اعوان داستان۔۔۔۔عظمت نواز

SHOPPING

اعوان وطن عزیز میں آباد ایک عظیم قوم(ہمارا یہی ماننا) ہے – خصوصاً پنجاب کے کئی اضلاع میں یہ قوم اپنی مونچھوں کی طرح پھیلی ہوئی ہے – ایک محتاط اندازے کے مطابق اس قوم کے قریباً دو کروڑ یا زائد “نفوس قدسیہ” سر زمین پاک پر باد ہیں – اگر آپ پنجاب کے چند بڑے شہروں میں رہتے ہیں تو آپ کے مشاہدے میں آیا ہو گا کہ ہفتے کے اختتام پر شہر کے بس اڈوں پر کاٹن سوٹ نیچے کالزا چپل فٹ کیے انتظار بس میں کھڑے لوگ، ان میں سے بیشتر اعوان قوم کے باشندے ہوتے ہیں جن پر ہر حال میں گاؤں پہنچ کر ہاتھ لگا کر واپس آنا فرض ہوتا ہے   کہ دیکھیں گاوں وہیں ہے یا کہیں کوچ کر گیا –

ا ن کی بے شمار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہت غربت کی صورت میں بھی شکاری تازہ  کتا، جلسے کے لیے نہایت ہی خرچیلا اور نخریلا بیل لازمی پال رکھتے ہیں اس کےلیے چاہے جتنا کشٹ اٹھانا پڑے وہ ذرا سا بھی نہیں محسوس کرتے – یہ لوگ اپنی اولاد کا بھی خیال رکھتے ہیں مگر مذکورہ بالا دونوں جانداروں کو بھی انکے ہاں اولاد برابر اہمیت اور حقوق حاصل ہوتے ہیں -جیسے کہ کتے کی بعد از شکار واپسی پر مالش، دود، گھی وغیرہ کا کثرت سے استعمال ، اور دشت کے بادشاہ جناب بیل کی کورنشیں بجا  لانا اس پر مستزاد ہے –

شوق کا مول نہیں والا جملہ بھی قوم عظیم پر خوب صادق آتا ہے – ایک چاچا جی ہیں جو اپنی کچی پکی نوکریاں بارہا کسی خاص بیلوں کے جلسے کے لیے تیل کر کے اپنے گھر آنے سے پہلے جلسے پر پہنچتے تھے کہ کہیں ثواب سے محروم نہ رہ جاویں اور پھر بعد از جلسہ کسی روز چلتے پھرتے گھر کا رخ کرتے اور آ کر بتاتے کہ یہ نوکری ٹھیک نہیں تھی – پھر شہر رزق کراچی روانہ ہو جاتے اور اگلے بیلوں کے جلسے تک کے لیے کسی جگہ ملازم ہو جاتے تھے – ہمارے اقارب میں سے بھی ایک جو بعد میں تو بہت پڑھ لکھ گئے مگر اوائل عمری میں سالانہ پرچوں میں اگر کوئی جلسہ آجاتا تو وہ جلسے کو اس پرچوں والے شیطانی کام پر ترجیح دیتے اور نکل لیتے تھے –

نہانے کو معقول کام سمجھتے ہیں مگر جمعے کے جمعے، البتہ نائی کا کاروبار انکی بغلیں بنا بنا کر خوب چلتا تھا اب وہ حالات نہ رہے، لڑائی جھگڑے سے عمرماً  پرہیز نہیں کرتے اور عدالت یاترا سالہا سال جاری رہتی  ہے تانکہ بابا جی جنت سدھار جائیں – بچہ پیدا ہونے کے بعد، بعد از تکبیر و اذان نو وارد کو سب سے پہلے گھٹی میں چائے دی جاتی تاکہ ایں بچہ اعوان چائے سے تا دم مرگ وفا کرے کیونکہ اگر مال دولت ہے تو چنگی چاء پی لیں گے، اگر ماڑے حالات ہیں تو پھر یہ قوم پنج وقتا نماز کی طرح دو وقتا چائے نوش کرے گی،

SHOPPING

خصوصیات قوم عظیم کی فہرست طویل ہے مگر فی الحال انہی پر اکتفا کرتے ہیں –

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *