• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • نواز شریف کے بعد اسحاق ڈار نے بھی پانامہ فیصلے کیخلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی

نواز شریف کے بعد اسحاق ڈار نے بھی پانامہ فیصلے کیخلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی )سابق وزیراعظم نواز شریف کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی پاناما فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی نظرثانی درخواست 9 صفحات پر مشتمل ہے، درخواست وفاقی وزیر کے وکیل شاہد حامد اور ڈاکٹر طارق حسن نے دائر کی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے خلاف نام نہاد اعترافی بیان کا الزام لگایا گیا، درخواست گزار کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام نہیں لگایا گیا تھا، جے آئی ٹی کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں، اپنا تمام مالیاتی ریکارڈ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو دے چکا ہوں۔ 1983ء سے 2016ء تک کا مکمل انکم اور ویلتھ ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا گیا اور ٹیکس اتھارٹیز نے میرے گوشواروں کو قبول کیا۔ بطور وزیر خزانہ اثاثوں میں 544 ملین کی کمی ہوئی جبکہ اثاثوں میں اضافہ 09-2008ء میں ہوا جس کی وجہ 6 سالہ غیر ملکی آمدن تھی۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ عدالت نے جے آئی ٹی کو اثاثوں کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا تھا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی رپورٹ کے خلاف ہمارے اعتراضات کو زیرغور نہیں لایا گیا، عدالت نے بھی مینڈیٹ سے تجاوز رپورٹ پر ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانونی سقم موجود ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سماعت 3 ججز اور فیصلہ 5 ججز نے سنایا، جن 2 ججز نے سنا نہیں وہ فیصلے میں کیسے شامل ہو گئے جب کہ نگراں جج کے تقرر سے عدالت بظاہر شکایت کنندہ بن گئی اور نگراں جج کی تعیناتی ٹرائل پر اثر انداز ہو گی، نگراں جج کی تعیناتی اور 28 جولائی کا حکم آرٹیکل 175 اور 203 کی خلاف ورزی ہے لہذا 28 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔واضح رہے سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز سمیت ان کی صاحبزادی مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *