خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن۔۔۔۔۔علینا ظفر

رسول اللہﷺ نے خواتین کے ساتھ صلہ رحمی سے برتاؤ کی تلقین فرمائی ہے۔آپؐ نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا،” اپنی عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔” سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ 25 نومبر 2018 کو خواتین پر تشدد کے خلاف آگاہی کا عالمی دن منایا ج  گیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ جدید دور میں بھی خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کے وہی حالات و مسائل در پیش ہیں جواس سے پہلے ادوار اور کئی مدتوں سے چلے آ رہے ہیں۔ میرے استاد ِ محترم فرمایا کرتے ہیں کہ بیٹیوں کی تربیت ایسی ہونی چاہیئے اور انہیں خود بھی اس قدر مضبوط ہونا چاہیئے کہ کوئی بھی شخص انہیں  کچھ بھی کہنے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لے۔ اگر آپ خود غلط اور صحیح میں فرق پہچان کر حق بات پر ڈٹ جانا اور غلط بات کے خلاف آواز اٹھانا جانتے ہیں  تو تب ہی آپ اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کر سکیں گے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اگر عورت اپنے حق کے لیے بولتی ہے تو اس کی آواز کو خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اپنے حق کے لیے بولنے کو بدتمیزی سے تشبیہہ دے دی جاتی ہے۔یاد رکھیے اپنے حق کے لیے بولنا بدتمیزی نہیں کہلاتا۔یہ بات وہ لوگ کہتے ہیں کہ جب کوئی  ان کے جبر کے خلاف بولتا ہے تو انہیں یہ سب ناگوار گزرتا ہےکیونکہ اب ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل تو ہوتی نہیں اور کہیں نہ کہیں انہیں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ وہ دوسرے شخص سے زیادتی کر رہے ہیں لیکن ان کی انا اس بات کی اجازت نہیں دے رہی ہوتی کہ اپنی غلطی تسلیم کر پائیں۔اس پر مزید ظلم یہ کہ کسی عورت کے ساتھ بد سلوکی کر کے دنیا کو  یہ بات اپنے منہ سے بتا کر سنا رہے ہوتے ہیں کہ ہم ایسے لوگ تو اُس عورت کے لیے چراغ لے کر بھی ڈھونڈو تو نہیں ملیں گے وہ تو بہت خوش قسمت ہے جس کو ہم سے لوگ ملے ہیں۔

رسول اللہﷺ کی خدمت میں جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لاتیں تو آپؐ کھڑے ہو جاتے اور جو چادر اپنے جسمِ مبارک پر اوڑھی ہوتی اسے اُن کےبیٹھنے کے لیےفرش پر بچھاتے۔ہر لڑکی اور ہر خاتون کی عزت کیجئےخواہ وہ آپ کے خاندان سے باہر کی ہوں یا آپ کے اپنے خاندان کی۔ ماں، بہن ، بیوی، بیٹی، بہوعورت کا ہر روپ قابلِ احترام ہے۔ایک دوسرے کا احترام صرف مرد و عورت کا ہی ایک دوسرے پہ لازم نہیں ہے بلکہ ایک  عورت کسی دوسری عورت  کے لیے بھی برابر عزت کے قابل ہے۔ خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن پر یہ پیغام صرف معاشرے کے مَردوں کو ہی نہیں بلکہ عورتوں کو بھی جانا چاہیئے کہ ان خواتین کو بھی اپنی مثبت سوچ کےوسیع در وا کرنے چاہئیں جو اپنی طرح کسی دوسری عورت کو ایذا پہنچانے میں تشدد پسند مر دحضرات سے کم نہیں ہوتیں۔ جب تشدد کی بات ہو تو محض جسمانی تشدد تصور کیا جاتا ہے جبکہ تشدد نفسیاتی طور پہ بھی ہوتا ہے۔رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ دوزخ میں عورتوں کی کثیر تعداد ہو گی۔ ایک مرتبہ میں نے کسی جگہ انگریزی کا ایک جملہ پڑھا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ جو آدمی اپنی عورت کے ساتھ بہترین اخلاق سےبرتاؤ کرے تو یقیناً اُس کی تربیت ایک بلند و اعلی اور ملکہ سی اطوار کی حامل خاتون کے ہاتھوں ہوئی ہے۔میری زندگی میں ایک ایسا  شفقت کرنے والاخاندان موجود ہے جس کے افراد کے سامنے میرا سارا بچپن گزرا ہے۔اس خاندان کے مردوں کی ایک بات مجھے بہت پسند ہےجسے میں پچپن سے دیکھتی آئی ہوں کہ وہ سب خواتین کے احترام میں کھڑے ہوجایا کرتے تھے، آج یہی خوبی ان کی اولاد نے بھی اپنا رکھی ہے حالانکہ وہ سب ابھی بہت چھوٹے اور اسکول میں پڑھنے والے بچے ہیں، اللہ ان کو خوش اور سلامت رکھے۔میری اُستانی صاحبہ نے ایک دن ہمیں کلاس میں لیکچر کے دوران  کہا کہ اگر آپ کسی مرد کو دیکھیں کہ وہ خواتین کو وارد ہوتے دیکھ کر اُن کے احترام میں کھڑا ہو رہاہے، اُن کی موجودگی میں ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کی بجائے ادب سے بیٹھا ہے، اپنی کرسی یا جگہ کسی خاتون کوآتا دیکھ کر اُس کے لیے خالی چھوڑ رہا ہے تو وہ اپنے گھر کی تربیت کو ظاہر کر رہا ہے۔

 زندگی نعمتِ ربِ باری تعالی ہے  اور زندگی کٹھن یا سہل نہیں ہوتی بلکہ اس میں پیش آنے والے مسائل کو سمجھداری اور مثبت طریقے سے حل کرنے کے لیے ہم انسانوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔اگر آپ اپنی زندگی کی ڈور اپنے ہاتھوں سے کسی دوسرے کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں تو آپ اس کے خلاف واویلا کرنے کا حق بھی کھو دیتے ہیں۔ یہ آپ کی زندگی ہے اسے کیسے جینا ہے کوئی دوسرا نہیں بلکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں لہٰذا اپنی زندگی خود جئیں ۔ دوسروں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں، دوسروں کا بُرا چاہتے ہوئے اُن کے لیے گھڑے کھودنا اور اپنے لیے اُن سے بھلائی کا تقاضا کرنا دانشمندی نہیں ہے۔زندگی بہت مختصر ہے ، یہاں جو عمال آپ سے سرزد ہو رہے ہیں اُن سب کا اللہ نے آپ سے  حساب لینا ہے۔اِس مختصر سی زندگی کے پل تب ہی خوبصورت  لمحات میں بدل سکتے ہیں جب آپ دوسروں کی زندگی میں سُکھ اور خوشیاں بانٹیں گے۔ بے شک یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے، دوسروں کی زندگیوں میں بد امنی پھیلانے والا ہمیشہ بے سکون ہی رہتا ہے چاہے وہ دنیا کو  اوپر ہی اوپر سے جتنا مرضی خوش رہنے کا  دکھاوا کرلے۔ اللہ تعالی ہم سب کو راہِ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *