس چوری کے ذریعے مال بچاتے ہیں تو دوسری جانب صارف کے حقوق کا استحصال بھی پوری طرح کرتے رہتے ہیں (یاد رہے، گرے مارکیٹ کا مال زیادہ تر استعمال شدہ یا ریپئیرڈ ہوا کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے خراب ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے)۔ گرے مارکیٹ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر معیاری مگر مہنگے برانڈز اپنی مصنوعات متعارف کرنے سے گریزاں رہتے ہیں کہ کل کو چائنہ اس سے اسی گنا کم قیمت میں غیر معیاری موبائل غیر قانونی طریقے سے سمگل کر کے اس کے موبائل بکنے کے امکانات کم کر دے گا۔  

حکومت کی جانب سے نافذ کردہ DIRBS System کے تحت اسی غیر قانونی مارکیٹ کے قلع قمع کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت قانونی طریقے سے ملک میں آنے والے تمام موبائل اس سسٹم میں ریجسٹر ہوں گے۔ اس سسٹم کے نفاذ کا پہلا مرحلہ تمام موبائل آپریٹرز کو بین شدہ اور تخصیص شدہ آئی ایم ای آئی (یعنی وہ جو قانونی طریقے سے نہ آئے ہوں مگر عارضی طور پر بلیک لسٹ بھی نہ ہوں) کی لسٹ مہیا کرے گا۔ سسٹم بلیک لسٹ موبائل کی فہرست روزانہ کی بنیاد پر جبکہ عارضی طور پر وائٹ لسٹ (Exception list) کی فہرست ایک ماہ میں دو بار موبائل آپریٹرز کو بھیجے گا۔ بلیک لسٹ موبائل پر سروس تمام آپریٹر بند کرنے کے پابند ہوں گے البتہ ایکسیپشن لسٹ پر ہر موبائل الگ الگ فیصلہ کرے گا (یہ سہولت بین الاقوامی رومنگ پر چلنے والے موبائل کو چلتے رہنے کے لیے استعمال ہو گی)۔ سسٹم عارضی طور پر چلنے والے موبائل صارفین کو نوٹیفیکیشن بھیجنے کے لیے موبائل آپریٹر کو اطلاع بھی دیتا رہے گا۔ دوسرے مرحلے میں بلیک لسٹ موبائل فونز پر سروس بلاک کرنے پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔ 

اس طرح ریاست ٹیکس چوری کو بھی روک پائے گی، اور غیرقانونی طریقے سے موبائل ڈسٹریبیوشن کا کاروبار کرنے والوں کو قانونی طریقے سے اپنی روزی روٹی کمانے کی طرف لے کر آئے گی۔ 

دوسرا بڑا فائدہ صارف کو ہوگا جسے چونا لگنے کے امکانات بہت کم ہوجائیں گے۔ ڈسٹربیوٹر سے لے کر موبائل فروخت کرنے والے دوکاندار تک کے لیے وارنٹی کلیم کرنا گرے مارکیٹ سے کہیں زیادہ قابل قبول ہے۔ یوں مینیوفیکچررز، موبائل ریپئیر ورک فورس کی ملک میں فروغ پر بھی توجہ دیں گے کیونکہ باہر بھجوا کر ٹھیک کروانا ان کے لیے مہنگی آپشن رہے گی۔ 

ڈسٹریبیوٹرز بھی اس نظام سے مستفید ہو سکیں گے کیونکہ اب ان کے مقابلے میں سستی بلیک مارکیٹ ختم ہو سکیں گی اور یوں ان کے قانونی کاروبار کو فروغ ملے گا۔ 

ایک اور اہم فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد چوری یا گمشدہ موبائل کی خرید و فروخت کو حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ آپ کا موبائل چوری ہوا، آپ نے ایف آئی آر درج کروائی، آپ کے موبائل کا IMEI Number اب DIRBS System کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔ اب یہ موبائل پاکستان میں استعمال نہیں ہوسکتا۔ باہر کے کسی ملک میں بیچا بھی گیا تو آپ کی بدقسمتی مگر پیسہ ملک میں ہی آئے گا۔ 

جہاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اس نئے نظام کے کئی فائدے ہوں گے وہاں اس کے چند نقصانات بھی سامنے آرہے ہیں۔ 

سب سے پہلا بڑا نقصان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ہوگا جو عموماً سال میں ایک بار اپنے پیاروں کے پس وقت گزارنے آتے ہیں۔ یہ قیام عام طور پر دو ہفتے سے دو ماہ تک رہتا ہے جبکہ DIRBS System کے تحت بیرون ملک پاکستانی لوکل سم لگانے کے پندرہ دن تک اپنے ساتھ آیا موبائل استعمال کر پائیں گے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایس او پی کے تحت بیرون ملک پاکستانی بیرون ملک کی رومنگ سروسز کا استعمال معینہ یا غیر معینہ مدت کے لیے جاری رکھ سکیں گے، تاہم ادارہ یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ جب چاہے یہ سروس بند کر دے۔ 

یہاں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی رومنگ سے استفادہ ایس او پی دستاویز کے قانون نمبر ۸ کے مطابق کیا جائے گا، اور قانون نمبر ۸ بھلا کیا ہے؟ غیر قانونی موبائل کو ریجسٹر کروانے کا طریقہ۔ یہ مبہم پہلی حل کرنے کا اختیار میں قاری پر چھوڑتا ہوں۔ یوں بیرون ملک مقیم پاکستانی پندرہ دن سے زیادہ کے قیام پر اپنے موبائل میں لوکل سم استعمال نہیں کر پائیں گے۔ 

دوسرا نقصان وہ ٹیکس ہے جو ہر بیرون ملک پاکستانی کو ملک آمد پر مرحبا کے طور پر ہدیہ کرنا پڑے گا۔ یہاں ایک اہم معاملہ جس کی طرف شاید کسی نے نہیں سوچا وہ یہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ بیشتر دنیا میں موبائل پوسٹ پیڈ کانٹریکٹ کے ساتھ ملتا ہے جس کے تحت موبائل فون انتہائی سستا یا پھر ماہانہ اقسام پر ملتا ہے۔ مثال کے طور پر میں نے یہاں امارات میں ایک موبائل یکمشت ادائیگی پر لیا، اس سے اگلا دو سال کے کانٹریکٹ پر اور چند ماہ پہلے بارہ ماہ کی اقساط پر نیا موبائل خریدا۔ ظاہر ہے بلا سود فی قسط بہت سستی پڑتی ہے جبکہ اکٹھے پیسے دینا نسبتاً مشکل کام ہے۔ یہ حقیقت صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں بلکہ باقی دنیا پر بھی لاگو ہے اور ان تمام لوگوں کو جنہیں بیرون ملک پاکستانی سونے کی مرغی لگتے ہیں، کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا سمجھنے والوں میں غالباً حکومت بھی شامل ہے۔ دردناک بات یہ ہے کہ اپنے استعمال میں جو ذاتی موبائل میں ساتھ پاکستان لانے پر مجبور ہوں (کہ میری چار سال کی ای میلز اور دستاویزات اسی میں ہیں) پر مبینہ ٹیکس ناصرف اس موبائل کی تین اقساط کے برابر ہے بلکہ ایک شخص کے دوبئی تا کراچی دو طرفہ ٹکٹ کی قیمت کو بھی مات دیتا ہے۔ اس سے زیادہ بدقسمتی یہ کہ میری اہلیہ کے دو سالہ پرانا موبائل پر بھی اچھا خاصہ ٹیکس دینا پڑ جائے گا۔ ٹیکس کی مد میں یہ رقم واقعتاً اتنی بنتی ہے کہ اگلی بار پاکستان سفر کرنے سے بہتر کسی اور ملک کی سیر رہے گی (یا کم از کم یہ خیال ضرور آئے گا)۔ 

ایک اور نقصان یہ کہ بیرون ملک پاکستانی اور پیشہ ور سمگلر میں واضح فرق ہوتا ہے۔ حکومت نے یہ فرق پانچ موبائل فونز تک محدود رکھا، چلئے ٹھیک ہے، لیکن ان پر ٹیکس اس قدر ہے کہ اگلی بار وہ لوگ جو باپ، بھائی یا انکل کے “بارلے” ملک ہونے پر فخر کرتے تھے، آئیندہ افسوس کیا کریں گے کہ اب تو ان سے فون بھی نہیں منگوا سکتے۔ 

ایک نقصان یہ بھی ہے کہ کئی مشہور کمپنیاں پاکستان میں باقاعدہ میں کوئی ڈسٹریبیوٹر ہی نہیں رکھتیں۔ یوں ان برانڈ کا موبائل رکھنے والے بیچارے خود بخود غیر قانونی موبائل رکھنے والوں کے زمرے میں آجاتے ہیں۔ 

اس ضمن میں چلتے چلتے چند گزارشات بھی کرتے چلیں۔ 

بہتر طریقہ یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی DIRBS System میں Exception List کے سٹرکچر پر نظر ثانی کرے اور اس میں بیرون ملک پاکستانیوں کو ایک الگ Entity کے طور پر ریجسٹر کرے جن کے ایک یا دو موبائل فونز کو ٹیکس سے مستشنی قرار دیا جائے جبکہ باقی فونز پر ٹیکس کسی حد تک کم رکھا جائے۔ ریاست کا ٹیکس لگانا ضرور سمجھ میں آتا کے تاہم غیر حقیقی ٹیکس لگانا سمجھ سے باہر ہے۔ 

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے آنے والے موبائل فونز پر ایک ہی بار ٹیکس لگانے کی بجائے ان پر فی کال ٹیکس لگا دیا جائے تاکہ حکومت کا کام بھی ہوجائے اور ان موبائل فونز کو استعمال کرنے والوں کا بھی۔ 

جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی عموماً دو ہفتے سے دو ماہ تک کا قیام کرتے ہیں لہذا حکومت سے ایک درخواست یہ بھی ہے کہ عارضی طور پر بلیک لسٹ موبائل فونز کو سال میں ایک سے دو ماہ فعال رہنے کی اجازت دی جائے۔ 

مجھے یقین ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ٹیکس دینے پر کوئی تکلیف نہیں، بلکہ پاکستان سے محبت کے اظہار کے ایک طریقے کے طور پر حکومت و سیاست سے بالاتر یہ لوگ ہر قسم کا ٹیکس خوشی سے دینے کو تیار ہیں۔ تاہم یہ ٹیکس کم از کم اس طریقے سے ضرور نافذ کریں کہ انہیں اپنا آپ ایک ہی بار قربان ہوتی مرغی نہ لگنے لگے۔ 

ہے تو مشکل لیکن ہلکی سے امید ہے کہ یہ گزارشات کسی ذمہ دار تک پہنچ جائیں۔ 

https://dirbs.pta.gov.pk/DIRBS_SOP_28_June_2018.pdf

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *