کمزوروں کی طاقتور آواز چل بسا ۔۔۔ رشید یوسفزئی

بچپن میں مالاکنڈ سے پشاور تک مختلف دیواروں پر لکھائی دیکھتا:

“فانوس گجر کو رہا کرو!”

بچگانہ حیرانگی ہوتی کہ یہ فانوس گجر بھلا کون ہوگا؟

پھر اس فانوس گجر سے دوستی ہوگئی۔ آبائی علاقے سے نکلتے تو راستے میں میرے گھر رات کو قیام ہوتا۔ بیوروکریٹس، عوامی نمائندے، سیاستدان، پروفیسرز، دانشور، ادیب، شاعر، لکھاری اور نوجوان انقلابی منت کرتے کہ اگر فانوس صاحب تشریف لارہے ہیں تو ہمیں محفل میں ضرور شرکت کا موقع دیں۔ ملکی و بین الاقوامی، سماجی و معاشی امور پر زبان کھولتے تو سب ہمہ تن گوش ہوتے۔ اکثر قلم کاغذ سے نکتے نوٹ کرتے۔ 

تقریباً دوماہ قبل کی بات ہے۔ فون کیا۔ “رشید کدھر ہو؟” عرض کیا، “سر جہاں بھی ہوں، آپ حکم کریں اس کے مطابق حاضر ہو جاؤں گا”۔ فرمایا، “اپنے گھر برداری سے کچھ چندہ جمع کیا ہے، کچھ جیلوں میں بے آسرا قیدی ہیں ان کے لئے ضروریات کی چیزیں خرید کر جیلوں میں تقسیم کرتے ہیں”۔ دو جیلوں میں گئے اور حکام سے مل کر کپڑے، جوتے، اور ضرورت کے اشیا تقسیم کیں۔ راستے میں پوچھا “سر آپ بے آسرا قیدیوں کیلئے عالمی تنظیم چلا رہے ہیں تاہم اپنی اور اپنی برادری کی کمائی بھی ان پہ لگا رہے ہیں؟ اپنے لیے بھی کچھ رکھا کریں” ہنسے اور فرمایا، “رشید، میرے گھر میں کوئی نہیں۔ ایک نابینا بیوی اور ایک میں۔ کس کیلئے بچت کروں؟” گاڑی پاس نہیں تھی۔ الیکشن سے قبل ایک دوست نے مجھے نئی GLI کرولا دی۔ شام کو جیسے ہی گھر تشریف لائے میں نے چابی پیش کی۔ واپس دیتے ہوئے فرمایا،”میں سماج کے سب سے نچلے طبقے کا نمائندہ ہوں جن کے پاس ایک وقت کا کھانا نہیں، رات کے لیے آسمان چھت اور زمین بستر ہوتی ہے۔ میرے پاس نئی قیمتی گاڑی منافقت ہوگی۔ تم جوان ہو اور کچھ سٹیٹس رکھتے ہو، یہ تمہارے لیے مناسب ہے”۔ فرمایا ساتھ ھوجاؤ تخت بھائی جانا ہے۔ ساتھ ہو لیا۔ ستر سوٹ زنانہ کپڑے، دھلائی کے لیے سرف اور صابن خریدے۔ حیران تھا کہ اس سے کیا کریں گے۔ جی ٹی روڈ اور نہر کے درمیان خیموں میں خستہ حال ٹینٹوں میں لوگ رہتے ہیں جو بھیک پر گزارا کرتے ہیں۔ مقامی لوگ ان کو چنگڑ کہتے ہیں۔ کپڑے ان میں تقسیم کئے۔ ان گھروں کی بد بو، اور ان کے باسیوں کی حالت سے مجھے کراہت آتی تھی تاہم فانوس صاحب ہر خاندان کے پاس بیٹھتے۔ ان کو صفائی کی تلقین کرتے اور سامان اور کپڑے تقسیم کرتے۔ 

فانوس گجر کے ساتھ رہ کر ایسے درجنوں سبق آموز واقعات دیکھے۔ محنت کشوں، مزدوروں، کسانوں، کچلے ہوئے طبقات اور انسان پرستی کے مذہب کی یہ سب سے طاقتور آواز آج ہمیں چھوڑ گئے۔ 

موت کے وقت  مولانا سمیع الحق کے پاس گاڑی دہشتگرد تنظیم جماعت الدعوہ کے حافظ سعید کی تھی۔ اس وقت آئے تو میں نے ہنس کر کہا، “سر جس مولوی کے ہاتھ لاکھوں لوگوں کے خون سے آلودہ ہے ان کے پاس کروڑوں کی گاڑی ایک دھشتگرد کی دی ہوئی ہے جبکہ آپ زندگیاں بانٹتے ہیں مگر اپنی گاڑی تک نہیں؟” ہنس کے ٹال گئے۔

میں اپنی مختصر سی زندگی میں ہزاروں لوگوں سے ملا ہوں جن کے نام کے ساتھ “عظیم شخصیت” کے دم چھلے لگے ہیں۔ اصل عظیم بندہ البتہ ایک ہی ملا جو خلوت و جلوت دونوں میں عظیم تھا۔ منافق سے شدید نفرت ان سے سیکھی۔ شاید یہی سب سے بڑا استفادہ تھا۔ 

زندگی میں والد سمیت کئی قریبی رشتہ دار مفارقت کا داغ دے گئے تاہم آج میں پہلی بار رو رہا ہوں اور اپنے آپ کو بے آسرا محسوس کر رہاہوں!

پاکستانی اندھیروں کے لوگ ہیں۔ انہیں فانوس سے خوف ہے!

یہ فانوس گجر کی موت پر خاموش رہیں گے کیونکہ فانوس مولوی نہیں، انسان پرست تھا۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *