شاید خضر بچ جاتا ۔۔۔ راشد جلیل

اس سال چھٹیوں پر پاکستان سے واپسی 31 اگست کو تھی اور 30 اگست کو تقریباً پورا دن میں اور میرا بھانجا خضر حیات اکٹھے موٹرسائیکل پر قریبی عزیز و اقارب کے پاس گئے۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس کے ساتھ یہ سفر آخری ثابت ہو گا اور پھر کبھی خضر کے ساتھ سفر نہیں کر سکوں گا۔ 

نومبر 23 کو ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ بڑی بہن کی کال آ گئی۔ میں نے پوچھا خیریت صبح صبح کال کی ہے۔ پتا چلا کہ بھانجے خضر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور ہم اس وقت وکٹوریہ ہسپتال نیورو سرجری کے آئی سی یو میں ہیں۔ حادثے کی تفصیلات کچھ یوں تھی۔ 

خضر حیات اپنی قریبی رشتہ دار خاتون کے ساتھ نزدیکی شہر جلالپور پیروالا سے گھر واپس آ رہا تھا کہ راستے میں علی پور سادات کے قریب ایک گدھا گاڑی کو اوورٹیک کرنے پر دوسری سمت سے آنے والے موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا۔ خضر حیات کا سر سڑک کے کنارے فیکٹری کی دیوار سے جا ٹکرایا اور خاتون عزیزہ محفوظ رہیں۔ 

سر پر ظاہری چوٹ محسوس نہیں ہوئی نہ ہی کوئی زخم آیا، لوگوں کے منع کرنے کے باوجود اس نے دوبارہ موٹرسائیکل چلانا شروع کی اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ گاؤں سے چند کلومیٹر دور ہی وہ نیم بیہوشی کی حالت میں گر گیا۔ لوگوں نے ساتھ سفر کرنے والی خاتون سے گھر کے فون نمبر پر کال کی اور رشتہ دار فوری موقع پر پہنچ کر خضر کو ہسپتال لے گئے۔ تحصیل کے ہسپتال نے اپنی ایمبولینس میں اسے فوری طور پر بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال شفٹ کر دیا۔ 

باجی نے بتایا کہ ابھی تک اسے ہوش نہیں آیا۔ کسی طرح ڈاکٹروں کو اپروچ کرو اور ہمیں حقائق بتاؤ کہ معاملہ سیریس ہے یا سب اچھا ہے۔ 

میں نے فوری طور پر اپنے دوست ڈاکٹر یاسر ارشاد کو کال کی جو کہ وکٹوریہ ہسپتال میں کارڈیک سینٹر میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے پتہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ یاسر بھائی نے جو فیڈ بیک دی وہ انتہائی مایوس کن تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دماغ کے اوپر والے حصوں میں خون جم گیا تھا جسے آپریشن کر کے صاف کیا گیا مگر اسی دوران وہ کومہ میں چلا گیا اور اب وینٹی لیٹر پر ہے۔ میں نے پوچھا یاسر بھائی صاف صاف بتائیں کیا چانسز ہیں تو انہوں نے کہا بطور ڈاکٹر میری رائے میں کوئی چانس نہیں ہے بچنے کا ہاں آپ کی تسلی کے لئے زیادہ سے زیادہ 15% چانسز ہیں۔ 

میں نے فیملی کے کچھ افراد بشمول خضر کے بڑے بھائی سکندر کو ان حقائق سے آگاہ کیا۔ میں چاہتا تھا کہ سکندر فوری طور پر سعودی عرب سے واپس گھر پہنچ جائے۔ 

لیکن پھر 3 دسمبر کی صبح خضر حیات اسی کومہ کی حالت میں ہمارے پاس اپنی یادوں کو چھوڑتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا۔ اللہ تعالیٰ اسکی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ 

خضر حیات کی حادثاتی موت سے چند سبق حاصل ہوئے ہیں لیکن کاش کہ انہیں ہر شخص اپنا بھی لے۔ ہمیں سیفٹی پر عملدرآمد کرنا چاہیے، جب اوورٹیک کریں تو یقین دہانی کر لیں کہ سامنے سے کوئی اور گاڑی یا سواری تو نہیں آ رہی۔ 

بدقسمتی سے پاکستانی قوم کی اجتماعی صورتحال یہ ہے کہ ہم سیفٹی کے طور پر ہیلمٹ بھی اپنی حفاظت کی بجائے چالان کے ڈر سے استعمال کرتے ہیں۔ اور اگر کسی نے ہیلمٹ استعمال کیا بھی ہوتا ہے تو حادثے کی صورت میں وہ ہیلمٹ تحفظ دینے کی بجائے ٹوٹ کر سر کے اندر جا لگتا ہے اور مزید زخمی کر دیتا ہے۔ 

یہاں دو باتیں اہم ہیں ایک عوام کے لئے دوسری حکومت کے لئے۔

عوام کو چاہیے کہ ہیلمٹ اور سیفٹی خود کو بچانے کے لیے استعمال کریں نا کہ چالان کے ڈر سے. تاکہ آپ محفوظ رہ سکیں اور آپ کا خاندان آپ کی حادثاتی موت یا معذوری کا دکھ نہ جھیلے۔ 

حکومت کو چاہیے کہ ایک سیفٹی ریگولیشن بورڈ بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ غیر معیاری ہیلمٹ کی فروخت کسی صورت نہ ہو سکے۔ دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں سیفٹی بورڈز ہیں جو باقاعدہ ٹیسٹ کے بعد ایک سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں کہ یہ ہیلمیٹ محفوظ ہے اور اس کا استعمال حادثے کی صورت میں آپ کو محفوظ رکھے گا۔ 

اگر خضر حیات نے کسی معیاری ہیلمٹ کا استعمال کیا ہوتا تو شاید اس کی جان بھی بچ جاتی۔ 

Avatar
راشد جلیل
تعارف کے لیے کچھ خاص نہیں سوائے اس کے کہ حجاز کی مقدس سرزمین پر بطور انجینئر کام کر رہا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *