• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • احتساب عدالت نے نندی پور پاور پراجیکٹ کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی

احتساب عدالت نے نندی پور پاور پراجیکٹ کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر سے متعلق ریفرنس میں ڈاکٹر بابر اعوان کی بریت کی درخواست پر سماعت بغیر کارروائی کے 17 دسمبر تک ملتوی کردی۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر بابر اعوان احتساب عدالت میں نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے لئے پیش ہوئے، تاہم بابر اعوان کی بریت کی درخواست پرآج بھی سماعت نہ ہوسکی۔عدالت کے جج ارشد ملک نے کہا کہ نواز شریف کے خلا ف نیب ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد بابر اعوان کے خلاف اس ریفرنس کی سماعت کی جائے گی، دوسری جانب ریفرنس میں نامزد ملزم سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف حاضر ی سے استثنیٰ کے باعث آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔یاد رہے کہ چار ستمبر کو نیب راولپنڈی نے نندی پورپاور منصوبے میں تاخیر کے ذمہ داروں کیخلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا،ریفرنس وزارت پانی وبجلی کی جانب سے جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔نیب اعلامیہ کے مطابق ریفرنس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابراعوان کو سابق وزیرقانون کی حیثیت سے ملزم نامزد کیا گیا تھا،دیگر ملزمان میں سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کو وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی کی حیثیت سے وزارت قانون کے سابق سیکریٹریوں مسعود چشتی، جسٹس (ر) ریاض کیانی، شمائلہ محمود، ڈاکٹر ریاض محمود، سابق سیکریٹری شاہد رفیع کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے نندی پورپاور منصوبے میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا تھا جس نے 9 اپریل 2012 کواپنی انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔ رپورٹ میں وزارت پانی وبجلی کے افسران کو منصوبے کی تاخیر کاذمہ دارقراردیا گیا تھا۔وزارت نے ملزمان کے خلاف کارروائی کیلئے جسٹس رحمت حسین جعفری کمیشن رپورٹ نیب کو بھجوائی تھی جس پرملزمان کیخلاف باضابطہ ریفرنس تیار کیا گیا۔نیب حکام نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نندی پور پاور پروجیکٹ کی منظوری دی تھی، منصوبے کی منظوری 329 ملین ڈالر کی لاگت سے دی گئی اور منظوری کے بعد منصوبے کا کنٹریکٹ 28 جنوری 2008 کو کیا گیا، یہ کنٹریکٹ نادرن پاور جنریشن اور ڈانگ فینگ الیکٹرک کارپوریشن چائنا کے درمیان ہوا، لیکن اس منصوبے میں تاخیر سے 27 ارب روپے کا نقصان ہوا۔تاہم بابر اعوان نے ریفرنس دائر ہونے پر اپنے ردعمل میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ رحمت جعفری کمیشن نے نہ ان کا نام لیا، نہ الزام عائد کیا اور نہ ہی انہیں لایا گیا،بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خلاف تمام کارروائی 2 کالی بھیڑوں نے سیاسی مخالفت پر کی، جس کے ثبوت وہ دکھائیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *