• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ارد شیر کاؤس جی اور فریال نینسی۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دو سری اور آخری قسط

ارد شیر کاؤس جی اور فریال نینسی۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دو سری اور آخری قسط

ارد شیر کاؤس جی حسب وعدہ ہمیں اپنی مرسڈیز اسپورٹس میں لینے پہنچ گئے۔پھولدار شرٹ اور خاکی ٹراؤزر۔ہم نے کار میں بیٹھ کر انہیں تنگ کرنے کے لیے جب گجراتی میں یہ کہا کہ Wire-Tapping نوں تو پروگرام نتھی؟ (خفیہ ریکارڈنگ کا تو کوئی پروگرام نہیں) تو تاؤ کھاگئے۔کار سائیڈ پر روک کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قمیص اتار دی۔ہم نے کہا ”دوسروں کو تو مٹی میں ملانے میں ایک منٹ نہیں لگاتے اور کوئی تم سے مذاق کرے تو اتنا برا مناتے ہو۔نہیں جاتا میں تمہارے کھانے پر۔ “۔ ہمارے یوں روٹھ جانے پر کہنے لگے ”تم نے یہ کیا تو میں باپ کو کیا جواب دوں گا۔ دعوت کی ضد اسی نے کی تھی۔اس کی اور تمہارے سب سے چھوٹے نانا محمد پٹیل کی پالی ہلز ممبئی کی ایک پارسی چھوکری کے پیچھے بہت لڑائی ہوئی تھی۔ بعد میں دوست بن گئے تھے۔

ارد شیر کاؤس جی اور فریال نینسی۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط1

گھر پہنچے تو والد بزرگوار رستم فقیر کاؤس جی وہاں موجود نہ تھے۔ ساتھ والے کمرے میں البتہ عبدالکریم لودھی اور احمد مقصود حمیدی (انور مقصود،فاطمہ ثریا بجیا،زبیدہ آپا اور زہر نگاہ کے بھائی) دونوں پرانے بیورکریٹس موجود تھے۔کاؤس جی تین پرانے سی ایس پی افسران کے دوست اور میزبان تھے۔ عبدالکریم لودھی کو وہ قابل مگر جلد بھڑک جانے والے مزاج کا، احمد مقصود حمیدی کو قابل مگر سرکاری ملازمت میں Misfit اور کنور ادریس کو قابل مگر بزدل اور مصلحت پسند افسر سمجھتے تھے۔ہم نے کہا ہم چلے جاتے ہیں پھر کبھی آجائیں گے۔۔

عبدالکریم لودھی
احمد مقصود حمیدی
کنور ادریس

تو کہنے لگے رستم کاکا (چچا) میرے کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔آج تو نے میرے کو برباد کرنے کا فل پلان بنایا ہے۔یہ سالے(سالا ان کا تکیہ کلام تھا جس کا لوگ بہت برا مناتے تھے۔ انہیں گجراتی حس مزاح سے کوئی واسطہ نہ پڑا تھا۔ پارسی اس کی بدترین شکل تھے۔چھوٹی سی کمیونٹی ہونے کی وجہ سے انہوں نے تکلفات کو ایک طرف رکھ چھوڑا تھا۔ کیا عورتیں، کیا مرد بے حد بے تکلفی سے بات کرتے تھے۔جسے عام تخاطب میں گالم گلوچ سمجھا جائے وہ ان کے ہاں روز مرہ کا محاورہ تھا) ایک دو شاٹ لگائیں گے۔ گھر بھے گی (راہ لینا)ہوجائیں۔You talk to a darling girl
تھوڑی دیر میں چشمہ لگائے، ٹرے میں اورنج جوس کے دو گلاس سجائے، کریپ سلک کی نیلی ساڑھی پارسی انداز میں لپیٹے نینسی آگئیں۔ وہ ارد شیر کی بیگم تھیں اور کراچی کی مشہور ڈنشا فیملی سے ان کا تعلق تھا۔کراچی میں ان کے ڈنشا خاندان کا شمار مالدار ترین افراد میں ہوتا تھا۔ہوٹل میٹروپول ا نہی  کی ملکیت ہے۔ہوٹل میٹروپول تک کراچی میں مقامی باشندوں کو آمد کی اجازت تھی۔اس سے آگے گوروں کی بستیاں تھیں۔شہر میں جابجا مجسمے دکھائی دیتے تھے۔

بیگم نینسی اور اردشیر
کاؤس جی والدین کے ساتھ
کاؤس جی بچوں کے ساتھ

اس خاندان کے بے شمار فلاحی کارناموں کی بنیاد پر کہیں نہ کہیں ان کے مجسمے نصب تھے۔سن سنتالیس کے بعد یہ سب مجسمے غائب ہوگئے بشمول گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو کے مجسمے۔کراچی کی بربادی کا آغاز اردشیر کے نزدیک ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے دور سے ہوا جب تک بھٹو کی کراچی میں کل دو جائیدادیں تھیں۔گارڈن ایسٹ میں رئیس امروہوی کے گھر کے سامنے خورشید منزل جو ان کی والدہ لالی بیگم کو جو مارواڑ راجھستان سے تعلق رکھتی تھیں۔ آج کل یہاں باسم اپارٹمنٹس بن گئے ہیں دوسرے ستر کلفٹن ، بھٹو صاحب نے بیورکریسی میں بے دریغ سیاسی بھرتیاں کیں اور کراچی کی زمین پر ایک لوٹ سیل مچادی۔ جس نے oning-Laws کو پس پشت ڈال کر اس کے حسن کو بدصورتی اور کچی آبادیوں میں بدل دیا۔
عبداللہ کچھی جس نے انگریز کے زمانے سے محکمہ مال کی نوکری کی تھی۔ ہمیں زبانی گزیٹ کے طور پر سنا تا تھا کہ ڈنشا اور ہارون فیملی پر بے تحاشا ملکیت کی وجہ سے مزید جائیداد خریدنے پر پابندی تھی۔

کاؤس جی کے سسر کا مجسمہ

اس کا بیا ن تھا کہ وائسرائے کی بیگم لیڈی ڈفرن کو خواتین کا ایک ہسپتال کراچی میں بنانا تھا۔وائسرائے کی جانب سے قائم شدہ فنڈ میں پانچ ہزار اور دیگر سندھ سے کل دس ہزار روپے کے عطیات ملے۔ہسپتال کی تعمیر جہاں بے نظیر صاحبہ کی وزارت عظمی کے دور میں بلاول پیدا ہوئے اس کے لیے فنڈز کی باقی فراہمی جو پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ تھی وہ اسی ڈنشا فیملی نے دان کیے۔لڑکیوں کے لیے کراچی میں پہلا اسکول ماما پارسی گرلز اسکول بھی اس خاندان نے ہی تعمیر کیا تھا۔Nadirshaw Edulji Dinshaw. یعنی این ای ڈی انجینئرنگ انسٹیٹوٹ جو اب جامعہ کا روپ بدل چکا ہے وہ بھی اسی خاندان کے نام پر ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم گلاس منہ  سے لگاتے انہوں نے ہم سے پوچھ لیا You don’t mind screw driver? (ووڈکا اور اورنج جوس کی کاک ٹیل) ہم نے انکار کیا تو وہ ناخوشی سے ہماری بیورکریسی سے تعلق دار ی پر تف بھیجنے لگیں۔ہم آدھا گھنٹہ ہندوستانی میوزک اور کراچی کے حالات پر بات کرتے رہے ایک دفعہ بہت آہستگی سے کاؤس جی جھانک کر بھی گئے لیکن بولا کچھ بھی نہیں۔ وہ
ہمارے سینئر افسر چلے گئے تو انہوں نے ہم دونوں کو گفتگو میں منہمک پاکر آہستہ سے کہا کہ
Before you two decide to elope, have dinner at my place.
اگر تم دونوں نے بھاگنے کا ارادہ کرلیا ہے تو کم از کم میرے گھر کھانا ہی کھالو۔یہ کاؤس جی کے مذاق کا عام معیار تھا۔

رستم کاؤس جی نے ہم سے اپنے ناناؤں کے بارے میں بہت سوال کیے، دو کی موت تو ہماری پیدائش سے پہلے ہوچکی تھی۔امیر جی پٹیل بھی بعد میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ وہ ان سے واقف نہ تھے۔
کھانا ختم ہوا تو والدہ اٹھیں اور سونے کی پلیٹ میں قیمتی چاکلیٹ اپنی الماری سے نکال کر لائیں۔ ہم نے کہا کہ ہم چاکلیٹ نہیں کھاتے تو وہ یہ سوچے بغیر کہ ہم مہمان ہیں کاؤس جی سے کہنے لگیں ”تو کئیا گدھیڑا گھر بولاوی لئی چھے چاکلیٹ نتھی کھاتو اے کوئی مانس چھے(تم کن گدھوں کو گھر پر بلالیتے ہو۔جو چاکلیٹ نہ کھائے وہ بھی کوئی انسان ہے)۔دہلی والوں کی طرح گھر کے بزرگ کا آپ کو میٹھا پیش کرنا گجراتیوں میں بھی مہمان کی تواضع اور تکریم کا بہت اونچا درجہ سمجھا جاتا ہے“ گھر کی دو عورتوں سے ایک دعوت میں ان کے معیار میزبانی سے گرنے کا شرف ہمیں دو بار حاصل ہوا۔چلتے وقت فقیر جی نے کاؤس جی سے کہا کہ پرانے لوگ ہیں ان کا جب بھی موقع ہو خیال رکھنا۔  راستے میں ہم نے ان سے پوچھا کہ سن1976 بھٹو صاحب نے انہیں 72 دن کے لیے جیل کیوں بھیجا تھا۔ اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگے جوانی میں سالا کوئی صدر کی کوئی گوانیزچھوکری کے پیچھے ناراض ہوگیا ہوگا ۔دل میں خنس رکھ کر بیٹھا ہوئے گا۔۔کاؤس جی کی الہی بخش سومرو اور سردار اکبر بگٹی اور نصرت صابون چی سے بہت دوستی تھی۔نصرت بعد میں بھٹو صاحب سے شادی  کرکے بیگم نصرت بھٹو بنیں۔ایک سال تک یہ میاں بیوی مفت ہوٹل میٹروپول میں قیام پذیر رہے۔ ان کی یعنی نصرت صاحبہ کی اسکندر مرزا کی بیگم ناہید مرزا سے رشتہ داری تھی۔ان کی وجہ سے روزانہ بھٹو صاحب روزانہ گورنر جنرل ہاؤپہنچ جاتے تھے۔سرکار میں عہدے کے طلب گار تھے۔ایک دن پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب پطرس بخاری ،گورنر جنرل کے سیکرٹری قدرت اللہ شہاب سے ملنے آۓ تو ان کی سفارش پر بھٹو صاحب کو وفد میں شامل اور بعد میں وزارت مل گئی

نوری ٹاکی کے ظروف گولڈ پلیٹیڈ

سندھ کے کھوڑے، سومرے اور پیر سائیں پگارا کی بھٹو خاندان سے پرانی مخاصمت تھی۔ سابق بیورکریٹ اور جنرل رانی کے عزیز، الطاف گوہر کو بھی ڈان میں ایڈیٹر لگانے کا ذمہ دار وزیر اعظم بھٹو کاؤس جی کو سمجھتے تھے۔ڈان گروپ کا ہارون خاندان اور الطاف گوہر چونکہ امریکہ کی طرف ایک واضح جھکاؤ رکھتے اور بھٹو مخالفت میں پیش پیش تھے لہذا ممکن ہے یہ بھی ایک سبب ہو۔
ہم نے علاقے کی آخری تین رجسٹریوں کو سامنے رکھ کر اوسط سے فی گز سو روپے کم کا ایوارڈ آف کمپینسیشن جاری کیا تو وہ ادارہ، سرکار بذریعہ ڈپٹی کمشنر اور کاؤس جی سبھی ہمارے خلاف عدالت چلے گئے۔شاہد حامد ہمارے ڈی سی اور کر م فرما تھے۔بہت لحاظ کرتے تھے مگر کہنے لگے کہ’ان کا ہمارے خلاف اپیل میں جانا ادارے کی دشمنی کو کند کردے گا۔ڈی سی نے یہ اعتراض کیا کہ سوا کروڑ کا خطیر ایوارڈ دیتے ہوئے ہم نے ان سے پوچھا تک نہیں۔یہ ذہانت کی بات تھی، بیورو کریسی کو ایسے بہت گُر  آتے ہیں۔ادارے کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ خیال نہیں کیا کہ وہ اتنے عرصے سے اس جگہ کے کرائے دار ہیں۔
ہم نے ان کی تجویز کردہ قیمت سے سو فیصد زیادہ کا ایوارڈ دیا ہے۔کاؤس جی جنہوں نے سو ا کروڑ کا چیک بطور معاوضہ احتجاجاً وصول کیا اس بات کو عدالت میں چھیڑاکہ انگریز نے سونے کے بدلے سونے کا جو اصول بتایا ہے اسے ہم نے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔جسٹس سلیم اختر کی عدالت تھی۔سب سے پہلے انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ اس قانون میں یہ کہاں لکھا کہ کلکٹر صاحب ڈپٹی کمشنر سے ایوارڈ آف کمپنسیشن دیتے وقت ڈپٹی کمشنر سے کوئی حکم حاصل کریں۔یوں یہ اعتراض تو فی الفور رد کردیاگیا۔ادارے کا اعتراض کہ وہ اس عمارت کو کم قیمت میں خریدنے کے لیے اس وجہ سے حق دار ہیں کہ وہ قیام پاکستان سے پہلے یہاں ایک شفاخانہ اپنے ملازمین کے لیے چلاتے ہیں۔ اس پر عدالت نے اس دلیل کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ اس رعایت سے تو کشمیر پر ہندوستان کا اور اسرائیل کا فلسطین پر ان کی مقرر کردہ شرائط پر قبضہ جائز ہوجاتا ہے۔آپ اگر ایک ٹیکسی میں ایک عرصے تک گھومیں اور کسی دن اس ٹیکسی کو خریدنے کا موڈ بن جائے تو کرایہ کار کی مالیت میں شمار کرنا ناجائز ہوگا۔کاؤس جی کی امارت اور دولت کااحوال ظاہر کرتے ہوئے انہیں ہماری ادارے کی مجوزہ قیمت سے زائد کا ایوارڈ خوش دلی سے قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ہمارے بارے میں ان کا مستحسن فیصلہ یہ تھا کہ تین پارٹیاں جس پر معترض ہوں اس ایوارڈ میں نہ صرف قانونی طور پر کوئی سقم نہیں بلکہ انصاف کے تمام تر تقاضے بھی بطریق احسن پورے کیے گئے ہیں۔

کاؤس جی سے ہماری دوستی پکی ہوگئی۔فریال کی طرح انہوں نے اس کے بعد ہمارے ایوارڈ پر کبھی کوئی گفتگو نہیں کی۔ایک دن آئے تو ہم انہیں لیاری کے ایک سرکاری میٹرنٹی ہسپتال لے گئے۔اس کی ڈاکٹر انچارج کو وہاں کچھ لوگوں کی بے جا مداخلت سے بہت شکوہ تھا۔یہ معاملات پی پی کے ایم پی اے جناب عبدالخالق جمعہ اور علی ہنگورہ جو ہمارا بہت لحاظ کرتے تھے ان کی مدد سے بغیر پکڑ دھکڑ کے ہم نے حل کرادیے۔ وہ بہت مطمئن تھیں۔ارد شیر کاؤس جی نے اس سے جب دواؤں کا بجٹ پوچھا تو بتایا گیا کہ حکومت کے بجٹ میں اس مد میں سالانہ کل پچیس ہزار روپے ملتے ہیں۔
کاؤس جی نے اس کے سامنے سے تشخیصی نسخے لکھنے والا پیڈ کھینچا اور کوٹ کی جیب سے قلم نکال کر کے ،نام اسٹینڈرڈ چارٹر بنک جو اس وقت گرننڈلیز بینک کہلاتا تھا ایک لاکھ روپے ان کے اکاؤنٹ سے بطور عطیہ دینے کا لکھا۔ دلفریب اور جواں سال ڈاکٹر صاحبہ جو نہ کاؤس جی سے واقف تھیں نہ ان کے انداز مہربانی سے۔کہنے لگیں ”اس نسخے پر لکھے گئے عطیے کو کون مانے گا“۔وہ کہنے لگے ”چل ایک وعدہ کر کہ کل پیسے مل جائیں تو کل تو مجھ سے شادی کرے گی۔نہیں تو اس پر ایک زیرو تو اپنے ہاتھ سے اضافہ کرنا اور اتنی ہی رقم کل تیرے اکاؤنٹ میں بطور ہرجانے کے جمع کرادوں گا۔Third Party Guarantee تیرے علاقے کا یہ ایس ڈی ایم اور جمعہ صاحب ہوں گے۔

ڈسپنسری
لیاری میٹرنٹی ہوم

اس میٹرنٹی ہوم سے باہر نکلے تو ایک سپاہی مل گیا۔ یہ لیاری کا ایک گجراتی تھا۔ہماری آستین کھینچ کر ایک طرف لے گیا۔ اس کی بیوی زندگی اور موت و  زیست کی کشمکش میں کسی خیراتی ہسپتال میں پڑی تھی۔ڈاکٹر نے جان بچانے کے لیے دس انجکشنوں کا جو نسخہ لکھا تھا اس کا ایک انجکشن ہی سن نوے میں سولہ ہزار روپے کا  تھا۔ہم نے کہا کل ہم اس کے ڈی آئی جی افضل شگری سے معاونت کی درخواست کریں گے۔ وہ مہربان ہیں، مان جائیں گے۔پولیس ویلفئر فنڈ سے کوئی امداد کریں گے۔ ارد شیرکاؤس جی جو گیٹ پر بے تابی سے ہمارے منتظر تھے۔پوچھنے لگے کہ کیا معاملہ ہے؟ ہم نے احوال سنایا تو وہی پیڈ منگایا کراچی کے ایک بڑے میڈیکل اسٹور کو لکھا کہ نسخہ دیکھ کر اسے ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے کے انجکشن دے دیے جائیں۔ وہ بھی متذبذب تھا مگر اسے اشارہ کیا کہ وہ کار میں سوار ہوجائے۔ ہم بندر روڈ پر اس میڈیکل اسٹور پر رکے۔اسے وہیں انجکشن لے کر دیے۔ اس کی مسرت اور حیرت دونوں ہی دیدنی تھیں۔

ایک صبح سات بجے فون آگیا کہ آتا ہے گاڑی بھیج رہا ہوں۔ناشتہ کرلیا ہے نہیں تو تیار کراؤں۔ہم نے شوخی سے کہا Noritake Gold- Plated Dinner Set میں ہم Acacia Honey کے ساتھ tea Darjeeling long leaf سوئس چیز اور حلوہ پوری-

مر سڈیز کوپے

پہنچے تو بتایا کہ دوپہر کو ان کی ملاقات کے۔ ڈی۔ اے ایک ڈی۔جی اور بلڈنگ کنٹرولر سے طے ہے۔وہ چاہتے تھے ہم بھی اس ملاقات میں شریک ہوں۔ان دنوں ان کی   تین تلوار کے قریب واقع گلاس ٹاؤر اور گلف ٹاور پر عدالت میں جنگ چل رہی تھی۔ ہم نے پہلو تہی کی کہ اس کا ہماری  سرکاری تعیناتی سے کوئی تعلق نہیں۔ Just for sobering effect and drilling reasons in their stone heads.۔ہم انکاری ہوئے۔دفتر پہنچے تو ڈھونڈیا مچی تھی ڈی۔جی، کے۔ ڈی۔ اے پریشان تھے۔انہیں چیف سیکرٹری کے دفتر سے فون آیا تھا کہ ہم کو لازماً ساتھ لے جایا جائے
دوپہر کاؤس جی کے گھر چار میری روڈ باتھ آئی لینڈ جب یہ وفد پہنچا تو ان کا ڈیش ہاؤنڈ کتا ڈیوک لپک کر باہر آیا۔کاؤس جی پیچھے پیچھے چلے آتے تھے۔ ڈی جی صاحب اور دیگر شرکاء کی تو جان ہی نکل گئی۔کاؤس جی کو پوچھنے لگے ”کتا کاٹے گا تو نہیں؟“ کاؤس جی کہنے لگے ”حرامی ہوگا تو کاٹے گا دیکھ اقبال کے آس پاس کیسے مزے سے گھومتا ہے۔یہ پہلی دفعہ بھی آیا تھا ڈیوک کچھ نہیں بولا تھا۔ کاؤس جی کے گھر میں جانداروں اور کاروں کے علاوہ کوئی بھی شے سو سال سے کم پرانی نہیں تھی۔

ان کی تحریروں اور گفتگو  پر سر ونسٹن چرچل کا اثر بہت غالب تھا۔24 نومبر2012 کو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ہمارا خیال ہے کہ ان سے بہتر پاکستان کو امریکہ اور بھارت میں کوئی اور سفیر نہیں مل سکتا تھا۔ فیلڈ مارشل جرنل مانک شاہ،گجرال اور ایڈوانی سے ان کی ذاتی دوستی تھی۔وی پی سنگھ اور واجپائی دھیرو بھائی امبانی اور عزیز پریم جی سے ان کے ذاتی مراسم تھے۔ امریکی سفیر سے وہ جب چاہے مل سکتے تھے۔
ہمارے ہوم سیکرٹری صاحب سے ملنے آئے تو ساتھ کے کمرے میں ہم موجود تھے۔سیدھے اندر چلے آئے۔وہاں سے پیغام بھجوایا کہ  بریگیڈئیر کو بول جنرل کاؤس جی آیا۔وہ اپنے آپ کو جرنلسٹ کی بجائے عام آدمیوں کو مرعوب کرنے کے لیے جنرل بولتے تھے۔وہ سنارہے تھے کہ چیف جسٹس مرحوم سجاد علی شاہ کو کراچی میں مارنے کا منصوبہ بن گیا تھا۔ان کو پرانے تعلقات کی بنیاد پر علم ہوگیا تو جنرل جہانگیر کرامت کو فون کردیا۔افسر جانتا نہ تھا۔حضرت نے انگریزی میں توپ چلائی کہ فیلڈ مارشل مانک شا کا بھائی جنرل کاؤس جی بول رہا ہوں۔دوسری طرف فون لینے والے نے گھبراہٹ میں کال اندر کردی تو تھوڑی دیر میں لیاری سے مطلوبہ ممکنہ قاتل چپ چاپ اٹھالیے گئے۔

بریگیڈیئر صاحب نے ہم سے پوچھا کہ کیسے آدمی ہیں؟جنرل طارق وسیم غازی نے ملنے کو کہا ہے ہم نے کہا Not your cup of tea۔ہمیں بہت بعد میں پتہ چلا
تھوڑی دیر بعدنائب قاصد آیا کہ آپ کو یاد کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم واجپائی سے ملاقات کے لیے وہ جنرل مشرف کے ساتھ 15 اور 16 جولائی 2001 کو دہلی آگرہ چوٹی ملاقات کے لیے گئے تھے۔واجپائی سے پہلے آئی کے گجرال بھارت کے وزیر اعظم تھے۔کاؤس جی کے پرانے مداح۔جناح صاحب کی صاحبزادی دینا واڈیا بھی ان کی دوست تھیں۔ہمیں شبہ ہوا کہ کاؤس جی سے کچھ باتیں سن کر ایک رپورٹ اسلام آباد بھجوائی جائے۔وہ کچھ آف دی ریکارڈ باتوں کو جانتے تھے۔فون پر یاای میل کے ذریعے بھی کوئی بعد از ملاقات کے معاملات زیر بحث رہے تھے۔برگیڈئیر صاحب جنرل صاحب کے بہت پر اعتماد ساتھی تھے آہستہ سے پوچھا کہ ملاقات سے واپسی کے وقت جنرل صاحب کچھ زیادہ ہی رنجور دکھائی دیے ایسا کیوں۔

صدر پرویز مشرف وزیر اعظم واجپائی
کاؤس جی دینا واڈیا کے ہمراہ
کاؤس جی،جناح،لیڈی ہارون

کاؤس جی نے وہی ریزہ ریزہ کردینے والا مذاق کیا کہ اگر تجھے دو رات ایک کمرے میں بیوی کے ساتھ سونا پڑے تو خوش ہوگا۔ہمارے افسر عالی مقام کے چہر ے کے تاثرات اس جواب پر دیدنی تھے
اردشیر کاؤس جی نے کراچی میں فیڈریشن ہاؤس کے برابر اپنے پلاٹ پر قائم باغ رستم کے حوالے سے افغانستان کے قونصلیٹ   کی وجہ سے تنگ تھے۔طالبان کا دور تھا۔انہوں نے گلی میں باغ رستم کے داخلے  پر پابندی لگادی تھی۔اپنی ایک عارضی چیک پوسٹ جس پر ڈراؤنے بندوق بردار طالبان موجود رہتے تھے۔ان سے پولیس ڈرتی تھی اور فارن آفس انجان بن جاتا تھا۔ہمیں حکم ملا کہ مسئلے کو بطور ایڈیشنل سیکرٹری اور کراچی کے پرانے افسر ہونے کے ناطے حل کریں۔
ہم نے کراچی میں بنوری ٹاؤن مسجد کے سرپرست اعلی مفتی نظام الدین شامزئی کے ذریعے طالبان افغان سفیر عبدالسلام ضعیف سے رابطہ کیا۔ہمارے دفتر میں  مذاکرات  کا پہلا راؤنڈ چلا، دوسرے کے لیے ان کی سہولت کے پیش نظر کہ یہ چوکی کہاں ہو ،اگلا راؤنڈ  قونصلیٹ میں چلا۔کاؤس جی گھبرائے ہوئے تھے مگر جب ہماری کار میں بیٹھے تو مطمئن تھے۔ مذاکرات کے نتیجے میں کاؤس جی صاحب کی منشاء کے مطابق چوکی بہت پیچھے کرکے بنائی گئی۔ 24 نومبر سن 2012 کو وہ اس دنیا کو چھوڑ گئے۔

ہم اس یادِ  رفتگاں کو ان کی اس نصیحت پر ختم کرتے ہیں جو ارسلا جاوید کو انہوں نے موت سے ایک سال پہلے ایک ملاقات میں کی تھیWe are surrounded by chariyas who will never do anything. I have not seen anyone reclaim Jinnah’s Pakistan in my lifetime. But maybe your generation will. Don’t ever give up on this hope, you hold so dear.”
ہم چاروں طرف سے پاگلوں میں گھرے ہیں۔جو جناح کا پاکستان میری زندگی میں نہیں بناپائیں گے۔ لیکن شاید آپ کی نسل میں یہ کام کوئی کر پائے۔ہمیں اس حوالے سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *