دی فیمنسٹ ۔۔۔ حسن کرتار

علی تو بھی فیمینسٹ ہوگیا ہے کچھ شرم کر

چل عمری۔ تمہیں کیا پتہ فیمینزم کیا ہوتی ہے

کیا ہوتی ہے؟۔ آسان زبان میں بولے تو پسی پالیٹیکس کا نیا نام فیمینزم ۔ وہ تصویر یاد ہے وہ ایک آرٹسٹ والی۔ جس میں ایک چھوٹی بچی چھوٹے بچے کو اپنا نیکر نیچے کر کے اپنی پسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہی ہے “اس سے میں نے تمہاری ساری زندگی حرام کرنی ہے”

یار کبھی تو تھوڑی تمیز سے بات کر لیا کرو۔ تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کوئی  کتابیں شتابیں پڑھا کر۔ سارا دن موبائل پہ پتہ نہیں کیا کیا کرتا رہتا ہے ادھر سے ہی کچھ ڈھنگ کا پڑھ لیا کر۔

اوۓ تم سے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں۔ ایسے ہی تم سوشل میڈیا پر شوشا دیکھ کر نئی چیزوں سے امپریس ہوۓ رہتے ہو۔ اور تم کونسا موبائل استعمال نہیں کرتے۔ دن میں بتا ذرا کتنی ٹوئیٹ کتنی پوسٹیں اور کتنے کمنٹ کرتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے تو مجھ سے زیادہ موبائل استعمال کرتا ہے

تو میں تو پازیٹیو مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہوں۔ ہم معاشرے کو شعور نہیں دیں گے تو اور کون دے گا

چل بڑا آیا شعور کا ماما۔ بتا ذرا تیری آن لائن محنتیں اب تک کیا رنگ لائی ہیں۔ جیسے تیرا مجھے پتہ نہیں۔ بیٹا یہ سارا دیسی فیمینزم بچیاں پھنسانے کے اردگرد منڈلا رہا ہے ۔ پر یہ میں تیرے کو بتا رہا ہوں احتیاط کریو بہت۔ یہ آج کل کی بچیاں بہت چالو ہیں۔ مقصد نکلنے کے بعد کوئی مڑ کر بھی نہیں دیکھتی۔ تجھے پتہ ہی ہے تیرے بھائی سمیت کتنے لونڈے اب تک انکے ہاتھوں ذلیل ہوچکے ہیں۔ پچھلی والی سالی کیلئے تو مجھے ماں کے زیور تک چوری کرنے پڑے مگر سالی ٹکی پھر بھی نہیں۔ آج کل اور پارٹیوں کو لوٹ رہی ہے۔ پر چھوڑوں گا نہیں ایسا بدلہ لوں گا اسکی سات نسلیں یاد رکھیں گی۔

کس کی بات کر رہا ہے تو؟

ابے یار وہ سالی پینی اور کون

مرگئے بہن۔۔۔

تجھے کیا ہوا اب؟

وہ وہ یار اسے میں نے تین چار دن پہلے نیا فون لے کر دیا تھا ۔ اس کے بعد سے اس کی کوئی خبر ہی نہیں۔ نمبر بھی سارے بند پڑے ہیں اسکے۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *