تبلیغی جماعت ۔۔۔ محمد غزالی خان

سیرت نبویﷺ کے اہم واقعے حلف الفضول اور فتنوں کے دور میں غیر جانب دار صحابہ کے کردار سے سبق لینا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ 

بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کے دو گروپوں کے درمیان تصادم پر افسوس ضرور ہوا مگر تعجب بالکل نہیں۔ اندھی شخصیت پرستی کا انجام اس کے علاوہ کچھ اور ہو بھی نہیں سکتا تھا۔اس اندھی عقیدت میں قرآنی احکامات اور رسولﷺ کی سنت پس پشت چلے جاتے ہیں اور جو کچھ باقی رہ جاتا ہے بدقسمتی سے اسے:’’بھکتی‘‘ (یہ ہندی لفظ ہے ہندوستان کے موجودہ سیاسی کلچر میں اندھی عقیدت اور انتہا پسندی کے ذمرے میں طنزاً استعمال ہوتا ہے ) کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیاجا سکتا۔

مسلمانوں کی اس بڑی تنظیم سے اختلافات کے باوجود اس کی گراں قدر خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان میں اس جماعت کے ارکان کے درمیان چھوٹے موٹے واقعات کی اطلاعات کئی ماہ سے مل رہی تھیں۔ مگر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی حالیہ واقعات کی تصاویر سے جو تاثر لیا جائے گا اور جو بدنامی ہو گی اور ہو رہی ہے اس کے نتیجے میں جو نقصان ہو گا وہ ملت کیلئے بہت بڑا سانحہ ہے۔

ویسے مسلمانوں کی کسی اہم، بڑی اور فعال تنظیم میں ایسے افسوس ناک واقعات پہلی مرتبہ نہیں ہوئے ہیں۔ گروہ بندی کے نتیجے میں ہونے والے یہ دلخراش واقعات ہماری جماعتوں اور اداروں میں پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند میں گروہ بندی اور اس کے نتیجے میں برپا ہونے والی بیہودگی کے کئی مظاہرے تو ۰۸ کی دہائی میں ان گناہگار آنکھوں نے خود دیکھے ہیں۔ بہر حال کون حق پر ہے کون نا حق پر اللہ ہی جانتا ہے۔معلوم نہیں ان ہنگاموں میں یہ قرآنی احکامات کسی طرح نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں:

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔” سورہ آل عمران

کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایا ت پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔ جنھوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں گے جبکہ کچھ لوگ سرخرُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہو گا،” سورہ  آل عمران

اس کے علاوہ مسلم تنظیموں اور اداروں بڑھتی ہوئی گروہ بندی میں اپنے آپ کو کسی نہ کسی گروہ سے وابستہ کر نے کو فرض سمجھ کر اپنے اپنے اوپر لازم کرنے کی روش سے ذہن میں ایک سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے وقت ان جلیل القد راصحاب رسول ﷺ کے کردار کو کیوں نظر اندازکردیا جاتا جنہوں نے رسول کریم ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کے درمیان ہونے والے اختلافات اور خون خرابے سے اپنے آپ کو الگ رکھا؟ آخر ان صحابہ کے کردار پر کیوں بات نہیں ہوتی جبکہ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فتنوں سے محفوظ رہنے والے شخص کو نیک بخت قرار دیا ہے (ابو داؤد) ۔ یقیناًان اصحاب کے غیر جانب دار رہنے کی بہت سی وجوہات میں سے ان کی نظر اس حدیث پر رہی ہو گی :’’اپنی تلواروں کو ایک دوسرے کیلئے نہ نکالنا جو ایک مرتبہ باہر نکل گئی تو قیامت تک اندر نہیں جائے گی۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)

اسی طرح غیر مسلم معاشرے میں اپنے آپ کو اجتماعی معاشرتی مسائل سے الگ تھلگ رکھنے کی ہماری روش یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ سیرت النبی ﷺ کے مطالعے میں حلف الفضول جیسے اہم واقعے کو وہ اہمیت کیوں نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہئے۔ہمارے آپس کے بڑھتے ہوئے اختلافات اور غیرمسلموں کے ساتھ ہماری کشیدگی پر قابو پانے کیلئے حلف الفضول اورفتنے کی صورت میں غیر جانب دار اصحاب رسول کی زندگیوں کو زور دئے جانے بہت ضرورت ہے۔ 

حلف الفضول آپ ﷺ کی جوانی میں ، یعنی نبوت سے پہلے،مکے کے انصاف پسند نوجوانوں کے درمیان طے ہونے والا ایک ایسا معاہدہ یا تنظیم تھی جس کے تحت معاہدے کے شرکا ء نے ظلم و جبر کا شکار ہونے والے کمزور لوگوں کی مدد کرنے اوران کے حقوق ان کو دلوانے پر اتفاق کیا تھا۔ آپ ﷺ کے نزدیک اس معاہدے کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ آپﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ: ’’میں عبداللہ بن جد عان کے گھر میں منقد ہونے والے معاہدے میں شریک تھا، اگر زمانہ اسلام میں بھی مجھ کو اس کا واسطہ دے کر بلایا جائے تو میں ضرور حاضر ہوں گا۔‘‘ کچھ روایات کے مطابق آپ اس معاہدے کو یاد کر کے اسے اپنی زندگی کے اہم واقعات میں سے ایک شمار کرتے تھے۔ مگر حیرت ہے کہ سیرت نبوی کے اس اہم واقعے کا ذکر کم ہی سننے یا پڑھنے کو ملتا ہے جبکہ اس کی اہمیت زمانہ اسلام میں بھی اتنی زیادہ رہی کہ حضرت حسین (رض) نے ایک موقع پر امیر مدینہ ولدید بن عتبہ کے ساتھ اپنے ایک قضیہ میں ان الفاظ سے عوامی مدد طلب کی: ’’تم میرے ساتھ حق و انصاف کا معاملہ کرو ورنہ میں اپنی تلوار نکالوں گا اور مسجد رسول ﷺ میں کھڑے ہو کر حلف الفضول کی دہائی دوں گا۔‘‘ جس کے بعد کئی صحابہ حضرت حسین کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *