• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فیصل آباد لٹریری فیسٹیول میں وسعت اللہ خان سے ملاقات کا احوال۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

فیصل آباد لٹریری فیسٹیول میں وسعت اللہ خان سے ملاقات کا احوال۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

‎ 23 اور 24 نومبر کو فیصل آباد میں دو دن کے لیے ادبی میلے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ملک کے نامور ادیب اور صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔( جس کی پہلے دن کی روداد  کا لنک یہ ہے ) فیصل آباد لٹریری فیسٹول کی کتھا۔۔۔۔۔۔۔عبدالحنان ارشد دوسرے دن کی تقریب کا آغاز  ساڑھے دس بجے ہونا تھا لیکن نوجوان نسل کو طعنہ دینے والے منتظمین خود ساڑھے گیارہ بجے تقریب کا آغاز کررہے تھے۔

الفاظ کے بے تاج بادشاہ، جو بڑی سے بڑی گتھی اپنی لفاظی سے سلجھا دیتے ہیں   کہ پڑھنے والے کے لیے واہ کیے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے۔ جن کے پروگرام کو لوگ دیکھنے کے لیے  رات گئے تک جاگتے ہیں ، کیونکہ ان کا ٹاک شو  دیگر شوز سے بالکل ہٹ کر ہے ۔ جس میں نہ تو مہمانوں کو بلوا کر اُن کو گلاس مارنے پر اکسا کر ریٹنگ لی جاتی ہے اور نہ پروپیگنڈا خبریں پھیلا کر لوگوں

وسعت اللہ خان صاحب سے انٹرویو کروانے کے لیے حیدر معراج صاحب کا تہے دل سے مشکور ہوں ۔مجھے  مشہور شاعر علی زریون صاحب نے  وسعت اللہ صاحب سے متعارف کروایا۔اس کے بعد لمبی نشست میں ہر موضوع پر  گفتگو ہوئی ۔۔وسعت صاحب کی گفتگو کا بیشتر حصہ پنجابی زبان پر مشتمل تھا،جو خوشگوار حیرانی کا باعث تھا۔انہوں نے  اپنی‎جون ایلیاءکے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور جون صاحب کی محفل میں پیش آنے والے واقعات اور جون صاحب کا اپنے معترفین کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا تھا اس پر بھی گفتگو فرمائی۔ وسعت صاحب نے بتایا  کہ جون صاحب کو اگر کوئی کہتا جون صاحب رات کے دوبج گئے ہیں اب کچھ شعر عطا کیجئے۔ اگر تو موڈ ہوتا تو سنا دیتے اگر طبعیت کچھ سنانے کی نہ ہوتی تو کہتے جانی پہلے برفی کہلاؤ تو شعر سناتا ہوں۔ اب رات کے دو بجے کہاں سے برفی ملے نہ برفی ملے اور نہ شعر  ہو-

سوال: وسعت صاحب عام انتخابات میں کراچی میں یہ کیا ہوا ہے؟ کیا ایم کیو ایم بالکل ختم ہو گئی ہے؟

جواب: پچھلے انتخابات میں ایم کیو ایم کے حاصل کردہ ووٹ تھے” ستائیس لاکھ” جبکہ تحریکِ انصاف کے ووٹ تھے ساتھ لاکھ۔ تحریک انصاف ایک نشست حاصل کر سکی تھی۔ وہ بھی صدرِ پاکستان عارف علوی صاحب بعد میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتیجے میں۔ موجودہ الیکشن میں تحریک انصاف نے حاصل کیے “دس لاکھ” ووٹ جبکہ ایم کیو ایم کے حاصل کردہ ووٹ تھے “سات لاکھ” اور لبیک کو ملے تقریباً “تین لاکھ” کے قریب ووٹ۔ یہ بنے مجموعی طور پر بیس لاکھ کے قریب ووٹ۔ گزشتہ انتخابات والے ووٹ جمع کریں تو بنتے ہیں “ستائیس لاکھ” مطلب کہ “سات لاکھ” ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔ گھر بیٹھے رہے۔ یا لندن رابطہ کمیٹی کی بائیکاٹ  والی پکار پر عمل کیا ہے۔ اب ہوا یہ کہ تین لاکھ کے فرق سے ایک جماعت سارے نشستیں جیت گئی اور ایک جماعت تین لاکھ کے فرق سے گزشتہ نشستیں ہار گئی۔۔۔۔‎تحریک انصاف کے اس دس ہزار ووٹ میں کتنا ڈلوایا گیا کتنا ڈلا وہ الگ بحث ہے۔ ‎یہاں تک ہوا عزیزہ آباد نائن زیرو سے منسلک تین پولنگ ‎ اسٹیشن ہیں جہاں پر صرف ایم کیو ایم کے شہدا کا ووٹ ہے۔ وہاں سے بھی دو پولنگ اسٹیشنوں پر تحریک انصاف فاتح قرار پائی۔‎(اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے) اب اس کے بعد میں اور کیا بات کروں۔ ‎یہ بھی کہا جا سکتا ہے، سینٹرل پنجاب کی بدلتی صورتحال کے بعد ایسا کیا گیا ہو۔

سوال: (اسی جواب کی مناسبت سے ہم نے ایک اور سوال داغ دیا) اگر ایسا ہے تو پھر اعجازالحق اور سرفراز بگٹی جو کہ اسٹیبشلمنٹ کے اپنے بندے یا پھر یوں کہہ لیں اُن کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں، اُن کو ہرانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

جواب:  پولیس چور مقابلے کے بعد اپنے دو سپاہیوں کے ہاتھ میں خود گولی مار لیتی ہے۔۔ ادھر بھی وہی حساب ہوا ہے۔

سوال: حامد میر صاحب کچھ دن قبل شازیب کے پروگرام میں فرما رہے تھے کہ عبدالقدوس بزنجو صاحب کسی طرح کی تبدیلی لانا چاہ رہے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

جواب: ایسا کچھ نہیں ہے۔ بس وہ ٹی وی پر سات، ساڑھے بجا رہے ہیں۔

سوال: اختر مینگل تو اینٹی اسٹیبشلمنٹ ہیں پھر خان صاحب کی گورنمنٹ کا حصہ کیسے بن گئے؟

جواب: بلوچ سارے ہی ہمیشہ سے اینٹی اسٹیبشلمنٹ رہے ہیں، وہ اختر مینگل ہوں یا اور کوئی۔ کسی نے مزاحمت کا راستہ چنا تو کسی نے پارلیمنٹ   کا لیکن ہیں سارے ہی اینٹی اسٹیبشلمنٹ۔ اختر مینگل اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بغیر کسی لالچ و طمع کے حکومتی بنچوں کا حصہ بنے ہیں۔ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو یہ حکومت سے الگ ہو جائیں گے، جیسے کچھ دن قبل اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ گئے تھی۔

سوال: اگر تمام الیکشن کا رزلٹ محمکہ زراعت نے بنایا ہے تو تحریک انصاف کو اتنی واضح اکثریت کی بجائے narrow مارجن سے کیوں جتوایا گیا؟

جواب: یہ نتائج سب کے لیے مفید ہیں۔ کسی کے مخالف نہیں ہیں ۔ کسی کو واضح برتری نہیں ملی ہے۔ کوئی بھی کبھی بھی مسلط کیا جا سکتا ہے۔ رزلٹ مرتب کرنے والے اتنے پاگل نہیں کہ ملک میں انتشار پھیلانے کا سبب بنتے۔ اگر نون لیگ کو بالکل بھی نہ جتوایا جاتا تو ن لیگ نے حالات خراب کردینے تھے ملک انارکی کی طرف جا سکتا تھا۔ اب کیا ہوا ہے؟ ایک طرف تحریک انصاف والے جیت کا جشن منا رہے ہیں تو دوسری جانب نون لیگ والے فتح پر دھمال ڈال رہے تھے۔ ایم این اے ایک جماعت کا جیتا ہے تو ایم پی اے دوسری جماعت کا۔ تاکہ سب کے پاس تکلیف دہ  دل کے ساتھ ہی  نتیجے کو قبول کرنے کا کوئی جواز تو موجود ہو۔ بعض جگہ پر یہ جماعتیں حقیقی ووٹوں سے ہی فاتح قرار پائی ہیں۔۔۔عمران خان کو واضح اکثریت دینا کسی کے مفاد میں نہیں تھا۔ اب ن لیگ، پیپلزپارٹی اسی بات کو ذہن میں رکھے ہوئے چپ ہے کہ خان کی حکومت کو کسی بھی وقت ڈھکا دیا جا سکتا۔ یہی بات ذہن میں بٹھائیں ہوئے وہ اسمبلی کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور محکمہ زراعت بھی جب چاہے کچھ بھی کر سکتی ہے تو خان صاحب کو ہر وقت اس بات کا تدارک رہے کہ مجھے حکم ماننے ہیں۔ ورنہ کسی بھی وقت تختہ دھڑم ہو سکتا ہے۔

سوال: فوج کے  بارے  آپ کا کیا کہنا ہے؟

( علی زریون نے کہا سر یہ فوج کا حمایتی ہے، اس کی تحریریں میں نے پڑھی ہیں, میں نے کہا میری تحریروں میں آپ کو سپورٹ میں کچھ نہیں ملے گا)

جواب: مجھے تو خود  فوج بہت اچھی لگتی ہے، یہ ہی تو پاکستان کی میں ایک واحد منظم سیاسی جماعت ہے۔ میں بھی فوج پر لکھنا چاہتا ہوں۔ میں انہیں کہتا ہوں میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں،میں آپ کے حق پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ آگے سے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ نہیں آپ ہماری تائید میں بھی لکھنے سے پرہیز ہی کریں۔ ہم آپ کی مداح سرائی کے بغیر ہی اچھے۔میں نے ایک دفعہ مولانا فضل الرحمن پر ایک کالم لکھا تھا۔ وہ کالم تین دن تک جمعیت کی ویب سائیٹ پر لگا رہا، جب انہیں سمجھ آئی تو وہاں سے اتارا۔

سوال: ایسا شاندار اور ہر پہلو سے متوازن نتیجہ  ترتیب کون دیتا ہے؟

جواب: اس سوال کا  جواب دینے سے میں خود قاصر ہوں۔ کہ ایسا شاندار اور عمدہ رزلٹ کون بناتا ہے۔ کیونکہ کسی کو نہیں معلوم صرف فوجی ایسا نتیجہ مرتب کرتے ہیں یا کوئی بیرونی پیشہ ور بھی ہائر کیے جاتے ہیں۔

سوال:عمران خان معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے بہت تگ و دو کر رہا ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: عمران کی نیت بہت اچھی ہو گی میں مانتا ہوں۔ اس کے لیے وہ بھرپورجدوجہد  بھی کر رہا ہے۔ لیکن اس کو اس کے  مثبت نتائج ملنا بہت مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ کیونکہ عمران خان کی بیت جتنی بھی اچھی ہو وہ اکیلا معشیت کی چارپائی نہیں اٹھا سکتا، وہ تن تنہا تو ایک پایا اٹھا لے گے باقی تین اٹھانے کی زحمت کون کرے گا۔ بھٹو کے ساتھ سارے چارپائی اٹھانے والے تھے تو اُس نے کچھ عرصہ چارپائی اٹھائے رکھی۔ خان کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ باقی ہماری تو نیک دعائیں خان کے ساتھ ہیں۔

سوال: چائنہ قونصلیٹ پر جو حملہ ہوا اس کے تانے بانے ان لوگوں کے ساتھ جوڑے جارہے ہیں، جن کو مِسنگ پرسن کہہ کر ملکی اداروں پر الزام لگایا جاتا ہے؟

جواب: ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ صرف ایک بھیانک پروپگینڈا کیا گیا تھا، جس کو ہم نے اپنے پروگرام میں بھی ایکسپوز  کردیا تھا۔ کچھ تنخواہ دار لوگوں نے اس پر بھدنما پڑوپیگنڈے کرکے مِسنگ پرسن جیسے حساس موضوع کو Malign کرنے کی سازش کی تھی جو بری طرح ناکام ہوئی ہے۔

سوال: نواز شریف بالکل خاموش ہوگیا ہے اور تو اور مریم نواز بھی کچھ نہیں بول رہی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: نواز شریف سمجھدار ہوگیا ہے۔ (پھر خود ہی بولے) لیکن مجھے ڈر ہے ایسا سمجھدار نہ ہوا ہو۔ ۔کہ  “ کسی گاؤں میں ایک بابا تھا جو ایک دم سے بالکل خاموش ہو گیا تھا۔ لوگوں نے بہت کوشش کی بلانے کی، وجہ جاننے کی لیکن بابا تھا کہ بولنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ لوگ اُس کے مرید ہونا شروع ہو گئے وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ اور کرتے کرتے دس سال گزر گئے لیکن بابا ان گزشتہ دس سالوں میں ایک دفعہ بھی نہیں بولا تھا۔ ایک دن ایک دیرینہ مرید نے مصمم ارادہ کرلیا کہ آج بابا جی کو بلوا کر ہی دم لینا ہے۔ بابا جی کی بہت منت سماجت کی خوب خدمت کی کہ بابا جی آج بول ہی دو دس سال سے چپ ہونے کی وجہ بتادیں۔ “بابا بولا کہ میں دس سال سے یہ سوچ رہا ہوں۔ یہ سورج دس سال سے اسی طرف سے ہی کیوں نکل رہا ہے” مرید نے کہا بابا جی آپ چپ ہی رہا کریں وہ ہی سب کے مفاد میں ہے۔۔۔اب نواز شریف بھی جب بولے تو ایسا نہ ہو کہ لوگ  کہیں کہ باؤ جی آپ چپ ہی رہا کریں۔ایک اور واقعہ سنیں ۔۔۔

میں ایک دفعہ راجن پور گیا وہاں ہمارا دوست کہتا آؤ خان صاحب آپ کو تماشہ دیکھاتا ہوں۔ ہمیں کھیتوں میں لے گیا۔ وہاں نہر کی دوسری طرف ایک آدمی کو دو چار گالیاں دے دیں ۔ اور خود خاموش ہو گیا۔ اُس کے بعد نہر پار شخص کوئی بیس پچیس منٹ گالیوں کی گردان کرتا رہا۔ جب وہ خاموش ہوا تو ہمارے دوست نے پھر سے کوئی چار پانچ گالیاں دیں۔ لیکن آگے سے کوئی جواب نہ آیا کہتا خان صاحب اب یہ سمجھدا ہو گیا ہے۔۔۔۔مریم، نواز شریف کی بیٹی ہے وہ بھی سمجھدار ہو گئی ہے۔

سوال: اب جب کہ جمہوریت کا دور ہے لیکن آمریت سے بدتر سنسرشپ نافذ ہے تو ایسے ماحول میں صحافی اپنی بات کیسے کرے؟

جواب: سنسرشپ پہلی دفعہ نافذ نہیں ہوئی یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ لیکن آپ کا مطالعہ ایسا لاجواب اور زبان پر  کمال عبور ہونا چاہیے کہ آپ کی بات ایک طرف سے رد ہوتی ہے تو آپ کے پاس بات پہنچانے کے دس نئے طریقے ہونے چاہییں ۔ بات بھی ہو جائے، پیغام بھی پہنچ جائے اور پابندی لگانے والوں کو سمجھ بھی نہ لگے۔کیونکہ پانی اور بات کبھی بھی رکنا نہیں چاہیے۔مانا ایجنسیوں کے خلاف آپ بات نہیں کرسکتے لیکن کتنے صحافی یا نیوز چینل ہیں جنہوں نے کبھی سیلولر کمپنیوں کے اوپر بات کی ہو، کسی نے کبھی منرل واٹر کمپنیوں کے خلاف کچھ  لکھا ہو، کسی نے ادویات ساز کمپنیوں کے مخالف صدا لگانا پسند کیا ہو، کبھی کسی نے ملک ریاض کے اوپر بات کی ہو؟ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا۔ کیونکہ سب کے اپنے اپنے مفاد ہیں اور ان مفادات کو پس پشت ڈال کر کوئی بھی صحافت نہیں کرنا چاہتا۔ دراصل میڈیا کا سارا کاروبار ہی خیالات پر چلتا ہے، اتنے اشتہارات گورنمنٹ سے آ جائیں گے اتنے فلاں  جگہ سے اور چینل چل پڑے گا، اور جب ایسا نہیں ہوتا تو چیخیں نکل آتی ہیں اور مالک اپنے ورکروں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے

سوال: آپ نے “ڈان” چھوڑ کر “آپ” جوائن کر لیا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: میاں وہ کیا ہے نہ  اچھی لڑکیوں کے رشتے آتے رہتے ہیں۔

یہ ملاقات یہیں  اختتام پذیر ہوئی کیونکہ وسعت اللہ صاحب کے سیشن کا وقت شروع ہونے والا تھا۔ جاتے ہوئے کہنے لگے عوام کا سارا جوش تو عطااللہ عیسی خیلوی ( وسعت صاحب سے پہلے عطا اللہ کا سیشن ہو رہا تھا) نے لے جانا ہے۔ اور ایک قہقہے کے ساتھ انہوں نے مہمان خانہ کی راہ لی اور ہم نے عام خانہ کی طرف اپنے قدم ناپے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *