سفرنامۂ میٹرو ۔۔۔ سنی ڈاہر

سنتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کی رنگینیاں بندہ مومن کو درست معنوں میں جنت کا حقدار بنانے کے لئے بطور آزمائش قدم قدم پر بکھیری گئی ہیں اور ان سے لطف اندوز ہونے کی اصل جگہ “اگلی دنیا” ہے۔ اب معلوم نہیں اس امر میں خالق کائنات کی کون سی حکمت پوشیدہ ہے کہ بندہ کافر تو جی بھر کے مزے لوٹے اور مومن محض کباب ہوتے جگر پہ اشکوں کی مئے چھڑک کر اپنا مزہ چکھے۔
خیر!  یہ تو بد خیالات ہیں جو پردیس میں شب و روز گزارنے اور جمعہ کے روایتی برصغیری خطبے سے محفوظ رہنے کی وجہ سے خود بخود ذہن میں امڈے چلے آتے ہیں ۔ پیارے پاکستان میں تو ایسے کفر نما خیالات کو تو مولوی فقیر کا ایک  لیکچر ہی فنا کر دینے کے لئے کافی ہوتا تھا۔ انہیں مار کٹائی کا اشد زوق و شوق تھا اور قیامت و آخرت کا ہیبت ناک نقشہ کھینچتے ہوئے وہ فرشتوں سے گناہ گاروں کی گردنیں تڑوایا کرتے تھے۔ اس مار کٹائی میں وہ فرشتوں کو خدا کی مخلوق کے بجائے پنجابی فلموں کے ہیرو یا ولن کے روپ میں پیش کیا کرتے تھے. ان کا انداز کچھ یوں ہوا کرتا تھا۔ ” اوئے باز آ جاؤ تم لوگ!  کافروں کی فلمیں دیکھتے ہو۔ ہیں!!  اوئے جب قیامت کو فرشتے گرم سوئے سے آنکھیں نکالیں گے تو پھر مولوی فقیر کو نہ پکارنا۔ “اوئے شبیر!  اوئے زنخے!  جانتا نہیں مردوں کو زیور حرام ہے،!  قیامت میں جب فرشتے گرز مار مار کے گردن توڑیں گے تو نانی یاد آئے گی” وہ دھاڑتے اور شبیر بچارہ،  جس نے نئی نئی منگیتر کی تصویر کھٹکے والے لاکٹ میں جڑوا کر گلے میں پہنی تھی،  اسے ایسے نوچ ڈالا جیسے سانپ بچھو گلے میں لٹک رہے ہوں۔


مگر یہ ملائیشیا ہے!  اور یہاں تصویروں والے لاکٹ کے علاوہ سڈول گوری بانہوں کے ہار بھی گلے میں ڈال لئے جاتے ہیں اور مولوی فقیر کے گرز یہاں پہنچتے نہیں لہذا فاسد خیالات کا پیدا ہونا عین تقاضائے فطرت و جوانی ہے۔ اور اس تقاضے کو چار چاند میٹرو کا وہ سفر لگا دیتا ہے جو مجھے دن میں کم از کم دو بار اختیار کرنا ہوتا ہے۔

ملائیشیا جیسے ملک میں سرعام اظہار محبت کے مناظر یوں تو بہت عام ہیں اور مشہور ٹورسٹ اٹریکشن یعنی باتو کیوز اور وہاں موجود مندر میں پریمی جو حرکات کر رہے تھے انہیں دیکھ کر سنسناہٹ کے ساتھ ایک خیال اور پیدا ہوا کہ اگر ان فحش و اشتعال انگیز حرکات سے طویل القامت شیو جی کو جلال آ گیا تو کیا ہو گا؟
لیکن حکومت نے میٹرو میں بوس و کنار پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سنگین سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اور میٹرو میں سفر کرنے والیاں شاید خاص طور پر حکومتی ایجنٹ ہیں اور شدت سے چاہتی ہیں کہ کوئی مرد گریز پا میٹرو سے جرمانہ ادا کئیے بغیر اپنا سفر اختتام پذیر نہ کر سکے۔

کیونکہ مرد و زن کو برابر حقوق حاصل ہیں لہذا خواتین کا الگ پورشن موجود نہیں ہوتا اور جس کو جہاں جگہ ملی وہ وہاں بیٹھنے یا کھڑا ہونے کے لئے آزاد ہوتا ہے۔
پچھلے ہی ہفتے کی بات ہے کہ کام سے لوٹتے ہوئے ایک ایسی ہی حسینہ کی خطرناک ہمسفری نصیب ہوئی جس کے دوران میں جیب میں پڑے رنگٹ ہی کا حساب لگاتا رہا کہ بصورت  “گستاخی” جرمانہ بھرا جا سکتا ہے کہ نہیں ۔ نشست نہ مل سکنے کے سبب میں ایک جھولتا ہوا ہینڈل پکڑ کر کھڑا تھا کہ کسی سٹاپ سے نازل ہونے والی وہ آفت بھی عین میرے سامنے آن وارد ہوئی ۔ پاکستانیوں کا مخصوص “ماشاءاللہ ” ابھی نوک زباں پر ہی تھا کہ نظر نے چہرے سے نیچے پھسلنے کے جرم کا ارتکاب کر لیا۔

حسینہ نہایت پرجمال ہونے کے ساتھ ساتھ مناسب مقامات سے پرگوشت بھی تھی اور علاوہ ازیں وہ لباس کی قلت کا بھی شکار نظر آتی تھی۔ میں نے پھسلتی نظر کو فٹافٹ لپیٹا اور دل ہی دل میں خلافت عثمانیہ کے جلد از جلد احیاء کی دعائیں مانگنے لگا ۔ یوں تو مذکورہ حسینہ مجھ سے دو چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑی تھی لیکن ایک خاص فارمولے کے تحت دوری بہت ہی کم تھی۔ جی ہاں!  عرب و ترک حسیناؤں کے پاس دور سے مار کرنے والے ہتھیاروں کی بھاری مقدار ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔

اگر آپ ان کے لباس پر غور کریں تو وہ دو چار مقامات پر بدن سے خاصا دور ہوتے ہیں)جملے میں چار صرف گفتگو کو متوازن کرنے کے لئے ہے)۔
دہشت گرد حسینہ میری گردن وغیرہ پر رینگتی پسینے کی دھاروں،  سنسناتے کانوں لکڑی ہوتے حلق سے بالکل بے نیاز سرخ لپسٹک سے لپے ہوئے ہونٹوں سے مسلسل چیونگم چباتے ہوئے اپنے ہاتھ میں تھامے موبائل فون پر مصروف تھی۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے ہینڈل تھام رکھا تھا اور اس کے اس عمل سے نہایت دلفریب مدوجزر پیدا ہو رہے تھے۔ چہرے سے نگاہ ہٹاتا تو دل میں چوٹیاں سر کرنے اور گہری گھاٹیوں کے راز جاننے کی خواہش چٹکیاں لینے لگتی ۔ یعنی میرے لئے تو یہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی صورتحال تھی۔ اس پر ستم جرمانے کا خوف تھا جو حسن کو جی بھر کے “خراج تحسین “پیش کرنے کے امر میں بھی مانع تھا۔

حالات رفتہ رفتہ عروج پر پہنچ کر قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے لہذا میں نے مولوی فقیر کو تصور میں لا کر ایمان افروز گفتگو اور ہٹلر فرشتوں کا مراقبہ شروع کر دیا لیکن شاید لاہور اور ملائیشیا کے مابین فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ حربہ بھی کارگر نہ ہو سکا اور گردن پہ گرز پڑنے کی آوازیں بھی سر اٹھاتے فتنہ کا سدباب نہ کر سکیں ۔ اس موقع پر مجھے انکل مجبور بے طرح یاد آئے اور میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ اے حسن پر فتن!  تمہیں کیا ملوم کہ میں کتنا مجبور ہوں۔!.

اس بدنی اور باطنی کشمکش کے دوران ہینڈل پر میری گرفت کمزور پڑ گئی اور پیچھے سے آنے والی شاک ویوو کے زیر اثر میں سامنے کھڑی آتش گیر مادہ سے ٹکرا گیا۔

ہائے!  ایسا محسوس ہوا گویا میں اطلس و کمخواب کے ایک ایسے تکئیے میں دھنسا جا رہا ہوں جس میں مرغابیوں کے پر بھرے ہوئے ہیں۔ میرے حواس بعجلت رخصت، ہو گئے اور ہر سمت میرے ہاتھوں سے چھوٹ جانے والے طوطے اور چڑیاں اڑنے لگے۔

جرمانے کا خوف مجھے سپرنگ کی سی تیزی سے اس منبع ملاحت و نرمی سے الگ ہو جانے پر مجبور کر گیا۔ میں نے نہایت شرمندگی سے نظر اٹھائے بغیر اس سے معذرت کی جسے اس نے ایک برق پاش مسکراہٹ کے ساتھ قبول کیا اور “اٹس اوکے ” جیسے الفاظ ادا کر کے دوسری طرف متوجہ ہو گئی ۔

میں دیر تک اپنا بلیوں اچھلتا دل اور لرزتی ٹانگیں سنبھالنے کی سعی کرتا رہا اور دل ہی دل میں شکر ادا کرتا رہا کہ اس حادثے میں حسینہ کی لپ اسٹک خراب نہیں ہوئی ورنہ جو کچھ کمایا تھا وہ خسارہ گناہ بھرنے میں چلا جاتا۔ اگرچہ دل میں “ایک بار ٹکرایا ہوں،  بار بار ٹکرانے کی ہوس ہے” کی تکرار تھی مگر تقاضائے عقل و ہوش یہ تھا کہ غض بصر کا بھرپور اہتمام کیا جائے لٰہذا میں نے ہینڈل کو دونوں ہاتھوں سے کس کر یوں جکڑا جیسے طوفان میں گھرا ہوا شخص تنکے کو جکڑتا ہے اور خیالات کو سیدھی راہ پر رکھنے کے لئے وطن میں بیٹھی منگیتر کی تیل لگی چوٹیوں،  کانوں تک بہتے سرمے اور دانتوں کے واری ہوتی سرخی کا تصور تازہ کرنے لگا۔ اس مرتبہ مجھے خاطر خواہ کامیابی نصیب ہوئی اور فضا میں ایک بدرنگی بیزاری چھا گئی جس نے پریشر ڈاون کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس دوران وہ حسینہ اپنے مطلوبہ سٹاپ پر اتر چکی تھی اور اس کی جگہ ایک ایسے آدمی نے لے لی تھی جو پہلی نظر میں کسی مردہ خانے کا منتظم دکھائی دیتا تھا۔
چند ہی منٹ کے سفر کے بعد میری بھی منزل آ گئی اور میں ایک ایڈونچر سے بھرپور سفر کا بخیریت اختتام ہونے پر شکر ادا کرتا باہر نکل آیا۔

سفرنامہ میٹرو اگرچہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ کسی گل کے روبرو ہوا جائے لیکن برا ہو اس جدید طرز انتقام کا جس میں بریک اپ کے بعد بے وفائی کے مجرم کی بریانی وغیرہ بنا دی جاتی ہے۔ لہذا میں صرف آہیں بھر کر یہ کہتے ہوئے خود کو بہلا لیتا ہوں کہ

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر

 غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

ختم شد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *