کیا ہم جینا سیکھ سکتے ہیں ؟

زندگی جب اعتدال سے ہٹتی ہے تو باقی نہیں رہتی – ہمارے جسم میں موجود عناصر میں سے کسی ایک کی انتہائی کمی یا انتہائی زیادتی ہماری موت کا سبب بن جاتی ہے- یعنی ہمیں بنانے والے نے ہماری بنت میں ایسا توازن رکھ دیا ہے جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو صرف توازن میں ہی بہترین طریقے سے گزار سکتے ہیں –
ہمارے جسم کی ضروریات بھی توازن چاہتی ہیں- کچھ سونا، کچھ جاگنا ، تھوڑا کام تھوڑا آرام ، کچھ کھانا کچھ پینا، ہر چیز میزان میں ہو تو ہمارا جسم بہترین حالت میں رہتا ہے ورنہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے- ذہن کی حالت بھی ایسی ہی ہے ، ایک حد تک ذہنی کام ہمیں خوشی دیتا ہے ، حد سے زیادہ ذہنی مشقت بیمار کر دیتی ہے-
کچھ اور مثالیں دیکھیں ، ہماری آنکھیں ایک خاص حد تک دیکھ سکتی ہیں اور اسی میں سارا حسن ہے – اگر آج ہماری آنکھیں وہ سب جراثیم بھی دیکھنے لگیں جو نہیں دیکھ پاتی ، تو کتنا مشکل ہو جائے – ہمارے کان ایک خاص فریکیونسی کی حد میں ہی ساری آوازیں سن سکتے ہیں، اس حد سے زیادہ یا کم آوازیں اگر ہمارے کانوں میں ہر وقت پڑتی رہیں تو نا ہم سو سکیں اور نا سکون کر سکیں –
جن سائنسدانوں نے ہمیں اس کائنات کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں ، وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہماری زندگی ، اور ہماری دنیا دو انتہاؤں کے درمیان زندہ اور سانس لے رہی ہے- ہزاروں سیارے یا تو حرارت سے جل رہے ہیں ، یا حرارت کی انتہائی کمی سے برفانی گولے بنے ہوئے ہیں – ان سب کے درمیان ہم ایک مناسب حرارت کی وجہ سے زندہ ہیں- نا زیادہ نا کم –
اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو ہر روز سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا رکھتی ہیں – ہماری زمین کا سورج سے فاصلہ ، نا زیادہ ، نا کم – ہماری زمین پر پانی ، نا زیادہ ، نا کم – ہماری زمین پر خشکی اور پہاڑوں کا توازن – اور پھر ہمیں دوسرے سیاروں کے بارے میں پتہ چلتا ہے ، جو انتہا پسندی کا شکار ہیں اور جہاں زندگی ممکن نہیں –
دوستو ! بات تھوڑی لمبی ہو گئی ، لیکن آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ زندگی کو دو انتہاؤں میں تخلیق کرنے والا ہمیں ایک اشارہ دے رہا ہے اور وہ اشارہ دو انتہاؤں کے درمیان زندگی تلاش کرنے کا ہے- جیسے کسی انتہا پسند سیارے پر زندگی ممکن نہیں ، ویسے ہی کسی انتہا پسند معاشرے میں بھی زندگی پھل پھول نہیں سکتی –
کیا ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر ان انتہا پسند رویوں کو تلاش نہیں کر سکتے جو ہمارے معاشرتی زندگی کے لئے خطرہ ہیں؟ کیا ہم اپنے اندر جھانک کر اس انتہا پسند سوچ کو نہیں پہچان سکتے جو کسی بھی طرح ہماری زندگی سے میچ نہیں کھاتی اور کسی اور سیارے سے آئی ہوئی لگتی ہے ؟ کیا ہم اپنے جسم کی طرح اپنی سوچ کو بھی متوازن خوراک نہیں دے سکتے ؟
کیا ہم مذہبی شدت پسندی کو مذہب سے الگ نہیں کر سکتے؟ اس مذہب سے جو ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے – کیا ہم اپنے سے اختلاف رکھنے والے کو دوسری انتہا پر پھینکنے کی بجائے اپنے جیسا ایک انسان نہیں سمجھ سکتے؟
ہم اپنی زندگیاں دو انتہاؤں پر گزار رہے ہیں. ہمارے خیال میں ہر بندہ یا تو فرشتہ ہونا چاہیے یا شیطان- ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ زندگی اصل میں درمیان میں کہیں بسر ہوتی ہے – ہم اس نبی صلی اللہ علیه وسلم کے ماننے والے ہیں جو میانہ روی اور اعتدال کا سبق دیتے رہے – اعتدال یعنی نا زیادہ نا کم ، نا کثرت ، نا قلت ، نا بہت ہی ادھر اور نا انتہائی ادھر –
کیا ہم اپنی زندگیوں میں درمیانہ راستہ نہیں اپنا سکتے؟ کیا ضروری ہے کہ ہم انتہائی شدت والے سیاروں کی طرح زندگی سے محروم ہو جائیں ؟ کیا مرنا ضروری ہے؟ جبکہ ہم ابھی جی سکتے ہیں –

Avatar
محمودفیاض
زندگی سے جو پوچھا ہے، زندگی نے جو بتایا ہے، ہم نے کہہ سنایا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *