میرا نوحہ۔۔۔۔شہزاد سلطان

مجھے ان بیابانوں سے عشق ہے۔
ان میں میری تاریخ مدفون ہے عرب سے نکلا تھا عورتوں کی عظمت کی خاطر اور فارس سے ہوتے ہوئے ان بیابانوں کو سجایا تھا۔

یہ دشت میری  پیاس اور تکلیفوں کے گواہ ہیں۔ یہ بے آب و  گیاہ سرزمین سے میری محبت بہت پرانی ہے۔ اس کی پہاڑوں کی چوٹی پہ بیٹھ کر بلوچی براہوئی لیکو سناکر بکریاں چرایا کرتا تھا۔ پھر بہت دور موجود واحد پانی کے چشمے پر جاکر بکریوں کو پانی پلاتا۔

یہاں موجود “گَوَربند” یہاں کی تہذیبوں پر دال ہیں۔ یہاں کے دمب سے “بت” نکلنا اس سرزمین کی تاریخ سمجھانے میں مددگار ہے۔

خزانوں کا پتہ لگاکر یہاں بسیرا نہیں کیا تھا بلکہ ایک عشق جو دشت نورد کو صحرا سے کوہ نورد کو اونچے پہاڑوں سے ہوتی ہے۔
بنا گھوڑے کے دشتیں مسخر کیئے اور بغیر پروں کے شاہین کے نشیمن پر بیٹھ کر “کو کو” کیا۔

یہ پہاڑوں سے نکلنے والے تیل مجھے موت دیں گے۔۔۔۔ علم نہیں تھا۔ یہاں کی  گیس لوہے میں بند ہوکر مجھ پہ پھٹے گی  اس کا احساس نہیں تھا۔
جن عورتوں کو لالچی رشتے میں دینے کے بجائے اپنے آباد علاقوں سے اس سرزمین پر کوچ کیا  وہ اس سردی میں سڑکوں پر خوار ہوں گی ۔۔۔یہ تصور بھی نہیں تھی۔

میرا طالب علم دہشت گرد ہے اس کی چادر میں کلاشنکوف دکھتا ہے۔
میرے نوجوان مسخ شدہ لاش بن کر بھی گھر پہنچنے کے حقدار نہیں ہے ۔
میری مائیں آنکھوں کا پانی ختم کرکے بھی اس انتظار سے نہیں نکلیں  جو قتل سے بھی سخت ہے۔
میری بہنوں کی چیخوں کو سن کر یہ پہاڑ بھی چیختے رہے مگر۔۔۔۔

ان کی نگاہیں خزانوں پر ہیں۔ سمندر پہ ہے۔ گیس پہ ہے۔ سونے کے ذخائر پہ ہیں۔

سمندر کے پاس رہنے والے پانی سے محروم۔ گیس کے ہمسائے گیس سے محروم اور خزانوں کے مالک آج بھی دشت نورد ہیں۔

مجھے رونا آتا تھا اب نہیں آتا۔ غصہ کرتا تھا اب نہیں کرتا۔ پہلے ماں کا لاڈ اور باتیں وطن کی گرم جوشیاں تھیں۔

اور اب۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
اور وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *