موٹی اور صحتمند بچیاں بھی انسان ہوتی ہیں۔۔۔۔عارف خٹک

میں ہمیشہ موٹی اور صحت مند عورتوں پر لکھتا رہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے،کہ میں جنسی بیمار ہوں۔ میں زیادہ تر موٹی خواتین یا موٹی لڑکیوں پر اس لئے لکھتا ہوں تاکہ ان کو احساس ہو کہ میری طرح مرد ان کو بھی پیار، عزت اور احترام سے دیکھتے ہیں

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھے موٹی خواتین اچھی لگتی ہیں۔ کیوں کہ بچپن سے اسی موٹاپے کےساتھ اپنی ماں اور دوسرے قریبی رشتوں کے ساتھ پل کر بڑا ہوا ہوں۔ میرے نزدیک عورت کا وزن کوئی معنی نہیں رکھتا۔ میرے لئے وہ صرف ایک مُقدس ماں، عزت دار بہن اور پیار کرنے والی بیوی ہوتی ہے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے،جب ہم کسی کے گھر رشتہ لےکر جاتے ہیں۔تو لڑکی کو فقط اس بات کی سزا دے کر ریجیکٹ کر دیتے ہیں،کہ اُس کا وزن زیادہ ہے۔ اور اسی کمتر سوچ سمیت واپس ہو لیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ لڑکی کتنی سُگھڑ، پڑھی لکھی اور اقدار والی ہے۔نا ہی یہ سوچتے ہیں۔کہ ایسا کرنے سے ہم آرزوؤں اور اُمنگوں سے بھرا ایک معصوم دل توڑ رہے ہیں۔ جب رشتہ نہیں ہوتا،تو یہی بے بس بیٹی کسی مُجرم کی طرح والدین کے سامنے سر جُھکائے اپنے ناکردہ گُناہ کے لئے شرمسار ہوتی رہتی ہے۔جیسے رشتہ نہ ہوجانا اس کا قصور ہو۔اور رشتہ داروں کے طعنے اس کو زندہ درگور کردیتے ہیں۔
وہ لڑکی ذہنی طور پر خود کو بے کار اور خاندان والوں پر بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ اُس کی آنکھوں میں سجے خواب ویرانیوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔
کسی شادی بیاہ میں شرکت کرنے یا پھر خاندانی تقریبات سے وہ بالکل کٹ کر اپنے خول میں بند ہو کر رہ جاتی ہے۔اور بالآخر کسی طلاق یافتہ مرد کے بچوں کو سنبھالنے پر خود کو تیار کرلیتی ہے۔
ہم بطور مرد اتنے ظالم ہیں کہ بھلے ہی ہماری شکل بی گریڈ فلم کے ولن کی طرح ہوتی ہے ۔مگر بیوی ہمیں کترینہ کیف سائز کی چاہیئے۔
مجھے گِھن آنے لگتی ہے ان مردوں سے،اور نفرت ہے مجھے اُن ماؤں سے۔۔جو عورت ہوکر ایک عورت پر ظلم کی مرتکب ہوتی ہیں۔خود چاہے دھوبن جیسا سراپا ہو۔لیکن بیٹے کے لئے چاند سے کم صورت والی دُلہن لانے پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔کیا زندگی صرف حُسن و نزاکت کے ساتھ نبھائی جاتی ہے؟میں نے تو اکثر کیسز میں یہی دیکھا ہے کہ حسین اور طرحدار عورتیں جتنا مرد کو کاٹھ کا اُلو بنا کر گُھماتی ہیں۔اور اسی کے  ذریعے اُس کے باقی رشتہ داروں کو۔ویسے ایک عام شکل وصورت یا بے ہنگم جسامت والی نہیں کرتی۔میں نے زندگی میں جتنی بھی صحت مند لڑکیاں دیکھی ہیں۔ وہ اندر سے نرم دل اور محبت کرنے والی ہوتی ہیں۔ یہ اتنی وفادار اور مُخلص ہوتی ہیں،کہ بس آپ ان کو ایک بار عزت دے دیں ۔ساری زندگی یہ بغیر کسی شکایت کے خود کو آپ پر نچھاور کرتی رہتی ہیں۔ بحیثیت پشتون جہاں مُجھے اپنی قوم کی بُہت ساری منفی عادات سے چِڑ ہے۔وہاں مُجھے اس قوم پر فخر بھی محسوس ہوتا ہے۔کہ جب بھی وہ شادی کا سوچتے ہیں۔تو کسی صحت مند اور موٹی لڑکی کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ موٹی لڑکیوں کی وفاداری اور محبت کا مقابلہ کسی کترینہ کیف جیسی ساراوقت خود کے پیچھے پھرنے والی کے بس کی بات نہیں۔
ہماری پشتون مائیں تو جب رشتہ دیکھنے جاتی ہیں تو سلم اینڈ سمارٹ لڑکی کو دیکھ ویسے ہی ناک بُھوں چڑھاتی ہیں۔جیسے میجورٹی کیسز میں موٹی لڑکی کو دیکھ کر لڑکے کی مائیں۔کیوں کہ ہماری ماؤں کو بہُو کے نام پر چُھچھوندر نہیں بلکہ ایک “باڈی دار” لڑکی چاہیئے ہوتی ہے۔جو اُس کا گھر اور خاندانی میل ملاپ اچھی طرح سے سنبھال سکے۔
میں یہاں کسی لڑکی کےموٹاپے کی حوصلہ افزائی نہیں کررہا۔بلکہ میں فقط آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں  کہ یہ بچیاں بھی گوشت پوست کی بنی انسان ہیں۔ان کے پاس بھی ہماری طرح سینے میں اُمنگوں اور خواہشوں سے بھرا دل ہوتا ہے۔ ان کے بھی سپنے ہوتے ہیں۔ ان کو بھی کسی گھوڑے پر سوار آنے والے راج کُمار کا انتظار رہتا ہے۔
تو پھر آپ کون ہوتے ہیں ان کے سپنوں کو توڑنے والے؟کیوں کہ آپ کی لائی ہوئی 26 کمر قطرینہ کیف نے بھی تو سال بھر بعد پھیل کر چارپائی پر قبضہ کرلینا ہے۔اور اسی کترینہ کیف سے آپ کی کوئی موٹی اور پیاری بیٹی کا جنم بھی ہو سکتا ہے۔ توکیا پھر آپ ان کو معاف کرسکیں گے؟جو آپ کی بیٹی کا دل توڑیں گے۔جیسے آج آپ نے کسی کی بیٹی کے خواب چکنا چُور کردیئے ہوں گے۔

“ذرا سا سوچیئے”

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *