ہائے رے میڈیا ۔۔۔۔۔عامر عثمان عادل

کھاریاں میں ایک نوجوان کو سر شام گھر جاتے ہوئے گولیوں سے بھون دیا گیا اس بہیمانہ قتل سے جڑی کہانیاں قتل سے زیادہ سنگین ہیں
ریٹنگ کی دوڑ میں کسی بھی اخلاقی ضابطے کی قید سے آزاد چینلز اینکرز کی تو جیسے لاٹری نکل آئی  ہو، صدر تھانہ کھاریاں میں آج کل ملکی سطح کے تمام ٹی وی چینلز کے باعث خوب رونق جمی ہے
زندہ حقیقت ہے کہ اس قتل کے پیچھے محرکات ایک معاشرتی المیے کی نشاندہی کرتے دکھائی  دیتے ہیں لیکن مجال ہے جو کسی نے ان کی جانب نظر التفات کی ہو بس یہاں تو ایک دوڑ ہے اس سٹوری کوکس قدر زیادہ چٹخارے  دار بنایا جا سکتا ہے، کیسے چسکے دار سوالات ہیں۔ کرید کرید کر کیا پوچھا جا رہا ہے۔۔۔

ایک چینل کے معروف پروگرام کی میزبان کا ویڈیو کلپ دیکھا ،تھانے میں موجود ہتھکڑیوں میں جکڑے مجرم سامنے پیش کئے گئے ہیں اور موصوفہ کا لب ولہجہ پنجاب پولیس کو بھی مات دے رہا ہے تھانیدارنی بنی یوں تابڑ توڑ سوال کرتی ہیں جیسے ابھی سامنے کھڑے مجرم کو چیر دیں گی سوال دیکھئے
کب سے ہے تعلق خواجہ سرا سے
کیسا ہے تعلق
جب مجرم اقرار کر رہا ہے کہ ہر طرح کا تعلق رہا  ہے تو اب مزید اس کی تشریح کی ضرورت رہ جاتی ہے؟

سوچیے اگر ہمارے نوجوان لڑکے ایک ہیجڑے کے عشق میں مبتلا ہو کے اسکے ڈیرے پر وقت گزارتے ہیں تو کیا وہاں درس و تدریس ہوتی ہو گی یا کردار سازی پہ ورکشاپس؟
ایک تماشا  ہے جو جاری ہے کبھی ایک چینل کبھی دوسرا  چینل آتے  ہیں ۔ کیمرے سجتے ہیں مجرم حوالات سے نکال کر پیش کر دئیے جاتے ہیں اور پھر یہ نام نہاد اینکرز نئے سرے سے تفتیش شروع کرتے ہیں۔

پولیس افسران خوش ہیں انکی کارکردگی کی دھوم مچی ہے،میڈیا اینکرز نہال ہیں کہ ریٹنگ بڑھانے کو ایک زبردست سٹوری ہاتھ آ گئی،اس بے حس معاشرے کے مجھ جیسے شہری شاد ہیں کہ اس قتل کے پیچھے چھپی باتیں سامنے آ رہی ہیں،کوئی  ضابطہ اخلاق ہے  بے لگام میڈیا کا،کوئی  کوڈ آف کنڈکٹ ہے پولیس فورس کا۔۔۔
جب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے پرہجوم پریس کانفرنس میں مجرمان کی موجودگی میں قتل کے محرکات سے لے کر دس گھنٹوں میں قاتلوں کی گرفتاری تک ایک ایک چیز میڈیا کے سامنے رکھ دی تھی تو اب آئے روز تھانہ صدر میں اس تماشے کی کوئ توجیہہ بیان کی جاسکتی ہے۔
کیسا تضاد ہے کہ پریس کانفرنس میں آپ نے مجرمان کو نقاب اوڑھا کر پیش کیا اب تمام ٹی وی چینلز کو آن کی نقاب کشائی کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔۔۔۔
چلیے    آپ کی خوب واہ واہ ہو گئی۔۔۔
ارے آپ کی ریٹنگ بھی آسمان تک جا پہنچی،
لیکن کچھ اندازہ ہے کہ مقتول کے گھرانے پر کیا بیت رہی  ہے۔۔
متاع جاں جوان بیٹا سر راہ چھلنی کر دیا گیا اب پورے جہاں میں اس کے چرچے الگ۔
قاتل اور اسکے سہولت کار کسی رحم کے حقدار نہیں لیکن ان کو یوں روز روز کیمروں کے سامنے تماشا بنا کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟۔۔۔ہتھکڑیوں میں جکڑے نوجوان کو بھنگڑے پر مجبور کر کے آپ نے صحافت کی کیا خدمت سرانجام دی؟
کچھ اندازہ ہے کہ جرم و سزا کی بھیانک وارداتوں کو فلمی انداز میں پیش کر کے آپ نوجوان نسل کو کیا پیغام دے رہے  ہیں۔۔۔

ایک سروے کرا لیجئے تڑپ اٹھیں گے یہ جان کر کہ ہمارے بچوں کا سب سے پسندیدہ پروگرام قتل ڈکیتی کی لرزہ خیر وارداتوں پر مبنی سیریلز بن چکے ہیں آپ انہیں چینل تبدیل کرنے کو کہتے ہیں مگر وہ انہیں دیکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
حضور کسی کی جان گئی
آپ کی ادا ٹھہری!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *